Home / خبریں / منٹو کا افسانہ’’یزید‘‘ایک مطالعہ

منٹو کا افسانہ’’یزید‘‘ایک مطالعہ

٭ڈاکٹر محمد محسن
کروڑی مل کالج ، دہلی یونیوسٹی
سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’ یزید ‘‘ تقسیم کے حوالے سے کافی اہمیت رکھتا ہے ۔ حالانکہ اس افسانے کے بنیادی موضوع پر مختلف ناقدین میں اختلاف ہے مگر پس منظر پر کوئی شک نہیں ہے کہ اس کا برائے راست تعلق سن ۴۷ سے ہے۔ بنیادی موضوع پر اگرچہ اختلاف ِ رائے ہے مگر جو تقسیم اور فسادات کے مناظر منٹو نے اس افسانے میںپیش کئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم سن ۴۷ سے جڑے اہم افسانوں میں ’’ یزید ‘‘ کو شامل کر سکتے ہیں ۔ ہندستان جب تقسیم ہوکر دو حصوں میں بٹا تو اس بٹوارے نے سینکڑوں مسائل کو بھی جنم دے دیا ۔ اور یہ ایسے مسائل ہیں کہ آج اکیسویں صدی میں بھی ہم ان مسائل سے جھوج رہے ہیں ۔ آج بھی کشیدگی دونوں ممالک میں بڑی زور و شور سے جاری ہے ۔ ان ہی مسائل نے اردو ادب میں بہت سارے افسانے تخلیق کروائے ۔ اور آج تک لکھے جا رہے ہیں ۔ افسانہ ’’ یزید‘‘ کا موضوع بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔ بہر حال اس کے موضوع پر ہم بعد میں بات کریں گے پہلے اس کی مختصر کہانی بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
کہانی اگرچہ ۴۷ کے کئی سال بعد کی ہے مگر اس افسانے کا پس منظر تقسیم اور فساد ہی ہے۔ افسانے کا آغاز ملاحظہ ہو :
’’ سن سنتالیس کے ہنگامے آئے اور گزر گئے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح
موسم میں خلاف ِ معمول چند دن خراب آئیں اور چلے جائیں ۔ یہ نہیں کہ کریم
داد ، مولا کی مرضی سمجھ کر خاموش بیٹھا رہا ۔ اس نے اس طوفان کا مردانہ وار
مقابلہ کیا تھا۔ مخالف قوتوں کے ساتھ وہ کئی بار بھڑا تھا ۔ شکست دینے کے
لئے نہیں ، صرف مقابلہ کرنے کے لئے نہیں ۔ اس کو معلوم تھا کہ دشمنوں کی
کی طاقت بہت زیادہ ہے ۔ مگر ہتھیار ڈال دینا وہ اپنی ہی نہیں ہر مرد کی
توہین سمجھتا تھا ۔ ‘‘
( افسانہ ؛ یزید)
اس افسانے کا اہم کردار کریم داد ہے ۔ یہ افسانہ اصل میں ۱۹۵۱ء میں لکھا گیا تھا یعنی تقسیم کے چار سال بعد ۔ مگر افسانے میں پیش کئے گئے موضوع کی جڑ تقسیم ہی ہے ۔ کریم داد نے تقسیم اور فسادات میں بہت دکھ جھیلے ہیں ۔ ان فسادات میں وہ اپنے باپ کو کھو چکا ہے ۔ اس کا باپ اس کے لئے کیا معنی رکھتا ہے اس عبارت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے :
’’ رحیم داد جو نہ صرف اس کا باپ تھا بلکہ ایک بہت بڑا دوست بھی تھا۔‘‘
( افسانہ: یزید )
کریم داد کے لئے اس کا باپ سب کچھ تھا ۔ اور اس کی موت بھی بہت درد ناک ہوئی تھی ۔ عبارت ملاحظہ ہو:
’’ بلوائیوں نے بڑی بے دردی سے قتل کیا تھا ۔ لوگ جب اس کی افسوس
ناک موت کا ذکر کرتے تو قاتلوں کو بڑی گالیاں دیتے تھا مگر کریم داد
خاموش رہتا تھا ‘‘
(افسانہ : یزید)
کریم داد نے والد کی موت پر زیادہ غم نہیں کیا ۔ لیکن گائوں میں فساد نے طوفان مچا دیا تھا ۔ افسانے کی ایک عبارت ملاحظہ ہو :
’’ گائوں میں اور بھی کئی وارداتیں ہوئی تھیں سینکڑوں جوان اور بوڑھے
قتل ہوئے تھے کئی لڑکیاں غائب ہوئی تھیں کچھ کی بہت ظالمانہ طریقے
سے بے آبرو ہوئی تھیں ۔ جس کے بھی یہ زخم آئے تھے روتا تھا اپنے پھوٹے
نصیبوں اور دشمنوں کی بے رحمی پر مگر کریم داد کی آنکھوں سے ایک آنسو نہ
نکلا‘‘
( افسانہ : یزید)
کریم داد نے اتنے ظلم دیکھ کر بھی اپنی آنکھوں کو نم نہ ہونے دیا ۔ ابھی لوگ اس صدمے میں ہی گم تھے کہ کریم داد نے شادی کرنے کا اعلان کر دیا ۔ اس نے جیناں سے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ جیناں اس سے محبت کرتی تھی لہذا مان گئی ۔ جلد ہی ان کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہو گئی ۔ گائوں کے اوپر ہوئے ظلم کو ابھی لوگ بھولے بھی نہیں تھے اور نہ ہی ابھی خطرہ ٹلا تھا مگر اس کے باوجود کریم داد نے دھوم دھام سے شادی کی ۔ گائوں کے لوگ حیران تھے ۔
شادی کے بعد اس کی ازدواجی زندگی اچھی طرح سے گزرنے لگی ۔ لیکن ہندستان اور پاکستان کے درمیان جو رنجشیں شروع ہوئی تھی وہ اور بھڑنے لگیں ۔ اس کے اثرات عام زندگی پر بھی برائے راست پڑ رہے تھے ۔ کچھ دنوں کے بعد ہندستان نے پاکستان جانے والے پانی کو بند کرنے کے اعلان کر دیا ۔ یہ پانی کریم داد کے گائوں سے بھی گزرتا تھاجس کی وجہ سے وہاں فصل اگائی جاتی ہے ۔پورا گائوں اسی پانی پر اپنی روزی روٹیچلاتا ہے ۔ جب یہ خبر گائوں تک پہنچی تو سب حیران ہوگئے۔ کریم داد کے لئے بھی یہ نقصان دہ تھا ۔ گائوں کے لوگ غصے میں تھے اور ہندستان کو گالیاں دے رہے تھے مگر کریم نے تب بھی اپنے چہرے پر غصہ نہیں آنے دیا ۔ بلکہ گائوں کے وہ لوگ جو ہندستان گو گالیاں دے رہے تھے ان کو گالیاں نہ دینے کا مشورہ دے رہا تھا ۔ دریا کا پانی بند ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی بھی بہت پریشان تھی مگر اس کے چہرے پر کوئی اداسی نہیں تھی ۔
کچھ دنوں کے بعد جیناں کو بچہ پیدا ہو ۔کریم بہت خوش ہوا ۔ اس کو کہا گیا کہ بچے کا کوئی نام تجویز کرے اس نے بے ساختہ ’’یزید‘‘ کہا ۔لوگ حیران ہوگئے ۔ عبارت ملاحظہ ہو :
’’ جیناں کی آواز بہت نحیف ہوگئی ۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو کیمے ۔۔۔۔۔
یزید؟۔کریم داد مسکرایا ، کیا ہے اس میں؟ نام ہی تو ہے ؟ جیناں صرف اس
قدر کہہ سکی ۔ مگر کس کا نام ؟ کریم داد نے سنجیدگی سے جواب دیا ، ضروری
نہیں کہ یہ بھی وہی یزید ہو ۔۔۔۔۔ اس نے دریا کا پانی بند کیا تھا ۔۔۔
یہ کھولے گا ۔‘‘
(افسانہ: یزید)
پورا افسانہ صرف کریم داد کے ارد گرد گھومتا ہے اور موضوع کا تعلق بھی برائے راست اسی سے ہے۔ وہ تقسیم اور فسادات کے حادثات دیکھتا ہے تو چپ رہتا ہے ، دوست جیسے باپ کے ظالمانہ قتل پر بھی خاموش رہتا ہے ،اورہندستان کے دریائوں کو بند کرنے کا سیدھا مطلب تھا کہ کریم داد کی روزی روٹی بند کرنی ۔ یہ سارے واقعات وہ ایک ایک کرکے برداشت کرتا رہتا ہے ۔اس کے چہرے پر کبھی غصہ نہیں آتا ۔
ایک طرح سے دیکھا جائے تو کریم داد نفسیات کا مریض بن چکا تھا ۔ دکھ درد تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کے اندر جمع ہو رہے تھے مگر اس کے اندر برداشت کرنے کا مادہ بہت زیادہ تھا ۔ وہ اس غصے کو فوراً ظاہر کر کے اس کے اثرات ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ ان کو جمع کرکے بدلے کی ہمت رکھتا تھا ۔ ہندستان جب پانی بند کرنے کا اعلان کرتا ہے تو اس کے گائوں والے ہندستان کو غصے سے کافی گالیاں دیتے ہیں تب کریم داد آگے بڑھتا ہے اور ان کو سمجھاتا ہے کہ آپ اپنے غصے کو کیوں ضایع کرہے ہو۔ اس کو سنبھال کر رکھو ۔ یہی وجہ تھی کہ کریم داد نے تقسیم کے دوران سینکڑوں لوگوں کو مرتے دیکھا تھا ، خود کے والد کا بے رحمانہ قتل دیکھا ،ناجانے کتنے گھروں کو جلتے دیکھا، اور پھر پانی بند کرنے کا واقع۔ اس نے ان تمام حادثات کو غصہ کرکے تاثرات ختم نہیں ہونے دیے بلکہ جذبات جمع ہونے دیے ۔جب اس کا بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام یزید رکھ دیا گیا ۔ یزید وہ تھا جس نے اسلام کی آخری شمع کو بڑی بے رحمی سے بھجایا تھا ۔ ایک مسلمان کبھی اپنی اولاد کا نام یزید تجویز نہیں کر سکتا ۔ اسے گناہ سمجھا جاتا ہے مگر کریم اندر سے اتنا زخمی ہو چکا تھا کہ مذہب کا مخالف بھی بن چکا تھا ۔ وہ اپنے بیٹے کے ذریعے ہندستان سے بدلہ لینا چاہتا ہے ۔ اس طرح سے تقسیم کے حوالے سے ’’یزید‘‘ ایک اچھا افسانہ ہے ۔
حالانکہ اس موضوع پر ناقدین کے درمیان اختلاف ہے ۔ مذکورہ بالا موضوع کے علاوہ بعض ناقدین کا ماننا ہے کہ اس افسانے کا موضوع تقسیم بالکل بھی نہیں ہے ان کا ماننا ہے کہ افسانے کا خاتمہ پانی کے مسئلے پر ختم ہوا ہے تو اس کا اصل موضوع پانی کا مسئلہ ہی ہے ۔ خیر میری نظر میں یہ موضوع افسانے کا ایک پہلو ہوسکتا ہے مگر افسانے کا پورا موضوع نہیں ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook