Home / خبریں / ڈاکٹر عبد القادر شمس کی تصنیف’جن سے روشن ہے کائنات‘پر محمد جسیم الدین ،نئی دہلی کا تبصرہ

ڈاکٹر عبد القادر شمس کی تصنیف’جن سے روشن ہے کائنات‘پر محمد جسیم الدین ،نئی دہلی کا تبصرہ

٭محمد جسیم الدین،نئی دہلی

نام کتاب: ’جن سے روشن ہے کائنات‘
تبصرہ نگار: محمد جسیم الدین ،دہلی
رابطہ: 09711484126
ضخامت: 223؍صفحات
قیمت: ۲۰۱؍روپے
ناشر: دعوۃالقرآن ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ،ملت نگر،ڈوبا، ضلع ارریہ بہار۔
رابطہ نمبرمصنف: 09711169021

ڈاکٹر عبد القادر شمس کی تصنیف ہے، اس کتاب میں انھوں نے شخصیات پر لکھے ہوئے مضامین کو جمع کیا ہے۔اعتدال پسندقلمکارکے لیے اعتدال وتوازن کو ملحوظ رکھتے شخصیت سے متعلق حقائق وکارناموں کو بیان کرنا آسان نہیں ہوتا ہے۔کہیں عقیدت تو کہیں دیگراسباب قلمکار کے قدم کو متزلزل کرتے رہتے ہیں، لیکن عبدالقادر شمس نے شخصیات پر قلم اٹھاتے ہوئے اعتدال کو ملحوظ رکھا ہے،جو بھی لکھا ہے وہ حقیقت کے آئینے میں لکھا ہے۔اردوصحافت سے ان کی وابستگی طویل اور گہری ہے،ایک عرصے سے ایک بڑے میڈیا ہاؤس سے وابستہ ہیں۔ سماجی،سیاسی،سوانحی،ادبی وعلمی موضوعات پر ان کی تجزیاتی تحریریںمسلسل شائع ہوتی ہیں’۔ گزرے ہوئے بڑوں کویاد رکھنا اور ان کی خدمات کاذکرکرنا، اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس طرح وہ آنے والی نسلوںکے درمیان بھی زندہ رہتے ہیں ،ان کی خدمات کے سراہے جانے اور ان کے کارناموں کے اعتراف کا ایک سلسلہ چلتارہتاہے اور اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس طرح پچھلوںکواگلوںکے جہدوعمل سے روشنی،ان کے نقوشِ پاسے نشانِ منزل اوران کے حوصلہ و ہمت سے توانائی حاصل ہوتی ہے،دنیامیں اب تک یہی ہوتاآیاہے کہ لوگ اپنی قوموںکے اکابرکے نقوشِ راہ میںمنزل کی تلاش کرتے ہیں اور یہ واقعہ بھی ہے کہ تاریخِ انسانی میں جتنی رہنمائی کتابوں سے حاصل کی گئی ہے،اس سے زیادہ اشخاص و افراد سے حاصل کی گئی ہے،شخصیتیں شخصیتوںپرجلداور تیزی سے اثراندازہوتی ہیں؛اس لیے اپنے اپنے وقتوںکے نابغہ افرادکے حالاتِ زندگی اور ان کی حصول یابیوں کے ذکر و تذکارکے ذیل میں’سوانحی ادب‘ ایک مستقل صنفِ تحریر کی شکل میں وجودپذیر ہوچکاہے۔دیگر زبانوں کی ماننداردوزبان میں بھی ایسی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں اور مسلسل لکھی جارہی ہیں۔ڈاکٹرعبدالقادرشمس کی کتاب’جن سے روشن ہے کائنات‘اسی سلسلے کی ایک زریں کڑی ہے۔موصوف ایک قابل وسنجیدہ صحافی اورکہنہ مشق اہلِ قلم ہیں،انھوںنے ازہرِ ہنددارالعلوم دیوبندسے فضیلت کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی بھی کی ہے۔’جن سے روشن ہے کائنات‘کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جن شخصیات کوموضوعِ تحریر بنایاگیاہے،ان میں علمائے دین کے علاوہ معروف و مشہور دانشوران و مفکرین اور سیاست داں بھی شامل ہیں،ایک اور اچھی بات اس کتاب کی یہ ہے کہ اس میں مذہبی و مسلکی بنیادوںکی بجائے علمی،سماجی و سیاسی میدانوںمیں شخصیات کے کارناموںکوذہن میں رکھتے ہوئے ان کا تذکرہ کیاگیاہے؛چنانچہ مختلف مکاتبِ فکرکے مسلم رہنما،علماودانشوران کے ساتھ جواہرلال نہرو،ڈاکٹر رادھا کرشنن، اندرا گاندھی،اننت مورتی جیسے غیرمسلم قومی رہنماؤںاور مفکرین کے نقوشِ حیات پربھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
مؤلف موصوف نے کتاب کا انتساب ماضی قریب کے معروف عالمِ دین اور فقیہ العصرمولاناقاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی طرف کیاہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹرعبدالقادرشمس نے اپنی عملی زندگی کا آغازان ہی کی صحبت اور ان کی علمی ،ملی و سماجی سرگرمیوں میں ان کی ہم راہی میں کیاتھا،وہ قاضی صاحب مرحوم سے معنوی طورپربہت متاثرہیں اور اس کا تقاضاتھاکہ شخصیات کے تذکروںپر مشتمل اپنی اس تالیف کووہ اپنی محترم اور قابلِ قدرشخصیت کی طرف منسوب کریں۔معروف اسلامی اسکالر،اسلامک اسٹڈیزجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق سربراہ اورکمشنربرائے لسانی اقلیات پروفیسر اخترالواسع کے مقدمے نے کتاب کی معنویت کو مزید دوچند کردیاہے۔
بنیادی طورپراس کتاب کے دوابواب ہیں،پہلے باب میں’ممتازعلماواکابرِ امت‘کے عنوان سے مختلف علماے کرام کا مختصرتذکرہ اور ان کی خدمات کا ذکر ہے۔اس ذیل میں شیخ الہند مولانامحمودحسن دیوبندی،علامہ شبلی نعمانی،حکیم الامت مولانااشرف علی تھانوی،اعلیٰ حضرت مولانااحمد رضا خان،مولاناابوالمحاسن محمد سجاد،حکیم الاسلام قاری محمد طیب،امیر شریعت مولانامنت اللہ رحمانی،قاری صدیق احمد باندوی،مولاناسید ابوالحسن علی میاں ندوی،قاضی مجاہد الاسلام قاسمی،مولانا شفیق الرحمن ندوی،مولانااحمد شاہ نورانی،مولانامجیب اللہ ندوی،مولانااخلاق حسین دہلوی، ڈاکٹرمحمودغازی اور مفتی ظفیر الدین مفتاحی کا ذکرِ خیر ہے۔ان میں سے بیشتر شخصیات ایسی ہیں،جن پر ان کے متعلقین و متوسلین نے پہلے ہی بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں،ان کتابوں میں ان حضرات کی زندگی ،ان کی خدمات اور کارناموں کا تفصیلی ذکر ملے گا،مگر ڈاکٹرعبدالقادرشمس نے اپنے ان مضامین اس بات کی کوشش کی ہے کہ ان شخصیات کی خا ص خاص خوبیوں اور مخصوص کارناموں کوروشنی میں لایاجائے۔مثلاً اْنھوں نے علامہ شبلی نعمانی پر لکھے گئے اپنے مضمون میںشبلی صاحب کی تاریخ نویسی،سیرت نگاری اور اردوزبان کے حوالے سے ان کی خدمات کی طرف خاص اشارے کیے ہیں،شیخ الہند مولانامحمودحسن دیوبندی کی شخصیت بھی متعددالجہات ہے،ان کی زندگی کے تمام گوشوںکا احاطہ کرنے کے لیے ایک مکمل کتاب چاہیے،مگر مؤلف موصوف نے ان کی زندگی کے ایک خاص پہلوکو سامنے رکھتے ہوئے ان کی سیاسی سرگرمیوںکوموضوعِ تحریر بنایاہے اور اس حوالے سے ان کی خدمات پراجمال کے ساتھ اچھی معلومات فراہم کی ہیں،اعلیٰ حضرت مولانااحمد رضاخان برصغیرمیں ایک خاص نظریے، مکتبِ فکر اورایک مخصوص مسلک کے بانی ہیں،ان کے متبعین پورے برصغیراور دنیاکے بعض دوسرے ممالک میں بھی اچھی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں،مسلکی اختلافات کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوںکوگزشتہ صدی سے لے کر آج تک بے پناہ مصیبتیں جھیلنی پڑی ہیں،پورے جنوبی ایشیامیں مسلمانوںکے درمیان مسالک اور مکاتبِ فکر کی بہتات ہے اور گوکہ اب باہمی مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے اختلافات کوکم کرنے کی کوششوں کا ایک خوش گوار سلسلہ شروع ہواہے،تاہم ہر مسلک کے متبعین میں کچھ ایسے سخت گیر قسم کے لوگوں کی معتدبہ تعداد اب بھی پائی جاتی ہے،جومسلمانوںکوملت اور امت کی سطح پرسوچنے کی دعوت دینے کی بجاے مسلک و مشرب کے مایاجال میں الجھائے رکھنا چاہتی ہے۔مولانااحمدرضاخان کادورانیسویںصدی کا نصفِ آخراور بیسویں صدی کی دودہائیوں کومحیط ہے،ان کے ماننے والوںکااس بات پر اصرارہے کہ وہ نہایت ہی حق پرست تھے،محبتِ رسول سے سرشارتھے اورمسلمانوںکوخالص اسلامی سانچے میں ڈھالناچاہتے تھے،مگر یہ بھی حق ہے کہ ان کی چھیڑی ہوئی تحریک سے مسلمانوںمیں تشتت و انتشار کا ایک نیادورشروع ہوااور مسلمان جوپہلے ہی کئی خانوںمیں بٹے ہوئے تھے،ان میں ایک اورکااضافہ ہوا، پھر بعد میں چل کراعلیٰ حضرت مرحوم کے متبعین میں ایک بڑی جماعت ایسے لوگوں کی بھی پیداہوگئی،جواپنے نظریات اور فکر سے اختلاف رکھنے والوںپرسیدھے کفروزندقہ کی تہمت باندھنے لگی۔اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کابھی اعتراف کرناچاہیے کہ اعلیٰ حضرت مولانااحمد رضاخان ایک بہت ہی قابل اور ملت کا دردرکھنے والے عالم تھے،ان کے کئی مخالفین بھی اس کا اعتراف کرتے تھے،انھوںنے اپنے پیچھے مختلف موضوعات پر بہت ساری تصانیف چھوڑیں،جن میںسماجی،علمی،خانگی،سیاسی و شرعی مسائل پرمشتمل ’فتاویٰ رضویہ‘جوتیس جلدوںپرمشتمل ہے،خاص طورپر قابلِ ذکر ہے،ڈاکٹرعبدالقادرشمس نے اپنے مطالعے اور مشاہدے کی روشنی میںایک قیمتی بات لکھی ہے کہ’’آج پوری دنیامیں اسلام دشمن طاقتیں متحد ہوچکی ہیں اور اسلام و مسلمانوںکے خلاف صف آرائی جاری ہے،ایسے میں مسلمانوںکومختلف مسالک و مکاتبِ فکر میں تقسیم ہونے کی بجاے کلمۂ واحدہ کی بنیاد پر ایسے بے نظیر اتحاد کا نمونہ پیش کرنا چاہیے کہ باطل طاقتیں پاش پاش ہوجائیں،خود اعلی حضرت ہمیشہ اتحادِ امت اور اتحادبین المسالک کے لیے جدوجہد کرتے رہے،‘علمی سطح پر حضرت مولانااحمدرضاخان سے جواختلافات علماکوہیں،ان کا حل علمی سطح پر ہی مذاکرات اور تبادلۂ خیالات سے نکالاجاسکتا ہے؛لیکن عوامی سطح پر ایک خدااور ایک رسول کے پرستاروںکوباہم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی مانندہوناچاہیے‘۔ اس کتاب میں بہارمیں نظامِ امارت کے بانی ابوالمحاسن مولانا محمد سجادکی سیاسی و سماجی خدمات پربھی دلائل و شواہد کے ساتھ عمدہ معلومات فراہم کی گئی ہیں، مولانا سجاد کی فکرپورے ہندوستان کے مسلمانوںایک شرعی نظام کے تحت منظم کرنے اور انھیں ایک خدا،ایک رسول اور ایک قرآن کے بتائے ہوئے راستے پرگامزن کرنے پرمرکوزتھی،اسی فکر کے تحت انھوں نے اپنے وقت کے بڑے بڑے علماے دین و دانشوران کے ساتھ مل کر ’امارتِ شرعیہ‘کا نظام شروع کیاتھا،جواگر چہ بعض وجوہ سے پورے ہندوستان میںرائج نہ ہوسکا،مگربہار ،اڑیسہ جھارکھنڈمیں اب بھی جاری ہے اوراس کے تحت مسلمانوںکے عائلی مسائل بخوبی طورپرسلجھائے اور حل کیے جاتے ہیں۔ان کے علاوہ مولانااشرف علی تھانوی کی علمی و اصلاحی خدمات، مولانا و قاری محمد طیب کی علمی و سماجی خدمات،مولانامنت اللہ رحمانی کی سیاسی خدمات،قاری صدیق احمد باندوی کی معاشرتی و اخلاقی اصلاح کے تعلق سے نمایاں خدمات،مولاناعلی میاں ندوی کی دعوتی خدمات،قاضی مجاہد الاسلام کی فقہی خدمات،مولاناشفیق الرحمن ندوی کی ادبی خدمات،پاکستان کے معروف عالمِ دین مولانااحمد شاہ نورانی کی تبلیغی و سیاسی خدمات اور ان کے علاوہ دیگرعلماے کرام کی مختلف خاص شعبوںمیں نمایاں خدمات پرعبدالقادرشمس نے بڑی دیانت داری،صدق بیانی اور حقیقت نگاری کے ساتھ قلم اٹھایاہے اور یہ کہاجاسکتاہے کہ گوان شخصیات کے یہ تذکرے مختصرہیں،مگربہت حدتک ان کی زندگیوںکوروشنی میں لاتے ہیں اور اس کتاب کوپڑھنے کے بعدمتعلقہ علماے دین و اکابرِ امت کی زندگیوںکوسمجھنے اور ان کے کارناموںسے واقفیت حاصل کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
اس کتاب کا دوسرا باب’قابلِ فخردانش ورانِ قوم و ملت‘سے مخصوص ہے اور اس ذیل میں مؤلفِ کتاب نے معروف دانش ور ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی اور ہندی مسلمانوںکوعصری تعلیم کے میدان میں خودکفیل بنانے کے سب سے بڑے داعی سرسیداحمدخان،آزادہندوستان کے پہلے وزیر اعظم اور مجاہد آزادی جواہر لال نہرو،ماہرتعلیم ڈاکٹرسروپلی رادھاکرشنن،سابق وزیراعظم اندراگاندھی،غلام محمودبنات والا،ارجن سنگھ،جسٹس رنگ ناتھ مشرا،قاضی حسین احمد،اصغرعلی انجینئر،سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر،معروف افریقی مفکرنیلسن منڈیلا اور مشہور کنڑ ادیب اننت مورتی کے تذکرے کیے ہیں۔اس باب میں مذکوربیشترشخصیات ہندوستان گیرہی نہیں؛بلکہ عالم گیر سطح کی شہرت رکھتی ہیں اوران کی زندگیوںکے مختلف پہلووںپربہت کچھ لکھاجاچکااوراب بھی لکھاجارہاہے،مگرپھربھی عبدالقادرشمس کے ان مضامین سے ان قدآوراشخاص و افراد کی حیات،ان کی سیاسی،علمی و سماجی جدوجہد کے بعض ایسے خاص پہلووںسے واقفیت ہوتی ہے،جوہمیںبسااوقات بڑی ضخیم کتابیں پڑھنے کے بعد حاصل ہوسکتی ہے۔
کتاب کا اسلوب بھی سلیس،خوب صورت اور دل چسپ ہے،عبدالقادرشمس ایک تجربہ کاراور کہنہ مشق قلم کارہیں،ان کی تحریروںمیں معلومات اور مطالعے کی فراوانی کے ساتھ زبان و بیان کی چاشنی بھی بخوبی طورپر پائی جاتی ہے۔’جن سے روشن ہے کائنات‘اپنے نام کے اعتبار سے بھی خوب صورت ہے،اس میں جن شخصیات کا ذکر و تذکارہے،وہ بھی تاریخی حیثیت و مقام کی حامل شخصیتیں ہیں اور مؤلفِ کتاب نے اپنی محنت،قوتِ تحریر اورحسنِ بیان و اسلوب سے کتاب کومزید دلچسپ بنادیاہے۔کتاب کی طباعت بھی بہت ہی نفیس اور عمدہ ہے،’عروسِ جمیل درلباسِ حریر‘کی مصداق یہ کتاب قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے مالی تعاون سے دعوۃ القرآن ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ،ارریہ سے شائع ہوئی ہے ،شخصیات اور سوانحی موضوع سے دلچسپی رکھنے والے افرادکے علاوہ ان لوگوں کوبھی یہ کتاب ضرورپڑھناچاہیے،جوہندوستان کی گزشتہ دوصدیوںکی علمی،سماجی و سیاسی تاریخ سے واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں؛کیوںکہ یہ کتاب متعلقہ شخصیات کی زندگیوںکاخاکہ ہی نہیں،ان کے عہدکے احوال و کوائف کاآئینہ خانہ بھی ہے۔
title-of-bookfdfsdffd

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook