Home / Uncategorized / میں ہنسنے کے لیے روئی

میں ہنسنے کے لیے روئی

تبسم فاطمہ
(۱)
آسمان پر روئی کے بادل چلتے تھے/
تاروں کی راتوں میں چاند تیرتا تھا/
لہروں کی کروٹوں میں کشتی ہلکوریں لیتی تھی/
کھیتوں کی فصلوں میں خواہشیں بہتی تھیں/
میں نے ہاتھ پھیلائے
تو تاروں کی راتیں خالی تھیں/
نظر اٹھائی
تو روئی کی جگہ لاشوں کو کندھے دیتے بادل کے ٹکڑے تھے/
لہروں کی طرف دیکھا/
تو کشتی کے بادبان ٹوٹ چکے تھے/
کسانوں کی موت کی خبر ملنے تک/
کھیت ہوتے ہوئے بھی پہنچ سے دور تھے/
میں ہنسنے کے لیے روئی
یا رونے کے لیے ہنسی
کہ جذبات پر/
پہلے سے ہی دھند نے اپنی جگہ بنا لی تھی/

(۲)
میں دکھ جاتی ہوں
ہر بار زندگی کو سمجھنے
اور خوابوں میں پت جھڑ چنتی ہوئی
دکھ جاتی ہوں میں/
ہر بار رشتوں کو بکھرتا دیکھ کر/
سیپیوں میں بند، گہری اداسی کا تجزیہ کرتے ہوئے/
دکھ جاتی ہوں میں
بچپن میں بنائے ننھے منے گھروندے/
اور ان کے توڑے جانے کی صورت حال کو
آج کے وقت سے جوڑتی ہوئی
جب خود کو
اکیورم کے باسی پانی میں/
رکھی مردہ مچھلی کی طرح پاتی ہوں/
دکھ جاتی ہوں میں

(۳)
میں شرمندہ ہوئی۔۔۔
میں رونے سے پہلے شرمندہ ہوئی
کہ آنسوؤں کے ہزار راستے
دوسرے دروازے سے بھی ہو کر جاتے تھے
میں ہنسنے سے پہلے شرمندہ ہوئی
کہ درد کی طرف جانے والے راستوں کی
ہزار شاخیں بن چکی تھیں
میں ایمان لانے سے پہلے شرمندہ ہوئی
کہ میں خدا کو اپنے جوڑے میں ٹانکتے ہوئے
بہتوں سے الگ کر رہی تھی
میں پیار کرنے سے پہلے شرمندہ ہوئی
کہ ا پنے لیے ایک حق کو مانگ کر
پیار کے ہزاروں حقداروں کا حق چھین رہی تھی/
زینے کی ہر سیڑھی پر
شرمندگی کے پھول پڑے تھے
انہیں چنتے ہوئے ہی/
مجھے جینا سیکھنا تھا
اپنے لیے/

(۴)
رونا۔۔۔ ایک رہگزر
ماں بتاتی تھی،
پیدا ہوتے ہی اتنا روئی تھی
کہ آسمان نیلا پڑ گیا /
میری آمد سے چہکنے والے چہرے
خزاؤں کا حساب لگاتے ہوئے
برآمدے میں امرود سے گرنے والے سوکھے
پتوں کو دیکھ رہے تھے/
تب کی بات ہے
جب آنگن میں گوریا آتی تھی/
منڈیر پر بیٹھ ہوتے تھے کوے
اور کبھی کبھی امرود کے پیڑوں سے
چھپی کویل کی کوک بھی سنائی دے جاتی تھی۔۔۔
تب پہلی بار
گھر میں ہوئی پہلی موت کی دستک سنی تھی میں نے/
آنگن میں گوریے، کوے اور چڑیوں کو/
ہکانے والے ددا کے ہاتھ بے جان تھے/
بے روح اور بے جان ہوتے جسم سے پہلے
روح میں امڑنے گھمڑنے والی/
درد کی آواز سنی تھی میں نے/
عمر کے خزاں ہوتے احساس کو دیکھ کر/
اچانک میں ٹھہر گئی ہوں/
پیدائش سے موت تک
درد میں پھیلے کہرے میں
سمٹی ہوتی ہے زندگی/
راز کا جال بنتی/
مکڑے کی طرح/
ایک دن/
جال رہ جاتا ہے/
دورکھو جاتی ہے ایک رہگزر/
اور جسم غائب ہو جاتا ہے/

(۵)
ہنسنا
میں تب ہنسنا چاہتی ہوں
جب منظر غائب ہوتے ہیں
اور ایک صفر میں
تیر رہی ہوتی ہو ں میں
میں تب ہنسنا چاہتی ہوں
جب کوئی نہیں ہوتا میرے پاس/
میں ہنسنا چاہتی ہوں
خود میں چھپی گہری تاریکی کو/
اوڑھ کر/
آج کے وقت کو گواہ بنا کر/
وقت سے پہلے ہی/
اپنی موت کا جشن مناتے ہوئے/
ہنسنا چاہتی ہوں میں
پتہ:
D-304 تاج انکلیو، گیتا کالونی، دلی۱۱۰۰۳۱
tabassumfatima2020@gmail.com

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook