Home / خبریں / شیشہ ٹوٹ جائے گا(ناولٹ)۔۔مقصود الٰہی شیخ

شیشہ ٹوٹ جائے گا(ناولٹ)۔۔مقصود الٰہی شیخ

(ایک تفصیلی جائزہ)


٭ڈاکٹرمحمد کلیم ضیاؔ
سابق صدر،شعبۂ اردو،
اسمٰعیل یوسف کالج،جوگیشوری (مشرق)،ممبئی ۔

جنابِ مقصود الٰہی شیخ کا تعلق ان محّبانِ اردو سے ہے جو خلوصِ دل سے اردو کی خدمت کیے جارہے ہیں۔وطن سے دور،انگریزی تہذیب و معاشرت کے درمیان اردو کی شمع روشن کرنا بلاشبہ اردو سے محبت کی وجہ سے ہے اور اس محبت کا علمی وعملی نمونہ ان کے افسانے اور ناول ہیں۔آج برطانیہ میں ہندوستان کے مختلف زبانوں کے بولنے والوں کے درمیان رابطے کی زبان اردو بن کر ابھری ہے اور انگریزی کے بعد کم وبیش اس کی یہ حیثیت قایم ہے، وہاں سے اردو کے کئی اخبار نکل رہے ہیں،اردو نگار شات کی ریل پیل ہے مگر جس وقت مقصود الٰہی نے وہاں قدم رکھا تھا اس وقت معاملہ مختلف تھا۔انھوں نے اردو کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے نیزاردوکی ترویج واشاعت کے لیے’’راوی‘‘ کے نام سے اردو کا ایک جریدہ نکالا۔ لوگوں کو اردو کی تعلیم کی جانب متوجہ کیا ۔غریب الوطنی میں اردو کی یہ بہت بڑی خدمت تھی۔بقول محمد احمد سبزواری:
’’مقصود الٰہی شیخ ملک کا ایک قیمتی اور قابلِ فخر قومی اثاثہ ہیں۔وہ اپنی کاروباری مصروفیات کے باوجود ایک غیر ملک میں بیٹھے اردوا ور اردو ادب کی خدمت میں پوری شدت سے مصروف ہیں۔‘‘
(بحوالہ۔قدروں کا قفس خانہ۔صفحہ۲۴،شیشہ ٹوٹ جائے گا،تیسرا ایڈیشن)
’’شیشہ ٹوٹ جائے گا‘‘ ناولٹ پُر اثر،جذبات و ہیجان اور احساسات کا ناول ہے۔اس کی اثر انگیزی قاری کے ذہن پر مسلسل کئی دنوں تک قایم رہتی ہے۔اس میں شک نہیں کہ مقصود الہی ایک پختہ ذہن فن کار ہیں اور انھوں نے اس چھوٹے سے ناول کے کینواس میں جس شدت کے ساتھ نازک جذبات اور لطیف احساسات کو سمو کر قاری کے ذہن کو جھنجھوڑ نے کی کوشش کی ہے وہ بجاطور پر نظر آتی ہے۔ف۔س۔اعجاز مدیر، ماہنامہ انشاء ،کلکتہ ،اس ناولٹ کے متعلق رقم طرا ز ہیں:
’’اس کامیاب افسانے کے بارے میں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ دوسرا کوئی افسانہ نگار ایسی کہانی تخلیق نہیں کرسکتا تھا۔میری اس رائے سے کسی دوسرے ’شعور انگیز ‘ افسانہ نگار کی حق تلفی نہیں ہوسکتی۔‘‘
(بحوالہ۔شیشہ ٹوٹ جائے گا۔صفحہ۲۶،شیشہ ٹوٹ جائے گا،تیسرا ایڈیشن)
’شیشہ ٹوٹ جائے گا ‘اکہرے پلاٹ کا ناولٹ ہے جو ایک گھریلو کہانی سے شروع ہوتا ہے۔دوخاندان ایک انجانے رشتے سے قریب ہوجاتے ہیں ۔ یہ رشتہ رفتہ رفتہ کہانی کا روپ دھار لیتا ہے۔مرکزی کردار ایک کھلنڈرانوجوان تیمور ہے، جس کی شوخی وشرارت ایک روز کہانی میں کلائمکس پیدا کردیتی ہیں اور رشتوں میں زبردست تکرار کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ دوستی، محبت، اعتبار او راعتماد کے رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانے میں نوجوان کی چھوٹی بہن حُسنٰی جو کردار ادا کرتی ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔حُسنٰی کا کردار پورے ناول میں دیے کی باتی جیسا ہے، جو دیے اور لَو کے درمیان دھیرے دھیرے جلتی رہتی ہے مگر لَو سے دیے کے تعلق کو اپنی زندگی میں ٹوٹنے نہیں دیتی۔
اس کہانی میں مقصود الٰہی نے دراصل ایک پیغام ِ دروں چھوڑا ہے۔کہانی اگر چہ ہجرت کرکے گئے ہوئے ان لوگوں کی ہے جو غیر ممالک میں جاکر بس گئے ہیں ۔ وہ یہ بھی کوشش کرتے ہیں کہ اس نئی جگہ نئے معاشرے اور نئے سماج میں رہتے ہوئے اپنے ساتھ لائے ہوئے اپنے ملک کے معاشرتی رسم ورواج اورطور طریقوں کو منِ وعن اسی طرح برقرار رکھیں جیسا کہ ان کے ملک میں رائج ہیں ،البتہ اس میں چند معمولی سی ترمیم و تنسیخ گوارا کی جاسکتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایساکرنا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ کیوں کہ تہذیبوں کا تصادم ناگزیر ہے۔یہ کہانی ایسے ہی پاکستانی خاندانوں کی ہے جو برطانیہ میں جاکر بس گئے ہیں اور اپنے ملک اور مذہب کے طور طریقوں کی بقا کی جنگ میں شکست کھا چکے ہیں ۔بنیادی غلطی جو ان لوگوں سے ہوتی ہے، وہ ہے تنگ نظری کی مخالفت ۔ بادی النظر میں یہ ایک اچھا قدم معلوم ہوتی ہے مگربعد ازاں جو بات سامنے آتی ہے وہ ہے، تنگ نظری کی مخالفت کی آڑ میں آزاد خیالی کی حمایت۔ یہ بات بھی دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جس طرح یورپ نے اسی تنگ نظری کو، دوسرے معنوں میں اختلاطِ مردوزن سے پاک معاشرہ کی مخالفت میں تحریک چلائی ،آزادی وحریت اور مساوات کا نعرہ دیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورا معاشرہ مادرپدر آزاد ہوگیا اور پھر جس طرح مخطوط محفلوں ،تعلیمی اداروں ،کارخانوں اور دفتروں میں آزادی ملی ، اس نے حرامی بچوں کی کھیپ تیار کردی۔ مجبوراََ وہاں کے سرٹیفیکشن کے خانوں سے باپ کا نام ہی خارج کردیا گیا۔ یہ وہ صورتِ حال تھی جس سے پورے یورپ کا خاندانی ڈاھانچہ ختم ہوکر رہ گیا ہے۔اب کسی کویہ نہیں پتا کہ وہ جس لڑکی سے شادی کررہا ہے وہ کس کی صلب سے ہے اور آیا ان دونوں میں بھائی بہن کا رشتہ تو نہیں ہے۔یہ وبا اتنی عام ہوئی کہ مغرب سے نکل کر مشرقی ممالک میں بھی پھیلنے لگی اور آج مشرقی ممالک میں صورتِ حال یہ ہے کہ ہرکوئی مغرب کی نقالی میں ایک دوسرے سے بازی مار لینا چاہتا ہے۔مغرب نے جو سائنسی اور صنعتی ترقی کی اس کی وجوہات کچھ اور ہیں ،مگر کم ظرف نظروں نے صرف یہ دیکھا کہ مغرب میں جو مردوزن کے اختلاط کی کھلی آزادی ہے وہی مغرب کی ترقی کا راز ہے ،اور لگ گئے اس ترقی کو حاصل کرنے کی راہ پر ۔واقعہ یہ ہے کہ پوری دنیا کی حالت یہ ہے اگر اعداد و شمار نکالے جائیں توایک بڑی تعداد کامعاملہ یوں نکلے گا کہ نوجوان لڑکا اور لڑ کی شادی سے قبل ہی جنسی تجربہ سے گزر چکے ہوتے ہیں۔ یہ معاملہ صرف ایک دو بار تک محدود نہیں رہ گیا ہے بلکہ آج گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا یہ جو تصور قایم کرلیا گیا ہے ،اس کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ ایک لڑکا دوسری لڑکی سے بہت حد تک جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے دوستی کرتا ہے ۔جب تک کہ دونوں کی شادی نہ ہوجائے (یہ شادی آپس میں ہوجانا ضروری بھی نہیں) اور یہ دوستی وقتاََ فوقتاََ بدلتی بھی رہتی ہے۔ اس طر ح لڑکا اور لڑ کی شادی سے قبل کئی کئی دوست بدلتے رہتے ہیں اور اپنی خواہش کی تکمیل کرتے رہتے ہیں ۔اس دوران وضع حمل کے واقعات بھی پیش آتے ہیں اور حرامی بچوں کی پیدایش بھی ہوئی رہتی ہے ۔بعد میں کچھ شادی شدہ لوگ بھی اپنی سابقہ عادت پر قایم رہتے ہیں اور ناجایز حمل استقرار پاتے رہتے ہیں۔ قومِ مسلم کے نوجوان بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں ،البتہ یہ تعداددوسروں کی بہ نسبت کم ہوسکتی ہے،مگر ہے تشویش ناک ہی ۔لوگ اس برائی کے بحراعظم میں رہتے ہوں توکیسے ممکن ہے کہ تنگ نظری کی جگہ زراسی ہی سہی آزاد خیالی کو لایا جائے اور پھر وہ واقعات رونما نہ ہوں جن سے بچا جانا کسی صورت ممکن نہیں۔تیمور شوخ و چنچل ہی سہی اور ڈاکٹر الیاس اور تیمور کے گھرانے میں گہری دوستی سہی مگر خرابی کی جڑ تویہی صورت بنی کہ الیاس کی غیر موجودگی میں تیمور الیاس کے گھر میں راتیں بسر کرے اور وہاں اس کی بیوی کے علاوہ دوسرا کوئی موجود نہ ہو۔ اس کے بعد ایک نوجوان کو جب جنسی تعلقات کی لذت حاصل ہوجائے تو آزاد معاشرہ میں اسے روکنے والا کون ہے کہ وہ دوسری جگہ بھی لذت کوشی سے بچا رہے۔تیمور کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔تیمور ایک دوسری لڑکی سے محبت کرتا تھا اس لیے اس کا خیال تھا کہ ایک دن جب ڈاکٹر الیاس کو معلوم ہوگا تو وہ الماس کو طلاق دے دے گا اور پھر وہ اس سے شادی کرلے گا مگرجب تیمور سے زہرہ جمال کی ملاقات ہوئی اور اس پر وہ عاشق ہوگیا تو اسی خیال نے کہ وہ زہرہ سے شادی کرلے گا ۔اس سے بھی جنسی تعلقات قایم کرلیے لہٰذا وہ بھی حاملہ ہوگئی۔تیمور یہ بھی سمجھتا تھا کہ الماس کے حاملہ ہوجانے کی صورت میں اس پر الزام نہیں آسکتا مگر زہرہ سے شادی نہ کرنے کی صورت میں وہ ضرور پکڑا جائے گا۔ البتہ اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ الماس اس قدر اس سے خفا ہوجائے گی کہ اس پر حملہ کردے گی۔ اسی حملے نے تیمور کے خاندان اور الماس کے مائکے والوں پر اس راز کو افشا کردیا۔مقصود الہٰی نے ان شدید واقعات کو پہلے پُرلطف اور خوش گوار طریقے سے آگے بڑھایا اور پھر اس کوٹریجڈی کی صورت میں جس فن کارانہ انداز میں پیش کیا جو ان کی ماہرانہ کاوشوں کابیّن ثبوت ہے۔ اس ناول میں انھوں نے وہ تمام احساسات کو جو کسی خطا کار کے دل میں پیدا ہوتے ہیں اور وہ کس طرح خود کو سب کی نظروںسے اورخصوصاََ ماں،باپ اور بہنوں سے بچاتا ہے ، کیاکیا خیالات ا س کے ذہن میں کچو کے لگاتے ہیںاور کس کس طرح کی کسک اس کے دل میں اٹھتی ہے ،تمام کا ذکر کرکے اسے ایک زندہ ناول بنادیاہے۔
حالاں کہ پورے ناول میں مقصودالٰہی کی ماہرانہ فن کاری جھلکتی ہے مگر جیسا کہ ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر نے خیال ظاہر کیا ہے کہ:
’’مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ’شیشہ ٹوٹ جائے گا‘ کی کہانی بڑی محنت سے تیار کی گئی ہے لیکن پیش کرنے میں بڑی عجلت دکھائی گئی۔‘‘
(تہذیبی المیہ۔صفحہ۲۷،شیشہ ٹوٹ جائے گا،تیسرا ایڈیشن)
اس میں دورائیں نہیں ہیںکہ۲۰۰۱ء سے ۲۰۱۴ء تک اس ناول کے تین ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں لیکن اس ناول میں ایک بڑا عیب جوں کا توں موجود رہااور وہ ہے زہرہ کا اسقرار حمل سے رخسار کی پیدایش تک کی مدت۔جب الماس حاملہ ہوئی تھی کہانی کے اندازے کے مطابق اس حمل کو ۴سے ۵ ماہ ہوچکے تھے ۔تیمور نے الماس کو بتایا کہ وہ زہرہ جمال سے جلدی شادی کرنا چاہتا ہے کیوں کہ وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔اس کامطلب یہ ہوا کہ کم از کم زہرہ بھی ایک یادو ماہ کے حمل سے رہی ہوگی،ورنہ اندازہ تو اس واقعہ سے بھی یہی ہوتا ہے کہ اس کا حمل بھی تین سے چار ماہ کا ہوگا۔ اب آگے کی کہانی میں خالد کی ولادت، پھر خالد کے دس ماہ بعد انیلا کی ولادت اور پھر انیلا بھی شاید ۵،۶ ماہ کی ہوچکی تھی ،جب کارکا حادثہ پیش آیا جس میں الماس اور حسنٰی جائے واقعہ پر وفات پاجاتی ہیں اور زہرہ کو مامیں چلی جاتی ہے۔ جس کا تین ماہ بعد آپریشن کیا جاتا ہے اور رخسار کی ولادت ہوتی ہے۔اب یہاںسوال یہ نہیں ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے کیوں کہ عرصۂ حمل ۷ماہ سے ۳۰ ماہ ہوسکتا ہے مگر کیا تمام استثنیات ایک ہی خاندان سے اورایک ہی شخص کے ساتھ پیش آئیں۔۔۔؟
دوسری تشنگی جو اس ناول میں ہے وہ یہ کہ خالد اور رخسار کی ملاقات ،جیسا کہ شروع میں لکھا گیاکہ خالد کے والد نے رخسار سے ملنے کا مشورہ دیا تھامگر مسز افضال اور افضال مغل نے ٹال مٹول کرکے ملاقات کا موقع نہیں دیا۔اس تجسس کو برقرار رکھ کر کچھ ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیںکہ خالد رخسار سے دانستہ طور پر ملا اور پھر یہ سلسلہ بھی دراز ہوا۔مگر مصنف نے بالکل حادثاتی طور ر خالد اور رخسار کی ملاقات کروا کر کلائمکس کو ختم کردیا اور بالکل سرسری انداز میں گزر کر ناول کو اختتام تک پہنچادیا۔
بہر حال انجام کے لحاظ سے ایسے رشتوں سے ،جونا جایز بنیادوں پر قایم ہوتے ہیں، ان سے بعد میں جو حر متیں پامال ہوتی ہیں، اس بات کو بہت خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے جس کا ایسے رشتوں سے شدید تصادم بر پاہے مگر حالات کی مجبوری، قانون کی بالادستی اور برائیوں کی یلغار کے آگے لوگ بے بس ہوجاتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ ان برائیوں پر جھوٹ کا پردہ ڈال دیا جائے اور خاموشی اختیار کرلی جائے۔اس کرب اور اس انجام کو مقصود الہٰی نے بڑے دردناک اور پُر تاثیر انداز میں پیش کیا ہے جو قاری کے ذہن کو جھنجھور کر رکھ دیتا ہے ۔
’’۔۔۔۔۔۔۔الیاس نے فون اٹھایا۔اتنی مدت بعد پیار ی سی حسنٰی اور نٹ کھٹ سے تیمور کی امی کی آواز سن کر ڈاکٹر الیاس مرزا بہت خوش ہوئے تھے۔سعیدہ بولتے بولتے خاموش سی ہوگئیں۔ان کے چہرے پر خاموشی چھا گئی۔فون ایسے رکھا جیسے ان میں سکت نہیں رہی۔جان نکل گئی ہے ۔دل بند ہوگیا ہے اور وہ فرش پر ڈھیر ہوگئیں۔افضال دوڑ کر پانی کاگلاس لائے۔چھینٹا مارا،ایک گھونٹ پلانے کی کوشش کی اور گھبرا گھبرا کر بیوی سے پوچھتے رہے۔
’بتائو تو سہی ، بھئی بتائو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘
’اندھیر ہوگیا‘
’قیامت آگئی‘
’اجل نہیں آئی۔ارے موت کو بلائو۔میرے خدا میںمرجائوں۔‘
’کچھ کہوگی؟کہونا کیا ہوا؟ـ‘
’جلا دو اس دنیا کو۔آگ لگادو اس جہاں کو۔ہم سب اس میں جل جائیں،راکھ ہو جائیں۔‘
’سعیدہ ۔سعیدہ ہوش کرو۔خالد تو خیریت سے ہے؟‘افضال تذبذ ب میں کپکپانے لگے۔
’ہم سب ،تم اور میں بھی دوزخ میں جلیں گے۔‘
’اب کچھ نہیں ہوسکتا۔‘
افضال نے بیوی پر پانی کا گلاس انڈیل دیا۔ٹھنڈا پانی پڑا تو سعیدہ کو جاڑا لگنے لگا۔وہ کانپتی آواز میں بتا رہی تھیں۔
’نادان الیاس خوش تھا۔اس نے کہا وہ اچانک ملے تھے۔‘
’کون؟‘
’پہلی نظر میں ایک دوسرے پر فدا ہوگئے ۔جب پورا تعارف ہواتو وہ خوشی سے بھرگئے۔۔۔‘
’کیا سنائوں؟کیا سنوگے؟لوسن لو۔۔۔ہفتہ ہوگیا۔۔۔۔ہوگیا ایک ہفتہ۔۔۔۔۔‘
’نیویارک میں شادی کے بعد رخسار اور خالد ہنی مون پر قبر ص چلے گئے ہیں۔‘
افضال کے ہاتھ پیر پھول گئے۔وہ بھی بیوی کے ساتھ فرش پر ڈھیر ہوگئے۔وقت رُک گیا۔ایک پل تھم سا گیاتھا!! نفاست و حرمت کا شیشہ بے آواز اور ٹوٹ کر،کرچی کرچی ہوکر بکھر گیا۔‘‘
(شیشہ ٹوٹ جائے گا۔اشاعت سوم۔ص۱۰۳ سے ۱۰۴ص)
مقصود الہٰی نے اردو زبان وادب کی پوری نفاست کا خیال رکھا ہے۔ کہانی،پلاٹ کے ساتھ ساتھ اسلوب اور طرز ِ بیان کے لحاظ سے بھی اس ناول کی اثر انگیزی بڑھ گئی ہے۔نہ گنجلک واقعات نہ تہہ وار پلاٹ۔سیدھا سادا بیانیہ انداز اختیار کیا اور کہانی کا مدعا بیان کردیا۔ایک بات جو خصوصیت سے محسوس کی جا سکتی ہے وہ مقامی لب ولہجہ اور محاورات ہیں ،جن سے وہاں کی زبان سے بھی قاری کو واقفیت حاصل ہوتی ہے۔کہانی کے بیان میں غیر محسوس طریقے سے اجنبی طرزِ معاشرت مشرقی طور طریقے اور ان کا تصادم قاری کے ذہن میں گھر کرتا چلاجاتا ہے۔اس لطیف احساس کو پیدا کرنا ہی مصنف کا وہ کمال ہے جوہر کسی کو حاصل نہیں ۔انور سدید لکھتے ہیں:
’’یہ سب واقعات ناولٹ کے منظر نامے میں پوری حرکت و حرارت کے ساتھ اس طرح رونما ہوتے ہیں کہ ذہنی اور تہذیبی نا آسودگی بڑھتی چلی جاتی ہے اور اختتام پر جب نا آسودگی زہر ناک ہوجاتی ہے تو ناولٹ کا مثبت زاویہ آشکار ہوجاتا ہے اور یہ احساس قوی ہوجاتا ہے کہ مقصود الہٰی شیخ نے اس ماحول کو جسے انسان کی جنسی جبلت نے شوخ رنگ بنا ئے رکھا،کتنی گہرائی سے مشاہدہ کیا اور اس سے ایک ایسی سماجی حقیقت تراشی جس کا سامنا اب بادل ِ ناخواستہ بیش تر تارکینِ وطن کررہے ہیں اور اس کی زہر ناکی سے نالاں بھی ہیں۔‘‘
(مقصود الہٰی کا ناولٹ۔صفحہ۱۷،شیشہ ٹوٹ جائے گا،اشاعت سوم)
اپنے اسی مضمون میں انور سدید مزید لکھتے ہیں:
’’میں اسے پڑھتے ہوئے اضطراب کے ایک بڑے جہنم سے گزرا ہوں تو خدا جانے اسے تخلیق کرتے وقت مقصود الہٰی شیخ نے کتنی قیامتوں کا سامنا کیا ہوگا۔‘‘
(مقصود الہٰی کا ناولٹ۔صفحہ۱۷،شیشہ ٹوٹ جائے گا،اشاعت سوم)
شوکت صدیقی لکھتے ہیں :
’’مقصود الہٰی شیخ نے نئی روایات اور پرانی روایات واقدار کے تصادم کو نہ صرف دیکھا،پرکھا اور سمجھا ہے بلکہ اس تصادم سے جو ذہنی فکری اور اخلاقی انتشار اور خلفشار برپا ہوا۔اس ہلچل اور تلاطم کو شدت سے محسوس کیا ہے۔بحیثیت ایک تارکِ وطن اس آگ کے دریا سے ڈوب کر گزر رہے ہیں ۔‘‘
(بحوالہ۔مقصود الہٰی کا ناولٹ۔صفحہ۱۱،شیشہ ٹوٹ جائے گا،تیسرا ایڈیشن)
تادیر ذہنوں پرچھائی رہنے والی یہ ناول اردو ادب میں یقیناََ ایک اضافہ ہے۔
A/103, RAWAL ENCLAVE, RAWAL NAGAR, OPP: RAWAL SCHOOL & COLLEGE, NR: MIRA ROAD STATION, MIRA ROAD (EAST), DIST: THANE- 401107 (M.S.)
٭٭٭٭٭٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook