Home / خبریں / نامورادبی وسماجی شخصیت،سہ ماہی لوح کے مدیرِاعلیٰ ممتازاحمد شیخ کی ناز بٹ سے گفتگو

نامورادبی وسماجی شخصیت،سہ ماہی لوح کے مدیرِاعلیٰ ممتازاحمد شیخ کی ناز بٹ سے گفتگو

11024653_766690696748670_2647369670284663942_n
٭ناز بٹ،کرا چی

مدیر الشرق سنڈے وائس میگزین

10152478_10202887905306012_308746241_n

” نہایت نفیس اور نستعلیق ممتازاحمد شیخ ایک ادبی و سماجی شخصیت ہیں ، سہہ ماہی ادبی مجلہ ” لوح” کے مدیر ِ اعلیٰ ، بہت عمدہ کالم نگار، شاعر، ادیب اور ایک بہترین عمدہ منتظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ اولڈ راوئینز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے جنرل سکریٹری بھی ہیں ، اس پلیٹ فارم سے آپ پروقار ، معیاری اور یادگار مشاعروں کا انعقاد کرتے ہیں جن میں دنیا بھر سے نامور مستند شعراء کو مدعو کیا جاتا ہے
ممتاز شیخ سے ہوئی گفتگو قارئین کی نذر :

س : اپنے بارے میں کچھ بتائیے ، کچھ خاندانی پس منظر بھی ؟

ج : بنیادی طور پر لاہور سے سو کلو میٹر دور ایک قصبہ "وار برٹن” میری جائے پیدائش ہے
میرے خاندان کاتعلق شیخ برادری کے متوسط درجے کے متمول گھرانے سے ہے جو پچھلے کئی نسلوں سے تجارت اور چاول کے کاروبار سے وابستہ رہا ہےاور آج بھی وہیں ہماری رائس ملز ہے جو میرے چھوٹے بھائی چلاتے ہیں، ہماراآبائی گھر اور جائیداد آج بھی ہمیں مختلف موقعوں اور تقریبات پر پناہ دیتی ہے۔
م سب بہن بھائیوں نے ابتدائی تعلیم واربرٹن میں ہی حاصل کی۔ میں نے واربڑن سے ہی میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں میں پاس کیا اور اپنی خوش قسمتی پر ناز ہوتا ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا تو الحمداللہ دنیا کی ہر ضروری نعمت ہمیں میسر تھی اور والدین نے ہم سب بہن بھائیوں کی بہت نعم وناز سے پرورش کی۔ پرائمری تک کی تعلیم اپنے گھر کے سامنے قائم ایک گرلز سکول میں حاصل کی اور اس سکول کی بلڈنگ ہمارے خاندان نے ہی عاریتاََ وقف کی تھی کہ بچیاں بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔ مجھے اپنے بچپن کی وہ عزیز ترین اور مہربان خواتین اساتذہ سے جڑی ہوئی خوشگوار یادیں آج بھی یا دہیں۔

س : "واربرٹن” کیا کسی انگریز کے نام سے موسوم ہے ؟

ج : جی ہاں واربرٹن کا خالق ایک انگریز جان پال واربرٹن تھا جو اس زمانے میں اعلٰی پولیس آفیسر تھا اور اس کے انصاف کا شہرہ پورے پنجاب میں تھا، واربرٹن بہت سے اضلاع کے مرکز میں تعمیر ہوا۔ وابرٹن کی تعمیر کے آغاز ہی میں ہمارے آباؤ اجداد اپنی بصیرت کی بناء پر دریائے راوی کے کنارے واقع اپنے ابائی گاؤں فیض پور سے واربرٹن بحالتِ مجبوری منتقل ہوئے جو دیارئے راوی میں بُرد عدم ہو رہا تھا۔ یہ تاریخی قصبہ اس زمانے میں جدید ترین قصبہ سمجھا جاتا تھا جس کی گلیاں اور بازار بہت کشادہ اور گھر اس طرز پر تعمیر کیئے گئے جہاں مردانہ اور زنانہ دو الگ الگ حصوں پر ڈیزائن کیئے گئے تھے جو آج اپنی ہییت کھوتے جا رہے ہیں۔

س : آپ کی پرورش کیسے ماحول میں ہوئی ؟

ج : ہماری خوش قسمتی ہے کہ میرے والدین زیادہ پڑھے لکھے نہ ہونے کے باوجود بھی یقیناََ روشن خیال تھے جو دنیاوی اور دینی تعلیم کی حقانیت پر مکمل یقین رکھتے تھے۔ بچپن بہت شاندار طریقے سے گزرا اور ہر وہ خواہش پوری کی گئی جو کہ کوئی بھی ماں باپ اپنی اولاد کیلئے بہتر اور ناگزیر سمجھتے ہیں۔ ہمارا جوائنٹ فیملی سسٹم تھا جس کو ہمارے تایا جان ہیڈ کرتے تھے اور وہ ایک بہترین مثالی نظم و ضبط رکھنے والے کامیاب انسان تھےجو سماجی اور سیاسی لحاظ سے قابلِ ذکر مقام رکھتے تھے۔ ہم اپنے والدین سے زیادہ ان سے ڈرتے تھے اور ان کا حکم ہمارے گھر میں حرف ِآخر سمجھا جاتا تھا۔ مجھ میں آج جو کچھ بھی دینی و دنیاوی اساس موجود ہے وہ میرے خاندان کے نظم وضبط کی بدولت ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے گھر میں افرادِ خانہ کے علاوہ دس بارہ لوگوں کیلئے وافر کھانا ضرور تیار کیا جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کیلئے معزز مہانوں کو بھیج دیتی تھی۔ چاٹی کی لسی تو مہانوں کیلئے سارا دن تواضع کا ایک بڑا اور ضروری حصہ سمجھا جاتا تھا۔

س : وار برٹن سے گورنمنٹ کالج لاہورہی کیوں ؟ آپکی خواہش تھی ؟؟

ج : ناز جی میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں میں پاس کیا تو میرے والد کی خواہش ایک ہی تھی کہ کسی طرح گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ مل جائے اور مجھے فخر ہے کہ میں میرٹ پر گورنمنٹ کالج میں داخل ہوا اور یہی وہ لمحہ تھا جس نے مجھے خود میں سر بلند کر دیا۔ داخلہ ملنے سے پہلے ہی گورنمنٹ کالج لاہور کے گیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک مناسب سی عمودی چڑھائی چڑھتے ایک عجب سی سرشاری جسم و جان میں عودکر آئی تھی۔

گورنمنٹ کالج سے آپکی انتہائی عقیدت اور محبت کی کیا وجہ ہے ؟

گورنمنٹ کالج کے بارے میں سالہا سال سے دنیا بھر میں باتیں کی جاتی ہیں اور یہ باتیں گورنمنٹ کالج کے فارغ التحصیل راوئینز کے احساسات و جذبات پر مبنی ایک ہی طرح کی ہوتی ہیں۔ اشفاق احمد صاحب نے کہا تھا کہ گورنمنٹ کالج درس گاہ کم ہے اور درگاہ زیادہ ہے اور میں بھی اشفاق صاحب اسی سکول سے وابستہ ہوں شدتِ طلب رکھنے والے صادق لوگ وہاں سے کبھی نامراد نہیں لوٹے، ہوسکتا ہے کہ اپنے اپنے مقام پر تمام تعلیمی ادارے ایسے ہی ہوں مگر گورنمنٹ کالج کی ایک سو پچپن سالہ تاریخ قدم قدم تابناکیوں سے بھری پڑی ہے۔ 1864 میں قائم ہونے والے گورنمنٹ کالج لاہور نے عظیم ترین ہستیاں پیدا کیں ہیں۔ ہمارا فخر یہ ہے کہ تاریخ کے سب سے بڑے راوین اور مفکرِ پاکستان علامہ اقبال نے گورنمنٹ کالج لاہور کے وقار کو عظمت بخشی اور وہاں ان کے نام سے منسوب اقبال ہوسٹل اور بے شمار علمی و ادبی مجالس قائم میں ہیں اقبال ہوسٹل میں دو سال قیام اور ان کی کمرے کی زیارت کا اعزاز بھی باربارحاصل ہوا ہے۔ اقبال ہوسٹل کے کمرہ نمبر ایک کے باہر "اقبال روم” کے نام کی تختی کنندہ ہے۔54 ایکڑ پر محیط یہ کالج محض ایک کالج نہیں بلکہ یہ ایک تعلیمی اور تہذیبی ورثے کانام ہے۔ گوتھک طرزِ تعمیر کا اگر کسی نے نادر نمونہ دیکھنا ہو تو وہ گورنمنٹ کالج دیکھ لے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں قدم بوسی کا شرف حاصل کرنے والا طلباء کو ہر لحظہ ہرآن خودپر تاریخ کی عظیم ترین ہستیوں کا سایہ محسوس ہوتا ہے۔ حضرت اقبال سے لیکر پطرس بخاری، پروفیسر رشید، ڈاکٹر نذیر احمد، اشفاق علی خان، ڈاکٹر محمد اجمل، اشفاق احمد، بانوقدسیہ، سر گنگا رام، ن م راشد، امتیاز علی تاج، صوفی تبسم، حفیظ جالندھری، واصف علی واصف، جاوید احمد غامدی، بلراج ساہنی، ڈاکٹر عبدالسلام، اندر کمار گجرال، شکور حسین ، باد منیر، احمد منور، سرمد صہبائی، ظفر اللہ جمالی، میجر شبیر شہید نشانِ حیدر کے علاوہ مقتدر سیاستدان ہیں جو وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے مناصب پر بھی فائز رہے۔

س : آپ نے جن اساتذہ سے کسبِ فیض کیا ان کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

ج : کسبِ فیض کا جہاں تک تعلق ہے تو میں بیک وقت انتہائی خوش قسمت اور بد قسمت ہوں کہ دورانِ تعلیم مجھے بہت عظیم المرتبت اساتذہ سے ربط رہا جن میں مرزا امحمد منور، پروفیسر آر اے خاں، جیلانی کامران ، مشکور حسین باد، غلام الثقلین نقوی، مشرف زیدی، اصغر سلیم میر، امتیاز سعید شامل ہیں اور یہ وہی زمانہ تھا جب بہت سی بلند پایہ شخصیات جو سیاسی ، تہذیبی علمی افق پر چھائے ہوئے تھے جن میں حضرت سورش کاشمیری، مجید نظامی، سید ابو بکر غزنوی، مرزا منور، خواجہ محمد رفیق، علامہ احسان الہی ظہیر، صفدر میر عرف "زینو صاحب”،جناب ناصر کاظمی ، علامہ علاؤ الدین صدیقی اور احسان دانش جیسے لوگوں سے مجھے نیاز مندی اور قدم بوسی کا شرف حاصل رہا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں بوجوہ ایسی عالی مرتبت ہستیوں سے اس طرح کسبِ فیض نہ حاصل کر سکا جس طرح کے مواقع مجھے حا صل تھے۔

س : ادب سے آشنائی ، ادب سے محبت میں کیسے تبدیل ہوئی ؟

ج : یہ کہنے ہی کی بات نہیں بلکہ سچ بھی یہی ہے کہ شائد میرے خمیر میں ہی ادب سے آشنائی اور رہ ورسم کا مادہ رکھ دیا گیا تھا اور یہ میرے مزاج کا اولین حصہ ہے جب سے لکھنا پڑھنا آیا تو میرے گھر میں ماحول ہی ایسا تھا جہاں ہر طرف کتابوں اور رسالوں کا راج تھا، میرے تایا کی ایک بہت بھرپور لائیبریری تھی اور ہمارے گھر میں اخبارات کے علاوہ خواتین کے رسالے اور ناول بکثرت پائے جاتے تھے اور ان دنون امریکن اور روسی لٹریچر بھی وافر مقدار میں لوگوں کو بھجوائے جاتے تھے اور یوں ہمیں بھی ان کو دیکھنے کا موقع ملتا، ہر چند کہ ادبی اور خواتین رسالے پڑھنا میری بہنوں کا مشغلہ تھا مگر میں بھی چپکے سے ان کا رسیا ہو چکا ہے۔ ایک رسالہ جس نے نثر لکھنے میں میری آبیاری کی وہ "سب رنگ ڈائجسٹ "ہے اور شکیل عادل زادہ کو میں اپنا روحانی استاد سمجھتا ہوں، بی اے تک پہنچتے پہنچتے میں ایک عدد رومانی ناول لکھ چکا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس ناول کے حقیقی مرکزی کردار اسلم اور منزہ تھے، جو اب اس دنیا میں موجود نہیں
مشاعروں میں بطور سامع جانا میرے مشاغل میں ہمیشہ شامل رہا، اس زمانے میں شعراء کے ساتھ محبت اور احترام کا بھی رشتہ رہا جن میں حضرت احمد ندیم قاسمی،احسان دانش، منیر نیازی، محسن نقوی شامل ہیں، محسن نقوی بہت دلبر ودلدار اور نستعلیق آدمی تھےجو شعر کی تصحیح میں ذرا بھی جھجک یا دیر نہیں لگاتے تھے، ان کے ساتھ میری اچھی یاد اللہ تھی۔

س : آپ نثر نگار بھی ہیں اور شاعر بھی ، شاعری زیادہ مرغوب ہے یا نثر ؟

ج : نثر میری پہلی محبت ہے جو میں نے اوائل عمری میں ہی شروع کی اور بچوں کے رسالوں اور اخبارات سے اس کی شروعات ہوئی۔بچوں کی دنیا اور اخباری ایڈیشنز میں میں نے کافی لکھا،غزل اور نظم کی تک بندی بعد میں شروع ہوئی مگر مباحثوں میں حسبِ ضرورت فی البدیہ الٹا سیدھا شعر کہنا میں نے کبھی معیوب نہیں سمجھااور کام چلا لیتا تھا، بعد میں افسانچے، انشائیے اور گاہے بگاہے نظم اور غزل پر بھی طبع آزمائی کرتا رہا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ نثر اور شاعری پر بیک وقت کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

س : صحافت میں دلچسپی کب اور کیسے ہوئی اور کالم کب لکھنے شروع کیئے ؟

ج : جہاں تک صحافت کا تعلق ہے تو میں نے پہلا کالم غالباََ میٹرک یا ایف اے کے دوران اپنے قصبے کے اہم مذہبی جریدے کیلئے لکھا اور غالباََ دو تین سال تک لکھتا رہا تھا تاآنکہ وہ رسالہ بند نہ ہو گیا، مگر باقاعدہ صحافت کا آغاز اس وقت ہوا جب ” بھٹو صاحب مرحوم نے ہمارے چاول کے کاروبار کو قومی تحویل میں لے لیا” تو دنیا گویا اندھیر ہوگئی، سخت دشواری کے دن تھے، یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے کسی نوکری کی تلاش تھی تو ایسے میں میرے استاد گرامی اصغر سلیم میر صاحب میری مدد کو پہنچے اور انہوں نے اپنے بھائی جناب صفدر سلیم میر صاحب سے کہہ کر روزنامہ امروز میں میری نوکری کا بندوست کروایا
جناب صفدر میر” زینو” کے نام سے پاکستان ٹائمز اور دوسرے اخبارات میں کالمز اور آرٹیکلز لکھا کرتے تھے اور اس وقت پاکستان ٹائمز اور مشرق و امروز کے مدارلہمام تھے۔ اگرچہ میری نوکری میری خواہش پر پروف ریڈنگ کے شعبے میں ہوئی مگر اس کے ساتھ میں اخبار کے دوسرے صفحات میں بھی اپنے سینئر کو لیگز کی خواہش پر منہ مارنے لگا اور دوستوں کا ہاتھ بٹانے لگا، آپ کہہ سکتی ہیں کہ امروز میں چند ماہ کی نوکری کے دوران میں نے اخباری رموز پوری طرح سے سیکھے۔ زینو صاحب مرحوم کا میں ہمیشہ ممنون رہوں گا کہ انہوں نے مجھے کالم لکھنے کی طرف مائل کیا اور میری رہنمائی بھی فرمائی۔ قلیل تنخواہ کے ساتھ گزارہ کرنا مشکل تھا اور وہاں کارکنان کے حالات بہت تکلیف دہ تھے میں نے اس زمانے میں وہاں صحافیوں کو باالعموم تنگ دست اور مقروض ہی دیکھا اور ایسے ماحول میں دم گھٹتا تھا اور پھر مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ مجھے یہیں کا ہو کر رہنا ہے یا زندگی کی آسودگیوں کی دوڑ میں شامل ہونا ہے چنانچہ میں نے اخبار کی نوکری چھوڑ دی اور زندگی کی دوڑ میں شامل ہو گیا۔

س : اُس زمانے کے صحافیوں اور ادبی برادری کے مالی حالات کیسے تھے ؟

ج : وہ آج کا زمانہ نہیں تھا جہاں صحافی کروڑ پتی یا ارب پتی ہوچکے ہیں وہ عام صحافیوں تھے بہت کسمپرسی کا زمانہ تھا میرے سامنے بعض بڑے ادیب ،شاعر اور صحافی دھکے کھاتے اور جوتیاں گھساتے پھرتے تھےاور ہمیشہ بڑے صحافتی اداروں کے رویوں پر سراپا احتجاج نظر آتے تھے اس زمانے میں کے صحافی با ضمیر تو تھے مگر نان نفقے کے حوالے سے سدا تنگ دست اور مقروض دیکھے گئے۔ زندگی کی اس دوڑ میں میں نے”آوازِ خلق” کے نام سے ایک عامل صحافی کی شراکت میں ایک اخبار بھی نکالنے کا تجربہ بھی کیا جو بری طرح ناکام ہوا۔

س : آپکے اولڈ راوئینزایسوسی ایشن اسلام آباد کے مشاعروں نے خاصی دھوم مچائی ، کچھ اس بارے میں بتائیے کہ آپکے ان مشاعروں کے پیچھے کیا سوچ کارفرما تھی ؟

ج : مشاعروں کا انعقاد دراصل میرے اندر کے ادبی شعر و سخن سے بے پناہ محبت کرنے والے شخص کے ایماء پر شروع ہوئے ، زندگی کی دوڑ میں اتنی فرصت نہیں ملی کہ شاعری یا نثر پر باقاعدہ کام کرتا مگر مزاج اور طبیعیت میں شعر وسخن اور ادب سے متعلق ایک پیاس اور لگن تھی جسے پورا کرنے کیلئے میں نے مشاعروں کا سہارا لیا اور اولڈ راوئینز کے فورم پر پاکستان کے ایسے مشاعرے منعقد کروائےکہ جن کے بغیر پاکستان میں ہونے والے مشاعروں کا ذکر مکمل نہیں ہوسکتا۔ اپنے بارہ مشاعروں میں تقریباََ تین سو کے لگ بھگ شعراء کو پڑھوایا اور ایسا بھی ہوا کہ یہ مشاعرے آٹھ نو بجے رات شروع ہو کر صبح تک جاری رہے۔ ابھی ان کا سلسلہ رکا نہیں تھما نہیں۔ انشاء اللہ مارچ میں ایک عظیم الشان مشاعرہ منعقد ہو گا۔

س : الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے کتاب سے دوری کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے ایسے میں ” لوح ” شائع کرنے کا خیال آپ کے دل میں کیسے آیا ؟

ج : سہ ماہی "لوح” میرا چالیس برس پرانا خواب ہے جسے گورنمنٹ کالج لاہور کے مجلے "راوی” نے مہمیز دی”راوی” اس وقت کے معروف مجلوں کے مقابلے کا ہی ایک مجلہ تھا بلکہ بعض اوقات تو راوی ان مجلوں سے بھی بہت آگے نکل گیا۔ راوی نے اعلیٰ درجے کے بے شمار نثر نگار، شاعر اور ادیب دنیائے ادب کو دیئے، سو "راوی "میرا رول ما ڈل ہے اور میں نے اس زمانے میں سوچ لیا تھا کہ اگر حالات اور وقت نے ساتھ دیا تو راوی ایسا یا اس بھی بہتر ایسا پرچہ نکالوں گا جسے اردو دنیا کے بہترین پرچوں میں شمار کیا جائے گا۔ چنانچہ اپنے اس چالیس سالہ خواب کو "لوح” کی صورت میں تعبیر دینے کی ٹھان لی اور الحمد اللہ "لوح” نکلا اور کوشش کی گئی کہ اسے ماضی کے تمام پر چوں سے منفرد اور نستعلیق مقام کا حاصل ہونا چاہیے، میں اپنے پیشرو مدیران عظام و کرام کے ہم پلہ نہیں، نہ علمی لحاظ سے نہ ہی ادبی فنی تجربے اور مرتبے کے لحاظ سے مگر میرے اندر بھی تو ایک "ممتاز "بستا ہے جو ہمیشہ ممتاز ہی رہنا چاہتا ہے۔ "لوح” کی پذیرائی اور مقبولیت نے میرے حوصلے بلند اور پختہ کیئے ہیں ۔ "لوح” نے جو سب سے بڑا کام کیا وہ ادبی پرچے کی سٹال ویلیو ہے لوگ سٹالز اور بک شاپس پر آکر "لوح” مانگتے ہیں اور یہ بہت بڑی بات ہے۔

س : لوح عشق ہے ؟ جنون ہے ؟ کیا ہے ؟ کہ جس کی تکمیل ، یعنی ادارت سے لے کر مفت ترسیل تک ، نہ صرف آپ تن تنہا اپنی تمام تر مدیرانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لارھے ہیں بلکہ اس بے لوث خدمت کے لئے آپ نے اپنی آمدنی بھی مختص کی ہوئی ہے ۔

ج : آپ اسے عشق ہی کہہ سکتی ہیں اور ظاہر ہے کہ میرے اندر کوئی چنتا تو لگی ہی ہوئی ہے جو میں "لوح” کی صورت میں تن تنہا ہی سہتا ہوں، اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہوں کہ جس نے اتنی توفیق ارزانی کی ہوئی ہے کہ میں اپنے اس عشق اور چنتا کیلئے کچھ وقت بھی دیتا ہوں اور خرچ بھی کرتا ہوں مجھے اشہتارات کیلئے کسی کے آگے ہاتھ پھلاتے ہوئے انتہائی شرم آتی ہے۔ کاروبارکے ساتھ ساتھ میرے راتیں "لوح” کیلئے وقف ہیں۔

س : تخلیقیت کیا ہے ؟ اور ایک اچھے تخلیق کارسے آپ کیا مراد لیتے ہیں ؟ ؟

ج : شاعری یا نثر اس وقت تک وجود میں نہیں آ سکتی جب تک شاعر یا ادیب کی جڑیں عوام میں نہ ہوں اور زبردست مشاہداتی حس کے ساتھ ساتھ وہ زمینی حقائق اور رویوں کو برتنے کا ہنر نہ جانتا ہوجو عوام میں نہیں رہے گا اور عوام کے مسائل پر اپنی نظر اور گرفت مضبوط رکھے گا وہی اچھا تخلیق کار ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔ تخلیقات حقیقی ہوتی ہیں یا نہیں ہوتی اس کا درمیانی کوئی راستہ نہیں ہوتا نہ ہی کوئی شارٹ کٹ ہوتا ہے، تخلیق کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی حقیقی زندگی کے حقیقی مسائل سے آنکھ نہ چرا رہا ہو، جو ادیب زندگی کی سب سے بڑی سچائی "معاش ” سے بے نیاز نہیں وہ میرٹ اور حق تلفی کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتا اور ہمیشہ ادارہ جاتی سربراہوں کی کاسہ لیسی کرتا رہیگا

س ۔ سرکاری ادارے ادب کے فروغ میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں ؟؟

ج ۔ سرکاری ادبی ادارے” لابنگ” کی بنیاد پر چلتے ہیں اس لابنگ میں ادارہ جاتی سربراہ بھی ہوسکتے ہیں اور دیگر سرکاری اور سیاسی عمال کا دباؤ بھی ہوسکتا ہے۔ بہت سے مقتدر اور بڑے ادیب جنہیں ایوارڈز سے ابھی تک نہیں نوازا گیا حالانکہ ادب میں انکا بیش بہا اور گراں قدر کام موجود ہے

س ۔ نئی نسل کے حوالے سے بتائیے گا کہ آپ اردو ادب کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟؟

ج ۔ نئی نسل میں متعدد نوجوان اچھی نظم اور غزل کہہ رہے ہیں اور بلاشبہ وہ بہت آگے جائیں گے۔ میں "لوح” میں ہمیشہ نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں، رسالے کے مدیر کا کام "بیوروکریٹک” رویہ رکھنا نہیں بلکہ حقدار کیلئے اپنے رسالے کےدروازے کھولنا ہے اور میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں اور میری سوچ عین مکمل نہیں ہوسکتی کہ ماضی کے مدیرانِ عظام اپنے اپنے رسالوں میں نئی نسل کی نگارشات کو بھی ایک افسرانہ رویے کےما تحت ہی رکھتےتھے جبکہ ” لوح” کے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں بس شرط صرف اتنی ہے کہ وہ خالص نثر اور شعر پر محیط ہو، ویسے بھی جس ادیب اور شاعر کے قلم میں زورہوگاوہ آگے نکل جائے گابصورت دیگر وہ خود بہ خود قطار سے نکل جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ !

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ممتاز شیخ کی ادب سے کمٹمنٹ قابل ِ رشک ہے وہ گروہ بندی یا نظریاتی وابستگی سے بالاتر ہو کر ادب کی خدمت میں کوشاں ہیں ،ان کی خواہش اور ہماری دعا بھی یہی کہ دنیائے ادب میں لوح اپنے کام کی وجہ سے اکیسیویں صدی کا باکمال پرچہ ہونے کا اعزاز حاصل کرے آمین”
1380290_10202887893745723_1165649976_n
25396164_1561824120568653_5647722336649655365_n
25353637_1561824210568644_6356048061438167289_n

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook