Home / خبریں / پروفیسر مظفر علی شہ میری، ڈاکٹر عبدالحق اُردو یونیورسٹی کرنول آندھراپردیش کے اولین وائس چانسلر مقرر

پروفیسر مظفر علی شہ میری، ڈاکٹر عبدالحق اُردو یونیورسٹی کرنول آندھراپردیش کے اولین وائس چانسلر مقرر

IMG_4957

٭ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ

حیدرآباد،۲۶؍ مارچ ۔اُردو کے ممتاز شاعر ،ناقد اور افسانہ نگار پروفیسر مظفر علی شہ میری، ڈاکٹر عبدالحق اُردو یونیورسٹی کرنول آندھراپردیش کے اولین وائس چانسلر مقرر کئے گئے ہیں۔ پروفیسر مظفر علی شہ میری اُردو کی فعال اور متحرک شخصیت ہیں، ان کی تنقیدی اور شعری کتابیں شائع ہو کر مقبول ہوچکی ہیں۔ وہ حیدر آباد سنٹرل یونیورسٹی میں شعبۂ اُردو کے سربراہ گذشتہ تین برسوں سے ہیں۔
پروفیسر مظفّرعلی شہ میری،30؍اپریل 1953ء کو حاجی عثمان علی مرحوم کے گھر پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے وطن کدری ، ضلع اننت پور،آندھرا پردیش میں حاصل کرنے کے بعداُنھوں نے 1972ء میںبی۔اے۔ اور1974ء میں ایم۔اے (اردو) کی تعلیم سری وینکیٹشورا یونیورسٹی ، تروپتی سے مکمل کی۔ تامل ناڈو میں اپنی ملازمت کے دوران میں،پروفیسر نجم الہدی کی نگرانی میں اردو غزل کے استعاراتی نظام پر تحقیقی مقالہ لکھ کر 1989 میںمدراس یونیورسٹی سے پی۔ایچ ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
مظفر شہ میری نے اپنی ملازمت کا آغاز 1977میں مظہر العلوم کالج،آمبور( تامل ناڈو) سے بہ حیثیت ٹیوٹر کے کیا۔تقریباً تین ماہ یہاں کام کرنے کے بعد اُنھوں نے اسلامیہ کالج ،وانم باڑی ،(تامل ناڈو )میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر کے ملازمت اختیار کی اور لگ بھگ پندرہ سال وہاں رہے۔ اسی اثناء میں تامل ناڈو کی ایک اسکیم کے تحت پانچ سال گورنمنٹ آرٹس کالج، کر شن گری میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وانم باڑی کی پندرہ سالہ سروس کو استعفی کی شکل میں خیر باد کہہ کر 1992میں ،سری وینکٹیشورا یونیورسٹی،تروپتی میں از سرِ نو اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔بارہ سال وہاں کام کرنے کے بعد وہ 2004میں سینٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد کے شعبۂ اردو سے منسلک ہو گئے، اور کچھ ہی عرصہ میں پرو فیسر بنے، جہاں وہ 2؍ جنوری 2013 ،سے صدرشعبہ اردو( یونیورسٹی آف حیدرآباد)کے عہدے پر فائزہیں۔
اب تک مظفر شہ میری کی چار تحقیقی و تنقیدی کتابیں شائع ہوچکی ہیں؛حفیظ جالندھری کا تنقیدی مطالعہ (1977)، اردو غزل کا استعاراتی نظام (1994)،نقش و نظر (1998)، اورکاوشِ فکر (2010)۔ان کے علاوہ ،دو مترجمہ کتابیں کہکشاں(1996)، مجذوب (2015 (اور ایک شعری مجموعہ ’پیاس ‘ (2010)میںشائع ہوئے ہیں ۔اُنھوں نے چار کتابیں ؛ سخن وران ِ ویلور (1987)زخم زخم زندگی (1994)نذرِ جاوید(1996)اور اردو زبان وادب (2004) بھی مرتب کی ہیں۔ان کتابوں میں حفیظ جالندھری کا تنقیدی مطالعہ کو 1977میں اورپال ویدی کے ترجمے ، کہکشاں کو 1996میں آندھراپردیش اردو اکیڈمی کے ایوارڈ ملے۔ کہکشاں ،تامل ناڈو کے معروف شاعر کوی ۔کو عبدالرحمان کے شعری مجموعے ’پال ویدی‘ کا منظوم اردو ترجمہ ہے۔آپ کو اس ترجمے کے لیے تِرو یم کروناندھی نے 1998میں چینائی میں تہنیت پیش کی تھی۔ آندھراپردیش اردو اکیڈمی کی جانب سے 2009 کا کارنامۂ حیات یعنی life time achievment award،سابق چیف منسٹر آندھرا پردیش، آنجہانی راج شیکھر ریڈی کے ہاتھوں دیا گیا۔ 2011 میں انجمنِ اردو، کوئمبتور ، تامل ناڈو کی جانب سے اُنھیں سرسید ایوارڈ پیش کیاگیا۔ قبل ازیں 2003میں سری وینکٹیشورا یونیورسٹی، تروپتی کا Meritorious Teacher Awardبھی اُنھیں ملا تھا۔علاوہ ازیں 1986میں BBC, London نے اُن کے ایک مضمون پر اُنھیں انعام سے سرفرازکیا تھا۔
پروفیسر مظفر شہ میری نے اپریل 2004میںایران میں منعقدہ حضرت مطہری ورلڈ کانفرنس میں شرکت کرکے ’قرآن میں آزادیٔ فکر ‘کے عنوان پر اور 2009میں لندن میں منعقدہ دکنی انٹرنیشنل سیمینار میں تامل ناڈو میں بولی جانے والی دکنی پر مقالات پیش کیے۔ ۲۴؍ اگست 2012کواُنھوں نے ایک بین الا قوامی سیمینار میں ’ تامل ناڈو کے صوفی شعراء ‘ پر مقالہ پیش کرنے کے لیے دوبارہ لندن کا سفر کیا۔ 2016 میں ایک انٹر نیشنل مشاعرے کے سلسلے میں دوحہ، قطر کا بھی دورہ کیا ہے۔ اب تک آپ نے چالیس سے زیادہ قومی اور بین الا قوامی سیمیناروں میں شرکت کی ہے اور پچاس سے زیادہ تحقیقی وتنقیدی مقالات اردو رسائل اور جرائد میں شائع کیے ہیں۔ اب تک آپ کے تحت اٹھارہ(18) ریسرچ اسکالروں نے پی ایچ ڈی اور ((40 چالیس نے ایم فل کی ڈگریا ں حاصل کی ہیں۔ آپ نے اپنے طلبہ اور طالبات کی مدد اور آندھرا پردیش اردو اکیڈمی کے مالی تعاون سے 76ایپی سوڈوں پر مبنی تعلیمی پروگرام ’آؤ اردو سیکھیں‘ بنایا جو مسلسل تین برسوں تک ای۔ ٹی ۔وی اردو پر دکھایا گیااور جسے 52ملکوں میں دیکھا گیا ۔آج کل یہ پروگرام you Tubeپر دستیاب ہے۔، جس کالنک ہے Aao Urdu Seekhein Etv urduعلاوہ ازیں، آپ نے دو بین الاقوامی سیمینار ؛اردو انشائیے :روایت اور امکانات (2008) اور رالف رسل : حیات اور اردو خدمات (2010) کا انعقاد کیا جس میںپاکستان اور لندن کے پروفیسروںاورماہرینِ ادب نے حصّہ لیا۔
25 مارچ 2017پروفیسر مظفر شہ میری صاحب کو حکومت آند ھرا پردیش نے ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی ، کر نول ، آند ھرا پردیش کے اولین وائس چانسلر کے طور پر تقرر کیاگیا۔

IMG_4977
Prof. Irfan Habib Photos50
IMG_0427

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook