Home / خبریں / گلزار دہلوی، شاہد علی خان اور وقار مانوی کی خدمات کے اعتراف میں جلسہ

گلزار دہلوی، شاہد علی خان اور وقار مانوی کی خدمات کے اعتراف میں جلسہ

1931925_10207827724164897_25973015_n

نئی دہلی ،غالب اکیڈمی بستی حضرت نظام الدین، نئی دہلی میں دہلی کی تین شخصیات پنڈت آنند موہن زتشی گلزار دہلوی،مکتبہ جامعہ سابق سرگرم کارکن شاہد علی خان اورمعروف شاعر وقار مانوی کی خدمات کے اعتراف میں ایک جلسے کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کے آغاز میںافتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹرعقیل احمد نے کہا کہ غالب اکیڈمی کی۴۷؍سالہ تاریخ میں آج پہلا موقع ہے جب ہم اکیڈمی کی طرف سے اپنے بزرگوں کی خدمات کے اعتراف میں جلسہ کر رہے ہیں۔ غالب اکیڈمی کی منتظمہ کمیٹی نے یہ فیصلہ لیا کہ دہلی کے ان حضرات کی خدمات کے اعتراف میں اکیڈمی کو جلسے کرنا چا ہیے جو اردو کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔ اس لیے آج تین شخصیات جناب گلزار دہلوی،جناب شاہد علی خاں اور جناب وقار مانوی کی خدمات کے اعتراف میں جلسہ ہو رہا ہے۔ تینوں حضرات نے اپنے اپنے میدان میں اردو کی بے لوث خدمت کی ہے۔
اس موقع پر غالب اکیڈمی کے صدر اورمعروف نقادپروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ گلزار دہلوی ایک معروف علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے پنڈت برج موہن دتاریہ کیفی اور نواب سراج الدین احمد سائل دہلوی سے مشورۂ سخن کیا ۔انھوں نے دلی اسکول کی روایت کو زندہ رکھا بلکہ اسے نئی منزلوں سے بھی روشناس کرایا۔ انھوں نے مشرق و مغرب کے متعدد ملکوں میں اردو شعرو ادب کا نام روشن کیا۔جنا ب شاہد علی خاں کے بارے میں پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ شاہد علی خاں صاحب نے مکتبہ جامعہ ممبئی میں اپنی ملازمت کے دوران اسے ادیبوں و شاعروں کا مرکز بنا دیا اور دہلی آئے تو مکتبہ جامعہ کو اردو کا سب سے بڑا اشاعت گھر اور ادبی مرکز بنادیا، بے شمار علمی و ادبی کتابیں شائع کیں ۔وقار مانوی کے بارے میں پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ وقار مانوی ایک انفرادی حیثیت کے مالک ہیں۔ انھوں نے دہلی کے ادبی و شعری ماحول پر گہری چھاپ چھوڑی ہے اور اپنے شاگردوں کے ساتھ شہر دہلی کی شعری روایت کو آگے بڑھایا ہے۔اس موقع پر پروفیسر شمیم حنفی صاحب نے تینوں حضرات کو غالب اکیڈمی کی طرف سے ایک شال،میمنٹو اور ایک حقیر نذرانہ پیش کیا۔ اس موقع پر پروفیسر خالد محمود اور وہاج الدین علوی صاحب نے اظہار خیال کیا۔آخر میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔جس میں اسرار جامعی ۔ظفر مراد آبادی۔ گلزار دہلوی، وقار مانوی،حبیب سیفی،ڈاکٹر آر جی کنول۔ ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی،متین امروہوی، اسرار احمد رازی، سرفراز فرازؔ ،علی اصغر ادریسی اور ذہینہ صدیقی وغیرہ نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
12834828_10207827769246024_1406167136_n
10399677_10207828769791037_5882867837696156583_n

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook