Home / خبریں / کورونا وائرس غور وفکر کے چند پہلو

کورونا وائرس غور وفکر کے چند پہلو


٭عائشہ صدیقہ۔جے
ریسرچ اسکالر، شعبہ عربی،فارسی واردو
مدراس یونیورسٹی، چینئی

کورونا وائرس کے متعلق بہت سے حقائق جاننا ہر ایک فردکیلئے انتہائی اہم ہے، کورونا وائرس کیا ہے؟ کیسے پھیلتا ہے؟ اس سے حفاظت کی کیا شکلیںہیں؟ وائرس کس حد تک نقصان دہ ہے اس مضمون کے تحت معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
کورونا وائرس، وائرس کا ایک گروپ ہے جس کے جینوم کی مقدار تقریباً 26 سے 32 زوج قواعد تک ہوتی ہے۔ یہ وائرس ممالیا (دودھ پلانے والے جانور) جانوروں اور پرندوں میں مختلف معمولی اور غیر معمولی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ مثلاً گائے اور خنزیر کے لیے اہال کا باعث ہے، اسی طرح انسانوں میں سانس پھولنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ عموماً اس کے اثرات معمولی اور خفیف ہوتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات کسی غیر معمولی صورتِ حال میں مہلک بھی ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاج یا روک تھام کے لیے اب تک کوئی تصدیق شدہ علاج یا دوا دریافت نہیں ہوسکی ہے۔ کورونا وائرس، جسے کووڈ 19 کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے مراد 2019 میں کورونا وائرس انفکشن سے پیدا ہونے والا نمونیا ہے۔
کورونا لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تاج یا ہالہ کے ہوتے ہیں۔ اس وائرس کا مشاہدہ صرف الیکٹران مائیکرو اسکوپ سے ہی کیا جا سکتا ہے ، جس میں وائرس کی ظاہری شکل سورج کے ہالے یعنی کوروناکے مشابہ ہوتی ہے ، (سورج کے گرد لاکھوں میل پر مشتمل علاقہ جہاں پلازمہ ہر جانب پھیلا ہوا ہے) ا سی وجہ سے اس کا نام ـ”کورونا وائرس”رکھا گیا۔کورونا وائرس ایک بہت پرانا وائرس ہے جو 1930 میں مرغیوں میں دریافت ہوا، اور پھر 1940 میں چوہوں میں دریافت ہوا۔ انسانوں میں کورونا وائرس سب سے پہلے 1960 کی دہائی میں دریافت ہوا،یہ سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہوکر داخل ہوا تھا۔ اس وقت اس وائرس کو انسانی کورونا وائرس E229 اور OC42 کا نام دیا گیا تھا اس کے بعد اس وائرس کی دوسری قسمیں بھی دریافت ہوئیں۔
عالمی ادارہ صحت WHOکے ذریعہ نامزد کردہ nCov-2019 نامی کورونا وائرس کی ایک نئی وبا 31 دسمبر 2019 سے چین میں عام ہوئی جو آہستہ آہستہ وبائی شکل اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ 2019 میں دریافت ہونے والے کورونا وائرس کو SARS-CoV-2 یا COVID-19 کا نام دیا گیا، یہ وائرس اس لیے خطرناک ہے کہ یہ انسان سے انسان کے درمیان میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وسطی چین میں واقع ووہان کے چار باشندے 26دسمبر 2019 کوبخار، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف کی شکایت لے کر ڈاکٹر ژھینگ جکسیان کے پاس پہنچے، ڈاکٹر ژھینگ نے ان مریضوں میں ایک پر اسرار قسم کے نمونیہ کی دریافت کی، ان ہی دنوں ووہان سنٹرل ہاسپٹل کے ڈاکٹر لی وینلیانگ نے سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں کو ایک نئے وائرس سے خبردارکیا۔25 جنوری 2020 کو چین کے 13 شہروں میں ایمرجنسی لگادی گئی ہے جبکہ وائرس کی شناخت یوروپ سمیت کئی دوسرے ممالک میں بھی ہوچکی ہے۔
کورونا وائرس کی عمومی علامت بخار، تھکاوٹ اور خشک کھانسی ہیں۔ کورونا وائرس کی عام علامت میںنظام تنفس کے مسائل(کھانسی، سانس پھولنا،سانس لینے میں دشواری)، گلے میں سوزش، سر درد، ناک کی بندش، نزلہ، نظام انہضام کے مسائل (اسہال اور الٹی) اورجسمانی تھکاوٹ اس میںشامل ہیں۔ شدیدنمونیہ کی انفیکشن کے سانس کی تکلیف جو بعد میںموت کا سبب بن جاتی ہے۔عموماــاس وائرس کے اثرات معمولی اور خفیف ہوتے ہیں ، لیکن بعض اوقات کسی غیر معمولی صورت حال میں مہلک بھی ہوجاتے ہیں، عام سردی میں ہونے والے نزلہ کی طرح کورونا وائرس کے اثر کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کیونکہ وہ ناک وائرس ( عام سردی کا نزلہ) کے برعکس ہوتا ہے۔ اسی طرح لیبارٹری میں انسانی کورونا کی تحقیق و نشوونما بھی مشکل ہے۔ کورونا نمونیا، وائرس نمونیا یا تو براہ راست یا ثانوی جرثموی نمونیا کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ مرغیوں میں متعدی برونکائٹس وائرس (IBV) نہ صرف نظام تنفس میں اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ پیشاب کے راستہ کو بھی متاثر کرتے ہیں اور اس کا امکان رہتا ہے کہ یہ وائرس مرغی کے تمام اعضاء میں پھیل جائے۔ اس کے علاج یا روک تھام کے لیے اب تک کوئی تصدیق شدہ علاج یا دوا دریافت نہیں ہوسکی ہے۔
آج کورونا وائرس چین، امریکہ ، سعودی عرب، اٹلی، اسپئین،آسٹریلیا و جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک سے ہوتا ہوا بالآخر ہندوستان کے کئی ریاستوں کو متاثر کرچکا ہے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ چین میں یہ وبا ایسے وقت پھوٹی جب کہ کیلنڈر کے حساب سے چاند کی ابتدا ہورہی تھی اور چینی عقائد کے مطابق ان کے لیے یہ سال کا ایک اہم ترین وقت ہوتا ہے، جب دوسرے شہروں میں رہائش پذیر ملازمت کے لیے جانے والے افراد بڑی تعداد میں آبائی شہروں کی طرف سفر کرتے ہیں۔ لہٰذا خدشہ ہے کہ اس وبا کے پھیلائو میں مزید شدت آسکتی ہے۔ کورونا وائرس کا کیس رپورٹ درج ہونے کے بعد ملک بھر میں لاک ڈائون نافذ کردیا گیا ہے، سماجی رابطہ کے ذریعہ آسانی سے لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے، روک تھام کے لیے لاک ڈائون کردیا گیاہے،لوگوں کو گھروں تک محدود کردیا گیا ہے۔ اگر چہ یہ کسی سائنس فکشن فلم کی طرح لگتا ہے کہ لاکھوں، کروڑوں کی آبادی پر مشتمل پورے شہر بلاک کردیے جائیں اور لوگ اپنے گھروں میں مقید ہوکر رہ جائیں مگر درحقیقت چین کے علاقوں اووہان اور ہوبی میں کچھ ایسی صور تِ حال کا سامنا ہے ۔ دنیا بھر سے ماہرین اس صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور سائنسدانوں کے مطابق ہر ایک متاثر شخص ایک سے چار یا زیادہ گنجان آباد علاقوں میں دو سے پانچ افراد میں وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے لیکن یہ بھی محض اندازے ہیں، جن کے متعلق حتمی طور پر تب ہی کچھ کہا جاسکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ کون کس وقت کس علاقے میں اس وائرس کا شکار ہوا۔ اب تک دنیا بھر میں 210ممالک کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔ ہندوستان بھر میں تقریبا 9,635سے زائد لوگ اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں،بالخصوص صوبہ تملناڈو میں آج تک 1,173 سے زائد لوگ اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیںجن میں11 لوگ زندگی سے ہار بیٹھے۔اس وبا کو جہاں تک ممکن ہے روکنے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔جہاں کورونا وائرس کے متعلق اس حد تک ڈر اور خوف پھیلا دیا گیا وہیں طبّی ماہرین کے نزدیک یہ بات بھی حقیقت مانی جاسکتی ہے کہ کرونا وائرس اس حد تک جان لیوا نہیں ہے جیسا کہ افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ کورونا وائرس کا کوئی خاص تصدیق شدہ علاج یا دوا نہیں البتہ چنداحتیاطی تدابیر بتائی جاتی ہیں:
٭صابن یا سانیٹائزر سے بار بار ہاتھ دھوتے رہیں۔
٭گندے ہاتھوں سے ناک، آنکھ اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔
٭ایک دوسرے سے ہاتھ نہ ملائیں۔
٭متاثرہ افراد سے براہ راست اور ان کی استعمالی چیزوں سے دور رہیں۔
٭کمرے و مکان کے اندر سورج کی روشنی پہنچنے دیں۔
٭کھانستے یا چھینکتے وقت منہ کو رومال سے ڈھکیں۔
٭متوازن اور مقوی غذا، صاف اور گرم پانی کا استعمال کریں۔
٭اگر طبیعت خراب محسوس ہوتو گھر میں رہیں۔ اگر بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری ہوتو فوری طبی مدد حاصل کریں، طبی حکام کی ہدایت پر عمل کریں۔
ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے سفیرو کرم مصری نے بتایا کہ پندرہ ملین PPE اور تین ملین Covid-19 Test Kits ہندوستان کی سرکار نے چین سے خریدا ہے اور ہندوستان بھیVentilators, Anti Malaria drugs, Hydroxycloroquine اور کئی ادویات امریکہ، اسرائیل، افریقہ وغیرہ ممالک کو بھیج رہا ہے۔
ابھی ایسی کوئی دوا موجود نہیں ہے جو کورونا وائرس کے خلاف واضح طور پر موثر ثابت ہو، جیسے انفلوئنزا کے علاج کے لیے تامیفلو اور زوفلوزانامی ادویات ہیں۔ دوسرے ممالک کی طرح جاپان میں بھی ڈاکٹر علامت کے علاج پر توجہ مرکوز کررہے ہیں جیسے مریضوں کو آکسیجن کا سہارا دینا اور پانی کی کمی کے لیے IV ڈرپ لگانا۔ اگر چہ اس وائرس کو ختم کرنے کی کوئی موثر دوا ابھی تیار نہیں ہوئی ہے، جاپان اور پوری دنیا میں ڈاکٹروں نے دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے دستیاب ادویات کا استعمال کررہے ہیں کیونکہ وہ کورونا وائرس کے خلاف موثر ثابت ہونے کی امید رکھتے ہیں۔ جاپان کے National centre for global health and medicine کا کہنا ہے کہ اُس نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کو ایڈز کے اوائل میں استعمال ہونے والی ایک اینٹی وائرل دوا دی ہے۔ وہاں کے عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ مریض کا بخار کم ہوا اور تھکن اور سانس کی دقت بہتر ہوئی۔ مختلف ممالک میں موثر دوا بنانے پر تحقیق جاری ہے بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے امریکی مراکز کے محققین سمیت ایک گروپ نے اطلاع دی ہے کہ کورونا وائرس سے نمونیا میں مبتلا ایک شخص کو ایبولا کی ایک اینٹی وائرل دوا دی جارہی ہے۔ محققین نے یہ بتایا کہ اس شخص کی علامت دوا لینے کے ایک دن بعد ہی بہتر ہونا شروع ہوگئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے آکسیجن لگانے کی ضرورت نہ رہی اور اس کا بخار کم ہوگیا تھا ۔ تا ہم ، ان تمام واقعات میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ادویات کے محفوظ استعمال اور افادیت کا تعین کرنے کے لیے مزید طبی تحقیق ضروری ہے۔
ایویگان نامی دواجس کو فاویپیراویر بھی کہا جاتا ہے یہ نزلہ زکام کی دوا ہے جسے ایک جاپانی دوا ساز کمپنی نے چھ سال قبل تیار کیا تھا۔ لیبارٹری میں آزمائش کے دوران جانوروں پر مضر اثرات کی اطلاع ملی ہے، لہٰذا جاپانی حکومت نے حاملہ خواتین جیسے کچھ لوگوں پر اس کے استعمال کی منظوری نہیں دی۔ اب صرف حکومت کی طرف سے منظور شدہ کیسز میں ہی ایویگان کو نئے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو دیا جائے گا۔ ابھی تک ایسی کوئی اور معلوم دوا موجود نہیں ہے جو نئے کورونا وائرس کے مریضوں کا موثر طریقے سے علاج کر سکیں لیکن امید ہے کہ نئے کورونا وائرس کے خلاف ایویگان موثر ثابت ہونے کی امید ہے جو انفلوئنزاوائرس کی طرح بڑھتا ہے۔ دنیا کے بہت سارے حصوں میں اس دوا کے تاثرات کے بارے میں تحقیق کی جارہی ہے۔ چین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نتائج نے اسے نئے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے عکاج کے لیے ایویگان کو باضابطہ طور پر ایک دوا کے طور پر شامل کرنے کی طرف راغب کیا ہے۔ جاپان میں مارچ کے مہینے سے آئیچی پریفیکچر کے فوجیتا ہیلتھ یونیورسٹی ہسپتال جیسے اداروں میں ہلکی علامت یا علامت سے پاک اسّی مریضوں پر طبی تحقیق جاری ہے۔ محققین موازنہ کررہے ہیں کہ دوائی وائرس کے حجم کو کتنا کم کرسکتی ہے۔ ایویگان تیار کرنے والی جاپانی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سرکاری منظوری حاصل کرنے کے لیے کلینیکل ٹرائلز شروع کردیے ہیں۔ اگر دوا کی تاثیر اور حفاظت کی تصدیق ہوگئی تو کمپنی حکومت کو منظوری کے لیے درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
٭٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook