Home / خبریں / موجودہ عہدکی سندی تحقیق سے میں مطمئن نہیں :شمس الرحمن فاروقی

موجودہ عہدکی سندی تحقیق سے میں مطمئن نہیں :شمس الرحمن فاروقی

قومی کونسل برائے فروغ انسانی وسائل وغالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام منعقد سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سیمینار کا افتتاح

 

research-seminar-31-oct-pic
فوٹوکیپشن :دائیں سے بائیں :صدیق الرحمان قدوائی،طلحہ رضوی برق،طلعت احمد،سیدشاہدمہدی،شمس الرحمان فاروقی ،ارتضی کریم اوررضاحیدر

نئی دہلی:(اسٹاف رپورٹر)
قومی کونسل برائے فروغ انسانی وسائل وغالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام منعقد سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرزسمینارکے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبے میں معتبروممتاز ناقدومحقق اورہندوستان میں جدیدیت کے بانی پروفیسرشمس الرحمان فاروقی نے غالب آڈیٹوریم میں کہا کہ آج کی تحقیق یا تحقیق کے نام پرجوکچھ ہورہا ہے۔اس سے میں مطمئن نہیں ہوں ۔تحقیق کرتے ہوئے یہ پیش نظررکھنا چاہیے کہ اپنے موضوع کے اعتبارسے نئی تعبیرات کاہم انکشاف کریں ۔ہماری ادبی تاریخ میں بہت سے محققین ہیں ،جنہوں نے ادبی نتائج کواپنے معتقدات کے مطابق ہونے کی وجہ سے قبول کرلیا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ جونتائج اورفیصلے پہلے سے موجود ہیں ،ان پرآنکھ بندکرکے یقین نہیں کرنا چاہیے ۔کوئی روایت چاہے جنتی مصدق ہومگراپنی تحقیق کے بغیراسے قبول نہیں کرنا چاہیے ۔تحقیق کی موجودہ صورت حال دروں بینی اورخود احتسابی کی دعوت دیتی ہے،جس کا پاس ولحاظ رکھنا اشد ضروری ہے۔افتتاحی اجلاس کی صدارتی تقریر میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلرسیدشاہدمہدی نے کہ اکہ ریسرچ اسکالرز کی شرح نمو ہندوستانی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے ۔یہ صورت حال صرف اردوتک محدود ومسدود نہیں ہے۔بہت سے شعبوں کی صورت حال اردو سے زیادہ خراب ہے۔اردوتحقیق کوایک مخصوص دائرے سے باہرلانے کی ضرورت ہے ۔تاکہ تازہ ہواآسکے۔فارسی زبان وادب کے ماہرپروفیسرسید طلحہ رضوی برق چشتی داناپوری نے کہاکہ ریسرچ اسکالرزکوبھی معلوم نہیں ہوتا کہ تھیسس میں لکھا ہواکیا ہے ۔ریسرچ اسکالرز کوچاہیے کہ جوچیزیں آنکھوں سے پوشیدہ ہیں ،انہیں سامنے لائیں ۔اچھی اردوکے لیے فارسی کاجاننا ضروری ہے۔طلبہ وطالبات کے شایان شان جو مدد نہ ہووہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کربھی نہ دیکھیں ۔اپنی تہذیب کی بقاکے لیے زبان کی بقا کویقینی بنانا ہوگااورزبان کی بقا کے لیے جدوجہداورمحنت کی ضرورت ہے ۔موجودہ صورت حال کے پیش نظراحتساب بھی ضروری ہے اوراحتساب ریسرچ اسکالرز تک محدود نہیں ہونا چاہیے ۔اس سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینارمیں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسرطلعت احمد نے کہا کہ یہ سمینارطلبہ وطالبات کے لیے ہی ہے۔دوسرے شعبوں کے لوگوں کومدعوکرنااچھی پیش رفت ہے ۔باہرکی دنیا میں جدیدچیزیں طلبہ کو ہی ازبرہوتی ہیں اوروہی صدارت کرتے ہیں ۔آج کے زمانے میں ریسرچ کرنا پہلے کی بہ نسبت زیادہ آسان ہے ۔آج آپ کے پاس گلوبل دنیا تک رسائی بہت آسان ہے۔نیٹ نے دشواریوں کو ختم کردیا ہے۔انہوں نے اس موقع پر زود نویسی کی ممانعت بھی بیان کی اورکہاکہ کم لکھیں مگر اچھا لکھیں ۔اچھا استاذ وہ ہوتا ہے ،جو خود سے اچھا شاگرد پیداکرے ۔اس موقع پراپنے تعارفی کلمات میں قومی کونسل برائے فروغ انسانی وسائل کے متحرک وفعال ڈائرکٹر پروفیسرارتضی کریم نے کہاکہ ادب وتحقیق اورتنقید عبادت کا درجہ رکھتی ہیں ۔ہمارے اساتذہ نے خود کو فنافی الادب کیا تب کہیں انہیں یہ مقام ومرتبہ حاصل ہوسکا۔یہ راہیں تسلسل چاہتی ہیں ۔ریسرچ اسکالرز کو باندھ کرنہیں رکھنا چاہیے انہیں یہ آزادی دینی چاہیے کہ وہ جس سے چاہیں استفادہ کریں ۔انہوں نے پرجوش طریقے پرریسرچ اسکالرز کا اس سمینار میں خیرمقدم اوراستقبال کیااورکہاکہ قومی کونسل نے ریسرچ اسکالرز کو گود لے لیا ہے ۔تاکہ وہ بہترسے بہتر کام کرسکیں ۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسرصدیق الرحمن قدوائی نے استقبالیہ تقریرکرتے ہوئے تمام مہمانوں اورریسرچ اسکالرز کا خیرمقدم کیااوراعلی تعلیم کی طرف کم ہوتے رجحان کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی ۔انہوں نے کہاکہ ہم سب کو آپ لوگوں سے ہی امیدیں وابستہ ہیں۔معاصرادب ،تحقیق اورتنقید کی تاریخ آپ کوہی رقم کرنی ہے۔اس لیے اپنے فرض منصبی کی ادائیگی کے لیے آپ سب کو متحرک وفعال ہونا ہی ہوگااوریہی وقت کا جبری تقاضہ بھی ہے ۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدرنے افتتاحی اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں ریسرچ اسکالرز کی تمام سمیناروں میںسب سے زیادہ ضرورت ہے اس لیے کہ ہم نے اگر ریسرچ اسکالرز کی حوصلہ افزائی نہیں کی تو ہم اردو وفارسی زبان و ادب کے ساتھ انصاف نہیں کرسکیں گے۔آپ نے مزید کہاکہ ریسرچ اسکالرز سمینارکی مقبولیت کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سال چالیس سے زیادہ یونیورسٹیوں کے ریسرچ اسکالرز اس سمینار میں مقالہ پیش کر رہے ہیں۔اس سمینارمیں دلچسپیوں کاتذکرہ کیااوراپنی خوشی کا اظہاربھی کیا اوراس سمینارکی تیاریوں میں آنے والی دشواریوں کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے اساتذہ سے مزید تعاون کی درخواست کی ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ٹیگورپروجیکٹ کے کامیاب اختتام کے بعد اس کے ذمہ داران نے گیارہ سو کتابیں مجھ تک پہنچائی ہیں ۔جنہیں میں سمینارکے آخری دن ریسرچ اسکالرز کو پیش کروں گا۔اس افتتاحی اجلاس کے دوران چارکتابوں کو اجرابھی مہمانوں کے دست مبارک سے ہوا۔خیال رہے کہ یہ تمام کتابیں ریسرچ اسکالرز کی تصانیف ہیں ۔جن میں افسانے کی شعریات ،رضی شہاب،شیریں کتھا،ضیاء اللہ انور،علامہ ،صالحہ صدیقی اورراحین شمع کے ترجمے کی رسم اجراہوئی۔اس موقع پرممتاز محقق وناقد شمس الرحمان فاروقی سمیت تمام مہمانوں نے مصنفین کو مبارک باد دی ۔سمینارکے پہلے اجلاس کی کی صدارت کرتے ہوئے جے این یو کے ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے چیئرپرسن پروفیسرانورپاشا نے کہاکہ زوال ہرجگہ نمایاں ہے،بیوروکریٹس کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں ۔انہیں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔زبان ،تہذیب ،تمدن ،تشخص اورثقافت کاتحفظ ناگزیر ہے۔اپنی نوجوان نسل سے توقعات وابستہ کرنا فطری امر ہے۔نوجوان نسل کے کاندھے جتنے مضبوط ہوں گے،ادب،زبان اورتہذیب اتنی ہی مستحکم ہوں گی ۔کامیاب سمینارکے انعقادکے لیے میں ڈائرکٹر اورغالب انسٹی ٹیوٹ کو مبارک باد پیش کرتاہوں ۔پہلے اجلاس کی مجلس صدارت کے دوسرے رکن پروفیسرقاسم فریدی نے کہاکہ اس سمینارمیں آنے سے قبل شعبے میں اپنے اساتذہ سے استفادہ ضرور کرنا چاہیے ۔تاکہ یہاں کسی طرح کی خامی اورغلطی کا امکان باقی نہ رہے ۔پہلے اجلاس میں نورین علی حق نے نظامت کی اورمحمد عالم گیرانصاری،نرگس بیگم ،فہیم اشرف ،سرفراز خان،محمدشہاب الدین ،رضوانہ عارف ،ثنافاطمہ اورفرحین انجم نے مختلف موضوعات پراپنے اپنے مقالے پیش کیے ۔دوسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹراسلم جمشیدپوری،ڈاکٹراخلاق آہن اورصالحہ رشید نے کی اس اجلاس میں عالیہ خان نے نظامت کی اور محمد عابدکریم،احمدذکی،محمدفراز ،نصرت امین اورانصاراحمد نے مقالات پیش کیے ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook