Home / خبریں / نواب کوکب حمید اور ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی سر سید نیشنل ایوارڈ2016ء سے سر فراز

نواب کوکب حمید اور ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی سر سید نیشنل ایوارڈ2016ء سے سر فراز

تعلیم سماج کی ہر تفریق کو ختم کرتی ہے : شیخ الجامعہ پرو فیسر این کے تنیجا

ہفت روزہ جشن سر سید اختتام پذیر

_mg_0040

میرٹھ21؍ اکتو بر2016ء(اسٹاف رپورٹر) شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے منعقد ہو رہے ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کااختتام سرسید نیشنل ایوارڈ2016ء اور تقسیم انعامات کے ساتھ ہوا۔جس کی صدارت کے فرائض شہر قاضی پروفیسر زین الساجدین نے انجام دیے۔مہمان خصوصی کے بطوریونیورسٹی کے شیخ الجامعہ پروفیسر این کے تنیجا اور مہمان ذی وقار کے طور پر ڈاکٹر معراج الدین (سابق وزیر ،حکومت اتر پردیش )شریک ہوئے۔جب کہ ایوارڈ یافتگان میں نواب کوکب حمید اور ڈا کٹر ہاشم رضا زیدی نے شرکت کی۔ استقبال ڈاکٹر شاداب علیم نے،نظامت ڈاکٹر آصف علی نے اور شکریے کی رسم صدر شعبۂ اردوڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے ادا کی۔
واضح ہوکہ ہر سال شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی،میرٹھ کے اشتراک سے محسن قوم، عظیم تعلیمی رہنما سر سید احمد خاں کی یو م پیدا ئش کے موقع پر ہفت روزہ ’’ جشن سر سید تقریبات‘‘کا اہتمام کرتا ہے۔جس کا مقصد ہے کہ اسکول، کالجزاور یونیورسٹیوں میں پڑھنے وا لے طلبا و طالبات کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سر سید احمد خاں کی زندگی،ان کی خدمات اور ان کے کاموں سے روشناس کرا یا جاتا ہے ۔اس کے تحت وہ سر سید لیکچر سیریز اور سر سید کوئز کا اہتمام کرتاہے۔ جس میںشہر کے سر کردہ دانشور اور ما ہر تعلیم حضرات مختلف اسکولوں اور کالجز میں جا کر سرسید احمد خاں کی حیات اور ان کے کار ناموں پر لیکچر دیتے ہیں۔اس سال بھی اسماعیل نیشنل گرلز انٹر کالج، پرانی تحصیل، میرٹھ،حمیدیہ گرلز ہائی اسکول، خیر نگر، میرٹھ،نیو ہورائزن پبلک ا سکول، میرٹھ،مدرسہ جامعہ مدنیہ، ہا پوڑ روڈ، میرٹھ،بر مکان مولوی عبدالعلی، سیانہ، بلند شہر،مسلم گرلز ڈگری کالج، بلند شہر،نواب عظمت اللہ گرلز ڈگری کالج، مظفر نگر،انڈسٹریل مسلم گرلز انٹرکالج، سہارنپور،میرٹھ گرلز انٹر کالج،ہمایوں نگر، میرٹھ اورایم پی جی ایس، شاستری نگر میرٹھ میں لیکچر سیریز و کوئز کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ لیکچر پیش کرنے وا لوں میں پروفیسر قاضی زین الساجدین،پرو فیسر یو سف امین، قاری شفیق الرحمن قاسمی ،مولانا شاہ عالم گورکھپوری ،مولوی عبد العلی ،ڈا کٹر اسلم جمشید پوری، ڈا کٹر جمال احمد صدیقی، ڈا کٹر ارشد اقبال،ڈا کٹر سراج الدین احمد،ڈاکٹر آصف علی، ڈا کٹر شاداب علیم،ایڈ وکیٹ سر تاج احمد،ڈاکٹر پرویز عالم،ڈاکٹر فرحت جہاں،مولانا محمد جبرئیل، انجینئر رفعت جمالی اور محترم آ فاق احمد خاں وغیرہ شامل رہے۔
sfasa
تقریب کا آ غاز سعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔وصی حیدر نے ہدیۂ نعت پیش کیا اور انس سبز واری نے اپنی مترنم آ واز میں ترانہ پیش کر کے سر سید کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ پھولوں کے ذریعے مہما نوں کا استقبال کیاگیا۔بعد ازاںاس سال کے ایوارڈ یافتگان کا تعارف محترم آفاق خاں نے پیش کیا
اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے مہمان خصوصی پرو فیسر این کے تنیجا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہ سر سید کو سچا خراج یہی ہو گا کہ ان کے مشن یعنی تعلیم کو گھر گھر تک پہنچا یا جائے اور تعلیم سماج کی ہر تفریق کو ختم کرتی ہے اور ہمیں جوڑنے کا کام کرتی ہے۔ڈا کٹر ہاشم رضا زیدی نے کہا کہ سر سید جدید تعلیم کے بڑے حامی تھے اور انہوں نے یہ بات آج سے150 سال قبل سوچی یہ بہت بڑی بات ہے۔ آج ہم بھی ان کے بتا ئے راستے پر چلے اور ان کے مشن کو پھیلائیں۔آج پھر تعلیم کے فروغ کی بہت ضرورت ہے ،تبھی قوم اور ملک مزید ترقی کرے گا ۔ڈا کٹر جمال احمد صدیقی نے کہا کہ سر سید نے ایک ادا رہ قائم کیا تھا جس کے فیض یافتہ اس وقت94ممالک میں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اگر ہم سچے محب سر سید ہیں تو انہی کی طرح کے ادارے قائم کریں۔ اگر ہم میں چند لوگ بھی اس طرف توجہ کر لیتے تو آج ہما را ملک ترقی پذیر نہیں ترقی یافتہ ہوتا۔
صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نیکہا کہ سر سید مختلف الجہات کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔انہیں سچا خراج یہی ہو گا کہ ان کے نقش قدم پر چلا جا ئے اور ان کے مشن یعنی تعلیم کو پھیلا ئے۔ برے وقت میں بڑا آدمی بننا نہایت مشکل عمل ہو تا ہے لیکن سر سید نے انتہا ئی نا موافقت حالات میں یہ مشکل کام انجام دیا اور آج ان کی محنتوں کا ثمرہ قوم کو حاصل ہو رہا ہے۔سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی کی صدر نایاب زہرا زیدی اور ڈا کٹر معراج الدین نے بھی علی گڑھ کا زمانہ یاد کرتے ہو ئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
آخر میں اپنے صدا رتی خطبے میں پرو فیسر زین الساجدین نے کہا کہ شعبۂ اردو مبا رک باد کا مستحق ہے جس نے ہفتے بھر سر سید لیکچر سیریز و کوئز کا اہتمام کیا۔ آج بہت ضرورت ہے کہ جدید تعلیم کو خوب عام کیا جا ئے اور اسے گھر گھر تک پہنچا یا جائے۔
اس مو قع پر جن اسکولوں اور کالجز نے سر سید لیکچر سیریز کا اہتما کیا تھا ان سبھی کو اعزاز سے نوا زا گیا اور اسی دوران ایم اے اور بی اے سطح پرتحریری مقابلے کے طلبہ کو اول دوم اور سوم انعا مات سے بھی نوازا گیا۔
پرو گرام میں ڈا کٹر فر حت جہاں، محمد قمر،ڈا کٹر سراج الدین احمد، ڈا کٹر ارشد اقبال، محمد خلیل،حا جی مشتاق سیفی، انجینئر رفعت جمالی،ڈاکٹر قمر النساء زیدی، سر تاج احمد ایڈ وکیٹ، سید معراج الدین، ڈا کٹر نسرین،مدیحہ اسلم،ایاز احمد ایڈ وکیٹ، اکرام بالیان، ڈا کٹر محمد یو نس، انل شرما،مختار خاں،سلیم الدین سیفی،انیس میرٹھی،محمد منتظر، سہارنپور، سشیل سیتاپوری، محمد آصف، فرزا نہ بنت عا صم،ارشاد سیانوی، ظہیر انور، یو نیورسٹی، ملازمین، عمائدین شہر، اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook