Home / خبریں / مرگ انبوہ : جب ڈیٹینشن کیمپ کا دروازہ کھلا

مرگ انبوہ : جب ڈیٹینشن کیمپ کا دروازہ کھلا

( ناول کا ایک مختصر باب )


٭مشرف عالم ذوقی ، نئی دہلی۔

سیاہ بادلوں کاکارواں نمودار ہوا اور آسمان اندھیرے میں ڈوب گیا۔ ٹھیک اسی وقت پر پھڑپھڑاتے گدھوں کی آوازیں سنائی دیں۔ سیڑھیوں پر کچھ قدموں کی آہٹیں تھیں، پھر ایسا لگا جیسے یہ آہٹیں میرے دروازے تک آکر خاموش ہوگئی ہوں۔ کچھ دیر بعد دستکوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ممکن ہے کال بیل کام نہیں کررہی ہو، یہ میرا قیاس ہے جبکہ کال بیل صبح تک ٹھیک تھی۔ اس وقت بھی جب صفائی والے نے زور زور سے کال بیل بجائی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا تو سب سے آگے راکیش وید کھڑے تھے۔ ان کے پیچھے خفیہ افسر، ناگارجن، پولیس کا ایک سپاہی، تارا دیش پانڈے اور دو انجان لوگ تھے۔ یہ دھڑ دھڑاتے ہوئے ڈرائنگ روم میں آگئے۔ مجھے الگ سے دو تین کرسیوں کا انتظام کرنا پڑا۔ کچھ لوگ صوفے پر بیٹھ گئے۔ راکیش وید میرے گھر کا جائزہ لے رہے تھے۔ مجھے یقین ہے، سیاہ بادلوں کا کارواں ابھی رخصت نہیںہوا ہوگا۔
’ آپ بھی بیٹھ جائیے۔ تکلف کی ضرورت نہیں۔‘ راکیش وید کی آواز ابھری۔
’ جی ۔‘ میں نے خاموشی سے کہا۔
’ یقین ہے آپ مرنے کے لیے تیار ہوچکے ہوں گے۔‘ یہ تارا دیش پانڈے تھی۔
’ موت ایک نعمت ہے۔ آسان موت، اس سے کہیں بڑی نعمت‘ ناگاارجن بولے۔
خفیہ افسر کے ہونٹوںپر مسکراہٹ تھی۔ ’ایک دن سب کو مرنا ہے۔ رحمدل جادوگر کا شکریہ ادا کیجیے کہ موت کے لیے اس نے آپ کو مہلت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ موت ایک جشن ہے۔‘
’ موت ایک پرندہ ہے۔ ایک خوبصورت احساس۔‘ تارا دیش پانڈے کی آنکھوں میں چمک تھی۔۔۔ ایک ان دیکھا سیارہ جہاں نور ہی نور، جہاں زندگی کی تمام صعوبتوں سے چھٹکارہ۔۔۔۔ جس کا ذائقہ سب سے میٹھا۔۔۔۔عورت کے گداز جسم سے بھی زیادہ۔‘
’ موت مکتی ہے، موت نجات ہے۔‘ ان دونوں میں سے ایک آدمی نے کہا جو میرے لیے انجان تھا اور بغور میرے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا۔‘
راکیش وید نے فارم ہوا میں لہرایا۔۔۔۔ میری طرف دیکھا۔ سرخ کتاب کی طرح یہ سرخ فارم ہے۔ ملک کی خوشحالی کے لیے، ترقی کے لیے۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا۔۔۔۔۔ رحمتوں اور برکتوں والے جادوگر کے لیے، اس کی درازی عمر کے لیے دعا کیجیے۔ اس کی لافانی محبتوں کا قرض ادا کیجیے۔‘ راکیش وید نے فارم میز پر رکھا۔ اس نے آپ کی قوم کو دس برس دیے ہیں۔ دس برس میں آپ نہیں ہوں گے۔ اور آپ کو اس کی رحمدلی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ آپ مسلسل پریشان تھے۔ اذیتوں میں گرفتار تھے اور آسان موت۔۔۔۔ یہ تحفہ بھی ہے اور دلچسپ تجربہ بھی۔ مرنے کے لیے وقت آپ طے کریں گے۔ اور ہاں، دس برس میں ۴ برس سے لے کر دس برس کا کوٹہ فل ہوچکا ہے۔ آپ کے پاس صرف تین برس ہیں۔‘
’ تین برس۔۔۔۔؟‘
’ ہاں۔‘ اس بار تارا دیش پانڈے نے میری طرف دیکھا۔ عورتوں سے ہمیں کوئی شکایت نہیں۔ عورتیں تو ہماری وراثت کو آگے بڑھائیںگی۔ عورتیں ہماری پراپرٹی ہیں۔ یہ فارم عورتوںکے لیے نہیں ہے۔ صرف مردوں کے لیے۔‘
خفیہ افسر نے میری طرف دیکھا۔ ’ خاص کر نوجوانوں کے لیے۔ یہ انقلابی ہوتے ہیں۔ دہشت گرد ہوتے ہیں۔ ہم سب کو مکتی دینے کے لیے آئے ہیں۔ اس رحمدل جادوگر کا شکریہ ادا کیجیے جو آپ کے بچوں کو بھی مستقبل کے دوزخ سے نجات دینے کے لیے پیدا ہوا ہے۔‘
کمرے میں سناٹا تھا۔ مندرسے بھجن کی آوازیں آرہی تھیں۔ باہر سیاہ بادلوں کا کارواں اب بھی موجود تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ آس پاس کہیں سارہ تھی یا نہیں۔ سارہ ان لوگوں کی گفتگوسن رہی تھی یا نہیں۔ میرا چہرہ فق تھا۔ دھندلے سایے تھے جو آنکھوں میں اتر رہے تھے۔ سرخ کتاب۔۔۔۔ سرخ فارم۔۔۔۔ موت کے وقت کا تعین۔ آسان موت۔۔۔۔ میں جانتا تھا، یہ لمحہ ضرور آنے والا ہے۔ باہر سے گھڑگھڑاتے ٹرکوں کی آوازیں بھی گونج رہی تھیں۔ اس وقت ایسے ٹرک پورے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں گھوم رہے تھے۔ مگر ایک دنیا خاموش تھی۔مجھے احساس تھا کہ اس وقت میرے جسم کا قطرہ قطرہ باہر نکل چکا ہے اور میں سرد لاش میں تبدیل ہوں۔۔۔۔۔ اور یہ لوگ لاش کی بولی لگانے آئے ہوں۔
’ تم کس فکر میں ڈوب گئے جہانگیر مرزا۔‘ تارا دیش پانڈے نے میری طرف دیکھا۔
میں اچانک زور سے چیخا۔’ میرے بیٹے کے لیے دس برس دیجیے۔ اس نے ابھی کچھ بھی نہیں دیکھا ہے۔ اس نے ابھی ابھی تو آنکھیں کھولی ہیں۔‘
’ افسوس دس برس کا کوٹہ پہلے سے ہی فل ہے۔‘ راکیش وید نے کہا۔
’ نوبرس۔‘
’ یہ بھی نہیں۔‘
’ آٹھ برس۔‘
’ سوری۔‘
’ سات برس۔۔۔۔‘
’ ہم نے کہا نا، یہ سارے کوٹے پہلے سے فل ہیں۔‘
’ چھ برس۔۔۔۔‘ میں لرز رہا تھا۔
’ نہیں ہے۔‘
’ پانچ برس۔‘
’ مسٹر جہانگیر مرزا۔ ہمیں افسوس ہے۔‘
پھر چار برس تو دیجیے۔ ہم سمجھ لیں گے، ہمارا لخت جگر اتنی ہی عمر لے کر اس دنیا میں آیا ہے۔‘
’ صرف تین برس۔ اور آپ کے لیے کچھ مہینے۔‘ خفیہ افسر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ دس برسوں میں اس ملک کو آپ سے خالی کرنا ہے۔ ملک میں خوشحالی آئے گی ۔ اور آپ اپنے رب کے پاس ہوں گے۔‘
’ تین برس۔۔۔۔‘ میں ہکلارہا تھا۔ یہ بہت کم ہیں۔ مجھے جینے کی کوئی آرزو نہیں۔ مجھے ابھی سنگسار کردیجیے۔ کوئی سی بھی آسان موت جو آپ چاہتے ہیں مگر میرے بیٹے پر رحم کیجیے۔‘
’ رحم دل جادوگر رحم ہی تو کررہا ہے۔‘
’ میں زور سے چیخا۔ میری بیوی سارہ کہاں جائے گی؟‘
’ اوہ سارہ‘ تارا دیش پانڈے نے سگریٹ جلالیا۔ ’ ہم نے کہا نا، عورتوں کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ ہماری پراپرٹی ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ رہیںگی۔‘
’ سارہ نازک ہے، وہ اس دنیا کے اچھے برے کے بارے میں نہیں جانتی۔‘
’ یہاں کون نازک نہیں جہانگیر۔‘ تارا محبت سے بولی۔ ملک کی تقسیم کے وقت بھی عورتوں کی ادلا بدلی ہوئی تھی۔ سب طور طریقے نیا ماحول سکھا دیتے ہیں۔ تم کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘
راکیش وید کا لہجہ اس وقت سرد اورسخت تھا۔’ ہزار برس۔ غلامی کے ہزار برس۔ تم نے ہمارے آریہ ورت پر قبضہ کرلیا۔ پھر آریہ ورت کے ٹکرے کردیے۔ ہم غلاموں کی طرح خاموش رہے۔ تم مٹھی بھر تھے اورہم پر حکومت کررہے تھے۔ظلم سے ، زور زبر دستی سے، شمشیر سے تم ہم کو اپنے مذہب میں کنورٹ کررہے تھے۔ ہم خاموشی سے سب کچھ برداشت کررہے تھے۔تم ہمیں موت دے رہے تھے۔ ہم نے کچھ کہا؟ نہیں کہا۔ برکتوں والے اور رحمتوں والے جادوگر نے موت کے انتخاب کی ذمہ داری بھی تم کو دی ہے۔ اس کا شکریہ ادا کرو۔‘
’ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔‘ میری آواز پھنسی پھنسی تھی۔’ یہ غلط ہے۔‘
’ تم نے کیا۔ ہمیں اتہاس سے غائب کیا۔ چاروں طرف اپنے ہونے کی نشانیوں کو آباد کردیا۔ ہم اپنے ہی ملک میں اجنبی تھے۔ اور اب تمہیں کوئی حق نہیں ہے، یہاں رہنے کا۔ ملک کی خوشحالی کے لیے تمہارا نہیں ہونا ضروری ہے۔ اور ہم تمہیں وقت دے رہے ہیں۔‘
’ وقت نہیں۔ موت کا فرمان جاری کررہے ہیں۔ نسل کشی کررہے ہیں۔‘
خفیہ افسر زور سے ہنسا۔۔۔۔ کیاان اموات کے لیے تم تیار تھے جب گائے رکشک تمہاری ہتیائیں کررہے تھے؟ یا بچہ چوری کا الزام لگا کر تمہیں مارا جارہا تھا۔ ؟یہ مشکل کام تھا۔ ایک کو مارو تب بھی الزام۔ کروڑوں کا صفایا کرو تو کوئی الزام نہیں۔ ہم تمہارے ہی راستے پر چلے۔۔۔۔‘
’ مگر بیٹے کے لیے تین سال۔۔۔۔؟ میں قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں۔‘
’ تمہیں قبول کرنے کو کس نے کہا ہے۔ تمہیں بس اس فارم پر دستخط کرنے ہیں۔ اپنی مرضی سے تم نے تین برس کا وقفہ چنا ہے۔’ بس ایک چھوٹا سا دستخط چاہیے ‘اور کچھ نہیں۔‘
’ پاشا ابھی گھر پر نہیں ہے۔‘
’ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ باپ ہو۔ اس کی گارنٹی تم لے لو۔‘
’ بیٹے کے مرنے کی گارنٹی؟‘
’ آسان موت۔ رحم دل جادوگر کی طرف سے۔ تم غلط سوچ رہے ہو۔‘
تارا دیش پانڈے کے لہجے میں ناراضی تھی۔ اُف تم نے بہت وقت ضائع کیا۔ فارم میں یہ بھی لکھا ہے کہ تم کیسی موت چاہتے ہو۔آسان موت۔ تمہارا گلہ گھونٹ دیا جائے۔ تمہیں گیس چیمبر میں ڈال دیا جائے۔ تمہیں کینسر یاایڈز کے انجکشن لگادیے جائیں۔ تمہیں پانی میں غرقاب کردیا جائے۔ تمہیں سمندر کی لہروں کے حوالے کردیا جائے۔ تمہیں کسی شارک کے منہ میں ڈال دیا جائے۔ یا تمہیں تمہارے فریز میں بند کردیا جائے۔سرد موت۔۔۔۔ برف کی آغوش اور آسان موت۔۔۔۔ ہمارے پاس آسان موت کے لیے ہر طرح کی مثالیں ہیں۔ تمہیں فارم میں یہ بھی بھرنا ہے کہ تم اپنے اور بیٹے کے لیے کس طرح کی موت چاہتے ہو۔۔۔۔ اُف جہانگیر مرزا۔ اب باتوں میں وقت ضائع نہ کرو۔ ہمیں کچھ اور لوگوں سے بھی ملنا ہے۔‘

اس وقت باہر سے لگاتار تین بار گولیاں چلنے کی آواز آئی۔ اور کمرے میں اچانک سناٹا چھا گیا۔ میں دھند اور سیاہ بادلوں کے نرغے میں تھا اور ان کہانیوں کو یاد کررہا تھا جب تقسیم کے بعد ہمارے بہت سے عزیز اور رشتے دار پاکستان چلے گئے تھے۔ ایک ملک کا حادثات سے گزرنا اور نئے سرے سے خود کو کھڑا کرنا بلا شبہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ مگر تقسیم نے اصلی درد کس کو دیا تھا۔ یا سب سے زیادہ زخمی کون ہوا تھا۔ جو پاکستان چلے گئے۔؟ یا وہ ہندوستانی جنہوں نے پاکستان جانا قبول نہیں کیا۔؟ وہ سارے واقعات جو میں نے سنے، اب بھی آسیب کی طرح میرا پیچھا کرتے ہیں۔ میرے والد نے منقسم ہندوستان کو ناقابل شناخت حالات میں دریافت کیا اور وہ اب تک تقسیم کا درد بھلا نہیں سکے۔ انہیں جنگوں کا زمانہ یاد آتا ہے۔ اور وہ کہتے تھے سونے کی سرزمین سے سارہ سونا انگریز لے گئے۔ دونوں ملکوں کے لیے جنگیں چھوڑ گئے۔جب کانگریس سوشلزم کا راستہ اپنا رہی تھی وہ کہتے تھے سیاست کے لیے علامتیں بے جان ہوتی ہیں اور اب کوئی ہجوم آئے گا جو کانگریس کا صفایا کردے گا۔ پاکستان کا قیام مسلم لیگ اور مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا یا نہیں لیکن ہندوستانی مسلمان سیاست کی ہڈی بن گئے جن کی طرف ہر سیاسی پارٹی کی نظر تھی۔ حکومت کی خواہشات سے منحرف ہونے والے پہلے بھی سزا یافتہ قیدیوں کی طرح تھے اور اب ملک کی غالب اکثریت ایک نئے جشن کی تیاری کررہی تھی۔محبت ، بھائی چارہ، اخوت، ملت، سیکولر، جمہوریت جیسے لفظ ہولناک قرار دے دیے گئے۔ دوسری جنگ عظیم سے لے کر آزادی تک اور آزادی کے۵۰ برسوں میں ملک میں کئی طرح کی تبدیلیاں آچکی تھیں۔ پہلے وہ بوڑھی مچھلیوں کا شکار کررہا تھا پھر اس کا چہرہ موت کے عزم مصمم کا آئینہ دار ہوگیا۔ نئی نسل نے اپنے آباو اجداد سے کچھ نہیں سیکھا۔ وہ اطمینان اور سکون کے اس راستے پر چلے جہاں اب ہلاکت اور دہشت گردی کا بوجھ تھا۔۱۷۔۱۸ سال قبل جادوگر کی خفیہ آمد نے پیش گوئی کردی تھی اور برے موسم کا حال بتا دیا تھا۔ مگر سیاست کی مکڑیوں نے ایک پوری قوم کو سکون کے نشے کا عادی بنا دیا تھا۔جادوگر ہوا میں کرشمے دکھاتا رہا اور نیند میں چلنے والے، نیند میں چلتے رہے۔ نیند، نہ ختم ہونے والی نیند۔ اور اب موت کا فرمان۔۔۔۔۔ باہر گولیاں چلی تھیں اور اب گولیوں کا چلنا کوئی ایسی بات نہیں تھی، جس کے بارے میں بے چین ہوا جاسکے۔
’ کیا سوچنے لگے۔۔۔۔‘ خفیہ افسر میری طرف دیکھ رہا تھا۔
’ کچھ نہیں۔‘
’ تو پھر دیر کس بات کی۔‘ تارا دیش پانڈے نے مسکراکر کہا۔
دوسراا جنبی زور سے کھلکھلاکر ہنسا۔۔۔۔’ آپ لوگ تو موت سے نہیںڈرتے۔۔۔۔‘
’ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہورہا ہے۔‘ راکیش وید کی آواز میں سانپ کی پھنکار شامل تھی۔
’ یہ فیصلہ مجھے قبول نہیں۔‘ میری آواز میں لرزش تھی۔
’ تمہارے نہ قبول کرنے سے کیا ہوتا ہے۔‘
’ فیصلہ تو آچکا ہے۔‘
خفیہ افسر نے مجھے کرسی پر دھکّا دیا۔ میرا سر کرسی کی پشت سے ٹکرایا۔ اب یہ لوگ حملہ آور ہورہے تھے۔ مگر مجھے ان کے حملوں سے کوئی خوف نہیں تھا۔ میرا بیٹا پاشا مرزا اور محض تین برس۔ میں زور سے چلایا۔۔۔۔۔
’ آپ مجھے مجبور نہیں کرسکتے۔‘
’ مجبور نہیں کررہے۔ وقت دے رہے ہیں۔‘ راکیش وید نے سگریٹ سلگا لیا۔ وہ دھواں میرے چہرے کی طرف چھوڑ رہا تھا۔ اب زیادہ سوچنے کا وقت نہیں ہے۔ جلد سائن کرو اور ہمیں اجازت دو۔۔۔۔۔‘
’ تین برس۔۔۔۔‘ میری آواز میں گرگراہٹ شامل تھی۔۔۔۔’ کم از کم دس برس تو کردیجیے۔ ابھی میرا بیٹا نادان ہے۔ بہت چھوٹا ہے۔۔۔۔۔۔‘
’ سارے کوٹے فل ہیں۔‘ تارا دیش پانڈے کے چہرے پر اب بھی مسکراہٹ تھی۔ زیادہ وقت ضائع نہ کرو۔ د ستخط کردو۔‘
’ اپنے خاندان کی موت پر دستخط؟‘
’ آسان موت۔۔۔۔ وہ رحم دل بادشاہ ہے۔۔۔۔‘ راکیش وید نے آہستہ سے کہا۔
مرگ۔۔۔امبوہ۔ تاریخ کی کتابوں سے ایسے کئی سیاہ ورق اور تصویریں اس وقت نظروں کے سامنے تھیں۔ باہر سڑک پر گاڑیاں اور ٹرک دوڑ رہے تھے۔ ان کی آواز بھیانک تھی۔ سرخ فارم میرے ہاتھ میں کانپ رہا تھا۔ پاشا مرزا اور سارہ کا چہرہ میری نگاہوں میں روشن تھا۔ اب یہ چہرے اوجھل ہورہے تھے۔ مجھے چکّر آرہے تھے۔ خفیہ افسر نے میرے ہاتھوں کو تھاما۔’ یہاں دستخط کرو۔‘
میرے ہاتھ لڑکھڑا رہے تھے۔
’ اور یہ تمہاری موت کا فرمان۔۔۔۔ یہاں بھی دستخط کرو۔‘ راکیش وید مسکرائے۔۔۔ ویسے بھی تم میں زندگی کہاں بچی ہے۔ تمہارے پاس ابھی بھی کچھ دن ہیں۔ بیوی بچوں سے مل لو۔۔۔۔‘
’ گڈ بائے۔‘ تارا دیش پانڈے کے ساتھ ساتھ سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ جاتے ہوئے تارا دیش پانڈے نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔ پھر آگے بڑھ گئی۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook