Home / خبریں / پروگرام مہمانان خادم حرمین شریفین برائے حج وعمرہ

پروگرام مہمانان خادم حرمین شریفین برائے حج وعمرہ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

ڈاکٹر اقبال احمد بسکوہری
استاد جامعہ محمدیہ منصورہ،مالیگاؤں

مملکت سعودیہ عربیہ کے سربراہ خادم حرمَین شریفَین ملِک سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہ اللہ وبارک فیہ؍ کے جود وسخا اور مسلمانان عالم سے گہری محبت ، دلی لگاؤ اور ان سے تعاون وہمدردی کا یہ ایک انوکھا پروگرام ہے جو ’’برنامج ضیوف خادم الحرمین الشریفین للحج والعمرۃ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔
اس پروگرام کے تحت مختلف ممالک سے کچھ منتخب افراد کو ہر سال حج وعمرہ کے لئے مدعوکیا جاتا ہے ۔یہ پروگرام ملک سلمان حفظہ اللہ نے بادشاہ بننے سے پہلے ہی سے شروع کررکھا ہے ۔1417؁ ہجری سے یہ پروگرام چل رہا ہے جو اُن کا اپنا خاص پروگرام ہے اور ان کے خاص خرچ پر ہوتا ہے ۔
اس پروگرام کے تحت اب تک چوبیس ہزار سے زائد افراد حج وعمرہ کی سعادت سے سرفراز ہوئے ہیں ۔سال گذشتہ1436؁ ہجری میں ان خصوصی مہمانوں کی تعداد تقریباً پندرہ سو تھی۔ اس سال 1437؁ہجری میں اس میں اور اضافہ ہوا۔
اکیاون ممالک سے آئے ہوئے یہ حضرات خادم حرمین شریفین کے خصوصی مہمان برائے حج وعمرہ تھے ۔اس سال ان کی تعداد چوبیس سو تھی۔ جن میں فلسطین میں اسرائیلی درندوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے اقارب واہل خانہ تھے جن کی تعدادایک ہزار تھی ۔بقیہ چودہ سو دوسرے حضرات تھے ۔
مختلف ممالک میں خادم حرمین شریفین کے سفارت خانوں کے واسطے سے ان کا انتخاب عمل میں آتا ہے ،کچھ کا انتخاب وہ خود کرتے ہیں اور کچھ سرکردہ شخصیات وجماعتوں سے طلب کرتے ہیں۔
اس سال ہندوستان سے کل انچاس افراد نے اس پروگرام کے تحت حج وعمرہ کیا جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی بلا تفریق مسلک ومشرب شخصیات تھیں ،کچھ کا تعلق بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے تھا ،کچھ صحافت سے متعلق تھے ،کچھ دعوتی شعبوں اور جمعیات کے نمائندے، کچھ سوشل ورکر ،کچھ ارباب مدارس کے نمائندے اور مشہور شخصیات تھیں۔
جن حضرات کا انتخاب ہوتا ہے ان سے پاسپورٹ طلب کرلیا جاتا ہے ،روانگی سے ایک دن قبل استقبالیہ پروگرام کے بعد جو سفیر محترم کی رہائش گاہ پر ہوتا ہے ، اس میں ویزا ،پاسپورٹ ،احرام کا کپڑا،چپل اور شناختی کارڈ وغیرہ دے دیے جاتے ہیں ،آنے اور جانے کی تاریخوں کے ٹکٹ کنفرم کرکے دیے جاتے ہیں ۔ یہ پروگرام پندرہ دنوں کا ہوتا ہے ۔
جدہ پہنچنے پر ان کا استقبال خصوصی مہمانوں کی طرح ہوتا ہے ۔امیگریشن سے پہلے ہی ان کی ضیافت کرنے والے حاضر خدمت ہوتے ہیں ۔ یہاں سے مکہ مکرمہ میں عالیشان ہوٹل ’’الدار البیضاء‘‘ لے جایا جاتا ہے ،جس کو ’’فُندق ابن محفوظ‘‘ اور ’’التکامل‘‘بھی کہا جاتاہے ۔ یہ وہاں کے ممتاز دس ہوٹلوں میں سے ایک ہے جو پورا محلہ معلوم ہوتا ہے ،اس میں ایک بڑی کشادہ مسجد ہے ۔یہاں بڑی زبردست گرم جوشی سے ان مہمانوں کا استقبال ہوتاہے،آب زمزم اور کھجور سے ضیافت ہوتی ہے ۔ اس ہوٹل میں رہائش اور طرح طرح کے کھانے پینے کا بے حساب انتظام ہوتا ہے ۔ کھانے کے علاوہ دیگر اوقات میں ٹھنڈے پانی،مشروب،جوس، طرح طرح کے بسکٹ اور چائے ،قہوہ وغیرہ ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں۔
حرم میں نماز ادا کرنے کے لئے رات کو تین بجے بسیں جاتی ہیں ،جو صبح سات بجے واپس لاتی ہیں ،پھر چار بجے شام کو جاتی ہیں اور رات کو نوبجے واپس لاتی ہیں ،پہچان کے لئے ان کا مخصوص کارڈ ہوتا ہے ۔
۸؍ذی الحجہ کی شام کو سیدھے عرفات لے جایا جاتا ہے ،جہاں کھانے ،پینے اور رہنے کا معیاری انتظام ہوتا ہے ۔۸؍ذی الحجہ کو منی نہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس پروگرام میں بڑی تعداد میں گاڑیوں کی ضرورت پڑتی ہے ،اس سال پچپن بسوں کا قافلہ تھا جو ۸؍ تاریخ کو منی لے جاکر پھر صبح عرفات لے جائے ‘یہ ممکن نہیں ہوپاتا ہے۔ اس وجہ سے سیدھے عرفات لے جایا جاتا ہے ،اس سے حج پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۹؍تاریخ کی شام کوغروب شمس کے بعد سیدھے عرفات سے مزدلفہ پھر رات میں ہی وہاں سے منی کے خیموں میں پہنچادیا جاتا ہے ۔۱۰،۱۱؍اور ۱۲؍تاریخوں کو اپنے اپنے اعتبار سے مناسک حج ادا کرنے کا اختیار رہتا ہے۔
ہر ہر ملک کے لئے الگ الگ نمبر کی بسوں اور رہائش گاہ کا بڑا عمدہ انتظام ہوتا ہے ۔ ہر چیز کی آسودگی رہتی ہے ،اپنی اپنی جگہوں پر کوئی آرام کرتا نظر آتا ہے،کوئی تسبیح وتہلیل تو کوئی تلاوت قرآن میں مگن ہے ،کوئی دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے تو کچھ خوش گپیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔{لَا یَسمَعون فِیہا لَغواً وَلا تأثیماً اِلّا قِیلاً سَلاماً سلاماً}کا ماحول معلوم ہوتا ہے ۔مزدلفہ ،منی اور رہائش گاہ ہر جگہ صاف ستھری ،کشادہ اور قالین بچھی ہوئی مسجدیں ہوتی ہیں بہت سے لوگ وہیں عبادت کرتے ہیں ۔وعظ ونصیحت کی محفلیں بھی ہوتی ہیں ،دینی رہنمائی اور فتاؤوں کے لئے بھی مکمل دعوتی شعبہ ہوتا ہے جہاں سے قرآن کریم ،مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے اور کتابیں تقسیم ہوتی ہیں۔بڑا خوشنما ماحول اور دلکش منظر ہوتا ہے ۔کچھ تحفے تحائف بھی پیش کئے جاتے ہیں ۔۱۲؍ذی الحجہ کو منی سے واپسی ہوجاتی ہے اور پھر ۱۳؍کو یہ قافلہ مدینہ منورہ پہنچ جاتا ہے ۔ پھر وہیں سے اسی دن یا دوسرے دن مدینہ سے دہلی براہ جدہ واپسی ہوتی ہے ۔
اس طرح اس ضیافت میں دار الحکومت سے دارالحکومت تک واپسی کے ٹکٹ سے لے کر کھانے،پینے،رہنے ،سہنے اورآمدورفت کا پورا انتظام ملک سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہ اللہ وتولاہ کے خاص فنڈ سے کیا جاتا ہے ۔اس میں قربانی کا خرچہ بھی انہی کی طرف رہتاہے ۔ بسو ں کے اوقات کے علاوہ اوقات میں اگر حرم آناجاناہے تو ہر ایک کو اپنے اپنے حساب پر آنا جانا ہوتا ہے ۔اس لئے جو بھی اس پروگرام کے تحت حج کرنے جائیں ان کو چاہئے کہ اپنے ساتھ اپنے حساب سے خرچ کرنے کی تیاری کرکے جائیں۔ فی کس کتنا خرچہ پڑتا ہے یہ تو جس کا لگتا ہے وہی جانتا ہے ۔البتہ یہ واضح ہے کہ جس معیار کا انتظام ان حجّاج کرام اور مہمانان گرامی کے لئے کیا جاتاہے اس کے لئے بہت بڑا بجٹ درکار ہے ۔
اس پروگرام میں سب سے بڑا کردار سفارت خانہ کا ہوتا ہے ۔بنیادی طور سے اس کا ر خیر کی پہلی منزل یہیں ہے اور وہی اس کے لئے ذریعہ ہیں ۔سفیر خادم حرمین شریفین اس کے نگران ِاعلیٰ ہیں ۔سفیر محترم جناب سعود بن محمد الشاطی حفظہ اللہ اور آپ کے رفیق کار مستشار وملحق دینی محترم ابوعلی احمد بن علی الرومی حفظہ اللہ ہندوستانی حجاج ومہمانان کی طرف سے ہر قسم کے شکریہ اور دعاؤں کے مستحق ہیں ۔آپ حضرات کی خدمات قابل قدر اور قابل مبارک باد ہیں ۔
میں تہہ دل سے اس سال 1437؁ ہجری میں اس پروگرام میں شریک جملہ حُجاج اور مہمانان کی طرف سے سفیر محترم سعود بن محمد الشاطی، مستشار ابو علی الرومی اور آپ کے مکتب والوں کا تہہ دل سے شکر گذار ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو صحت وسلامتی عطافرمائے ،زیادہ سے زیادہ کار خیر کی توفیق دے اور تمام خدمات کو قبول فرمائے۔آمین
اس پروگرام کا اجراء یقینا خادم حرمین شریفین ملک سلمان عبدالعزیز حفظہ اللہ وبارک فیہ کی اسلامی اخوت،بھائی چارگی اور الفت ومحبت پر دلالت کرتا ہے ۔ امت مسلمہ کے ساتھ تعاون وہمدردی اور ان کی خبر گیری کا پتہ دیتا ہے ۔باہم روابط ،اجتماعیت اور ایک دوسرے سے تعلقات کی اہمیت کی عظمت پر دلالت کرتا ہے ۔
ہم تہہ دل سے خادم حرمین شریفین کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ تب العالمین مملکہ کے باشندوں ،علماء وحکام ،اسرہ حاکمہ اور خصوصاً خادم حرمین شریفین کو ہمیشہ خوش وخرم رکھے ، اللہ آپ کی طاقت وقوت میں اضافہ فرمائے ،آپ کی خدمات کو قبول فرمائے ،حاقدین اور حاسدین کے شر سے محفوظ رکھے ، دن دونی رات چوگنی ترقی عطافرمائے۔آمین ٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook