Home / خبریں / ہفت روزہ اخبار کی حیثیت ایک دستاوزیر کی ہوتی ہے جس کی ضرورت تھی :خواجہ اکرام الدین

ہفت روزہ اخبار کی حیثیت ایک دستاوزیر کی ہوتی ہے جس کی ضرورت تھی :خواجہ اکرام الدین

بصیرت ٹیم کے حوصلے بلند ہیں۔ یہ اخبار ملی مسائل کے حل میں نمایاں کردار ادا کرے گا:ایس ایم خان
اردو مدارس سے زندہ ہے، یہ اسلام کے ساتھ اردو کے بھی قلعہ ہیں :قاسم سید
قومی بصیرت کے رسم اجرا کی تقریب اختتام پذیر : شرکاء نے پیش کی نیک خواہشات
Baseerat Ijra
کیپشن: غالب اکیڈمی نئی دہلی میں ہفت روزہ قومی بصیرت کا اجراء کرتے ہوئے دائیں سے مولانا ساجد ،ڈاکٹر عقیل ، ایس ایم خان صاحب ، خواجہ اکرام الدین صاحب ، صہیب الظفر ، غفران ساجد قاسمی ، حاجی میاں فیاض الدین ،قاسم سید ،تعظیم عباس ،شمس تبریز قاسمی ۔

نئی دہلی۲۲؍ مارچ: سائبر میڈیا میں بصیرت آن لائن کے نام سے تہلکہ مچانے والی بصیرت ٹیم نے اب پرنٹ میڈیا میں بھی قدم رکھ دیا ہے ۔ گذشتہ کل بصیرت آن لائن کی ٹیم نے صحافت کی دنیامیں قدم بڑھاتے ہوئے ایک ہفت روزہ اخبار کا بھی آغاز کردیا ہے جس کا رسم اجراء کل غالب اکیڈمی دہلی میں قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ اکرام الدین صاحب ، وزارات اطلاعات و نشریات کے ڈائیرکٹر جنرل ایس ایم خان صاحب ، روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر قاسم سید صاحب ،مشہور سماجی کارکن حاجی میاں فیاض الدین صاحب اور دیگر شرکاء کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین صاحب نے کہاکہ آج کی صحافت تین حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے ایک حصہ سچ پر مبنی ہے دوسر احصہ نیم سچ پر او ر تیسر ا حصہ جھوٹ پر ۔انہوں نے کہاکہ جھوٹ اور آمیز ش سے کام انہیں خبروں میں لیاجاتا ہے جس کا تعلق ملی مسائل اور عوامی زندگی سے ہوتا ہے ۔ مثال دے کرکہاکہ کرکٹ کی خبریں جوں کی توں پیش کی جاتی ہے کہ کون کتنے رنوں سے ہارااور جیتا اس میں کسی طرح کمی بیشی نہیں ہوتی ہے جب کہ اس کا عوام سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیکن جن خبروں کا تعلق ہمارے مسائل سے ہیں وہاں خردبرد سے کام لیا جاتا ہے ۔ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے اور بناکر کچھ اورپیش کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر پروگرام کے کنوینر مولانا غفران ساجد قاسمی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس دور میں اخبار نکالنے کا فیصلہ کرنا اور وہ بھی ہفت روزہ اخباربڑی جرات کا کام ہے جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس وقت روزنامہ کی کمی نہیں ہے لیکن ہفت روزہ کی کمی تھی ۔ ہفت روزہ کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کی اس کی حیثیت ایک دستاویز کی ہوتی ہے ۔قارئین اسے سند کے طور پر رکھتے ہیں ۔ ایس ایم خان صاحب نے کہاکہ ہندوستان میں اردو کے امکانات روشن ہیں ۔ ایک لاکھ سے زائد اردو کے اخبارات رجسٹرڈ ہیں اور یہ تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بصیرت سے وابستہ لوگوں کے حوصلے بلنداور جوان ہیں ۔ ان کے اندر کام کرنے کا جذبہ ہے اور ان سے امیدوابستہ ہے کہ قومی بصیرت ایک بابصیرت اخبار ثابت ہوگا اور ملی مسائل کو حل کرنے میں نمایاں کردار ادکرے گا۔ انہوں نے اس موقع پر سامعین کوخاص طور پر کہ آپ اردو کا ایک اخبار ضرور خرید کر پڑھیں اس سے اردو اخبارات کا سرکولیشن بھی بڑھے گا۔ اردو والوں کا بھی فائد ہ ہوگا اور آپ کے گھر میں بھی اردو کا چلن ہوگا ۔ مشہور صحافی جناب قاسم سید صاحب نے کہاکہ پروگرام کے کنوینراس بات کے لئے سب سے زیادہ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے کسی سیاسی شخصیت کو یہاں مدعونہیں کیا ہے ورنہ آج کل صحافت کا تصور سیاست کے بغیر ناممکن ہوچکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے مدارس کو اسلام کا قلعہ کہا تھا لیکن آج یہ مدراس اردو کے بھی قلعہ ہیں انہیں مدارس کی وجہ سے اردو زندہ ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ آج بھی اچھے اخبار ات کی قارئین کو ضرورت ہے اگر بہتر چیزیں آئیں گی تو یقینی طور پر قارئین اسے پسند کریں گے۔ حاجی میاں فیاض الدین صاحب نے کہاکہ اردو کا ہر اخبار اردو کے فروغ کا ذریعہ ہے ۔ امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ قومی بصیرت سے صحافت اور اردو دونوں کو ترقی ملے گی اور یہ اخبار ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔ پروگرام کے کنوینرمولانا غفران ساجد قاسمی اپنے خطبہ استقبالیہ کے دوران کہاکہ سائبر میڈیا میں بے پنا ہ کامیابی ملنے اور قارئین کے مسلسل اصرار کے بعد ہمیں پرنٹ میڈیا میں قدم رکھنے کی توفیق ملی ہے ۔ قومی بصیرت نکالنے کا مقصد اخبارات کی بھیڑ میں ایک اضافہ مقصود نہیں ہے اور نہ ہی تجارت بلکہ اسلامی صحافت کا فروغ اور مبنی بر حقائق خبروں کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے ۔ روزنامہ کے بجائے ہفت روزہ کو ترجیح دینے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ روزنامہ کے اخراجات زائد ہیں ساتھ ہی روزنامہ اخبارات کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس کی ضرور ت نہیں ہے جبکہ ہفت روزہ کا میدان خالی تھا۔ اس لئے ہم ہفت روزہ نکالنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جس طرح بصیرت آن لائن کو لوگ دل وجان سے چاہتے ہیں ۔ دنیا کے ستر سے زائد ممالک میں اس کے قارئین پائے جاتے ہیں اسی طرح قومی بصیرت کو بھی مقبولیت ملے گی اور ہمیں ہرخاص وعام کا مکمل تعاون ملے گا ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہم صحافتی اصولوں کا مکمل پاس ولحاظ رکھیں گے ۔اور اسلامی صحافت کو فروغ دینے میں کسی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں کے۔ اس موقع پر مولانا اختر الاسلام ندوی صاحب صہیب الظفرقاسمی ، تعظیم عباس نے بھی اپنے خیالات کااظہا رکیا۔ قبل ازیں مولانا شمیم اختر عادل قاسمی استاد مدرسہ شمس العلوم شاہدرہ کی تلاوت سے مجلس کا آغاز ہوا جب کہ محمد عرفان نے نعتیہ کلام پیش کیا ۔ نظامت کے فریضہ شمس تبریز قاسمی اور یوسف رامپوری نے مشترکہ طو رپر انجام دیا ۔ مولانا فیروز اختر قاسمی کی دعاء پر مجلس اختتام پذیر ہوئی ۔ اخیر میں شمس تبریز قاسمی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook