Home / خبریں / اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے سالانہ جلسہ تقسیم انعامات برائے کتب کا انعقاد

اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے سالانہ جلسہ تقسیم انعامات برائے کتب کا انعقاد

1463767954

نئی دہلی۔اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے سالانہ جلسۂ تقسیم انعامات برائے کتب 2014 اور 2015 کا دلّی سکریٹریٹ کے آڈیٹوریم میں انعقاد عمل میں آیا جس کے مہمانِ خصوصی وزیر برائے فن،ثقافت، السنہ و سیاحت جناب کپل مشرا اور صدارت سکریٹری السنہ جناب رمیش تیواری نے کی۔خیر مقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے اردو اکادمی ،دہلی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہاکہ وزیر اعلیٰ اروندکیجریوال اور وزیر ثقافت و السنہ کپل مشرا کی سرپرستی نے ہمیں حوصلہ دیا ہے کہ 2014کی کتابوں کو بھی آج انعام دیا جا رہا ہے ،جن کتابوں کو سابق گورننگ کونسل نے منتخب کیا تھا۔2015کی کتابوں کے لیے کوشش یہ کی گئی ہے کہ 98فیصد کتابوں کو انعامات دیے جائیں انھوں نے کہا کہ اردو کسی گروہ کی نہیں بلکہ سبھی کی زبان ہے۔ ہم اگلے سال ان کتابوں کو بھی انعامات دیں گے جو ہمارے یہاں جمع نہیں کرائی جائیں گی بلکہ خود یہ کوشش کی جائے گی کہ اردو اکادمی خود ان کتابوں کا انتخاب کرے جو شائع ہوکر اردو اکادمی میں جمع نہیں کرائی گئیں اور وہ انعامات کی مستحق ہیں۔ماجد دیوبندی نے کہا کہ بہت سے خوددار لوگ یہ بات گوارا نہیں کرتے کہ وہ انعامات دینے کے لیے خود گزارش کریں جس کے لیے اکادمی یہ خدمت انجام دے گی۔ انھوں نے کہا کہ آٹھ ماہ میں ہم نے جوکام کیے ہیں وہ بہ نسبت گزشتہ برسوں کے کافی ہیں۔ آٹھ مہینے میں اتنے مشاعرے ہوئے جن میں تقریباً پانچ سو شعرا ئے کرام مدعو کیے گئے اور ان کے اشعار دنیا کو سنائے گئے ہیں۔ ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے اس سے بھی بہتر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہمیں وزیر فن ثقافت و السنہ کپل مشرا اور حکومت دہلی کا ہر قدم پرتعاون حاصل ہے۔ ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے اس سال زیادہ کتابوں پر انعامات دیے گئے ہیں جو ا س بات کا مظہر ہے کہ ہم بہتر سے بہتر کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔مہمان خصوصی وزیر برائے فن ، ثقافت ، السنہ و سیاحت دہلی کپل مشرا نے کہاکہ کتاب لکھنا اور اسے شائع کرانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا بلکہ یہ روحانیت کا ایک حصہ ہے جو قرطاس پر دلی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ میں سبھی مصنفین کو مبارک باد دیتا ہوں اور سلام کرتا ہوں کہ انہوں نے جرأت کے ساتھ کتابیں تصنیف کیں۔جناب کپل مشرا نے اردو اکادمی اور خاص طور پر وائس چیئرمین ڈاکٹر ماجد دتوبندی کو ان کے کام کرنے کے جذبے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ہر اس کام کے لیے جس میں اردو کے فروغ کا حصہ ہو وہ اردو اکادمی کے ساتھ ہیں۔ جناب کپل مشرا نے کہا کہ کوئی بھی تجویز جو اردو اکادمی کی طرف سے آئے گی وہ فوراً منظور کریں گے کیوں کہ یہ ایک فعال اردو اکادمی کا حصہ ہے کہ اردو کے فروغ کے لیے وہ سب کچھ کیا جائے جو دلّی کے ہر دلعزیز وزیراعلیٰ جناب اروند کیجریوال کا خواب ہے۔انھوں نے کہا کہ اس ملک کے ماحول کو جہاں کچھ فرقہ پرست خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہاں اردو ادیبوں، شاعروں اور اردو کے چاہنے والوں کا فرض ہے کہ محبت کی اس شمع کو روشن کرنے میں ہرممکن تعاون دیں جو ہماری یکجہتی کی پہچان ہے۔ رمیش تیواری نے اپنی صدارتی تقریر میں کہاکہ ہماری حکومت نے یہ قصد کیا تھا کہ بلاتفریق سبھی زبانوں کو فروغ دیا جائے۔ اردو ایک بہت ہی پیاری زبان ہے جس کو ترقی دینے کے لیے ہماری حکومت سر گرم ہے۔ میں تمام مصنفین کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آج انہیں ان کی کتابوں پر انعامات دیے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اردو اکادمی کے وائس چیئرمین جس جذبے کے ساتھ اردو کے لیے کام کررہے ہیں وہ قابلِ قدر عمل ہے جس کی تعریف ہونی چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے استقبالیہ اظہارِ خیال پیش کرتے ہوئے آج کے جلسے کی مناسبت سے ’’کتاب ‘‘ عنوان سے جو نظم پیش کی وہ نہایت سلیس اور متاثر کرنے والی تھی۔ انھوں نے تمام انعامات کی رقم بڑھانے کی تجویز پیش کیجس کی فوراً کپل مشرا نے تائید کی اور منظور فرمانے کا وعدہ کیا۔انعام یافتہ کتب2014:سنگِ صدا ( جناب زبیر رضوی)، قندیل ابھی روشن ہے (160جناب پی۔ پی۔ سریواستورند)،فکشن کی تلاش میں (ڈاکٹر ابوبکر عباد)، اردو میں نثری نظم (160جناب عبدالسمیع)، مشکِ160غزالاں (160ڈاکٹر تابش مہدی)،جن سے الفت تھی(جناب سید قمرالحسن)،سورج تم جاؤ (160محترمہ علینہ عترت رضوی)، اول سہ لسانی لغتِ صحافت (خواجہ عبدالمنتقم) ،ہندو فارسی شعرا:160مغل عہد میں (160ڈاکٹر عابدہ خاتون)، اخترالایمان کی نثری نگارشات (160ڈاکٹر نشاط حسن)،اجالے (160جناب نورالعین قیصر قاسمی)، مریدِ160سخن (160ڈاکٹر محمد طفیل آزاد)، قرۃالعین حیدر کی غیرافسانوی نثر( ڈاکٹر انوارلحق)،سنگ تراش (160ڈاکٹر شبیر صدیقی)،عرفان اہلبیت (160جناب شعیب نوگانوی)انعام یافتہ کتب2015اداریہ نویسی اور میرے اداریے ( ڈاکٹر ابراررحمانی)، روشنی ہی روشنی ( جناب ابرار کرتپوری)،مولانا محمد علی جوہر سیاست، صحافت، شاعری (160ڈاکٹر منور حسن کمال)، وہ جن کی یاد آتی ہے (160جناب انیس امروہوی) ،الیکٹرانک میڈیا اور اردو صحافت ( ڈاکٹر تنزیل اطہر)، قرۃالعین حیدر فکر و فن (160ڈاکٹر شیفتہ پروین)، اردو صحافت کی موجودہ صورتحال (جناب فلاح الدین فلاحی)، نکات سخن حسرت موہانی(محترمہ ذکیہ رخشندہ)، ادبی صحافت (جناب عبدالحء) ،شگفتگی کی تلاش (160جناب انجم عثمانی)، تکلف برطرف (160جناب سالک دھامپوری)، جوگندر پال کی افسانہ نگاری (ڈاکٹرابوظہیر ربانی)، دہلی کے ۰۵ صحافی (160جناب ظفر انور)، ساحر لدھیانوی شخصیت اور فن (ڈاکٹر ظفراعجاز عباسی) ،نذرسجاد حیدر کے ناولوں کا تنقیدی مطالعہ(ڈاکٹر وسیمہ سلطانہ)،قطرہ قطرہ بحر عقیدت ( جناب اعظم عباس شکیل)،اودھ اخبار کی ادبی اور علمی خدمات ( ڈاکٹر سلطانہ فاطمہ واحدی) ،آخری راستہ (160ڈاکٹر فرح جاوید)، جن سے روشن ہے کائنات (160ڈاکٹر عبدالقادر شمس)، شام سے پہلے (جناب وسیم نادر) ،منشی نول کشور انعام برائے ناشر (حالی پبلشنگ ہاؤس)اردو اکادمی دہلی کے سکریٹری ایس ایم علی نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام میں جو تجاویز پیش کی گئی ہیں ان کوجلد روبہ عمل لایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ آج کے جلسے میں اتنی بڑی تعداد میں سامعین کی شرکت اس بات کے لیے حوصلہ دینے والی ہے کہ اردو کے تئیں عوام کی دلچسپی اور رغبت کے اظہار میں اضافہ ہورہا ہے۔جلسہ کی نظامت اطہر سعید اور ریشماں فاروقی نے کی۔

 

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook