Home / Uncategorized / میں خواہشوں کے پھول چن رہی تھی

میں خواہشوں کے پھول چن رہی تھی

تبسم فاطمہ
(۱)
میرے پاؤں زخمی تھے
مگر میں اڑ رہی تھی
اپنے ہی بنائے گئے آسمان میں/
زندگی جب جب اپنا دامن تنگ کرتی ہے
اکیلے گھٹن بھرے کمرے میں
اڑان بھرتی ہوں
بنا لیتی ہوں ایک نیا آسمان/
میں درد کے کانٹے بکھیر رہی تھی
اور خواہشوں کے پھول چن رہی تھی
تنہائی میں
صرف آباد کرتی ہوں اپنی دنیا/
اور یہاں کوئی نہیں ہوتا میرے سوا
پہلے میں انگارے جمع کرتی تھی
اورچاروں قل پڑھ کر
دکھ کے چنے ایک ایک کرکے
تھالی میں رکھتی جاتی تھی
اب میں نئے رنگوں میں
اپنی زمین بناتی ہوں
زمین پر گل بوٹے اگاتی ہوں
خواہشوں کے پھول چنتی ہوں
رسم ہی سہی، اسی طرح
اپنی زندگی گزارتی ہوں
(۲)
ایک عرصہ سے
چھاؤں نہیں دیکھی
دھوپ جیسے آکر ٹھہر گئی ہے
میرے آنگن میں
چھت پر بکھرے ہوئے چاول کو
سہمی ہوئی نگاہوں سے
منہ میں بھرنے والی
گوریوں نے آنا بند کردیا ہے/
گھر میں بلیاں بھی نہیں ہیں
کتے اب صرف گھروں کے باہر نظر آتے ہیں
یا ایلیٹ کلاس والوں کے ریشمی بستر پر دبکے ہوئے/
اور وہ انہیں پیار سے ڈوگی کہہ کر بلاتے ہیں
وقت زینہ لگا کر اڑ گیا ہے
بڑے ہوتے بچوں نے
گھر سے باہر دوست بنا لیے ہیں
اور اب گوریوں سے
بلی اورکتوں سے دوستی کی
ایک انجانی خواہش
چپکے چپکے جنم لے رہی ہے میرے اندر/
ایک عرصہ سے خود کو نہیں دیکھا
ایک عرصہ سے چھاؤں بھی نہیں دیکھی
تحلیل ہو رہی ہوں
دھوپ اور چھاؤں کے ملے جلے رنگوں میں/
(۳)
پرانے گھر کو یاد کرتے ہوئے
تتلی تھی میں/
پنکھ نہیں تھے
پھر بھی تیز اڑتی تھی/
کسی پکڑ میں نہیں آتی تھی/
کئی کی کمروں والے گھر میں
بے نیازی سے دوڑتی رہتی تھی/
طعنے سنتی رہتی تھی
بڑے بوڑھوں کے
مگر اڑتے پنکھوں کو کب کس نے روکا ہے
سناٹے میں سنائے جاتے تھے
انجانے لفظوں کی کہانیاں/
جہاں سہمی ہوئی شہزادی ہوتی تھی/
اور شہزادی کو قبضے میں لینے والا دیو
پھر بھی دوڑتی کہا ں تھی
اڑتی جاتی تھی،
ننگے پاؤں/
چبھتی ہوئی آنکھوں سے الگ
کہ ٹھہر گئی
تو زندگی کی رفتار بھی رک جائے گی
گھر میں منڈیریں تھیں/
ایک چھت تھی ویران/
سناٹے میں ڈوبی ہوئی
جہاں شام کو لڑکیوں کا جانا منع تھا/
سات کمروں والے گھر میں
ایک کمرہ بندہی رہتا تھا
گھر تقسیم ہوا تو یہ کمرہ بھی کھو گیا/
ایک کمرہ میرا کمرہ تھا،
جہاں دوپہر آئس کریم کھاتی تھی
اور
ڈائجسٹ بڑھتی تھی
پرانے گھر سے وابستہ لوگ
اب شہر خموشاں میں ملتے ہیں/
پرانا گھر اب صرف یادوں کا حصہ ہے
ہاں، پرانے گھر کو یاد کرتے ہوئے
خود کو بھول جانے کا احساس
مجھے پھر سے اس لڑکی میں تبدیل کردیتا ہے
جو دوڑ رہی ہوتی ہے/
بے پرواہ
سارے گھر میں/
کود رہی ہوتی ہے
چھت پر اپنی سہیلیوں کے ہمراہ/
حصہ لے رہی ہوتی ہے
انجانے کھیلوں میں/
اور ان سے آگے بڑھ کر،
ہنس رہی ہوتی ہے/
کھلکھلا کر
زندگی آگے بڑھ گئی ہے
ہنسی کہیں پیچھے چھوٹ گئی ہے

پتہ: ڈی ۔304تاج انکلیو ، گیتا کالونی دہلی۔110031
ای۔ میل: tabassumfatima2020@gmail.com

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook