Home / خبریں / آزادی کے بعد پہلی نسائی ادبی تنظیم’’بنات‘‘ کا قیام

آزادی کے بعد پہلی نسائی ادبی تنظیم’’بنات‘‘ کا قیام

دوسروں پر انحصار کرنے کے رویہ نے ہمیں سب سے زیادہ نقصان پہنچایا: -صدر بنات – نگار عظیم

22904825_10210737372010008_5788826451444916535_o

نئی دہلی(اسٹاف رپورٹر)تقریباً ڈیڑھ سوارکان پرمشتمل حال میں وجودمیں آئی بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم بناتادیباؤں اور اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ اردوکی اسکالرز نے شرکت کی۔مدوعین نے تنظیم کی تشکیل اور اسکے اغراض و مقاصد پر تفصیلی بحث کی اور باہم اتحاد سے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنات (BANAT)یعنی بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم ، خواتین قلمکاروں کے ذریعے خواتین قلمکاروں کے لئے خواتین قلمکاروں کا پلیٹ فارم ہے جو عالمی سطح پر اردو کی خواتین قلمکاروں کے درمیان ‘ بہناپا ‘فروغ دینے کے لئے قائم کیا گیاہے۔ اردو زبان و ادب کے فروغ میں خواتین قلمکاروں کی خدمات کا اعتراف ، نسائی فکر کی تلاش اور اسکی ترویج واشاعت اس تنظیم کا نصب العین ہے۔اردو ادب میں استری ومرش یاسسٹر ہوڈ ‘ جیسی کسی تحریک کا فقدان اس نسائی ادبی تنظیم کی تشکیل کا محرک ہے۔ سنجیدہ اور صحت مند ادب کی تعمیر،ادب برائے ادب،ادب برائے سماجی ارتقا،ادب برائے امن و آشتی،ادب برائے انسانیت ،ادب برائے باہمی اتفاق اور ادب برائے قومی خیر سگالی کو فروغ دینا اس تنظیم کے اغراض و مقاصد ہیں جسکے حصول کے لئے تنظیم مستقبل میں اپنا مکمل لائحہ عمل تیار کریگی۔
اس موقع پر بولتے ہوئے بنات کی صدر مشہور افسانہ نگار محترمہ نگار عظیم نے کہا کہ در اصل بنات کی بنیاد عظیم آباد میں رکھی گئی تھی۔پٹنہ میں نسائی ادب پر دو سیمینار ہوئے 2017 میں ہونے والے، بہار اردو اکادمی کے سیمینار میں خواتین کے اندر اتنا جوش بھرا تھا کہ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ ملاقات کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے ۔ہم نے ایک دوسرے سے باتیں کیں اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سب اس بات سے متفق تھے کہ ہماری ایک تنظیم ہونی چاہئے ۔تنظیم کے اغراض ق مقاصد طے ہوئے ۔اس بات پر سب متفق تھے کہ دوسروں پر انحصار کرنے کے روہے نے ہمیں بہت نقصان پہچایا ۔ہمیں خوشی ہے کہ صرف ہندوستان نہیں بلکہ بیرون ملک بھی ہماری آواز کا خیر مقدم کیا گیا ۔سب سے پہلے ہندوستان میں ہم اپنی جڑوں کو مضبوط کرینگے ۔پھر بر صغیر اور باہر کا رخ کرینگے ۔
نگار عظیم نے آگے کہا کہ ترقی پسند تحریک میں شامل ہونے والی وہ اس دور کی آی ممبر تھیں ۔اس موقع پر انہوں نے اعتراف کیا کہ مشہور و معروف ادیب دانشور مرحوم قمر رئیس سے انھوں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور زندگی کے تجربوں نے اس تنظیم کی تشکیل کا حوصلہ دیا ۔اس کی للک ہر ادیبہ کے دل میں تھی ،جونہی پکارا تو صدا ئیں بلند ہوئیں لبیک۔۔۔۔لبیک۔کسی بھی تنظیم کو رواں دواں رکھنے کے لئے فنڈ کی ضرورت ہوتی ہی ہے ۔اسلئے گزارش ہے بناتی بہنوں سے ادب کی زکوۃ نکالئے۔
مشور افسانہ نگار افشاں ملک نے کہا کہ ہمیں کسی سے کوئی شکایت نہیں .ہمارے بارے میں نہیں سوچا گیا تو اس میں کہیں نہ کہیں ہماری بھی غلطی یا کمیاں تھیں ۔لیکن اب ایسا نہیں ہوگا ۔بنات کا پلیٹ فارم ہم سب کے لئے ایک انقلاب ثابت ہوگا ۔آزادی کے بعد تحریکیں تو بہت شروع ہوئیں لیکن یہ پہلی نسایی انجمن یا تنظیم ہے جہاں ہم مکمل آزادی کی فضا میں اپنے دل کی بات رکھ سکیں گے ۔بنات میں کویی چھوٹا بڑا نہیں ،یہ ایک تحریک ہے جس کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی ۔
مشہور افسانہ نگار اور بنات کی جنرل سیکرٹری تسنیم کوثر نے کہاکہ خواتین ادیبوں کی بڑی تعداد ہمارے درمیان موجود ہے ۔لیکن آزادی کے بعد سے اب تک ہمارے بارے میں کبھی سنجیدہ رویہ قایم نہیں کیا گیا ۔شاعری سے افسانے اور تنقید تک ہمارا بول بالا رہا لیکن ہمیں زیادہ تر حاشیہ پر رکھا گیا ۔ہمیں گزرے ہوئے وقت سے نصیحت اور سبق لینے کی ضرورت ہے۔اردو کو مسلمانوں کی زبان کہہ کر اردو کو مائنارٹی کا درجہ دے دیا گیا اور ہم اپنی سوچ فکر کو اپنے ہموطنوں سے ہم آہنگ کرنے سے قاصر رہے جس نے کثرت میں وحدت کا پیغام دینے والے ہندوستان جنت نشان میں اپنے ہی سماج میں کھائی پیدا کردی اورجسکا خمیازہ آنے والی نسل کو بھگتنا پڑے گا اور دنیا بھر میں مائنارٹی کا جو حال ہے اسمیں سب سے ذیادہ خواتیں متاثر ہوتی ہیں، اسلئے وقت کا تقاضہ ہے کہ وہ خود متحد ہوں اور مثبت رول نبھائیں۔
مشہور افسانہ نگار اور نقاد ثروت خان نے بنات کو موجودہ نظام کے خلاف ایک بڑا چیلنج بتایا ۔ثروت خان نے امید ظاہر کی کہ بنات کی تحریک سے ادب میں ایک بڑا بدلاؤ آئے گا تنقید کا موجودہ پیمانہ ڈھیر ہوگا ۔اب تک کی روایت میں ادب کا مورچہ مردوں کے پاس تھا۔مختلف اصناف سخن میں ہمارے پاس ایک سے ایک قیمتی جواہر موجود ہیں۔بنات کی تحریک ایک انقلاب کا پیش خیمہ ہے کہ ہمیں دوسروں کی ہمدردی نہیں چاہئے ۔ثروت نے کہا کہ اس وقت ادب میں جو صورت حال ہے ،وہاں ہماری موجودگی ضروری ہے اور صرف ضروری نہیں بلکہ ہمیں ہر قدم پراپنے آپ کو ثابت کرنا ہے ۔
صحافی اور افسانہ نگار تبسّم فاطمہ نے کہا کہ عورتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا کام پہلی بار ہو رہا ہے ۔ہم اس کے لئے جو اغراض و مقاصد تیار کریں ،وہ پوری طرح سوچ سمجھ کر کریں .پہلا سوال تو یہی اٹھتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم کیوں ؟اسکے جواب موجود ہیں۔عورت تخلیق کاروں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ۔ساہتیہ اکادمی نے 1900 سے اب تک صرف قرت العین حیدر کو انعام دیا،جبکہ عصمت چغتایی ،آمنہ ابو الحسن ،جیلانی بانو جیسے بہت سے نام تھے ،جنہیں انعام سے نوازا جا سکتا تھا ،یعنی ستر برس میں صرف ایک نام ۔۔۔ہم اس فورم کو ہی دیکھیں تو یہاں ہر صنف میں ایک سے بڑھ کر ایک لکھنے والی موجود ہیں ۔
بنات کی نایب صدر مشہور شاعرہ عذرا نقوی نے اس موقع پر اپنی نظم پیش کی .عذرا نقوی نے اپنی نظامت سے لوگوں کا دل جیت لیا ۔عذرا نقوی کے مطابق ،اکیسویں صدی میں قدم رکھنے کے باوجود ہم ایک ایسے نظام کا حصّہ ہیں ،جہاں آج بھی تفریق کی دھند باقی ہے۔بنات کی بنیاد دلوں میں تو بہت پہلے پڑ چکی تھی لیکن عمل اب جا کر ہو رہا ہے .یہ وقت کی ضرورت بھی ہے .خوشی اس بات کی ہے کہ ہماری تحریک کو مرد عورت سب نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ہمیں ماضی کو یاد نہیں رکھنا ہے ۔حال اور مستقبل پر نگاہیں مرکوز کرنی ہیں .
بنات کی سر پرست بلقیس ظفیر الحسن نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مددت سے بنات جیسی تنظیم کی ضرورت محسوس کر رہی تھیں .بنات کے قیام سے یقین ہے کہ پرانے بت ٹوٹینگے اور نیے بت تعمیر ہونگے .انہوں نے ایک شعر سنا کر اپنے دل کی بات کہی
جینا ہے خوب اوروں کی خاطر جیا کرو
ایک آدھ سانس خود بھی مگر لے لیا کرو
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اردوکی پوسٹ ڈاکٹورل فیلوڈاکٹرشاداب تبسم نے بنات کے قیام کوخواتین کے امپاورمنٹ کی جدوجہدمیں ایک واقعہ بتایااورتوقع کی کہ اس سے باصلاحیت خواتین تصنیف، تالیف اورشعروادب کی دنیامیں ابھرکرسامنے آئیں گی۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ آج 31اکتوبرکواپنے یوم وفات کے موقع پرہندوستان کی واحدخاتون وزیراعظم اندراگاندھی یادآتی ہیں جوکہ اردوکے تئیں خاص محبت رکھتی تھیں۔
قلم کاراوردانشورڈاکٹرصبیحہ ناہیدنے جیسے ہی کہاکہ ’میں ہاؤس وائیف کے عہدہ پرفائزہوں‘توپوری محفل قہقہوں میں گونج گئی اورشرکاء لطف اندوزہوئے۔انہوں نے کہاکہ بنات کے کارواں میں شامل ہوکراچھالگا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ جہاں چاربرتن ہوتے ہیں وہاں کچھ کھنک توہوتی ہی ہے۔لہٰذااس سے مایوس نہیں ہوناچاہئے۔انشاء اللہ یہ کارواں آگے بڑھے گا اورترقی کرے گا۔
اس موقع پر موجود تمام خواتین نے گفتگو میں حصّہ لیا ۔ذکیہ مشہدی نے پٹنہ سے تہنیت کا پیغام بھیجا ۔انجم قدوائی نے بنات کے فروغ پر زور دیا۔سیما صغیر ، قمر قدیر ارم ،نعیمہ جعفری پاشا ، ثریا جبیں ، شازیہ عمیر ،غزالہ قمر اعجاز ،نرگس سلطانہ مینا نقوی ، ترنم جہاں شبنم ،رضیہ حیدر خان ،آصف اظہار ، صبیحہ سنبل ،چشمہ فاروقی نے اپنے خیالات رکھے ۔سفینہ ،افسانہ حیات نے ادبی مسائل پر گفتگو کی .اس موقع پر منتخب کابینہ کا اعلان کیا گیا۔
سرپرست
بلقیس ظفیرالحسن،رفیعہ شبنم عابدی،شہناز کنول غازی،ذکیہ مشہدی،صبیحہ انور،بانو سرتاج،رضیہ حامد ، انور نزہت ،سیدہ شان معراج ،قمر جمالی،قمر جہاں،شائستہ یوسف ،حلیمہ فردوس ،رخسانہ جبیں۔
صدر: نگار عظیم۔نائب صد:ر عذرا نقوی۔خازن:ثروت خان۔جنرل سکریٹری:تسنیم کوثر۔ سکریٹری :تبسم فاطمہ۔سکریٹری: نسترن فتیحی
مرکزی کابینہ
غزال ضیغم، قمر قدیر ارم، عشرت ناہید،نصرت شمسی،انجم قدوائی(اتر پردیش)کہکشاں تبسم، ثریا جبیں ، شائستہ انجم نوری ، رضوانہ پروین ،افسانہ خاتون(بہار) افشاں ملک (اتراکھنڈ)روبینہ شبنم ،رینو بہل (پنجاب) ملکہ نسیم، تسنیم خانم، حسن آرا (راجستھان) نصرت مہدی (مدھیہ پردیش) شبنم عیشائی،سیدہ نکہت فارق (کشمیر ) مہر افروز ,فریدہ رحمت اللہ (کرناٹک) آمنہ تحسین (تلنگانہ)شبینہ فرشوری (آندھر پردیش)صادقہ نواب سحر ، ہاجرہ بانو (مہاراشٹر) امیرالنساء (تامل ناڈو) شمع افروز زیدی،نعیمہ جعفری پاشا،نور  ظہیر،شبانہ نذیر،عفت زریں،غزالہ قمر اعجاز ،وسیم راشد۔سفینہ (دہلی)،رضیہ حیدر خان، ترنم جہاں شبنم،
23031183_1935978970059809_5115988046505211324_n

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook