Home / خبریں / گوالیار میں پروفیسر آفاق احمدکی یاد میں ادبی و تعزیتی نشست

گوالیار میں پروفیسر آفاق احمدکی یاد میں ادبی و تعزیتی نشست

P1050359A

گوالیار(اسٹاف رپورٹر),گوالیار،۲۴؍اپریل ۲۰۱۶؁ء بروزاتوار۱۰؍بجے دن میںانجمن ترقی اردو(ہند)شاخ گوالیارکی جانب سے جیواجی یونیورسٹی کیمپس میں پروفیسر آفاق احمدکی یاد میں ایک ادبی ، تعزیتی وشعری نشست کا انعقاد کیا گیا ،جس کی صدارت پروفیسر وی۔پی۔سکسینا(سابق وائس چانسلر،جیواجی یونیورسٹی ۔گوالیار)نے کی۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر وسیم افتخارانصاری(صدرشعبۂ اردو،گورنمنٹ کملا راجا گرلز پی۔جی۔آٹونامس کالج، گوالیار) نے انجام دیئے۔تمہیدی کلمات اور تعارفی گفتگوکرتے ہوئے کہا’’آفاق صاحب نہ صرف بھوپال بلکہ صوبہ مدھیہ پردیش کے وقاروافتخار تھے۔گل و گلزار،باغ و بہارشخصیت کے مالک تھے۔تحریری،تقریری،تخلیقی،تحقیقی،تنقیدی،شعری،لسانی،سماجی،فلاحی کاموں میںاُن کی زندگی گزری،اُن کادلکش انداز گفتگو ،نرم اور شگفتہ لہجہ تحریر و تقریرمیں سحرالبیانی کی مثال تھا۔اندور سے گوالیارہوئے تبادلے پر خاک سار کو حکم دیا تھا کہ’ گوالیار میںڈگرسے ہٹ کر کچھ نیا کیجیئے‘جس کی تعمیل میں ایم۔اے۔کی طالبات سے شخصیات پر مقالے قلم بند کرانے کی روایت ڈال دی گئی ہے۔۔۔خاص طور پر اقبالیات کے سلسلے میں مدھیہ پردیش سے عبدالقوی دسنوی کے ساتھ موصوف کو بھی ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا‘‘
گوالیار کے مشہورومعروف ترقی پسند شاعرو نثرنگار،محقق و ناقد جناب وقار صدیقی صاحب(سکریٹری انجمن ترقی اردو،سابق پرنسپل گورنمنٹ اسکول،گوالیار) نے فرمایا’’موصوف اردو کے فروغ کے لئے ہمیشہ فکرمند رہتے تھے۔ ۱۹۶۵؁ء میں بھوپال منعقدہ اردوکانفرنس میں مجھے انجمن ترقی اردو کے صوبائی جنرل سکریٹری کی ذمے داری سونپی اور گوالیار میں اردو کے فروغ کے لئے حکم دیا ،تب سے آج تک میرے موصوف سے تعلقات برقرار رہے‘‘
نشست کے صدر پروفیسر وی۔پی۔سکسینانے بتایاکہ’’آفاق صاحب کے انتقال سے میرے لئے بھوپال خالی ہوگیا،اب ہمارافرض ہے کہ آفاق صاحب کی خواہش کے مطابق گوالیار میں اردو کے فروغ اور ترقی کے لئے ہم سب مل کر کوششیں کریں‘‘
اس موقع پر سہیل قریشی(سابق پرنسپل گورنمنٹ اسکول،گوالیار)ڈاکٹر اے۔جے۔قریشی(سابق صدر شعبۂ ملٹری سائنس،مہاراجا مان سنگھ کالج،گوالیار)مشہور شاعر عامر فاروقی،ناظم صدیقی،کامریڈشیخ غنی وغیرہ نے بھی خراج عقیدت پیش کی۔اس موقع پر تعزیتی نشست کا اہتمام بھی کیا گیا،جس میں محترمہ رشمی صباؔ نے اس طرح خراج عقیدت پیش کی ؎

درد بے تاب ہے الفاظ میں ڈھلنے کے لئے
راستہ چاہئے سب کو ہی نکلنے کے لئے
ڈاکٹر وجے کلیم ؔ نے بہترین خراج عقیدت پیش کی ؎
تھے منار روشنی آفاق تم
تھے ادب کی زندگی آفاق تم
خادم اردو زباں ہی تم رہے
بن گئے پر اک صدی آفاق تم
پروفیسر وی۔پی۔سکسینا نے ؎
مسکراہٹ یوں بچھی تھی آشیانے میں
خاک میں آفاق کی ہوگی ہنسی اے دوست!
آخر میں جناب سہیل قریشی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔دعائے مغفرت کے ساتھ نشست کا اختتام کیا گیا۔
P1050349A

P1050362A

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook