Home / خبریں / یونین پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کامیاب شیخ انصار سے عبدالواحاب حبیب کی تفصیلی گفتگو

یونین پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کامیاب شیخ انصار سے عبدالواحاب حبیب کی تفصیلی گفتگو

طلباء سول سروسیز میں کرئیر بنائیں،ملک و قوم کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں

DSCN0085
٭عبدالوہاب حبیب
ملک میں انتظامی امور کو سنبھالنے انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروسیس (آئی اے ایس)عہدہ سب سے باوقار مانا جاتا ہے۔یونین پبلک سروسیس کمیشن کے امسال نتائج میں جالنہ کے انتہائی چھوٹے قصبہ سیل گائوں کے اس سال کے سب سے کم عمر یعنی21سالہ نوجوان شیخ انصار نے ہندوستان کے اس سب سے بڑے و انتہائی مشکل امتحان میں کامیابی حاصل کی ۔عوامی استقبال کے ضمن میں دورہ اورنگ آباد کے موقع پر مراٹھواڑہ کے طلباء خصوصاً اردو داں طبقہ کیلئے عبدالوہاب حبیب کے ذریعہ شیخ انصار(آئی اے ایس) سے لیا گیا انٹرویو نظر قارئین ہے۔

سوال: آپ کی بنیادی تعلیم و تربیت کہاں ہوئی؟فیملی میں تعلیمی نظام کیسا تھا؟
شیخ انصار: جالنہ کے چھوٹے دیہات سیل گائوں سے میرا تعلق ہے۔میری ابتدائی دسویں تک تعلیم ضلع پریشد مراٹھی میڈیم سے ہوئی۔پرائمری ایجوکیشن میں بہترین نمبرات حاصل کرنے پر چند احباب و اساتذہ نے والد کو گیارہویں میں داخلہ کا مشورہ دیا۔باروالے کالج ،جالنہ سے ہائیر سیکنڈری کیا۔پھر گریجویشن کیلئے فرگیوسن کالج،پونہ میں داخلہ لے کر تعلیم حاصل کی اسی کے ساتھ ساتھ یو پی ایس سی کی بھی تیاری شروع کردی۔چونکہ سول سروسیس کی تیاری کیلئے دسویں بارہویں کے فوری بعد ذہن سازی ہونی چاہیے اسلیے جلد ی سے اسی کی تیاری میں خود کو وقف کردیا۔انتہائی پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے کے باعث گھر میں تعلیمی نظام نہیں تھا۔میں جب چوتھی جماعت میں تھا تب والد صاحب نے کسی کے مشورہ سے میری پڑھائی بند کرکے ٹی سی حاصل کرنے گئے ،کہ اب کچھ کما لوں گا لیکن اس وقت کلاس ٹیچر نے مزید پڑھانے کی تلقین کی جسے قبول کرتے ہوئے مجھے مزید پڑھائی کرنے کا موقع فراہم ہو گیا۔
سوال:ضلع پریشد اسکول سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود تعلیمی معیار اتنا بلند کیسے ہوا؟
شیخ انصار: بد قسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام اتنا موثر نہیں لیکن طلباء اپنی محنت سے ہر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔مجھے بھلے ہی سائنس و ریاضی سے دلچسپی نہیں تھی اسی لیے میں نے آرٹس شعبہ میں گریجویشن کیا لیکن معیاری کتابیں پڑھتا رہا۔ابتدائی تعلیم بہترین ہونی چاہیے تاہم گھر پر طلباء کو پڑھنے کی عادت ہونا ضروری ہے جسے ہمارا مسلم سماج کہیں نہ کہیں عام طور پر نظر انداز کرتا ہے۔سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو گھروں میں بھی نصاب کے پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
سوال:ہمارے پاس اکثر ترک تعلیم کیلے غریب ہونے کے دوش دیا جاتا ہے ،آپ کو کس طرح کے مسائل درپیش آئے؟
شیخ انصار: میری پیدائش جھوپڑ پٹی علاقہ میں ہوئی،والد رکشہ ڈرائیور تھے،والدہ کھیت میں مزدوری کرتی تھی،غریبی کی انتہا یہ کہ آج بھی کرایہ کا مکان ہے ،بہن کی شادی کیلئے ساہوکار سے قرض لیا ہوا تھا۔گھر میںکبھی کبھی ایک وقت کا کھانا نہیں ملتا تھا۔پرائمری تعلیم کے دوران کپڑے پھٹے ہونے کے سبب میں اسکول کی نظم کے وقت دیری سے جاتا تاکہ کوئی مجھے دیکھ نہ لے۔اسکول میں کھچڑی کھا کر گذارہ ہوتا تھا۔بعد میں کچھ وقت گائوں ہی کی ہوٹل میں کام بھی کیا۔پونہ میں پڑھائی کے دوران کتابیں خریدنے 16ہزار روپئے نہیں تھے تو 8 کلو میٹر دور سائیکل پر جا کر ملازمت کی پیسے جمع ہونے پر کتابیں خریدی،میرا چھوٹا بھائی ماہانہ 6ہزار روپئے کماتا اور میرے اکائونٹ میں ڈالتا اس لحاظ سے وہ میرا بڑا بھائی ہوا جس نے میری مدد کی۔پرائمری اسکول میں تقریری مقابلوں میں انعامات ملتے تو اس سے جیب خرچ نکل جاتا۔پونہ میں تعلیم حاصل کرنے معاشی رکاوٹیں ضـرور آئیں لیکن مقصد کا احساس نے کمتر ہونے نہیں دیا۔پانچ روپیوں کا پین خریدنے ڈرتا تھا ۔آج بھی والد رکشہ چلاتے ہیںلیکن جہاں چاہ وہاں راہ۔تعلیم حاصل کرنی ہے تو مختلف وسائل موجود ہے بس طلباء کو حوصلہ رکھنا چاہیے۔
سوال:سول سروسیز کی تیاری کب اور کس طرح کی جائے؟
شیخ انصار: دسویں،بارہویں کے فوری بعد ذہن سازی ہو توبہتر ہے۔گریجویشن کی تیاری کے ساتھ ساتھ سول سروسیز کی تیاری کریں ،جتنے جلد مقصد طئے ہوگا ،محنت اتنے ہی جلدی شروع ہو گی۔سول سروسیز کیلے انتہائی محنت درکار ہوتی ہے۔روازانہ دس تا بارہ گھنٹے پڑھائی پوری مرکوزیت کے ساتھ کرنی ہوتی ہے۔مضامین پر عبوریت ضروری ہے۔میں دو بار ایم پی ایس سی میں ناکام ہوا لیکن الحمد للہ یو پی ایس سی میں پہلے ہی مرحلہ میںتینوں امتحان کامیاب کیا۔سنجیدہ گروپ اسٹڈی کا فائدہ ہوتا ہے ،نوٹس کی تیاری سے بہت مدد ملتی ہے۔عمدہ اخبارات،رسائل پڑھنے سے ویژن تیار ہوتا ہے۔سول سروسیز میں مسلسل پڑھائی اور لکھائی انتہائی ضروری ہے۔مین امتحانات میں روزانہ 6گھنٹوں میں 20ہزار سے زائد الفاظ لکھنے پڑتے ہیں لیکن ہارڈ ورکنگ سے کچھ بھی نا ممکن نہیں۔ہر سال تقریباً ہزار آسامیوں کیلئے چار تا ساڑھے چار لاکھ امیدوار ہوتے ہیں لیکن آخر تک جانفشانی سے تیاری ہی میٹھے نتائج لے آتی ہے۔
سوال: نتائج کے اعلان کے وقت آپ کی کیفیت کیا تھی؟
شیخ انصار: یو پی ایس سی کیلئے صبر انتہائی ضروری ہوتا ہے لیکن اتنے بڑے امتحانات کے نتائج ہوں تو بے چینی ضرور ہو گی پھر گھریلو حالات کے باعث ذمہ داریاں و سماجی پریشر بھی تھاکیونکہ ان امتحانات میں کامیاب ہونے کی گیارنٹی نہیں ہوتی۔خیر! میرے پاس کمپیوٹر یا نیٹ نہیں تھا۔پری لم امتحانات کے نتائج کے وقت دوست نے فون کرکے مبارکباد دی۔مین امتحانات کے وقت سائبر کیفے پر جاکر نتائج دیکھے۔انٹرویو کے بعد نتائج کی بے چینی کا یہ عالم تھا کہ صبح10بجے سے شام 6بجے تک نیٹ کیفے پر بیٹھا رہا۔نتائج ظاہر نہیں ہوئے،رات بھر کھانا نہیں ہوا،نیند غائب دوسرے دن پھر اسی طرح صبح سے دوپہر چار بجے تک نیٹ کیفے میں بیٹھا رہا پھر کھانا کھانے کیلئے روم پر گیا ہی تھا کہ دوست کا فون مبارکبادی کیلئے آگیا۔مجھے یقین نہیں ہورہا تھا کیونکہ عمر و صلاحیت میں مجھ سے اعلی افراد سے میرا مقابلہ تھا۔نیٹ کیفے پر دوڑ کر تصدیق کی ،والد کو فون کیا تو نیٹورک کے باعث وہ سن نہیں پائے انہو ں نے کہا کہ بعد میں بات کرتا ہوں! میری دلی کیفیت شاید میں بیان کر سکوں کہ ان کا بیٹا آئی اے ایس کامیاب کر چکا تھا ،پھر والدہ و بہن کو فون پر اطلاع دی جس پر فون پر ہی مسرت سے دونوں رونے لگیں۔
سوال:مسلم قوم کی سول سروسیز میں نمائندگی انتہائی کم کیوں ہے؟
شیخ انصار: مسلمٹ قوم د کو پیچھے کھینچ رہی ہے۔آج ہمارے پاس معاشی ،تعلیمی و سماجی وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن طلباء کو صحیح رہنمائی میسر نہیں،تعلیم اداروں میں تعلیم کے علاوہ علحیدہ طور پر کرئیر گائیڈنس نہیں ہوتا اس لیے سول سروسیز میں نمائندگی کم ہے۔مسلمانو ںکی حالت زار میں اہم پہلو بیورو کریسی میں نمائندگی کا نہ ہونا ہے۔ہمارے طلباء انجینئرنگ ،میڈیکل میں جاتے ہیں لیکن سول سروسیز میں نہیں آتے،بچوں کو لاکھوں روپیوں کا بزنس فراہم کیا جاتا ہے،مہنگی گاڑیاں،موبائل فون دلاتے ہیں لیکن یو پی ایس سی جیسی سروسیس کیلئے تیاری نہیں ہوتی۔ہمیں اپنا ذہن تبدیل کرنا ہوگا۔جب میں اتنے نا مساعد حالات میں کامیابی حاصل کر سکتا ہوں تو دیگر کیوں نہیں؟
سوال:مسلم ہونے کے باوجود آپ کو شوبھم بننا پڑا ،تو کیا مسلمانو ںکے ساتھ بھی ناروا سلوک ہوتا ہے؟عمر بھی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے؟
شیخ انصار: وہ مسئلہ وقتی تھا۔مجھے میرے تعلیم پر توجہ مرکوز کرنا تھا اسلیے میں نے نام شوبھم بتایا۔سماج کی سبھی انگلیاں برابر نہیں ہوتیں،مجھے غیر مسلم اساتذہ نے تعلیم دیں،یو پی ایس سی کی تیاری کے وقت میرے گروپ میں 9میں سے 8دوست غیر مسلم تھے جن کے میں کتابیں،پیسہ استعمال کرتا تھا،مجھے جہاں ضرورت ہوتی یہ غیر مسلم دوست ساتھ ہوتے میری بیماری میں انہو ںنے ساتھ دیا۔انٹرویو میں پینل میں غیر مسلم آفیسر س تھے وہاں بھید بھائو نہیں ہوا۔اگر آپ کے پاس قابلیت،اہلیت اور سخت محنت ہے توآپ کے ساتھ کہیں بھی تفریق نہیں ہوگی،دراصل سسٹم میں تفریق نہیں سماج میں ہے اسے بدلنے کیلے ہمیں خود آگے آنا ہوگا۔رہا عمر کا تعلق تو میں امسال سب سے کم عمر آئی اے ایس کامیاب ہوں۔میرے ساتھ کئی افراد 10سال بڑے تھے۔کلاس میں میں پہلی بنچ پر بیٹھتا تو دیگر مجھے حیرت سے دیکھتے۔دسویں جماعت
میں ہی کرئیر طئے کرلینا چاہیے۔
سوال: آج کے ماحول میںمسلم اداروں و سماج کی کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں؟
شیخ انصار: اورنگ آباد بلکہ مراٹھواڑہ میں بہترین تعلیمی ادارے ہیں،بڑے بڑے ٹرسٹس ،سوسائٹیاں ہیں،نامور و امیر مسلم طبقہ ہے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو مقابلہ جاتی امتحانات میں حصہ لینے کیلئے اکسائیں ورنہ غریب بچے جو ذہین ہوں انہیں تعلیم دلوائیں ،ان سے معاہدہ کریں،کچھ سوسائٹی و ٹرسٹ مل کر یا علحیدہ سینٹرس کا قیام کر سکتے ہیں۔فضول رسم و رواج پر خرچ کرنے کے بجائے ضرورت مند بچوں کو پہچان کر ان میں ’ہیومن انویسٹمنٹ ‘کریں تاکہ نہ صرف بچوں کا انفرادی کرئیر سنور جائے بلکہ قوم و ملک کی حقیقی تعمیر میں بھی اضافہ و تیزی آئے۔مسلمان قوم کی کچھ غلط فہمیاں ہیں جسے ہمیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔’’تعلیم حاصل کرکے کیا ہوگا ؟‘‘والے ذہن کے شکار میرے گھر میں بھی تھے لیکن منصوبہ بندی،محنت سے اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
سوال: طلباء سو ل سروسیز میں کیوں کرئیر بنائیں؟
شیخ انصار:سول سروسیزکا میاب افسر حکومت کیلئے حکمت و پالیسی سازی کا کام و اس پر عمل آوری کا کام کرتے ہیں۔ایک ضلع کلکٹر پورے ضلع کی نمائندگی کرتا ہے۔بہترین آفیسر پورے سماج و ضـلع کیلئے بہترین خدمات انجام دے کر ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔اعلیٰ مقاصد کا حامل افسر ترقی کو اونچے مقام تک پہنچا تا ہے اس کے علاوہ سماج میں بھی آئی اے ایس و آئی پی ایس و دیگر سول امتحانات کامیاب امیدوارکا اہم و منفرد مقامباعث کشش ہوتا ہے ۔مسلم سماج کو اپنی ترقی حاصل کرنا ہے تو تعلیمی راہ ہموار کرنی ہوگی۔سول سروسیز میں زیادہ نمائندگی سے اسکیمات پر عمل آوری ہوگی،دستور کے مطابق انصاف،اخوت قائم ہوگی اور پسماندہ و پچھڑے ہوئے طبقہ کے ساتھ انصاف کیا جا سکے گا۔
سوال:اپنے پریکٹیکل کرئیر کا آغاز کہاں سے شروع کرنے کی تمنا ہے؟کن امور پر توجہ ہوگی؟
شیخ انصار:نکسلائٹ علاقہ انتہائی پسماندگی کا شکار ہے میں یہاں کام کرنا زیادہ پسند کروں گا۔کرپشن کے خاتمہ کیلئے سسٹم کو پاک کرنا میرا مقصد ہے۔ہر دم کوشش کروں گا کہ میں ایک عام آدمی کی طرح ہی رہوں،ضلع کلکٹر کا رعب نہیں بتانا چاہتا۔اقلیتوں،پسماندہ طبقات کی پسماندگی دور کرنے اسکیمات کی عمل آوری کی موثر کوشش کروں گا ۔میں صرف مسلمانو ںکا ہی افسر نہیں بننا چاہتا میں پورے ہندوستان کا افسر بننا چاہتا ہوں جہاں دستوری انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
سوال:طلباء و سرپرستوں کیلئے پیغام؟
شیخ انصار:ہمارے پاس قابلیت کی کوئی کمی نہیں،نوجوان سرمایہ ہوتے ہیں،تعلیمی دھارے میں موڑنے کیلئے ہر ٹرسٹ،سوسائٹی ،ادارے کو آگے آنا چاہیے۔طلباء کو چاہیے کہ وہ احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں،سماجی،معاشی مسائل وقتی ہوتے ہیں جسکے لیے بہترین منصوبہ بندی ،سخت محنت سے حل کیے جا سکتے ہیں۔تعلیمی میدان میں سنجیدگی ،پڑھائی کیلئے زیادہ وقت صرف کرنا،ریڈنگ سے کوئی بھی امتحان پاس کیا جا سکتا ہے۔خود اعتمادی، حوصلہ افزائی،صبر اور دعائوں سے یقینا بڑی مدد ملتی ہے ۔طلباء کو دسویں یا بارہویں میں ہی اپنے کرئیر بنانے سے متعلق فیصلہ لینا چاہیے نیز سرپرستوں کو اس میں مدد کرنی چاہیے۔سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ بچوں میں قابلیت پیدا کریں،تعلیمی شعبہ میں ہر ممکنہ مدد کریں،انہیں اپنی پسند کے مطابق کرئیر کا انتخاب کرنے دیں۔بہترین تربیت کریں تاکہ وہ دیگر قومو ںکی دوڑ میں شامل ہو کر نہ صرف انفرادی یا قومی بلکہ ملکی ترقی کی راہ میں بھی ہاتھ بنٹا سکیں۔
کاوش فائونڈیشن کے کرئیر گائڈنس پروگرام میں شیخ انصار کی رہنمائی
ملک کی اعلی ترین سول سروسیز میں کامیابی حاصل کرنے والے شیخ انصار کی اورنگ آبا د آمد پر کاوش فائونڈیشن کی جانب سے طلباء کیلئے مولانا آزاد ریسرچ سینٹر پر کرئیر گائیڈنس پروگرام رکھا گیا ۔اس موقع پر انہو ںنے اپنے تجربات،تعلیمی مراحل،امتحانات کی تیاری،گھریلو مسائل پر طلباء سے تفصیلی بات کیں۔ اس دوران شیخ انصار نے طلباء کو کریئر کیلئے نصیحت کی کہ وہ پروفیشنل کرئیر کے علاوہ سول سروسیز کی بھی ابتداء ہی سے تیار ی کریں۔اس کے علاوہ انہو ںنے کاوش فائونڈیشن کی کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ سول سروسیز میں نوجوانوں کی شمولیت بڑھانے میں فائونڈیشن اہم کردار ادا کر رہا ہے لہذا طلباء کو اس سنہرے موقع سے استفادہ کرنا چاہیے۔بعد تقریر طلباء سے سوالات و جوابات کا طویل سیشن ہوا جس سے طلباء کو تعلیمی سمت میں انتہائی اہم رہنمائی ہوئی۔پروگرام میں پروفیسر رضاء اللہ نے کاوش فائونڈیشن کے مقاصد اور تعلیمی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی روشنی ڈالی نیز پروفیسر محمد شعیب نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook