Home / خبریں / پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کا انتقال

پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کا انتقال

اردو زبان میں عوامی رابطے کی علامت اور مشاعروں کی آبرو اور اعتبار کا نشانِ امتیاز چلا گیا ۔

Malikzada-Manzoor-Ahmad
لکھنؤ:(ایجنسی)اردو شعر و ادب کی نامور شخصیت پروفیسر ملک زادہ منظور احمدکا آج بعد نماز جمعہ انتقال ہو گیا۔وہ ۸۷؍ برس کے تھے۔پسماندگان میں چھ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ ماہر تعلیم، شاعر، تنقید نگار اور ناظمِ مشاعرہ عالمی شہرت یافتہ ملک زادہ منظور احمد نے دوپہر بعد تقریبا دو بجے ایک مقامی ہسپتال میں آخری سانس لی۔خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم کو یہاں خرم نگر قبرستان میں آج رات سپردخاک کیا جائے گا۔لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق صدر رہ چکے مرحوم احمد نے ۱۹۴۹ءکے بعد ملک کے مختلف حصوں کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، ایران، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، سعودی عرب، قطر، نیپال اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں ہزاروں مشاعروں میں شرکت کی۔وہ اترپردیش اردو اکیڈمی کے صدر بھی رہ چکے تھے۔ایک سے زیادہ کتابوں کے مصنف مرحوم احمد کا پہلا ناول ۱۹۵۴ءمیں "کالج گرل” کے نام سے شائع هوا تھا۔ اردو ادب کی بے پایاں خدمات کے اعتراف میں اتر پردیش اور مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ، کے علاوہ وہ ہری ونش رائے بچن ایوارڈ، صوفی جمال اختر انعام اور فراق سمان سمیت ملک وو بیرون ملک متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکے تھے۔پروفیسراختر الواسع نے ملک زادہ منظور احمدکی رحلت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم زبان و قلم دونوں کے دھنی تھے ۔’شہر سخن‘ کے نام سے ان کا شعرا کا تذکرہ ، مولانا آزاد پر ان کا تحقیقی مقالہ ،’ رقصِ شرر‘کے نام سے ان کی خود نوشت اور’ شہر ادب‘کے نام سے ان کے مضامین کا مجموعہ ہمیں ان کی یاد دلاتے رہیں گے ۔ان کے ذریعہ نظیر اکبرآبادی کی غزلوں کا کیا گیا انتخاب اور اس پر ان کے ذریعہ لکھا گیامقدمہ ہمارے ادب میں خاصے کی چیز ہیں۔اردو کی ادبی صحافت میں بھی ان کے رسالے ’امکان‘ کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ملک زادہ صاحب اردو زبان کے عاشق صادق بھی تھے۔ اور اترپردیش میں اردو والوں کے حقوق کی بازیابی کے مجاہد بھی۔ ان کے انتقال سے نہ صرف ایک شاعر،نقاد اور معلم ہمارے بیچ سے اٹھ گیا بلکہ اردو زبان میں عوامی رابطے کی علامت اور مشاعروں کی آبرو اور اعتبار کا نشانِ امتیاز چلا گیا ۔ملک زادہ منظور احمد کے انتقال پر اردو اکادمی دہلی میں طلب کردہ ایک تعزیتی نشست میں اکادمی کے وائس چیئر مین ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہا کہ ملک زادہ منظور کا اس طرح رخصت ہوجانا اردو دنیا کا وہ نقصان ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔انھوں نے اپنی مشاعرے کی ۷۰؍الہ زندگی میں اردو کو ہندوستان کے حوالے سے عالمی طور پر روشناس کرایا جس کے لیے اہلِ اردو ان کے احسان مند رہیں گے۔ یوں تو ان کی مختلف کتابیں ہیں لیکن انھوں نے اپنی خودنوشت میں اردو کی عالمی صورتحال اور دنیا کے بڑے اردو داں حضرات سے اپنے تعلقات اور ان کے ساتھ ہوئے ذاتی تجربات کو کتابی شکل دے کر مستقبل کے لیے ایک بڑی تاریخ مرتب کی ہے۔اردو کے تئیں ڈاکٹر ملک زادہ منظور کی خدمات ہمیشہ یاد کی جائیں گی: انیس جامعی یونائٹیڈ نیوز آف انڈیا (یو این آئی) کے سابق سینئر صحافی انیس جامعی نے اردو کے عظیم شاعر ، ادیب اور محقق ملک زادہ منظور کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک عظیم شاعر، ادیب اور محقق قرار دیا ۔مسٹر انیس جامعی نے کہا کہ مشاعروں کے ذریعہ اردو کو عوام تک پہنچانے میں ملک زادہ منظور نے اہم کردار ادا کیا ہے۔سابق سینئر صحافی نے کہا کہ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد پر جو تخلیقی کام کیا ہے وہ یادگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے تئیں ملک زادہ منظور کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گے۔مشہورشاعرونغمہ نگار اور صحافی حسن کمال نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم ملک زادہ منظٰر کے اپنے دیرانہ تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں اچھے دوست تھے اور برسوں ساتھ رہا ۔حسن کمال نے مزید کہا کہ مشاعروں میں ان کا جیسا ناظم انہوں نے نہیں دیکھا ،وہ برصغیر کے ایک بہترین اناونسر کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ مدبر اور مفکر وخلیق انسان بھی تھے۔بزرگ شاعر وصحافی اطہر عزیزنے ملک زادہ منظور نے اردومشاعروں کی جو روایت قائم کی تھی ،وہ ان کے ہمراہ رخصت ہوگئی ہے۔حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ انورجلال پوری اس روایت کا آگے بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے ۱۹۷۷ءمیں دہلی میں ڈی سی ایم کے مشاعرہ کا حوالہ دیا جس میں اس وقت کے وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپئی نے پاکستانی شاعر سروربارہ بنکوی کے مطالبہ پر انہیں وہیں لکھنؤ جانے کا ویزا دینے کا اعلان کیا تھا۔اس موقعہ پر ملک زادہ منظور ہی نظامت کررہے تھے اور وہ گزشتہ تین دہائیوں سے دہلی کلاتھ ملز(ڈی سی ایم ) کے ۱۹۴۲ءسے منعقد کیے جانے والے مشاعرہ کے سونیئر دست گل کے مدیر رہے ۔اطہر عزیز نے ان کی یاد داشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہفتے دوہفتے قبل ہی انہوں نے کئی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی ،ماری ہمدردی ان کے صاحبزداہ ملک زادہ جاوید کے ساتھ ہیں۔مشہور شاعر عبدالاحد ساز نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرحوم منظورصاحب ایک بین الاقومی سطح کے ناظم تھے،وہ نظامت کے دوران دوسرے شاعروں کے اشعار کو اپنے شعروں کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتے تھے اور برجستہ موضوع پر شعر پیش کرنا ان کا ہنر تھا۔ان کی نظامت میں مشاعرہ پڑھنے کا موقع ملا اور ایک نہروسینٹر ممبئی کے ایک مشاعرہ میں جب وہ اتفاق سے ممبئی میں تھے تو انہوں نے عبدالاحد ساز کی نظامت میں ماشعرہ پڑھا۔انہوں نے کہا کہ ایک اچھے شاعربھی تھے اور شاعری بھی کرتے رہے۔نوجوان شاعر عبیداعظم اعظمی نے کہاکہ مرحوم کے ساتھ ان کے گہرے مراسم رہے اور ان کی نظامت میں کئی مرتبہ مشاعرہ پڑھنے کا موقعہ ملا۔بہترین ناظم تھے ،بلکہ شاعری کا انداز بھی بہت پیار تھا ۔عبید اعظم کے مطابق کی ان کی آپ بیتی رقت شررکی یہ خصوصیت ہے کہ جہاں سے چاہے پڑھی جاسکتی ہے اور اتنا بھی مزہ آتا ہے۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook