Home / خبریں / مردوں نے عورتوں کی جنت چھین لی ہے:سلمیٰ صنم

مردوں نے عورتوں کی جنت چھین لی ہے:سلمیٰ صنم

مردوں نے عورتوں کی جنت چھین لی ہے:سلمیٰ صنم
عورت بھی انسان ہے۔
184789_104997936245513_7227443_n
حقانی القاسمی

H-1Batla House,jamia Nagar ,Okhla ,New Delhi-110025
Cell:09968097929

salma-sanam-ke-sath

پدرانہ تفوق والے سماج کویہ بات سمجھاتے سمجھاتے صدیاں بیت گئیں۔ فکشن اور شاعری کی صورت میں تانیثی ڈسکورس کے انبار لگا دیے گئے۔ رشیدالنساء، رقیہ سخاوت حسین، رشید جہاں، عصمت چغتائی، عذرا عباس، فہمیدہ ریاض، زاہدہ حنا اورکشورناہید جیسی باشعور خواتین نے اپنی تحریروں کے ذریعہ مردانہ ذہن کے ردتشکیل کی کوششیں بھی کیں مگر جانے کیوں معاشرے کی رگوں میں misogyny(عورت سے عناد)اس درجہ سرایت کرگئی ہے کہ عورتوں کے خودمختار، خودمکتفی، آزاد وجود اور حیاتیاتی حقیقت کو تسلیم کرنے میں بھی تامل ہے۔ مرداساس تہذیب وثقافت میں اسے ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ عورتوں سے عداوت، نفرت، تفریق اور تعصب کا سلسلہ بہت پراناہے۔ ٹریجڈی یہ ہے کہ ویتنگر،شوپنہار، نطشے، کانٹ، ہیگل، روسو، ڈیکارٹ جیسے ارباب فلسفہ وفکر بھی misogy nistکی فہرست میں شامل ہیں، جو عورت کے حقیقی وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ یاانھیں حقیر اور کمترگردانتے ہیں۔ حیرت اس وقت اوربڑھ جاتی ہے جب یہ پتہ چلتاہے کہ ارسطو اور سقراط بھی عورتوں کے تئیں معاندانہ یا مخالفانہ رویہ رکھتے تھے۔ قدیم ادبیات میں بھی عورتوں کے احتقار کارویہ عام ہے حتیٰ کہ کچھ ارباب تحقیق نے کچھ مذاہب کے عورت مخالف رویے کی نشان دہی بھی کی ہے۔ ممکن ہے کہ غلط تعبیرات کی بنیاد پر یہ باتیں کہی جاتی ہوں۔ نظری طور پر اس کی تردید اورتاویل کی گنجائش موجود ہے مگر یہ مشاہداتی حقیقت ہے کہ بہت سے مذہبی معاشرے میں اب بھی عورت مخالف رویہ عام ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ بعض ارباب دانش و بینش کو عورت کے وجود سے تونفرت ہے مگران کے جسم سے محبت ہے۔ Euripidesایسا ہی یونانی شاعر ہے جو عورتوں سے شدیدنفرت رکھتاہے مگر عورتوں کے جسم کارسیابھی ہے۔ اس عناد کے پیچھے شاید gy nophobiaہے۔عورتوں سے خوف کایہ رویہ اس قدرحاوی ہے کہ پرانی ثقافتوں میں خواتین کوسماجی وثقافتی سرگرمیوں میں شامل ہونے سے روکاگیا۔ ایسانہیں ہے کہ عورتوں کے تئیں تعصب اور عناد میں صرف مردمعاشرہ ہی شامل ہے بلکہ بہت سی عورتیں بھی ایسے مردانہ معاشرے کاحصہ بنتی جارہی ہیں۔ مردانہ بالادستی کی سوج ان کے ذہنی وجود پرمسلط ہوگئی ہے۔ اس لیے وہ اطاعت کی دہلیز پردست بستہ کھڑی ہیں۔بغاوت اور مزاحمت کے دروازے پردستک دینے کی جرأت نہیں کرتیں بلکہ انھیں خودکلامی کے حصار سے باہرنکل کر مکالمے کے محاذ پرسرگرم ہوناچاہیے تھا مگر انھیں مرد کی آقائیت میں ہی عافیت محسوس ہوتی ہے۔ اس ترقی یافتہ دور میں بھی عورت کمتروجود ہے۔ ان کی سماجی،معاشی آزادی کی حمایت کرنے والوں نے بھی عورت کوانسان کے بجائے اشیامیں بدل ڈالا۔ اب عورتیں تجارتی اشتہارات میں اور پردئہ سیمیں پراپنے جسموں کی جنبشوں سے معاشی اورسماجی آزادی کامظاہرہ کررہی ہیں مگرکیا یہ آزادی ہے یاوہی objectificationجس کے خلاف فیمنزم آواز اٹھاتی رہی ہے۔ یہاں اس حقیقت کااظہار بھی ضروری ہے کہ جب سے virtual worldسے عورتوں کارشتہ قائم ہواہے، عورتیں وہ حقیقتیں بھی بھولتی جارہی ہیں جن کاان کے وجود،شناخت اور کردار سے گہراتعلق ہے۔ انٹرنیٹ پرعورتوں کو اسپیس توبہ آسانی مل جاتی ہے مگرمردحاوی سماج میں عورتوں کواپنا اسپیس کب ملے گا۔یہ بڑا اہم سوال ہے۔
سلمیٰ صنم نے خواتین کے مسائل کے حوالے سے بہت ہی معروضی اورمتوازن گفتگو کی ہے۔ ان کی یہ بات بہت اچھی لگی کہ کچھ مردوں کی فطرت میں وفانہیں،کچھ عورتیں بھی شریرہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ آج رشتوں میں دوریوں اورطلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کاسبب عورت مرد کے درمیان بے اعتباری۔ جسمانی وجذباتی وبے وفائی (infidelity)بھی ہے۔ سلمیٰ صنم کااکیڈمک سطح پرعلم حیوانات(Zoology)سے رشتہ ہے۔ مگرتخلیقی اعتبار سے فکشن ان کامیدان ہے۔ ان کے دوافسانوی مجموعے ’طورپرگیاہواشخص‘ اور ’پت جھڑ کے لوگ‘ شائع ہوچکے ہیں۔ تیسرامجموعہ ’پانچویں سمت‘ زیر طبع ہے۔ ان کے افسانوں کے ترجمے پنجابی اورمراٹھی زبانوں میں ہوچکے ہیں۔ ان کاتعلق کرناٹک کے ضلع منگلور سے ہے۔ان کے آباواجداد بغداد سے آکرعادل شاہی حکومت بیجاپور کے دربار سے وابستہ ہوگئے تھے۔ ٹیپوسلطان کے دربار سے بھی ان لوگوں کی وابستگی رہی ہے۔

پیش ہے سلمیٰ صنم سے حقانی القاسمی کی گفتگو کا ایک حصہ:

کیاآپ gender discrimnationپریقین رکھتی ہیں؟

نہیں!اللہ نے مرد اور عورت دونوں کوایک جیسا بنایا ہے۔ تھوڑے سے جسمانی فرق کے ساتھ دونوں biologicallyایک ہی ہیں،مگر اس سماج میں جب ان دونوں میں اتنی تفریق دیکھتی ہوں تومیرا دل کڑھتاہے۔ شکرہے میری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں کبھی اس بات کا مجھے احساس نہ ہوا کہ ایک لڑکی ہوں۔ دیکھئے میرا افسانہ ’یہ دل دیوانہ ہے‘ میں میں نے اس تفریق پرآواز اٹھائی ہے۔

مسلم معاشرے کی خواتین تعلیم،صحت اورانصاف کے باب میں دوسروں سے پچھڑی ہوئی کیوں ہیں؟

مسلم معاشرے کی اقتصادی حالت اتنی کمزور ہے کہ اکثر مرد کو بھی صحیح تعلیم، مکمل صحت اور انصاف نہیں ملتا ایسے میں عورتوں کے کہیے جنھیں نہ کوئی سماجی آزادی حاصل ہے نہ وہ خود کفیل اور خودمختار ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ لوگوں کے اعتقاد، توہمات، دقیانوسی خیالات اور مذہبی تعلیم کے فقدان نے عورت کی حالت اوربھی دگرگوں کردی ہے۔

کیاآپ conservatism socialعورتوں کی تعلیم،ترقی اور آزادی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟

بالکل ہے۔ ہندوستان میں عورتیں Patriarchal Setupکے تحت جیتی ہیں۔ ان میں اکثریت کو شخصی اور معاشی آزادی حاصل نہیں۔ وہ کہاں جاتی ہیں، کس سے ملتی ہیں،کیاپہنتی ہیں، کیا کرتی ہیں غرضیکہ ان کی ہر حرکت پر سماج کی نظر رہتی ہے۔ ایسے میں وہ آگے کیسے بڑھیں گی؟ ترقی کیا کریں گی، نوبل انعام یافتہ Plarl Buckنے کیا خوب کہاہے ’ہرعورت کااس کا اپنابینک اکاؤنٹ دیجیے۔ پھر دیکھئے وہ کیا achieveکرتی ہے۔‘

کیایہ سچ نہیں ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر میں رام موہن رائے اور ودیاساگر کی اصلاحی تحریکوں کے بعدہی فیمنزم کوآوازملی؟

یہ سچ ہے۔ راجہ رام موہن رائے اور ودّیاساگر کی تحریکوں سے ہندوسماج میں ستی کا خاتمہ توضرور ہوا مگر بیوگی کی اذیت پھربھی باقی رہی۔ اب بھی بیواؤں کی دنیا میں سب کچھ بخیرنہیں۔ ان کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔ وارانسی اور ورندوان کی بیواؤں کے متعلق حالیہ خبر کہ وزیر اعظم کوراکھی بھائی بنانے کی انھیں اجازت ملی ہے کئی طرح کے سوال اٹھاتی ہے۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں عورتوں کے لیے بے شمار قانون ہیں وہاں بیواؤں کی زندگی کی یہ سطحی کامیابی واقعی المناک ہے۔ آج بھی ہندو سماج میں بیواؤں کوکسی راجہ رام موہن رائے اور ودیاساگر کا انتظار ہے۔

ڈپٹی نذیراحمد، مولوی ممتازعلی، مولاناحالی نہ ہوتے توکیاعورتیں اپنے حقوق کی جنگ لڑپاتیں؟

مغرب میں فیمنزم کی لہراتنی تیزاٹھی کہ ساری دنیا کو بہا لے گئی۔ہندوستان میں اس وقت اعلیٰ طبقے کی تعلیم یافتہ مسلم خواتین کو اس سے آگئی ضرور رہی ہوگی۔ ’تہذیب نسواں‘ جیسے رسالوں کی اشاعت اس بات کی گواہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ ان معتبر حضرات نے عورتوں میں بیداری پیدا کی مگر میرے خیال سے اگروہ نہ بھی ہوتے تب بھی عورتیں اپنے حقوق سے آگاہ ضرور ہوتیں اور اپنی آواز بلند کرنے سے گریز نہ کرتیں۔

مرد کی آوارگی اوربے راہ روی میں عورت کوکتناحصہ دارمانتی ہیں؟

کچھ مردوں کی فطرت میں وفانہیں کچھ عورتیں بھی شریر ہیں، مگر مرد کی آوارگی اور بے راہ روی میں میرے خیال سے عورتوں کا حصہ کم ہے۔

آزادی نسواں کے سوال پر خواتین دوخانوں میں منقسم کیوں ہیں؟

فیمنزم نے واقعی عورتوں کو گمراہ کیاہے۔ کچھ ناسمجھ عورتوں نے یہ سمجھ لیا کہ واقعی وہ آزاد ہوگئی ہیں وہ چاہے بھی کرسکتی ہیں مردوں کو نیچا دکھاسکتی ہیں۔ سماج کے بنائے ہوئے قانون اپنے پاؤں تلے روند سکتی ہیں مگر خواتین کا وہ طبقہ جو تعلیم یافتہ،حساس اور باشعور ہے وہ دیکھ رہاہے کہ آزادیٔ نسواں کی تحریک نے حقیقتاً عورتوں کو کیادیاہے۔ اس نے عورتوں کے وقار اور عصمت کوکس قدر مجروح کیاہے اس لیے وہ اس تحریک کو لے کر دوخانوں میں منقسم ہیں۔

کیاوومن امپاورمنٹ کی آڑمیں مردوں کومفلوج بنایاجارہاہے؟

مفلوج نہیں، سہل پسند بنایا جارہاہے۔ ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر اگر جنت ملے تو مردوں کوپریشانی کیوں؟ اب بے چاری عورت کب یہ سمجھے کہ اس کو بابر کی دنیا پر حکومت کا خواب دکھا کر مردوں نے دراصل اس سے اس کی جنت (گھر) چھین لی ہے۔
عورت خود ہیcommercial propositionبننے کے لیے بیتاب ہوتوپھرمردمعاشرہ پہ الزام کیوں؟
مرد کی عیاری کے قربان جائیے وہ بے چاری عورت کو کس کس خوش فہمی میں مبتلا نہیں کرتا ورنہ کون عورت بازار میں آناپسند کرے گی۔ آزادی، آرٹ، فیشن، کلچر کے اتنے حسین خواب وہ عورت کودیتاہے کہ بے چاری سمجھنے لگتی ہے کہ خدا نے اس کو جسم دیاہے توصرف نمائش کے لیے۔ اس کی کھونپڑی میں یہ بات کم ہی آتی ہے کہ یہ سب ایک فریب کے سواکچھ نہیں۔

کیاآپ کونہیں لگتاکہ عورتیں مظلومیت کا فسانہ سناتے سناتے خود ظالم بنتی جارہی ہیں؟

میں مانتی ہوں عورت آج بھی مظلوم ہے عورتوں کے خلاف جرائم اس کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ دورجدید میں عورت کی زندگی اس کی عصمت اس کی قیمت ارزاں ہوگئی ہے۔ عمر کے کسی دور میں اس کی عصمت محفوظ نہیں۔ آفس ہو یا اسکول یا گھر وہ ہرطرف ظلم و درندگی کا شکار ہورہی ہے۔

آپ کی ترقی اورکریئر پرازدواجی زندگی کے کتنے منفی اورکتنے مثبت اثرات پڑے ہیں؟

جب اندرانوتی جیسی پاورفل عورت کہتی ہے ‘women cant have it all’تو سوچنا پڑتاہے کہ ترقی اور کریئر کا ازدواجی زندگی پر کیا اثرپڑتا ہے۔ یا گھریلو زندگی اس سے کیسے متاثر ہوتی ہے۔ رہی میری بات تو گھر کے لیے مجھے اپناکریئر قربان کرناپڑاتھا۔آج میں ایک کامیاب ہوم میکرہوں۔ باہر کی دنیا میں میں نے کوئی گونج پیدانہیں کی۔ مجھے تولگتاہے کہ میرا فیصلہ صحیح ہے مگر میرے دل کے سناٹے توکچھ اور ہی کہتے ہیں۔

میاں بیوی کے مابینtoxic relationshipکے کیااسباب ہوتے ہیں؟

جب سے عورت کونئی پروازملی ہے اس کے اندر انا، خودپسندی،خودنمائی اور برتری کااحساس جاگنے لگاہے وہ اپنا منصب اور فرض بھولنے لگی ہے۔ جب ہی تو عورت اور مرد کے بیچ ایک انجان سی خلیج حائل ہونے لگی ہے۔ جس کو معاشی برابری،مرد کی احساس کمتری، خودغرضی، ریاکاری، شکی اور حاسدانہ طبیعت اور ہوادے رہی ہے۔ ذہنوں میں خلل ڈال رہی ہے رشتوں کوالجھارہی ہے۔ ہرمرد یہ امید کرتاہے کہ اس کی بیوی Airtelوالے اس کمرشیل Adکی بیوی کی طرح ہو جو ایک کامیاب عورت بھی ہے اور ایک مثالی بیوی بھی مگر حقیقی زندگی میں ایسا ممکن نہیں، کیونکہ کمرشیل Adکبھی زندگی کے ترجمان نہیں ہوتے۔

مردعورت پراعتبار کرے تو کیسے کہ اس کے سامنے راجہ بھرتری ہری کی رانی پنگلہ کی مثال موجود ہے؟

سیتاساوتری کی مثال بھی تو ہے ہردورمیں مرد نے عورت کا امتحان لیاہے باربار لگاتار۔پھربھی اس کو عورت پر اعتبارنہیں۔ تعجب ہے عورت آخر اور کتنے امتحان دے گی۔ اپنی وفا ثابت کس طرح کرے گی اب تو ہونا یہ چاہیے کہ عورت مرد پراعتبار کرنا چھوڑدے۔

کیابدنامی کے ڈرسے عورتیں چپ رہنا پسندکرتی ہیں؟

اکثریت ہی کرتی ہے جہاں اس کوزبان کھولنے کی اجازت نہیں عورت وہاں اپنادکھ سنائے توکیسے؟ جاہں اس کی حرکتوں پرنظر ہو وہاں وہ اپنی اذیت بتائے توکس کو؟ وہ چیخے گی، چلائے گی۔۔۔سنے گاکون؟ چاہے وہ کوئی ظلم وستم ہو یا اخلاقی،سماجی جرم وہ برسوں سے چپ ہے آج بھی چپ اپنے ہی اپنی عافیت سمجھتی ہے کیونکہ اسے پتہ ہے اسے انصاف کبھی نہیں ملے گا۔

زندگی کے مدوجزر،نشیب وفراز جن میں نئی نسل کے لیے کوئی انسپریشن ہو؟

گلابلائزیشن اور ساری آسائشوں کے اس دور میں انسان کے اندراخلاقیت اور روحانیت مررہی ہے۔ اس مختصر سی زندگی میں ہمیں فقط ظاہری نہیں بلکہ اپنی باطنی صحت کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے اور یہ جب ہی ممکن ہے جب ہم مضبوطی سے دین کی رسّی تھام لیں اللہ اوررسولؐ کے بتائے ہوئے احکامات پرچلیں۔ اسلام نے عورت اورمرد کے لیے جودائرہ متعین کیاہے اس کے اندر رہتے ہوئے دونوں اپنے اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیں۔ ایک دوسرے کی عزت کریں کوئی کسی پرجبرنہ کریں۔بلکہ دکھ سکھ بانٹیں، تب ہی ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہوسکتی ہے، یہ دنیاجنت بن سکتی ہے۔

89 Broadsha Street, First Cross, Nehrupuram, Shivaji Nagar, Benglore – 560001 (Karnataka)

12316603_494515944063692_4299178433833193330_n

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook