Home / خبریں / کتاب”کیفی اعظمی کی شاعری:ایک تنقیدی مطالعہ“ایک جامع تبصرہ

کتاب”کیفی اعظمی کی شاعری:ایک تنقیدی مطالعہ“ایک جامع تبصرہ


٭سعدیہ صدف

67 ، مولانا شوکت علی اسٹریٹ
(کولوٹولہ اسٹریٹ) کولکاتا – 700073


نام کتاب : کیفی اعظمی کی شاعری :ایک تنقیدی مطالعہ

مصنفہ : رضیہ سلطانہ
صفحات : 120
قیمت : 75 روپے
سال اشاعت: 2017
ناشر : مغربی بنگال اردو اکاڈمی ،کولکاتا – 700016
مبصر : سعدیہ صدف
ا ردو ادب کو توانا کرنے والی اہم تحریکوں میں ایک نام ترقی پسند تحریک کا بھی ہے جس نے نہ صرف عوام کے فکرو مزاج کو جھنجھوڑا بلکہ ادب کو اعلی طبقے کی قید سے آزاد کراتے ہوئے اسے عوامی زندگی کا ترجمان بنانے میں اہم کردار ادا کیا – اس تحریک نے ادب میں نئے شعور کو جگہ دی اور فرسودہ رسم و رواج کو مدلل انداز میں ختم کرنے کی حوصلہ مندی دکھائ- اس تحریک سے متاثر ادباء نے خواہ وہ شعرا ہوں یا فکشن نگار انہوں نے اپنے فکری رجحان کو اس تحریک کے مقاصد کی تکمیل میں صرف کیا- ادباء کی ایک بڑی کھیپ تھی جس نے اس تحریک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی سعی کی – ان ہی خوش فکر شعرا میں ایک محترم اور باوقار نام کیفی اعظمی کا بھی ہے – جن کی ذات اس تحریک کےلئے بقول محمد ایوب ” بڑی بابرکت ثابت ہوئ”-مصنفہ رضیہ سلطانہ نے اس کتاب کا عنوان ” کیفی اعظمی کی شاعری : ایک تنقیدی مطالعہ ” رکھا ہے – اس مناسبت سے انہوں نے کیفی اعظمی کی شاعری کا بھر پور احاطہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے -انہوں نے اس کتاب کو سات ابواب میں تقسیم کیا ہے -پہلا باب "ترقی پسند تحریک اور کیفی اعظمی” کے نام سے ہے – جس میں مصنفہ نے کیفی صاحب کے زمانے کے سیاسی و معاشرتی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر ادب میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا اور اس نے کس طرح اپنے زمانے میں ادباء کو متاثر کیا اور کس طرح اس تحریک سے کیفی اعظمی کی وابستگی ہوئ -دوسرا باب ” کیفی اعظمی کی سوانح حیات ” کے عنوان سے رقم کیا گیا ہے – جس میں کیفی کے گھریلو ماحول اور ان کی پیدائش ،حالات زندگی ، شاعری سے ان کی رغبت ،ان کی تعلیم و تربیت ان کے شعری سفر اور
ان کی نجی زندگی و تخلیقات کے متعلق معلومات درج ہیں-تیسرا باب” کیفی اعظمی بحیثیت نظم نگار "ہے- اس باب میں مفصل طور پر کیفی کی نظم نگاری پر بحث کی گئ ہے -مصنفہ نے ان کے تین شعری مجموعے جھنکار، آخرشب اور آوارہ سجدے کے تناظر میں ان کی نظموں پر تبصرہ کیا ہے- ان نظموں میں جہاں کیفی کی منظر نگاری اور ان کے لہجے کی سادگی و لطافت کا ذکر ملتا ہے وہیں مصنفہ کے مطابق "کیفی کی شاعری میں ایک ایسی غم آلود شعری فضا تخلیق ہوتی ہے جو موضوعاتی اور فکری نقطہء نظر سے قدرے محدود ہونے کے علاوہ بے حد اثر انگیز ہے "-ان نظموں کے پیش نظر مصنفہ نے کیفی کو ایک محب وطن اور خطیب کے طور پر پیش کیا ہے -اس باب میں مصنفہ نے کیفی کے ان تینوں مجموعے کے ذریعہ آزادی سے قبل ،آزادی کے دوران اور آزادی کے بعد کیفی کے فکر و خیال کی دنیا کی اتھل پتھل اور ان کے شعور کی ہلچل کی ترجمان نظموں کے ذریعہ ان کے زاویہ ء نظر کو پیش کیا ہے -چوتھا باب "کیفی اعظمی بحیثیت غزل گو ” کے نام سے ہے – مصنفہ نے یہاں کیفی کی سب سے پہلی غزل کے ذریعہ ان کے فن اور مزاج کو درشانے کی کوشش کی ہے -ان کے مطابق کیفی کی شاعری کا بنیادی عنصر رومان ہے لیکن چونکہ انسان اپنے حالات سے ،اپنے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اس لئے ان کے یہاں بھی ہمیں تبدیلی کا شدید احساس ہوتا ہے-یعنی آگے چل کر ان کی شاعری میں سیاسی بدنظمی ، معاشرے کے مسائل کی صدائیں بلند کرتا انسان نظر آتا ہے -یعنی عصری حسیت جگہ پالیتی ہے-پانچواں باب "کیفی اعظمی بحیثیت نغمہ نگار” کے عنوان سے موسوم ہے- اس باب میں مصنفہ نے کیفی کی شاعری کو ان کے نغموں کے تناظر میں پرکھا ہے- مصنفہ کے مطابق کیفی نے اپنی شاعری کو بمبیاپن سے بچائے رکھا – انہوں نے اپنی نظموں اور غزلوں کی طرح اپنے نغموں کو اپنے منفرد لہجے سے ایک الگ سمت عطا کی -ان کے نغموں میں دلکشی کے ساتھ ادبی لذت بھی موجود ہے -لطف و دلکشی کے حسین امتزاج نے انہیں بحیثیت نغمہ نگار بھی ممتاز کئے رکھا-چھٹا باب ” کیفی اعظمی بحیثیت مثنوی نگار ” ہے – اس باب میں مصنفہ نے کیفی کی واحد سیاسی مثنوی” خانہ جنگی” کی اہمیت اور اس کے مقصد کو پیش کیا ہے – اس مثنوی کا موضوع سیاسی تقسیم ہے – یعنی ملک کا بٹوارہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس نے ملک کے ٹکڑے کرنے کے ساتھ ماں کے کلیجے کے بھی دو ٹکڑے کر ڈالے -یہاں ہندو مسلم فسادات کی طویل سچائ اور اس کی نذر ہونے والی جانوں کا ذکر ہے جس کا مقصد صرف اور صرف انسانیت کا قتل تھا -لیکن تمام تر تاریکی و سوگواری کے باوجود شاعرنئ صبح کا آرزو مند بھی ہے -ساتواں اور آخری باب” کیفی اعظمی بحیثیت نثر نگار "کے عنوان سے مرقوم ہے-اس باب میں مصنفہ نے یہ بتایا ہے کہ کیفی کو نثر نگاری کابھی شعور تھا -انہوں نے کیفیات میں شامل مضمون "میں اور میری شاعری ” اور مختلف مجموعوں کے پیش لفظ کی صورت میں موجود ان کی تحریروں سے ان کی سلیس اور پر تاثیر نثر کو احاطہء تحریر میں لانے کی کوشش کی ہے -مصنفہ نے ان نمونوں کی روشنی میں انہیں ایک کامیاب نثر نگار ثابت کرنے کی کوشش کی ہے-ان ابواب کے مطالعے سے قاری کو نہ صرف کیفی اعظمی کے شعری کائنات کا ادراک ہوتا ہے بلکہ ان کے داخلی و خارجی زندگی اور ان کے فکروشعور سے بھی شناسائ ہوجاتی ہے – کیفی اعظمی پر یوں تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور مختلف انداز سے ان کے فکر و خیال کی دنیا کی جاذبیت کو ابھارنے کی کوشش بھی کی گئ ہے – اسی ضمن میں رضیہ سلطانہ کی یہ کاوش لائق تحسین ہے کہ انہوں نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ اس موضوع کو اپنے طور پر پیش کیا ہے –

٭٭٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook