Home / خبریں / اقبال کی حب الوطنی: تحقیقی مطالعہ

اقبال کی حب الوطنی: تحقیقی مطالعہ

(ہندوستان کے معروف اقبال شناس سید مظفر حسین برنی کے حوالے سےخصوصی تحریر)


ڈاکٹر محمد عامر اقبال
اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اردو،یونیورسٹی آف سیال کوٹ،پنجاب،پاکستان

ABSTRACT:
There are aspects of national and patriotic reform hidden in Iqbal’s thought. Iqbal’s experts find new ways to study Iqbaliat. Syed Muzaffar Hussain Barni held many high government posts. Despite his busy schedule, he made a new chapter in Iqbalism. Mr.Barni also made Iqbal’s patriotism the subject. His understanding of Iqbal was much discussed in the Indian subcontinent. The researchers express their views. National and patriotic pain is prominent in Iqbal’s thought. People praised Mr. Barni’s study. He has been declared an advanced Iqbal Scholar. He highlighted a new aspect of Iqbal’s poetry. The topic of his study takes precedence over important books. He presented Iqbal’s message in a charming and scholarly manner. Mr. Barni’s grip on literature was also very strong. He set a new milestone for Iqbal Studies. Iqbal’s love for the homeland never waned. He claimed that he had cleared the dust of misunderstandings about Iqbal. He revived Iqbal’s ideas in the literary and intellectual environment of India and undertook the task of modernising it. His book provides useful information to students of Iqbal Studies. It is an excellent source in research and criticism. Studying this article will open up new areas of research in Iqbal’s Studies. The limits of Iqbal’s thought will expand. The scope of research topics in Iqbal’s studies will be wide.
KEYWORD:
"Iqbal’s Thought and Patriotism”

تلخیص:
فکرِ اقبال میں قومی اور ملی اصلاح کے پہلو پوشیدہ ہیں۔اقبال شناس اقبالیات کے مطالعہ سے نئی راہیں تلاش کرتے ہیں۔سید مظفر حسین برنی بہت سے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات رہے۔مصروفیت کے باوجود آپ نے اقبال شناسی کا نیا باب رقم کیا۔برنی صاحب نے اقبال کی حب الوطنی کو بھی موضوع بنایا۔برِ صغیر پاک و ہند میں آپ کی اقبال فہمی کو بحث کا موضوع بنایا گیا۔محققین نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔فکرِ اقبال میں قومی اور ملی درد نمایاں ہے۔برنی صاحب کے وسیع مطالعہ کی لوگوں نے تعریف کی، شمس الرحمٰن فاروقی مرحوم جیسے لوگوں نے آپ کو اعلیٰ درجے کا اقبال شناس قرار دیا۔ڈاکٹر رفیع الدین جیسے اقبال شناس ماہرین نے تبصرے سے نوازا۔آپ نے اقبال کی شاعری کا نیا پہلو اجاگر کیا۔آپ کا یہ موضوع اہم کتابوں پر فوقیت کا حامل ہے۔آپ نے اقبال کا پیغام دل کش اور عالمانہ انداز میں پیش کیا۔ادبیات پر برنی صاحب کی گرفت بہت مضبوط تھی۔آپ نے اقبالیات کو نیا سنگِ میل فراہم کیا۔اپنے وطن سے اقبال کی محبت میں کبھی کمی نہیں آئی تھی۔برنی صاحب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اقبال کے بارے میں غلط فہمیوں کے گرد و غبار کو دور کیا۔برنی صاحب کی تصنیف ’’ محبِ وطن اقبال ‘‘ اقبالیات کے طلباء کومستند معلومات فراہم کرتی ہے۔یہ تحقیق و تنقید کا عمدہ ماخذ ہے۔اس مضمون کے مطالعہ سے اقبالیات میں تحقیق کے نئے گوشے کھلیں گے۔فکرِ اقبال کی حدود میں وسعت پیدا ہو گی۔اقبالیات میں تحقیقی موضوعات کا دامن کشادہ ہو گا۔
کلیدی الفاظ:
فکرِ اقبال اور حب الوطنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقبال کے فکر و فلسفہ کا مطالعہ ہمارے لیے بصیرت اور آ گہی کی نئی راہیں کشادہ کرتا ہے۔ہر شخص خواہ طالبِ علم ہے یا معلم،خطیب ہے یا واعظ،محقق ہے یا مدبر،سرکار سے وابستہ ہے یا کسی نجی عہدے پر فائز ہے۔وہ کسی بھی طائفہ انسانی سے تعلق رکھتا ہو،اقبال کے فکر و فلسفہ سے کسی نہ کسی طرح متاثر نہ سہی متعارف ضرور ہے۔قدرت اور فطرت کسی کو بھی قابلیت کے مطابق اور صلاحییتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایسا کام سونپتی ہے جو معاشرے کی اصلاح اور ترویج و ترقی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔اس کام کے نتائج ملک و ملت کے لیے معاشی،سماجی،معاشرتی،عمرانی اور اخلاقی طور پر بہت اہمیت کا حامل ہوتے ہیں۔اصول،قانون اور دستور کے نفاذ میںمددگار ثابت ہوتے ہیں اور تحقیق و تنقید کے لیے راہیں ہموار ہوتی ہیں۔اقبال کا فکر و فلسفہ بھی ان تمام صفات سے لب ریز ہے۔اس کا مطالعہ ان تمام تر صفات کا حامل ہے جو ہم سب کے لیے معاونت کا باعث ہیں۔سیاسی اور قانونی بصیرت بھی اقبال کا خزانہ ہے جو دنیا کی صفوں میں لٹایا گیا ہے۔اقبال کے فکر و فلسفہ کا مطالعہ لوگوں میں اقبال فہمی اور اقبال شناسی کی صفات پیدا کرتا ہے۔سید مظفر حسین برنی کا انتخاب بھی قدرت اور فطرت نے اقبال کے افکار کی توسیع و تبلغ کے لیے کیا ۔آپ نے آہم ترین سرکاری ذمہ داریوں کی مصروفیات کے باوجود اقبالیات کے میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں اور اقبال شناسوں کی فہرست میں بلند مقام حاصل کیا۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۴۷ء میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس ’’ آئی اے ایس ‘‘ کے مقابلہ کے پہلے امتحان میں کامیاب ہوئے اور ریاست اڑیسہ میں تعینات ہوئے۔مرکزی حکومت نے آپ کی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کیا۔آپ جوائنٹ سیکرٹری کمیونٹی ڈویلپمنٹ رہے۔محکمہ زراعت میں جوائنٹ سیکرٹری رہے۔ایڈیشنل سیکریٹری وزارتِ پٹرولیم وکیمیکلزکاانظامی عہدہ سنبھالے رکھا۔وزارتِ اطلاعات و نشریات کے اہم ترین ادارے میں سیکریٹری رہے۔بورڈ آف ریونیو میں رلیف کمشنر رہے۔چیف سیکرٹری اور ڈویلپمنٹ کمشنر کے اعلیٰ ترین عہدوں پر ذمہ داریاں سر انجام دیں۔وزارتِ داخلہ میں سیرٹری جیسے عہدے پر کام کر کے نیک نامی حاصل کی۔ناگا لینڈ،منی پور،تری پورہ اور ہریانہ کے گورنر رہے۔مرکزی حکومت کے اقلیتی کمیشن کے چیرمین رہے۔پبلک سیکٹر کے تقریباً آٹھ اداروں میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سرانجام دیں۔بہت سی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی اور تقریباً ۲۴ ممالک کی سیر و سیاحت بھی کی۔اتنی مصروفیت کے باوجود آپ کے دل میں فکرِ اقبال کو پروان چڑھانے کا جذبہ کبھی مانڈ نہ پڑا۔اور آپ نے اقبال شناسی کا نیا باب رقم کیا۔
مارچ 2005ء میں ہندوستان جانے کا موقع ملا تو سید مطفر حسین برنی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔آپ کی شخصیت کے حصار کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔مظفر حسین برنی نے اپنی مرتب کردہ ’’ کلیاتِ مکاتیبِ اقبال ‘‘ کی چاروں جلدوں کا تحفہ عنایت فرمایا اور ساتھ ہی اپنی تخلیق ’’ محبِ وطن اقبال ‘‘ سے بھی نوازا۔اس کتاب کے حوالہ سے کچھ گفتگو بھی ہوئی۔ اور میں ان سے گفتگو میں مگن وصال کے مزے لوٹ رہا تھا۔ بنیادی طور پر محب وطن اقبال ایک خطبہ سے ماخوذ ہے۔ ’’اقبال اور قومی یک جہتی‘‘سید مظفر حسین برنی کا وہ خطبہ ہے جو آپ نے بھوپال کی یونیورسٹی میں ۱۸‘ جنوری ۱۹۸۴ء کو پڑھا تھا۔آپ کا یہ خطبہ کتابی شکل میں’’اقبال اور قومی یکجہتی‘‘ کے نام سے ہریانہ ساہتیہ اکادمی،چندی گڑھ بھارت نے شائع کیا تھا ۔ ۶۲ صفحات پر مشتمل یہ خطبہ فکر و فن ،موضوعات اور قومی و ملی خدمت کا بہترین نمونہ ہے۔
پہلے ایڈیشن پر مختلف قسم کیرائیں سامنے آئیں۔ ڈاکٹر وحید عشرت نے تبصرہ کیا۔آپ نے کتاب کو ایک افسوس ناک مثال کہا۔آپ نے تو یہاں تک اعلان کر دیا کہ یہ بھارت میں اقبال کو شدھی کرنے کی ایک مہم ہے۔آپ کے خیال میں اقبال کو بدنام کرنے کی یہ مہم ہندوستان کی حکومت وہاں کے مراعات یافتہ مسلمانوں کے ہاتھوں کروا رہی تھی۔
اس کتاب سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ وہاں کے مسلمان المناک صورتِ حال سے دو چار ہیں کہ وہ اپنے روزگار اور اپنی بقا کے لیے مجبور ہیں کہ کانگرس اور ہندوؤں کی خوشنودی کے لیے اپنی شناخت کے تمام نشانات خود اپنے ہاتھوں سے مٹانے کی بھی پروانہیں کرتے۔تبصرہ نگار کے مطابق اس کتاب میں اقبالؔ ہی کے بارے میں انتہائی غلط بیانی سے کام نہیں لیا گیا بلکہ علم و تحقیق کے معروف اور مروجہ اصولوں کی بھی نفی کی گئی ہے۔ آپ نے لکھا کہ:
’’اس کتاب میں اقبالؔ کے بارے میں فکری تناظر کو ایک طرف رکھ کرچند جزوی باتوں،فقروں
اور اقتباسات سے اپنی من مرضی کے مضمون کا استخراج کیا گیا ہے(۱)
دراصل بھارت کے نقاد اور محقق یہ محسوس کرتے ہیں کہ اقبال اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ان کے خیال میں اقبال کی توانا فکر اور نظر یہ پاکستان کی پشت پر موجود ہے۔ان کے خیال میں یہی وجہ پاکستان کو فکری اور نظری طور پر مستحکم کیے ہوئے ہے۔اس لیے اقبال کے فکر کو چھوڑ کر، اقبالیات کے موضوعات کو پسِ پشت ڈال کر ایسی بحث کا آغاز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو فکرِ اقبال کو نقصان پہنچاتی ہے۔اس طرح اقبال کی فکری اور فنی خوبیوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
یہ سوچنا بالکل غلط ہے کہ بھارتی محققین اور مدبرین کی سربراہی میںیہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ اقبالؔ کو عظیم شاعر کے ساتھ ساتھ بھارت کا شاعر قرار دیا جائے۔یہ خیال بھی غلظ ہے کہ اقبالؔ کو عظیم شاعر کہہ کر ان کا مقصد اقبالؔ کی عظمت کو بلند کرنا نہیں بلکہ وہ اقبالؔ کے عظیم مفکر ہونے کے تصور کو دھندلا دینا چاہتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ اقبالؔ کو پاکستان کا نظریہ ساز فلسفی کی بجائے اردو زبان کے دیگر شعراء میں بھی شامل کیا جائے اور اقبال کے فکر و فلسفہ کی آفاقیت کو تسلیم کیا جائے۔کچھ محققین یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور اقبالؔ کے درمیان ایک نہ پُر ہونے والی خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس سلسلہ میں بھارت کی مختلف جامعات ،علمی ادارے اور دیگر سربرآوردہ ماہرین اور محققین سرگرمِ عمل نظر آتے ہیں۔شاید بھارت میں اقبالؔ انسٹی ٹیوٹوں کا قیام اور اقبالؔ مراکز کی سر پرستی کے پیچھے یہی فکر کام کر رہی ہے۔
تحقیق کے نام پر اس قسم کی اشاعتی کتب تیزی سے آرہی ہیں کہ جن میں اقبالؔ کے فکرو فلسفہ کا رنگ بدلنے کی کاوش نظر آتی ہے۔سید مظفر حسین برنی کی کتاب سے قبل اسی موضوع سے ملتی جلتی ایک کتاب پروفیسر حسن احمد کی بھی تھی جو علی گڑھ یونیورسٹی سے شائع ہوئی تھی اور یہی موضوع ’’اقبال اور قومی یک جہتی‘‘ میں اپنایا گیا ہے۔ ماہرین اپنے خیالات کے اظہار میں آزادی کا حق رکھتے ہیں اس لیے اُن کی یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ :
’’’محبِ وطن اقبال‘ اور’اقبال اور قومی یک جہتی ‘میں پاکستان کے خلاف اقبالؔ کے نظریات
توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی ایک غیر دیانت دارانہ سعیِ نامبارک ہے(۲)
سید مظفر حسین برنی نے اقبال کی وطن اور سرزمینِ ہندو پاک سے محبت ظاہر کرنے والی نظموں کو بہ طور دلیل استعمال کیا ہے۔مگر ایسا ہرگز نہیں کہ اقبالؔ نے ہندوؤں کے بھارت سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اقبال نے مسلم ہندوستان کی بات کی ہے جس میں مسلمان برسرِ اقتدار تھے۔اس لیے اقبالؔ ’’ترانۂ ہندی‘‘ میں کہتے ہیں۔

اے آبِ رودِ گنگا! وہ دن ہیں یاد تجھ کو ؟
اترا ترے کنارے جب کاروان ہمارا (۳)
اقبالؔ کا اپنا تشخص مسلم ہندوستان سے ہے جس کے کنارے مسلمانوں نے اپنے اقتدار کے جہاز کو لنگرانداز کیا۔برنی نے خود لکھا ہے کہ:
’’اقبال نے اپنی شاعری کے دورِ اولین میں چند بہت ہی متاثر کرنے والی
اور جذبہ حبِ وطن سے بھرپور نظمیں لکھی ہیں‘‘(۴)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اقبال اپنے فکری ارتقاء کے بالکل ابتدائی دور ہی میں حب الوطنی کے تصورات رکھتے تھے۔اپنے فکری ارتقاء کے ابتدائی نصف دور میں وہ خالصتاً اسلامی تصورات پر اصرار کرتے رہے۔اقبالؔ کی اپنی مٹی،اپنی سر زمین سے محبت والی نظمیں وطن سے جس محبت کا اظہار کرتی ہیں،وہ فطری محبت ہے۔
اقبالؔ برصغیر میں پیدا ہوئے اور ان کی ذہنی وابستگی فطری طور پر اس سر زمین سے تھی۔اس لیے یہاں کے پہاڑ، دریا اور افراد سے ان کی محبت، ان کی اپنے وطن سے فطری محبت کی گواہ ہے جو کسی کے ایمانیات کے منافی نہیں ہے۔لہذا اقبالؔ نے اپنی شاعری میں جس وطن سے محبت کا ذکر کیا ہے وہ ہندوستان سے محبت ہی ہے۔اقبالؔ نے وطن سے محبت کا جو ذکر کیا ہے اس کارابطہ کسی بھی طرح کانگرس کے اکھنڈ بھارت سے نہیںکیا جا سکتا اور نہ ہی اسے ایک قومی نظریہ سے کوئی ربط ہے۔اقبال کی حب الوطنی کا تصور انتہائی نیک اور پاکیزہ ہے۔ اس میں کسی سیاسی نظریے کو دخل نہیں۔اقبال کی پاکیزہ سوچ میں مغربی حب الوطنی اور وطن پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔
وطن سے شدید محبت کے باوصف جب وہ سارا ہندوستان چھوڑ کر مسلم اکثریت کے شمال مغربی علاقے میں مسلمانوں کو آزادانہ طور پر اپنی مرکزیت قائم کرنے پر آمادہ کرتے ہیں تو اس کی وضاحت میں بھی بہت کچھ کہتے ہیں۔ اقبال کو ہندوستان میں امن و امان ہی عزیز تھا۔وہ اپنی گفتگو مین بھی ہندوستان ہی کو مقدم رکھتے تھے۔کہتے ہیں:
’’اس لیے میں ہندوستان اور اسلام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک متحدہ
مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہوں۔اس سے ہندوستان کے
اندر توازن قوت کی بدولت امن و امان قائم ہو جائے گا ‘‘ (۵)
اس سے ان کے ذہنی سفر اور ارتقاء کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اپنی اس رائے کے پیچھے اقبال ایک اخلاقی نصب العین رکھتے تھے وہ نصب العین جو انسان کو کسی خاص علاقے کی سرزمین سے وابستہ نہیں سمجھتا بلکہ اقبال کے نزدیک انسان ایک روحانی ہستی ہے جو ایک اجتماعی معاشرتی نظام کا زندہ و متحرک اور چند حقائق و فرائض کا حامل ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اقبال کی حب الوطنی ان کی قومی یک جہتی،ہندوستان کے لوگوں کی بھی یک جہتی تھی۔ ان علاقوں میں ہر مذہب کے لوگ آباد تھے۔اس سے اقبالؔ کا یہ مقصد ہرگز نہ تھا کہ کوئی سیاسی تقسیم عمل میں لائی جائے۔
دراصل ہندو مسلم یک جہتی پر زور دینے والے یہ چاہتے تھے کہ ہندو اکثریت کو برصغیر میں اقتدار مل جائے اور مسلمان ان کی غلامی میں رہنے پر مجبور ہو جائیں۔اقبالؔ نے نہ تو کبھی مسلمانوں کی غلامی کا خواب دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی اس غلامی کو تیار ہوئے تھے۔شاید اس نقطہ کو ہندو مسلم اتحاد کے کانگرسی مسلمان سمجھنے سے قاصر تھے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے مسلمانوں کے لیے بڑے ہی ارزاں داموں غلامی خریدی ورنہ اگر پورے برصغیر کے مسلمان ایک ہوتے اوایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوتے تو شاید آج ہندوستان میں ان کی حیثیت اور ان کا مقام مختلف ہوتااورفکرِ اقبال کی ترویج و اشاعت کے لیے بہت اچھی صورتِ حال دیکھنے کو ملتی۔
پاکستان کے عوام اقبال کو نظریۂ پاکستان کا بانی قرار دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ اقبال کے فکر و فن کو پروان چڑھانا اپنا قومی اور ملی فریضہ بھی سمجھتے ہیں۔اس لیے اقبال سے متعلق کسی بات کو وہ پاکستان سے ہی منسوب کرتے ہیں۔اقبال کے حوالے سے جب بھی نئی کتاب آتی ہے تو اس کا مطالعہ کرنے کے بعد علمی اور ادبی حلقوں میں اس پر گفتگو کا بازار گرم رہتا ہے۔ رائے منفی بھی ہوتی ہے اور مثبت بھی۔ اس سے فکرِ اقبال کے پوشیدہ گوشوں کہ نشاندہی بھی ہوتی ہے اور اقبالیات کے میدان میں موضوعات کا دائرہ بھی وسیع ہوتا ہے۔ برنی صاحب ہی کیا اور بھی کئی تصانیف ایسی ہیں جن پر سخت قسم کی رائے سامنے آتی ہے۔ پاکستان کے ادبی حلقوں کے نزدیک ’’محب وطن اقبال‘‘ کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس میں ایک مسلمہ حقیقت سے انکار کیا گیا ہے۔دراصل اس میں یہ واضح کرنے کی سازش نظر آتی ہے کہ شاید اقبالؔ پاکستان کی موجودہ تقسیم کے حامی اور موجد نہ تھے۔ اس سے قبل پنڈت جواہر لعل نہرو،تھا مسن اور مولانا راغب احسن کے حوالے سے پروفیسر حسن احمد نے اپنی کتاب’’اقبال آن دی کراس روڈ‘‘ میں بھی یہی ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ان کے خیال میں ۱۹۳۰ء میں اقبالؔ نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں محض مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے ایک الگ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا تھا۔اور بعد میں ہندوستان کے اندر ایک مسلم اکثریتی صوبے کے حامی بن گئے تھے۔
جسٹس جاوید اقبال،پروفیسر محمد منور اور متعدد دوسرے ماہرین نے اپنے اپنے انداز سے اس کی وضاحت کی مگر ہر بھارتی مسلسل یہی کہتا جا رہا ہے ۔خود برنی صاحب نے پروفیسر آل احمد سرورؔ کا بھی حوالہ دیا ہے کہ انہوں نے تھا مسن کی روایت کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر وحید عشرت نے اپنی وضاحت میں لکھا کہ:۔
’’جہاں تک پنڈت نہرو کا تعلق ہے تو ان کی بات ہی اور ہے، وہ جھوٹ بولنے میں
اپنا ثانی نہیں رکھتے۔جب پنڈت نہرو نے اقبالؔ سے ملاقات کی تھی تو انہوں نے
اقبالؔ سے کہا تھا کہ مسلم قوم جناح کے بجائے آپ کی بات زیادہ مانتی ہے اور آپ
سے زیادہ بہتر طور پر مفاہمت ہو سکتی ہے تو اس وقت اقبالؔ نے کہا تھا کہ میرا اور
مسلمانوں کا قائد تو محمد علی جناح(قائدِ اعظم) ہے(۶)
یعنی اقبالؔ نے قائدِ اعظم پر اعتماد کیا اور ان کی تائید کی ۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کی ذہنی اور فکری رسائی اور تائید قائدِ اعظم کے ساتھ تھی۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اقبال اورقائدِ اعظم کی فکری ہم آہنگی زیادہ معتبر ہے۔پھر تامسن اور راغب احسن کا جو حوالہ برنی صاحب نے دیا ہے۔ وہ ۱۹۳۴ء اور ۱۹۳۵ء کا زمانہ ہے جبکہ قائدِ اعظم کو اقبالؔ نے جو خطوط لکھے اور جن میں آزاد مسلم ریاست کی بات کی، وہ جون ۱۹۳۷ء کے زمانے کے خطوط ہیں جس سے تھامسن اور راغب احسن،دونوں کے موافق ہونے کی تردید ہوتی ہے۔
اس سارے قصے میں اصل بات یہ ہے کہ اقبالؔ نے تھامسن او رراغب احسن سے شمالی مغربی ہند کے مسلم اکثریتی علاقے میں مسلمانوں کی ایک آزاد ریاست کے قیام کی اپنی تجویز کو غلط نہیں کہا تھا اور نہ اس سے دست برداری کا اعلان کیا تھا بلکہ ہر موقع پر ایک تو اتر اور تسلسل کے ساتھ وہ اسی پر زور دیتے رہے اور اسے مسلمانوں کے ثقافتی،مذہبی اور معاشی مسئلے کا حل قرار دیتے رہے۔اور اقبالؔ نے پاکستان کی اس تجویز سے اپنی برأت کا اعلان کیا تھا کہ جو چوہدری رحمت علی نے پاکستان کے نام سے پیش کی تھی۔ڈاکٹر ایوب صابر اس حوالہ سے فرماتے ہیں:
’’اقبالؔ کی مسلم ریاستی علاقوں پر مشتمل ریاست کا اس وقت تک کوئی نام نہ تھا
جبکہ چودھری رحمت علی نے اپنی تجویز جس میں انہوں نے پاکستان کے نام
سے ایک ناقابلِ عمل تصور دیا تھا جس میں پاکستان، بنگستان،عثمانستان،
صدبقستان،فاروق ستان،حیدرستان،بلوچستان،صفستان اور نصیرستان
وغیرہ تخلیق کی بات کی گئی تھی(۷)
یہ پاکستان کی تقسیم اقبالؔ کی نہ تھی بلکہ چودھری رحمت علی کی تھی مگر اس زمانے میں تاثر یہ دیا گیا کہ یہ تجویز بھی اقبال کی ہے۔اقبالؔ نے اس تجویز پرکہ جو پاکستان کے نام سے پیش کی گئی تھی کہا کہ یہ میری تجویز نہیں ہے تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ریاست کی تجویز سے دستبردار ہوگئے تھے۔برعظیم پاک و ہند کی ملتِ اسلامیہ کے مستقبل کے بارے میں اقبال کے نظریات ان کی عصری آگہی کا مظہر ہیں۔ بلاشبہ ان میں قومی اور ملی درد نمایاں ہے۔
اقبالؔ نے پاکستان کا لفظ اپنی ریاست کے لیے استعمال نہیں کیا تھا یہ تو ہندوؤں کا مسلسل پروپیگنڈا تھا کہ مسلمان پاکستان بنانا چاہتے ہیں ۔اقبال نے چودھری رحمت علی کی پاکستان سکیم کے بارے میں کہا تھا کہ یہ میری تجویز نہیں۔اِس سلسلہ میں ڈاکٹر ایوب صابر کی کتاب’’ تصورِ پاکستان‘‘ میں’’پاکستان کا محرکِ اول:چودھری رحمت علی‘‘ کے عنوان سے موجود باب نمبر۳ کا پانچواں حصہ قابلِ غور ہے۔(۸)
جب اقبال ۱۹۳۷ء میں موجودہ پاکستان پر مشتمل ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے قائدِ اعظم کو خط لکھتے ہیں تو انہیں اس آزاد مسلم اکثریتی ریاست کا بانی اور مفکر کہا جائے گا جسے ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو پاکستان کا نام دیا گیا۔چودھری رحمت علی کی پاکستان سکیم سے اقبالؔ کا اظہارِ عدم تعلق دراصل اسی سکیم سے اظہارِ عدم تعلق مراد لیا جائے گا، قائدِ اعظم کے پاکستان سے اظہارِ عدم تعلق مراد نہیں لیا جا سکتا کیونکہ قائدِ اعظم کے نام اقبال کے خطوط اس بات کی شہادت فراہم کرتے ہیں کہ اقبالؔ موجودہ پاکستان کے لیے اپنی صحت کی کمزوری کے باوجود، ایک تسلسل سے قائدِ اعظم کو ترغیب و تائید فراہم کرتے رہے۔
ڈاکٹر وحید عشرت نے برنی صاحب کی تصنیف کا مطالعہ کرنے کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’علمی سطح پر محققانہ استدلال اور سیاسی مقاصد کے تحت پروپگنڈا مزاج
رکھنے کی وجہ سے کتاب’’محبِ وطن اقبال‘‘ مایوس کن ہے اور مسلمہ
حقائق کو نظر انداز کرکے غیر مصدقہ روایات پر استوار ہونے کی وجہ
سے خاصی کمزور ہے۔اور سوائے اپنے قارئین کو جو یک طرفہ طور پر جو
محض ایسی ہی کتب پڑھتے ہیں،حقائق سے ناواقف رکھنے کی کوشش کے
سوا کچھ اور نہیں۔کتاب عمدہ کا غذ پر بڑے اہتمام سے شائع کی گئی ہے
شاید اس لیے کہ کتاب ایک گورنر کی ہے ‘‘(۹)
اس کے باوجود’’اقبال اور قومی یک جہتی‘‘ پہلاایڈیشن منظرِ عام پر آیا تو اہلِ نظر نے اس کی پذیرائی یوں کی۔مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے برنی صاحب کے مطالعہ کی تعریف کچھ ان الفاظ میں فرمائی:
’’آپ کے وسیع مطالعہ اور اظہارِ خیال کی قدرت سے مسرت بھی ہوئی
اور حیرت بھی کہ ان مصروفیتوں کے ساتھ آپ مطالعہ اور تصنیف کے
لیے کیسے وقت نکال لیتے ہیں۔دعا و تمنا ہے کہ اقبالؔ کی شاعری اور پیغام
کے دوسرے پہلوؤں پر بھی آپ کو توجہ فرمانے کا وقت ملے جو ان کے
کلام کی اصل روح اور قدر و قیمت ہے‘‘ (۱۰)
ہندوستان کے پروفیسر نورالحسن’’گہرافکری عمل‘‘ کے حوالہ سے کہتے ہیں کہ:۔
’’اقبال اور قومی یک جہتی‘‘ نہ صرف اقبالؔ کی شاعری اور فکر کے مطالعہ میں ہی
گرانقدر اضافہ ہے بلکہ آپ کے اپنے گہرے فکری عمل کی بھی عکاسی کرتی ہے‘‘(۱۱)
ہندوستان کے شمس الرحمن فاروقی صاحب (مرحوم )، تحقیق و تنقید کا بہت ہی معتبر نام تھا۔علم و ادب کے لیے آپ کی کاوشیں بے مثال و با کمال ہیں۔ اقبالیات کا شعور رکھتے تھے ۔آپ کے منہ سے نکلی ہوئی بات سند کا درجہ رکھتی تھی۔آپ نے برنی صاحب کے اعلیٰ درجہ کے اقبال شناس ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ کتاب کے حوالے سے کہتے ہیں:
’’آپ کا استد لال اور مواد کی تنظیم بہت عمدہ اور موثر ہے۔دیباچہ بھی آپ
نے نہایت عالمانہ تحریر فرمایا ہے۔اقبال کی شاعری اور تصورات کے قوم
پر ستانہ کردار پر آپ نے جس عمدگی سے بحث کی ہے، اس سے اندازہ ہوتا
ہے کہ آپ اعلیٰ درجہ کے اقبال شناس ہیں اور مشرق و مغرب کے تصورات
پر آپ کی نظر گہری ہے(۱۲)
پروفیسر محمد منور،’’ سابقہ ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی،پاکستان۔لاہور‘‘ نے اسے ایک قابلِ قدر تخلیق کہا ہے جس کے لیے سید مظفر حسین برنی کو مبارکباد دی تھی اور ساتھ ہی ان کی صحت اور کامرانی کے لیے دعا دی ۔۱۳
ہندوستان سے گرجاکمارماتھر نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا :
’’میں نے اقبالؔ پر آپ کے لیکچر کو پڑھا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ
آپ نے اقبالؔ کی شاعری کا ایک نیا پہلو اجاگر کیا ہے۔آپ نے
اقبالؔ جیسے ایک عظیم شاعر کے ایک ایسے پہلو پر روشنی ڈالی ہے، جس کو
اب تک زیادہ اہمیت نہیں دی گئی‘‘(۱۴)
ریوتی سرن شرما کو اقبال کی شاعری میں اپنے وطن کی خوشبو بہت بھلی محسوس ہوئی اور کہا:
’’ اقبالؔ کی شاعری میں وہ عناصر موجود ہیں،جن سے آج بھی ہم وہ
خوشبو سونگھ کر سرشار ہو سکتے ہیں جو اس سر زمین کی ہے‘‘(۱۵)
ڈاکٹر تاراچرن رستوگی نے برنی صاحب کے خطبے کو اہم ترین کتابوں سے بہتر قرار دیا۔کہتے ہیں:
’’کہنے کو یہ خطبہ ۶۲ صفحات پرمحیط کم ضخامت کتا بچہ ہے مگر رقبۂ معنوی و تنقیدی
لحاظ سے ضغیم کتابوں پر فوقیت کا حامل ہے‘‘(۱۶)
برنی صاحب نے اقبالؔ کے پیغام کو بڑے دلکش اور عالمانہ انداز میں پیش کیا ۔ٓپ کی ادبیا ت پر گرفت خاصی مضبوط تھی اور علم سر چشمۂ افہام و تفہیم سے عبارت تھا۔اقبال اور اقبالیات سے دلچسپی اور ان کا غائر مطالعہ معمولی بات نہیں ہے۔اقبالیات کوآپ کے مقالے سے ایک نیا سنگِ میل ملا ہے۔
پہلے ایڈیشن پر علمی رسائل کے تبصروں سے کچھ اقتباسات’’زبانِ خلق‘‘ کے نام سے کتاب کی زینت بنے ہیں۔ ہفت روزہ ہماری زبان،نئی دہلی (۱۵ جنوری ۱۹۸۵؁ء) پر ڈاکٹر خلیق انجم کا تبصرہ شائع ہوا ہے۔مضمون نگار نے کتاب کے مصنف سید مظفر حسین برنی کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے اقبال کو خود ان کے نظریات اور فن کے آئنے میں دیکھا ہے۔دراصل اقبالؔ کے حوالہ سے کچھ لکھنے بیٹھیں تو قاری کی اپنی پسند اور ناپسند بھی راہ کی رکاوٹ بن جاتی ہے۔اس مضمون میں برنی کی اس کاوش کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا ہے کہ جو انہوں نے ہندوستان میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کے لیے کی تھی۔اس وقت برنی وزارتِ داخلہ میں سیکرٹری تھے۔تبصرہ نگار نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ:۔
’’برنی کا خیال درست ہے کہ اقبالؔ نے قومیت کے عقیدے کو ترک
کر دیا تھا لیکن اپنے وطن سے ان کی محبت میںکبھی کمی نہیں آئی تھی۔
وہ وطن پرستی کے خلاف نہیں تھے،اس تنگ نظری اور جنون کے خلاف
تھے جو انسان کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے‘‘(۱۷)
ڈاکٹر شاربؔ ردولوی کا تبصرہ رسالہ ’’آج کل‘‘(اردو) نئی دہلی سے فروری ۱۹۸۵؁ء میں شائع ہوا۔آپ نے اپنے تبصرہ کے آغاز میں لکھا کہ اقبالؔ کے بارے میں نئے موضوع کی تلاش جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔برنی کی تعریف کرتے ہوئے اُن کی کاوش کو سراہا ہے اور اس کتاب کے موضوع کو مطالعہ اقبال میں نیا قرار دیا ہے اور اس موضوع کو وقت کے تقاضے کے عین مطابق قرار دیا ہے۔اس تبصرے میںیہ بھی لکھا ہے کہ ’’اقبال اور پاکستان‘‘ برنی کے خطبہ کا ایک اہم حصہ ہے۔لیکن اس بات کے فوراً بعد یہ کہا ہے کہ اقبال پاکستان کے بانی نہ تھے اور یہ بھی کہا کہ:۔
’’برنی نے اقبال کے بعض خطوط کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ
اقبال پاکستان کے حامی نہیں تھے بلکہ وہ انڈین فیڈریشن میں مسلم
صوبے کی تشکیل چاہتے تھے انہوں نے بار بار اپنے اس نقطۂ نظر کی
وضاحت کی ہے تاکہ کوئی غلط فہمی نہ رہے‘‘(۱۸)
ہندوستان کے شہر حیدرآباد سے ایک اخبار’’روزنامہ سیاست‘‘ ۳۱،دسمبر ۱۹۸۴ء کو شائع ہوا۔ اس اخبار میں وہاں کے پروفیسر مغنی تبسم کا ایک مضمون شائع ہوا جو سید مظفر حسین برنی کی اس کتاب کے پہلے ایڈیشن جو کہ سید مظفر حسین برنی کے خطبہ بھوپال کا اردو ترجمہ تھی اور اس کا نام ’’اقبال اور قومی یک جہتی‘‘تھا‘‘اس کے بارے میں لکھتے ہوئے تبصرہ نگار نے داخلی اور دستاویزی شواہد کے ساتھ اقبالؔ کو ایک سیکولر شاعر کہا ہے اور ساتھ ہی تبصرہ نگار نے اقبالؔ کے فلسفہ خودی کے حوالہ سے لکھا کہ:
’’ اس زمانے میں یہ نظر یہ اس عہد پر چھائے ہوئے حالات کا نتیجہ تھا
جس کے اخلاقی اور معاشی نظام اور سیاست میں اقبالؔ نے آنکھیں
کھولی تھیں۔ایک غلام قوم کے لیے خود اعتمادی،خود شناسی اور تعمیرِ خودی
کے سوا کوئی مناسب پیغام ہو بھی نہیں سکتا(۱۹)
تبصرہ نگار کا کہنا ہے کہ اقبالؔ کا یہ فلسفۂ خودی دراصل ایک شاعر کا ردِ عمل ہے جو اقبالؔ نے اپنے ملک کی سیاسی غلامی میں محسوس کیا تھا۔کتاب میں آنے والے مضامین کا مطالعہ کرنے کے بعد تبصرہ نگار نے تشنگی کے باقی رہنے کا اظہار بھی کیا ہے۔
نئی دہلی سے شائع ہونے والے ایک ہفت روزہ اخبار’’قومی آواز‘‘ میں ۲۱‘ اپریل ۱۹۸۵ء کو عادل صدیقیؔ کا تبصرہ شائع ہوا ہے۔جس میں آپ نے برنی کی تعریف کی اور ان کو انسان دوستی کا قائل کہا۔ اقبالؔ کے نظریہ خودی کے حوالہ سے فکر اقبالؔ اور برنی کی کاوش کو سراہا اور بات کو قومی یک جہتی کی راہوں پر استوار کرتے ہوئے لکھا کہ:۔
’’فاضل مصنف نے اس کتاب کو انجہانی اندراگاندھی مرحومہ کے نام معنون کرکے
اس قومی یک جہتی کے باب میں ایک مینارہ نور بنا دیا ہے‘‘(۲۰)
مندرجہ بالا خیالات سے یہ عیاں ہے کہ ہندوستان کے ماہرینِ ادب اور اقبالیات سے دلچسپی رکھنے والے افراد ہندوستان میں اپنی بقا کے لیے،ترقی کے لیے یاکم از کم اپنے نام کے لیے اقبالؔ اور ہندوستان کو بہ طور محبِ وطن کتنا اہم مجھتے ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ لوگ دن رات صرف اس کاوش میں مصروف ہیں کہ ہندوستان کے سیاسی اور سماجی،معاشی اور معاشرتی حالات کو ایک ایسا رنگ عطا کریں کہ لوگ اقبالؔ کا نام لیں تو اس میں حب الوطنی کا پہلو نمائیاں ہو۔
ہندوستان کے ایک ماہنامے میں ڈاکٹر علیم اللہ حالیؔ نے کتاب کے حوالہ سے یہ بتایا ہے کہ ہر بات ثبوت اور مستند حوالہ جات سے مذین ہے۔اور ساتھ ہی لکھا کہ:
’’اس کتاب سے اقبالؔ کی زندگی اور فکر کے اس گوشہ پر بھرپور انداز میں روشنی
پڑتی ہے جو آج ہندوستان میں ہمارے ذہنوں کی تعمیر میں مددگار ہو سکتا ہے۔
مطالعہ اقبالؔ کے سلسلہ میں یہ پیش کش اہمیت کی حامل ہے‘‘(۲۱)
’’رسالہ بیسویں صدی‘‘ نئی دہلی ہندوستان سے شائع ہوا۔مارچ ۱۹۸۵ء میں وہاں کے ’’ایس۔ایس۔پرویز‘‘ نے ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو اقبال پر تعصب اور فرقہ پرستی کا الزام لگاتے تھے۔ آپ نے لکھا کہ:
’’سچ پوچھیے تو یہ ایک ایسی مختصر اور مستند کتاب ہے جس کی اشاعت کے بعد ان
مفاد پرست لوگوں کو یقینا شرمندگی ہوگی جنہوں نے جان بوجھ کر یا
نادانستگی میںاقبالؔ کی شخصیت کو ایک فرقہ پرست شاعر کے طور پر پیش کیا ہے۔
بلاشبہ اقبال کے سلسلے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے اس مختصر
کتابچہ پر کوزے میں سمندر کو سمود ینے والی مثل صادق آتی ہے‘‘(۲۲)
’’محبِ وطن اقبال‘‘ کے نام سے شائع ہونے والی کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۸۴ء میں’’اقبال اور قومی یک جہتی‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔اس حوالہ سے کچھ لوگوں کے خیالات قلمبند کیے گئے ہیں جبکہ اس کا دوسرا ایڈیشن ’’محبِ وطن اقبال‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔
اس میں برنی صاحب نے لکھا کہ ہم نے اقبالؔ کو مشرق کی وسعتوں سے نکال کر اپنے عقائد و تصورات کے قید خانے میں ڈال رکھا ہے۔دراصل برنی صاحب نے بھوپال میں خطبہ دیا تھا۔بھوپال سے اقبالؔ کا بہت گہرا تعلق تھا۔اپنی بیماری کے دوران وہاں سے علاج کے سلسلہ میں بھی اقبال بھوپال گئے۔ وہاں کے وزیرِ تعلیم سرراس مسعود سے اقبالؔ کے مراسم تھے۔وہاں اقبال نے بہت سی نظمیں بھی لکھی تھیں۔بنی صاحب نے لکھا ہے کہ:
’’ مئی ۱۹۳۵؁ء میں حکومت بھوپال نے اقبال کے لیے پانسو روپے ماہانہ کا
وظیفہ تا حیات منظور کیا‘‘(۲۳)
برنی نے طبع اول اور طبع ثانی کے دیباچے میں یہ باتیں لکھی ہیں اور ہر یانہ ساہتیہ اکیڈمی کا بھی اپنے دل کی گہرائیوں سے پر خلوص شکریہ ادا کیا ہے جس نے اس کتاب کی اشاعت کا انتظام کر کے ایک علمی خدمت ہی انجام نہیں دی بلکہ اقبال کے پیام یک جہتی واتحادِ قومی کو عام اور نمایاں کرنے کا نیک کام کیا ہے جس کی آج ہمیں کل سے بھی زیادہ ضرورت ہے‘‘۔۲۴؎
اس کتاب کی اشاعت کے بعد استاذ الاساتذہ ،قافلہ ٔ اقبال کے حدی خواں جناب ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے بھی تبصرہ فرمایا۔آپ نے اپنے تبصرہ میں چند تشریح طلب امور پر روشنی ڈالی اور مجموعی طور پر کتاب کا جائزہ لیا ۔
دوسرے ایڈیشن میں بہت سی تبدیلیاں یا اضافے کیے گئے تھے اور نام بھی بدل دیا گیا تھا۔ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے خیال میں:
’’ اس معیار سے اسے ایک نئی کتاب ہی سمجھنا چاہیے‘‘(۲۵)
اس کتاب میں برنی صاحب نے بتایا ہے کہ انہوں نے اقبال کے بارے میں غلط فہمیوں کی گردوغبار کو دور کرکے،ہندوستان کے ادبی و فکری ماحول میں اقبال کو بحالREINSTATE یا REINSTALLکرنے کی ایک دیانت دارانہ کوشش کی گئی ہے۔(۲۶)
برنی کی اقبال سے محبت،فرقہ ورانہ نااتفاقی پر ان کے غم و اندوہ،نظریہ قوم پرستی سے بیزاری کے بعد اسلامی وطنیت کی طرف ان کی مراجعت،اقبالؔ کے ہاں حبِ وطن کے عناصر،ہندوستانی فلسفے کے گہرے مطالعے اور اقبال کے فلسفۂ عمل پر بھگوت گیتا کے اثرات بعض مفکروں اور شخصیات کے اعتراف،نیز ہندوستان کی غلامی پر اقبال کے رنج و کرب پر ان کی شاعر ی سے استشہا د کیا ہے۔ اور بعض ہندو اور سکھ شخصیات سے اقبال کے نجی مراسم کا بھی ذکر کیا ہے۔برنی ؔ صاحب کا یہ کہنا تو بجا ہے کہ:
’’ حبِ وطن اور وطن پرستی دو الگ چیزیں ہیں اقبال و طنیت کا بت نہیں
بناتے۔ان معنوں میں وہ’’وطن پرست‘‘ نہ ہوں لیکن ان کا
’’محب وطن‘‘ ہونا شک و شبہ سے بالاتر ہے‘‘(۲۷)
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے بہ غور مطالعہ اور تحقیق کے بعد برنی صاحب کے خطبے کے بارے میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ:
’’ برنی صاحب کے بعض بیانات غلط فہمی پر مبنی ہیں‘‘(۲۸)
ٓآپ نے مثال کے طور پر ’’اسلامی وطنیت‘‘ کے زیرِ عنوانکہی گئی باتوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔ برنی صاحب نے اپنے خطبے میں ’’اسلامی وظنیت ‘‘ کے حوالے سے کہا کہ:
’’وہ ایک ایسے بین الاقوامی نظام کے متلاشی ہوئے جو بلند اور شریفانہ اقدار
پر مبنی ہو۔انہوں نے سوچا کہ اس نئے سماجی نظام کے لیے اسلام ایک خاکہ
پیش کرتا ہے۔مگر حالات اب یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ امید بھی پُر فریب تھی۔
اقبال دیکھنے کے لیے زندہ ہوتے تو ان کی یہ امید کہ ساری انسانیت اسلام
کے نام پر متحد ہو سکتی ہے،ہمارے زمانے میں مسلسل جاری رہنے والی ایران
عراق جنگ سے ہی پارہ پارہ ہو گئی تھی‘‘ (۲۹)
شاید یہاں برنی صاحب نے صورتِ حال کو بہت ہی ظاہری اور سطح بیں نظروں سے دیکھا ہے اور بہت جلدی میں کوئی نتیجہ اخذ کیا ہے وہ بلاتامل یہ تو تسلیم کر ہی لیتے کہ اسلام سماجی نظام کا جو خاکہ پیش کرتا ہے اُس میں اونچ نیچ اور ذات پات کا وہ فرق کسی ادنیٰ درجے میں بھی نہیںملتا جس کو نہایت تکلیف دہ مثالوں سے روشن خیالی کے اس دور میںکسی بھی ملک کاموجودہ سیکولر سماج کراہ رہا ہے۔اگرچہ کوئی خاص یا مثالی سماجی نظام بھی موجود نہیں ہے مگر پھر بھی ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کہتے ہیں کہ:
’’محض مذہب کی بنا پر آج تک کسی ہندو بلکہ کسی بھی غیر مسلم کا بال تک بیکا نہیں ہوا۔
مگر ہندوستان کے غیر مذہبی سیکولر سماج میں ان انتالیس برسوں میں(یہ ۱۹۴۷ء
کی بات ہے اسے آج یعنی ۲۰۲۱ء تک کے۷۴برسوں میں) بھی مختلف پہلوؤں
سے مسلمانوں پر کیا کچھ بیتتی ہے،اور خود ہندوؤں پر کیا کچھ بیت رہی ہے اس
سے برنی ہم سے کہیں زیادہ واقف ہوں گے‘‘(۳۰)
اگرچہ ایران اور عراق کی جنگ کسی المیے سے کم نہ تھی لیکن اس بنیاد پر ایک بین الاقوامی نظام کی طرف پیش رفت میں ایسی رکاوٹیں ہمیشہ عارضی ہوتی ہیں۔اگر آپ گلی کوچے میں دو افراد کو باہم دست وگریباں دیکھ کر انسان سے مایوسی کا اعلان کر دیں اور اس کے مستقبل کو تاریک اور سیاہ قرار دے ڈالیں تو کیا یہ رویہ قرینِ بلوغت و دانش مندی ہو گا؟محترم ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے برنی صاحب کے سات صفحات کی تحریر کو مختصر اور تشنہ قرار دیا (۳۱)اور کہا کہ اس سے برنی صاحب نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ :
’’یہ بات صاف ظاہر ہے کہ پاکستان جس شکل میں وجود میں آیا،وہ اس
کے قطعاً حامی نہیں تھے‘‘(۳۲)
اس موضوع پر برنی صاحب نے کوئی خاص کاوش نہیں کی محضSTATEMENTکافی نہیں۔بعض دیگر بھارتی مصنفین اس موضوع پر جہاں تک کاوش کر چکے ہیں،برنی صاحب کو بات وہاں سے آگے بڑھانی چاہیے تھی۔ان کی کتاب پر ایک مجموعی نظر ڈالیں تو آپ کے ہاں اقبالؔ سے ایک لگاؤ اور عقیدت کا جذبہ عیاں ہے۔بعض دیگر ہندوستانی مصنفین کے برعکس اختلافی مسائل پر برنی کا نقطہ نظر خاصا متوازن،لب ولہجہ متین و سنجیدہ اور انداز سلجھا ہوا ہے۔ اس خطبہ کے حوالے سے متضاد رائیں ضرور سامنے آتی ہیں مگر تضاد ہی رد و قبول کا حتمی پیمانہ نہیں ہوتا۔تنقید سے تحقیق کے نئے راستے کھلتے ہیں۔ برنی صاحب کی اقبال شناسی سے اقبالیات کے طلباء کو تحقیق و تنقید کے نئے زاویوں کا سراغ ملے گا۔اس مضمون کے مطالعہ سے اقبالیات میں تحقیق کی راہیں کشادہ ہوں گی اور اقبالیات میں تحقیق کے لیے نئے موضوعات کا دامن کشادہ ہو گا۔

کتابیات
٭اقبال،کلیاتِ اقبال۔اردو(لاہور:اقبال اکادمی پاکستان )اشاعت ششم ۲۰۰۴ء
٭اقبال،علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد ۱۹۳۰ء ایک مطالعہ،تفسیر و توضیح،ندیم شفیق ملک(لاہور:فیروز سنز )باراول ۱۹۹۸ء
٭ایوب صابر،پروفیسر،ڈاکٹر،تصورِ پاکستان۔علامہ اقبال پر اعتراضات کا جائزہ(اسلام آبادـ: مطبع ورڈ سیٹ ) اول ۲۰۰۴ء
٭رفیع الدین ہاشمی،ڈاکٹر،۱۹۸۵ء کا اقبالیاتی ادب، ایک جائزہ،(لاہور:اقبال اکادمی پاکستان) طبع اول ۱۹۸۶ء
٭مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال( ہریانہ: اردو اکادمی ۹۸۳ء سیکٹر ۹ پنچکولہ) ۱۹۹۹ء
حوالہ جات
۱۔وحید عشرت،ڈاکٹر،تبصرہ نگار،اقبالیات،مدیر،پروفیسر محمد منور، شمارہ ۴،(لاہور:اقبال اکادمی پاکستان )جنوری۔مارچ ۱۹۸۸ء ص ۴۴۳
۲ ۔وحید عشرت،ڈاکٹر،تبصرہ نگار،اقبالیات،مدیر،پروفیسر محمد منور،ص ۴۴۴
۳ ۔اقبال،کلیاتِ اقبال۔اردو(لاہور:اقبال اکادمی پاکستان )اشاعت ششم ۲۰۰۴ء،ص۱۰۹
۴۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال( ہریانہ: اردو اکادمی ۹۸۳ء سیکٹر ۹ پنچکولہ) ۱۹۹۹ء ص ۲۲
۵۔اقبال،علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد ۱۹۳۰ء ایک مطالعہ،تفسیر و توضیح،ندیم شفیق ملک(لاہور:فیروز سنز )باراول ۱۹۹۸ء،ص ۱۲۸
۶۔وحید عشرت،ڈاکٹر ،اقبالیات ، ص۴۴۵
۷۔ مظفر حسین برنی، سید، محبِ وطن اقبال، ص ۱۴۱
۸۔ایوب صابر،پروفیسر،ڈاکٹر،تصورِ پاکستان۔علامہ اقبال پر اعتراضات کا جائزہ(اسلام آبادـ: مطبع ورڈ سیٹ ) اول ۲۰۰۴ء،ص ۲۰۲
۹۔وحید عشرت،ڈاکٹر،اقبالیات ، ص ۴۴۷
۱۰ ۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال ، ص۱۵۶
۱۱۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال، ص۱۵۶
۱۲۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال ، ص ۱۵۷
۱۳۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال ، ص ۱۵۷
۱۴۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال ، ص ۱۵۷
۱۵۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال، ص ۱۵۷
۱۶۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال ، ص۱۵۸
۱۷۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۱۶۲
۱۸۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۱۶۳
۱۹۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۱۶۴
۲۰۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۱۶۵
۲۱۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۱۶۶
۲۲۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۱۶۷
۲۳۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۱۲
۲۴۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۱۶
۲۵۔رفیع الدین ہاشمی،ڈاکٹر،۱۹۸۵ء کا اقبالیاتی ادب، ایک جائزہ،(لاہور:اقبال اکادمی پاکستان) طبع اول ۱۹۸۶ء،ص ۳۱
۲۶۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۲۰
۲۷۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۱۵۱
۲۸۔رفیع الدین ہاشمی،ڈاکٹر، ۱۹۸۵ء کا اقبالیاتی ادب،ص ۳۲
۲۹۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۴۰
۳۰۔رفیع الدین ہاشمی ،ڈاکٹر، ۱۹۸۵ء کا اقبالیاتی ادب،ص ۳۲
۳۱۔رفیع الدین ہاشمی ،ڈاکٹر، ۱۹۸۵ء کا اقبالیاتی ادب،ص ۳۳
۳۲ ۔مظفر حسین برنی،سید،محبِ وطن اقبال،ص۱۴۹

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook