Home / خبریں / میڈیا کی بے سمتی سماج اور حکومت کے لیے نقصان دہ ۔سید فصل علی

میڈیا کی بے سمتی سماج اور حکومت کے لیے نقصان دہ ۔سید فصل علی

بے سمتی کا شکار ہے جمہوریت کا چوتھا ستون ۔پروفیسر انور پاشا

جے این یو میں ’’کبیر میموریل لکچر‘‘کا انعقاد٭میڈیا کی اخلاقیات پر نامورصحافیوں کا اظہار خیال

IMG_0144 (2)

نئی دہلی (اسٹاف رپورٹر)جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے تحت ’’12ویںکبیر میموریل لکچرر ‘ ‘کا انعقاد کیا گیا ہے ، جس میں ’’میڈیا کا موجودہ منظر نامہ اوراخلاقیات‘‘ پر مشہور صحافیوں اور دانشوروں نے اظہا رخیال کیا ۔ اس موقع پر خیرمقدمی اورتعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے سی آئی ایل کے چیئر پرسن پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ میڈیا آج جمہوریت کو مضبوطی فراہم کرنے کے بجائے اسے کمزورکررہا ہے ۔ اگر چوتھا ستون کمزور ہوجائے تو حکومتی سطح پر ہر جگہ بدنظمی نظر آئے گی ۔ اس لیے میڈیا کی بے سمتی اور جانبداری نہ صرف میڈیا کے لیے نقصان دہ ہے ، بلکہ پورا سماج اور مکمل حکومتی نظام اس کے برے اثرات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس سال کے کبیر میموریل لکچر کے لئے اس موضوع کا انتخاب کیا گیا۔ اور موضوع کی مناسبت سے ہم نے سہارا نیوز نیٹ ورک کے گروپ ایڈیٹر سید فیصل علی سے اس اہم موضوع پر خصوصی لکچر دینے کی گزارش کی۔ اور صدارت کے لئے ہم نے ماس کمیونیکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر افتخار احمد کو زحمت دی ہے۔مہمان خصوصی اور سہارا میڈیا کے گروپ ہیڈ سید فیصل علی نے خصوصی لکچر دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں اخلاقیات کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے ، بلکہ ہر عہد میں میڈیا کی بے سمتی پر بات چیت کی گئی ہے ، خاص طورسے ہندوستانی میڈیا علاقائی اور قابل توجہ مسائل کے تناظر میںغیر جانبدار نہیں ہے ۔ انھوں نے متعدد مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی میڈیا’ انڈیا ـ‘کو پرموٹ کرتا ہے ، نہ کہ بھارت اور ہندوستان کو ، یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں کے مسائل میڈیا سے غائب ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ اب میڈیا میں موضوعات ومسائل کی اہمیت نہ رہ کر شخصیت پرستی اورحکومتی دباؤ کا اثر نظر آتا ہے ، جو کہ میڈیا کی اخلاقیات کے تئیں قابل تحسین نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جے این یو کے معاملہ میں میڈیا کارویہ بیحد غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔ بلکہ میڈیا نے بے سمتی کو فروغ دیتے ہوئے ، وہی دکھانے کی کوشش کی ، جسے کچھ خاص عناصر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پہلے کے صحافیوں کا صحافت سے معاہدہ ہوتا ہے ، اس لیے وہ تندہی سے اپنا فریضہ ادا کرتے تھے ، مگر آج نظریات بدل گیے ہیں۔ سید فیصل علی نے بڑی بے باکی سے اپنی باتیں رکھتے ہوئے کہا کہ صحافت کڑی آزمائیش کا پیشہ ہے۔ صحافی میں ہمت چاہئے کہ وہ سچ کو سچ لکھ سکے۔ انھوں نے کہا کہ آج رپورٹ میں ملاوٹ بہت بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ میں حقائق کے بجائے نظریات شامل کئے جا رہے ہیں۔ کانپور کے مشہور حلیم مسلم پی جی کالج کے پرنسپل اور ممتاز سوشل سائینٹسٹ ڈاکٹر شکیل احمد نے میڈیا اور اخلاقیات کے حوالے سے بہت اہم نکات کی طرف اشارہ کیا۔ انھوں نے میڈیا میں اخلاقی پہلو کو نظر انداز کرنے کو شرمناک قرار دیا۔ ڈاکٹرشکیل احمد نے کہاکہ میڈیا کی اخلاقیات جمہوریت کی پاسداری میں پوشیدہ ہے ۔ اس لیے آزاد میڈیا کا تصور ہی اس وقت کیا جاسکتا ہے ، جب اس پر سیاسی پارٹی سمیت حکمرانوں کا عمل دخل نہ ہو پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے جے این یو میں ماس میڈیا کے استاد ڈاکٹر شفیع ایوب نے کہا کہ سید فیصل علی نئی سوچ اور نئی فکر کے مالک ہیں۔ انھوں نے اردو صحافت کو ہر اعتبار سے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا کام کیا ہے۔ ڈاکٹر شفیع ایوب نے خصوصی طور پر پروفیسر انور پاشا اور پروفیسر خواجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا کہ کبیر میموریل لکچر کے لئے سید فیصل علی کو اور صدارت کے لئے ڈاکٹر افتخار احمد کو مدعو کیا۔ اپنے پُر لطف اور شگفتہ انداز بیان کے ساتھ جب ڈاکٹر شفیع ایوب نے صدر جلسہ ڈاکٹر افتخار احمد کو دعوت دی تو اپنی صدارتی تقریر میں انھوں نے کئی اہم موضوعات کی طرف اشارہ کیا۔ بیحد عالمانہ صدارتی خطبے میں انھوں نے میڈیا میں اخلاقی گراوٹ کے حوالے سے کئی ذاتی واقعات کا ذکر کیا۔
ایم سی آرسی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر افتخار احمدنے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا خواہ سرکاری یا پرائیویٹ ہو،کہیں بھی صورتحال بہتر نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فلمی دنیا کا ایک طبقہ جانبداری کا مظاہرہ کررہا ہے ، وہیں میڈیا ہاؤس بھی حکومتی نظام کی بدنظمی کو اجاگرکرنے میں جانبدار ہے ۔انھوں نے میڈیا کے حوالے سے ہوئے تحقیقی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے میڈیا کی سمت ورفتار اور اس کی اخلاقیات کا جائزہ پیش کیا ، ساتھ ہی انھوں نے میڈیا ہاوس کے تئیں کورٹ کی متعدد رپورٹ کا ذکر کیا ۔پروگرام کے آخر میں ناظم جلسہ ڈاکٹر شفیع ایوب نے اظہار تشکر کے لئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر خواجہ اکرام کو دعوت دی۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا کہ میڈیا کا المیہ یہ ہے کہ آج فقط کھیل اورتفریح کی خبروں میں سچائی ہوتی ہے ، ورنہ عموماً بیش تر خبروں میں آمیزش نظر آتی ہے ۔ میڈیا کی اخلاقیات اور اصلاحات سچائی میں ہی پوشیدہ ہے ، لیکن خبروں میں ہونے والی ذاتی نوعیت کی تبدیلی میڈیا کے لیے مفید نہیں ہے ۔ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے بے حد مقبول استاد پروفیسر خواجہ اکرام نے فرداً فرداً تمام احباب کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے ایک اچھے اور حسب حال موضوع کے انتخاب کے لئے ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے چئیرپرسن پروفیسر انور پاشا کا بھی شکریہ ادا کیا۔
ا س موقع پر پروفیسر مظہر مہدی حسین ،نامور صحافی جمشید عادل علیگ، ڈاکٹر محمد توحید خان، پروفیسر رام چندر ، ڈاکٹرہادی سرمدی ، چودھری نفیس الرحمن ،ڈاکٹر پونم، ڈاکٹر شیو پرکاش، ڈاکٹر محمد نثار ، ڈاکٹر شگفتہ یاسمین ، پروفیسر اجمیر سنگھ کاجل، ڈاکٹر حافظ محمد عمر،ڈاکٹر معین خان، جناب رکن الدین، جناب امتیازالحق،جناب سلمان عبدالصمد، جناب شہباز رضا، محترمہ مہوش نور ، جناب ثناء للہ ان کے علاوہ کثیر تعداد میں ریسرچ اسکالر اور طلبا موجود تھے ۔

IMG_0165

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook