Home / خبریں / غالبیات سے متعلق نئے حقائق کی دریافت

غالبیات سے متعلق نئے حقائق کی دریافت


٭صدام حسین
احمد نگر ، سوار ، ضلع رامپور (یوپی)


’’ غالب، باندہ اور دیوان محمد علی ‘‘پروفیسر صغیر افراہیم کاتازہ ترین تحقیقی کارنامہ ہے جو حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے۔ اسے براؤن بک پبلیکیشنز دہلی نے چھاپا ہے۔ کتابت و طباعت کے لحاظ سے کتاب نہایت عمدہ ہے۔ سرورق پر غالب کی تصویر کے ساتھ ان کا ’تخلص‘ بھی درج ہے۔ درمیان میں بائیں جانب مصنف کا نام لکھا ہے۔ فلیپ پر شمیم حنفی اور حکیم سید ظل الرحمن کی قیمتیں آ راء ہیں جو اس تحقیقی کارنامے کی اہمیت و معنویت کو اجاگر کرتی ہیں۔ بیک کور پر شافع قدوائی کے قیمتی تاثرات ہیں۔تقدمہ حکیم سید ظل الرحمن نے لکھا ہے جو مصنف کی غالب فہمی کو واضح کرتا ہے۔پُر مغز دیباچہ( شمیم حنفی ) اور مقدمہ (شافع قدوائی) کے بعد مصنف کا پیش لفظ ہے۔
اگر انسان اپنے علم و فن اور ایجادات و اختراعات میں دلسوزی اور جگر کاوی سے کام لیتا ہے اور دانشورانہ اجتہادی رویہ اختیار کرتا ہے تو صدیاں بیت جانے کے بعد بھی اس کی شہرت و مقبولیت میں فرق نہیں آتا۔ ارسطو، افلاطون ،جالینوس اور بو علی سینا کو لے لیجیے یہ سب ایسے قلمکار ہیں جنہوں نے اپنے عہد میں جدت طرازی اور اجتہادی رویہ کو اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی یہ شخصیات عالمی سطح پر شہرت و مقبولیت کی حامل ہیں۔
آج کے برق رفتار دور میں بڑھتی ہوئی ترقی اور ایجادات نے انسانی ذہن کو نقالی کی طرف مائل کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے ایسے قلمکارآج بھی موجود ہیں جو اپنی فکر کو تجربات کی بھٹی میں تپاکر حقائق کا اظہار اتنی شدت اور حقیقت پسندانہ انداز میں کرتے ہیں کہ جن کا ایک ایک لفظ کندن کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ ایسی ہی ایک مقناطیسی شخصیت ہے پروفیسر صغیر افراہیم کی، جنہوں نے تنقیدی نثراور تحقیقی نثر دونوں میں جدت طرازی،اجتہادی رویہ،معروضیت پسندی اور ہمہ گیری کی ثبوت دیا ہے۔
صغیر افراہیم بیک وقت ایک کامیاب نقاد، محقق، افسانہ نویس، مدیر ،مضمون نگار اور مترجم بھی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف فکشن کی تنقید کو ہی اپنی توجہ کا مرکز و محور بنایا ہے بلکہ پریم چند شناسی کو بھی نئے ابعاد سے ہمکنار کیا ہے۔ صغیر افراہیم کی ادب دوستی اورشہرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب انہوں نے7 198ء میں اپنا تحقیقی مقالہ (اردو افسانہ :ترقی پسند تحریک سے قبل )مکمل کرنے کے بعدپریم چند کے فکرو فن پر کتاب لکھی جو’’ پریم چند: ایک نقیب‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی، تو اس وقت وہ ایک تخلیق کار اور مترجم کی کی حیثیت سے پہچان بنا چکے تھے۔ مذکورہ کتاب بے حد مقبول ہوئی جسے پڑھ کر قاضی عبدالستار جیسے ممتاز ادیب اور سینئر استاد نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ بنیادی کتاب ہے جس سے صرف طالب علموں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی فیض پہنچے گا اور تنقید کے نئے باب وا ہوں گے۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔وہ مسلسل فکشن پر کام کرتے رہے اور ان کا قلم آج بھی رواں دواں ہے۔صغیر افراہیم کے اندر جستجو ، تلاش اور کچھ کرتے رہنے کا جذبہ ہمیشہ موجزن رہاہے۔گویا ان کا نصب العین ہے:
جستجو ہو تو سفر ختم کہاں ہوتا ہے
فکشن کی نئی تفہیم ، نئی قرأت اور نئی سمجھ کی بدولت صغیر افراہیم آج برصغیر میں اردو ادب کے نامور فکشن ناقد کی حیثیت سے مشہور ہیں۔صغیر افراہیم کی ہمہ جہتی اور ادب دوستی کا ذکر شمیم حنفی یوں کرتے ہیں :
’’ صغیر افراہیم کی علمی سر گرمیاں کسی دائرے کی پابند نہیں ، ہر چند کہ افسانے کی صنف ، ان کی پہلی ترجیح ہے اور اپنے معاصر افسانہ نگاروں پر وہ گہری نظر رکھتے ہیں ۔ فکشن پپر ان کا کام مقبول ہوا ہے ۔ لیکن ادب کی نئی پُرانی صنفوں سے بھی وہ تقریباً یکساں شغف رکھتے ہیں ۔ اپنے ہم عصروں کے حلقے میں وہ غیر متنازع رہے ہیں ۔ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور جس موضوع کی طرف مائل ہوتے ہیں ، اس پر محنت کرتے ہیں ۔ حصول علم کے راستے میں اگر عاجزی ، انکساری اور بردباری بھی ساتھ ہو تو آدمی بے قابو نہیں ہوتا ہے۔‘‘(دیباچہ ، غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی ، شمیم حنفی ،ص:19)
واضح ہو کہ چند ماہ قبل منظر عام پر آنے والی اس کتاب میں دیوان اور محمد علی میں اضافت کا رشتہ نہیں ہے اور نہ یہاں لفظ’ دیوان‘ سے محمد علی کا شعری مجموعہ مراد ہے بلکہ’ دیوان‘ کا لفظ اُس دور میں وزیر کے Statusکو بتاتا تھا جو ریاست کے روینیو ڈیپارٹمنٹ کے تمام کام کاج دیکھتا تھا۔ چونکہ محمد علی شروع میں انگریز ریزیڈنٹ (بندیل کھنڈ ، باندہ )کے صدر امین تھے اور پھر ترقی پاکر دیوان یعنی وزیر ہوئے ۔ صغیر افراہیم نے اس سے متعلق تمام شواہد پیش کیے ہیں کہ سرکاری ریکارڈ میں ان کا نام دیوان محمدعلی لکھا ہے ۔صغیر افراہیم لکھتے ہیں:
’’ دیوان محمد علی نے فارسی اور عربی کی تعلیم لکھنؤ میں حاصل کی تھی ۔ بائیس برس کی عمر میں وہیں ملازمت مل گئی ۔ جلد ہی چھترپور ( بندیل کھنڈ ) میں انگریزوں کی جانب سے مقرر ریزیڈنٹ کے میر منشی ہوئے ۔ چار سال بعد صدر امین کے عہدے پر تعینات ہو گئے ۔ ،اور پھر دیوان یعنی وزیر کے منصب تک پہنچے ۔۔۔۔دیوان صاحب اپنی بردباری اور علم دوستی کی بنا پر مولوی اور مفتی کہلاتے تھے ۔صاحب حیثیت اور سخی ہونے کی وجہ سے انگریز انہیں خان بہادر کہتے تھے ۔سرکاری ریکارڈ میں ان کے نام کے ساتھ دیوان درج ہے لہذا میں نے مولوی یا خان صاحب کے تخاطب سے گریز کرتے ہوئے انہیں دیوان محمد علی لکھا ہے۔‘‘(غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی، صغیر افراہیم ،ص:62)
کتاب کے ٹاٹل پیج پر نیچے کی جانب چھپی خوبصورت تصویر دیوان محمد علی کے گھر کی ہے جو اُس دور میں حویلی کے نام سے مشہور تھی اور آج بھی عالیشان حویلی ہے۔ اس حویلی کے چاروں طرف Main Marketہے اور اب بھی یہاں ان کے وارثین موجود ہیں ۔ قیام باندہ کے دوران غالب کے دن کا بیشتر وقت اسی حویلی مین گزرتا تھا ۔ حتی کہ جب غالب کلکتہ سے واپس دہلی آرہے تھے تب بھی انہوں نے اسی گھر میں قیام کیا۔اس گھر کے وارثین نے وہ کمرہ اور فرنیچر سب کچھ محفوط کر رکھاہے جہاں غالب اٹھتے بیٹھتے اور آرام کرتے تھے ۔ خوبی کی بات یہ ہے کہ صغیر افراہیم نے ان تمام چیزوںکی تصاویر بھی کتاب میں پیش کی ہیں۔حویلی کے مکیں کے تعلق سے ملاحظہ ہو یہ اقتباس :
’’ شہر باندہ انہیں اس حد تک پسند آیا کہ اسے وطن ثانی بنا لیا اور زمین جائداد خریدی ۔سرکاری کچہری (موجودہ گورنمنٹ گرلس انٹر کالج )کی پُشت پر ، بلکھنڈی ناکہ کے پاس ایک بڑی حویلی خریدی جو آج وہاں کے اہم بازار کے درمیان میں ہے اور یہاں اب بھی ان کے وارثین موجود ہیں ۔ حویلی میں غالب کے نام سے ایک وسیع کمرہ مختص ہے ۔۔۔‘‘(غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی، صغیر افراہیم ،ص:62)
11عنوانات پر مشتمل اس کتاب کو لکھنے کے اسباب و محرکات کو جاننے کے لیے کتاب کے پیش لفظ میں اٹھائے گئے کچھ سوالات کا ذکر کرتے چلیں۔ اگر آپ کتاب کے پیش لفظ کو پڑھیں گے تو وہ تمام بنیادی سوالات آپ کو مل جائیں گے جن کے جوابات بہت مربوط ، واضح اور مظبوط دلائل کے ساتھ صغیر فراہیم نے کتاب میں دیے ہیں۔ پہلا سوال:
’’غالب کی شخصیت ،فکر و فن کے ہزار گوشوں میں ایک گوشہ سفر کلکتہ بھی اس لیے اہم قرار دیا گیا ہے کہ یہ ہمارے ادبی ،سماجی اور ثقافتی فروغ میں معاون ثابت ہوا ہے ۔جب جب اس مسافت کے تعلق سے میں باندہ کے ذکر پر غور کرتا تو نہ جانے کیوں ذہن میں کئی سوالات ابھرنے لگتے۔ مثلاً باندہ سے مرزا کا کیا رشتہ اور رابطہ تھا ؟وہ منزل سے مختلف راستے(off the way)پر کیوں گئے؟ سفر سے پہلے اور سفر کے بعد باندہ والوں سے ان کا کیا تعلق رہا ؟وہاں چھ ماہ کے قیام میں ان کی کیا مشغولیات رہیں؟ محفلیں کس وسیلے سے سجتیں،شب و روز کیسے گزرتے ؟ مقامی ادیبوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ وہاں کی پروان چڑھ رہی ہیں گنگا جمنی تہذیب میں کیا نکھار آیا؟‘‘(پیش لفظ،غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی، صغیر افراہیم ،ص:32)
اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ کہ:
’’ دوران قیام مہیا ہونے والے پرسکون ماحول میں غالب نے فارسی اور اردو نثر و نظم میں کیا خلق کیا ؟ کیا وہ تمام تخلیقات محفوظ ہیں؟ اگر نہیں تو اس کے اسباب کیا ہیں ؟ کتنی نگارشات گمشدہ ہیں اور ان کی تلاش و جستجو کی کیا رفتار ہے؟ یہ وہ چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں ہیں جنہوں نے تحیرو تجسس کو مہمیز کیا۔‘‘(پیش لفظ،غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی، صغیر افراہیم ،ص:32)
ایک اور دلچسپ سوال یہ کہ :
’’ دوران سفر کانپور اور لکھنؤ میں قیام کی تفصیل موجود ہے۔ الہ آباد جس کے لیے غالب کہہ کر چلے تھے ایک ماہ قیام کروں گا مگر رہے صرف ایک دن۔ اسی طرح بنارس میں دو ایک دن ٹھہرنا تھا، ایک ماہ مقیم رہے ان شہروں کی روداد اور تاثرات بالتفصیل دستیاب ہیں مگر جہاں چھ ماہ قیام کیا وہاں کے شب و روز کی تفصیل سے ہم محروم کیوں ہیں ؟یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جنہوں نے اس جانب توجہ دلائی اور تفتیش و تحقیق پر اکسایا۔‘‘(پیش لفظ،غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی، صغیر افراہیم ،ص:32)
صغیر افراہیم پے درپے سوالات قائم کرتے جاتے ہیں اور پھر پوری دیانت داری اور محققانہ انداز میں جوابات قلم بند کرتے ہیں اور اس طرح ترتیب پاتی ہے ’’ غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی ‘‘ کتاب۔سب سے زیادہ جس بات نے صغیر افراہیم کو پریشان کیا اور وہ شکایتی انداز میں جس کا ذکر بھی کرتے ہیں، وہ یہ کہ :
’’ غالب کی وفات کے سو سال بعد تک یہی ذکر ہوتا رہا کہ وہ عین جوانی میں ’’جوں توں ‘‘ ،’’ گرتے پڑتے ‘‘ باندہ پہنچ گئے ۔ مگر اس پر توجہ نہیں دی گئی کہ موصوف لکھنؤ سے باندہ کیسے ، کس طرح پہنچے ؟ میرے نزدیک اس خط(لکھنؤ سے باندہ ) کی بڑی اہمیت ہے کہ اس یاد گار سفر کلکتہ کی وجہ سے غالب کے جو نئے دوست بنے اُن میں دیوان محمد علی اور مولوی سراج الدین احمد کا تعلق اسی خطے سے تھا ۔ غالب نے دونوں حضرات کو فارسی میں سب سے زیادہ خطوط لکھے ہیں (محمد علی کو ۳۷/اور سراج الدین احمد کو لکھے گئے ۵۲ /خط دستیاب ہیں۔۔۔‘‘(پیش لفظ،غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی، صغیر افراہیم ،ص:33)
یہی وہ اہم سوالات ہیں جن کے مدلل اور مفصل جواب میں صغیر افراہیم نے ایک سو چالیس صفحات تاریخی شواہد کے ساتھ لکھ ڈالے ۔یہی سوالات جوابات بن کر ازاول تا آخر کتاب پر چھائے رہتے ہیں اور اس کی غمازی کرتے ہیں کہ صغیر افراہیم نے غالب سے زیادہ دیوان محمد علی کے احوال و کوائف ، شعری خصائص اور غالب نوازی کا ذکر کیا ہے ۔کیونکہ یہی ان کا مقصد ، مطمح نگاہ تھا ۔بلا شبہ یہ نکات اور ان کے شواہد سے قبل یہ تمام تفصیلات ابھی تک پردہ ٔ خفا میں تھیں۔ لکھنؤ سے باندہ آنے کے لیے غالب نے کونسی راہ اختیار کی یہ مسئلہ ابھی تک حل طلب رہا ہے۔ کیونکہ لکھنؤ سے باندہ آنے کے لیے دو راستے تھے ایک قریب کا اور دوسرا ذرا طویل ۔ صغیر افراہیم نے تمام قیاس آرائیوں اور غلط فہیموں کا ازالہ کرتے ہوئے صاف انداز میں لکھا ہے کہ :
’’ ۔۔۔جغرافیائی صورت حال کے اعتبار سے اس وقت کے مرجہ ذرائع سفر اور راستوں کا جائزہ لیں تو لکھنؤ سے باندہ کے لیے دو راستے تھے ۔ ایک پوروا، مؤراواں ، کانپور ، فتح پور ہوتے ہوئے اور دوسرا نیوتنی ، صفی پور ، کانپور ، فتح پور ، باندہ ، جگت موہن لال رواں کے دادا بخشی مہی لال جو پوروا ، مؤرواں کے با اثر شخص تھے ، ان کے مطابق غالب ،’’ ہمارے علاقے سے نہیں گئے تھے ۔ جبکہ یہ قریب کا راستہ تھا ‘‘۔ وہ نیوتنی سے کانپور پہنچے ۔۔۔‘‘(غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی، صغیر افراہیم ،ص:56)
غالب کی شاعرانہ عظمت سب پر غالب ہے ۔ اردو شاعری میں ان کا سکہ ہمیشہ چلتا رہے گا ۔غالب ایک ایسا شاعر ہے جس کے یہاں تخیل کی فراوانی اورفکر کی بلندپروازی کاا یسا حسین امتزاج موجود ہے جسے پڑھ کر نہ صرف سکون اور تازگی ملتی ہے بلکہ روز مرہ کے وہ حقائق بھی ہمارے سامنے آتے ہیں جو انسانی زندگی کا ناگزیر حصہ ہیں ۔ غالب نے زندگی کو جتنے قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے اور جس قدر تلخ و شیریں اور موافق و ناموافق حالات و واقعات سے وہ گزرا ہے ، ان سب کو جس خوبصورتی کے ساتھ اس نے شعری پیکر میں ڈھالا ہے وہ ہر چھوٹے بڑے اور ہر خاص وعام کی مسرت اور دلچسپی کا باعث ہے ۔
غالب اور مکاتیب غالب کو بارہا تحقیق کا موضوع بنایا گیا ہے اور ان تمام اشخاص کے سوانحی کوائف اور ادبی اکتسابات کو مطالعہ کا حصہ بنایا گیا ہے جو غالب کے مکتوب الیہ ہیں یا ان کا ذکر غالب کے خطوط میں کہیں آیا ہے ۔اس سلسلے کی اہم کتابیں ہیں:
۱۔نامہ ہائے فارسی غالب ، سید اکبر علی ترمذی۔ 1669
۲۔غالب اور باندہ ، صالحہ بیگم قریشی ۔ 1994
۳۔مکتوبات غالب ، لطیف الزماں خان ۔ 1995
۴۔غالب اور کلکتہ ، شہناز نبی۔ 1999
۵۔غالب کا سفر کلکتہ اور کلکتے کا دبی معرکہ ، خلیق انجم ۔ 2005
۶۔غالب اور کلکتہ ، شاہد ماہلی۔ 2010
’’غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی ‘‘ سے قبل تحقیق کی مختلف کتابوں میں محمد علی کو لکھے گئے غالب کے صرف آٹھ خطوط کا ذکر ملتا ہے۔ ان میں باندہ اور وہاں غالب کے عزیزوں کا ذکر بھی ضمنی طور پر کیا گیا ہے جن کے مطالعے سے قیام باندہ پر کوئی خاص روشنی نہیںپڑتی ہے۔ صغیر افراہیم نے دیوان محمد علی کے تئیں اب تک رواں رکھی گئی چشم پوشی کے اسباب کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے اور ان کے بیان کردہ یہ تمام اسباب وعلل مبنی بر شواہد ہیں۔ دیوان محمد علی کے سوانحی کمالات، ادبی اکتسابات اور غالب سے ان کے گہرے لگاؤ کو اب تک اس تحقیقی ارتکاز کے ساتھ کسی بھی کتاب میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔ صغیر افراہیم نے ان تمام حقائق کو اپنی اس کتاب میں بیان کرکے اس خلاء کو بھی پُر کر دیا ۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ سب سے پہلے غالب بنام محمد علی کے /29فارسی خطوط کی دریافت سیداکبر علی ترمذی نے کی اور اسے اردو میں سجانے سنوارنے کا کام لطیف الزماں خاں اور پرتو روہیلہ نے انجام دیا ۔محققین کی غالب کے خاص ممدوح دیوان محمد علی سے بے اعتنائی اور عدم توجہی پر شافع قدوائی اظہار افسوس کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ دیون محمد علی سے محققین غالب کی بے اعتنائی یقینا حیرت انگیز اور تأسف انگیز ہے کہ غالب نے جن افراد سے مراسلت کی تھی ان تمام افراد کی پوری تفصیل غالب سے متعلق کتابوں میں درج ہے مگر دیوان محمد علی سے متعلق اطلاعات کا یکسر فقدان ہے اور زیادہ تر لوگ دیوان محمد علی کو نواب باندہ سے کنفیوز کرتے ہیں ۔مصنف نے اس غلط فہمی اور تحقیقی تساہلی کا ازالہ کرنے کے لیے غالب کے سفر باندہ اور یہاں قیام کی جزئیات پر توجہ مرکوز کی۔‘‘(مقدمہ ، غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی ، شافع قدوائی،ص:25)
صغیر افراہیم اس سلسلے میں پہلے ایک سوال قائم کرتے ہیں:
’’دور حاضر کے محققین اور ناقدین نے Persian Letters of Ghalibکی اشاعت کا خیر مقدم کیا لیکن مذکورہ مسودہ کی حصولیابی کے پس منظر کو تہ بہ تہ کھنگالنے کاجتن نہیں کیا ۔ مکتوب الیہ اور مکتوب نگار کے مابین عیاں ہونے والے قریبی ربط کے اعتراف کے با وجود یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ محمد علی صاحب کون تھے ؟ ان کا دبی سرمایہ کہاں اور کس حال میں ہے ؟ اس ادب شناس محب نے باندہ میں موجود غالب کے عزیزوں سے بڑھ کر غالب کی مدد کیوں کی ؟ اور کیوں اپنے عزیزوں اور دوستوں سے بھی اس بابت متواتر درخواست کرتا رہا ؟ گنجینۂ معنی کے طلسم کو تلاش کرنے میں مسیحا صفت شخص سے گریز کیوں برتا گیا ؟‘‘(پیش لفظ،غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی، صغیر افراہیم ،ص:35)
سید اکبر علی ترمذی ، لطیف الزماں خاں ،پرتو روہیلہ ، جمیل جالبی اور خلیق انجم کی کتابو ں میں سفر کلکتہ کے حالات و واقعات سے متعلق اہم معلومات درج ہیں مگر لکھنؤ سے باندہ کے سفر ، پھر باندہ میں قیام اور غالب کے مشفق و مربی دیوان محمد علی کے کے حوالے سے معلومات کا فقدان ہے ۔ صغیر افراہیم نے پہلی بار ان کو موضوع بنا کر ان کے تعلق سے بیش قیمت معلومات پیش کی ہیں ۔غالب اور باندہ کے حوالے سے نہایت مختصر مگر جامع انداز میں صغیر افراہیم کہتے ہیں کہ:
’’ غالب کی زندگی میں ان کے طویل ترین سفر کا یہ وہ پڑاؤ ہے جہاں موصوف باقاعدہ علاج کراتے ہیں ، تازہ دم ہوکر رخت سفر باندھتے ہیں ۔ غور کیجیے باندہ میں نہ صرف بقیہ سفر کا پورا بندوبست ہوتا ہے بلکہ کلکتہ کے دوران قیام مطلوبہ چیزیں بھی مہیا کرائی جاتی ہیں اور پھر دہلی تک پہنچنے کا اہتمام بھی ۔ اور ان سب کا مرکزو محور ہے دیوان محمد علی ۔‘‘ (پیش لفظ،غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی، صغیر افراہیم ،ص:34)
صغیر افراہیم نے کتاب کے تیسرے اور چوتھے باب میں دیوان محمد علی کی پُر کشش شخصیت ، مہمان نوازی اور غالب کے ساتھ شب و روز کی صحبت کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ کیا وجہ تھی کہ غالب اتنے کم عرصے میں دیوان کے اتنے چہیتے بن گئے جس کا واضح ثبوت وہ 37فارسی خطوط ہیں جو غالب نے محض تین سال کی قلیل مدت میں دیوان صاحب کو لکھے ۔صغیر افراہیم نے اس کا بیان بے حد معلوماتی، مؤثر اور دلچسپ انداز میں کیا ہے۔ساتھ ہی دیوان محمد علی کے خاندان سے متعلق جو باتیں بیان کی ہیں وہ بے حد اہم اور قابل مطالعہ ہیں۔ملاحظہ ہو ں یہ جملے :
’’ غالب اور محمد علی کی پہلے سے جان پہچان یا خط و کتابت نہیں تھی ۔ وہ باندہ مجبوراً اپنے عزیزوں سے ملنے ، علاج کرانے اور ا ن سے کلکتہ کے سفر کے لیے مالی امداد کی غرض سے تشریف لائے تھے ،لیکن جس شخص کے وہ مرید ہو گئے، وہ دیوان محمد علی تھے ۔خطوط گواہ ہیں کہ نواب ذوالفقار علی سے، مرزا اُز بک بیگ اور مرزا مغل نے اس حد تک نگہ داشت نہیں کی جتنی شفقت اور محبت دیوان محمد علی سے ملی۔ ‘‘(غالب،باندہ اوردیوان محمد علی، صغیر افراہیم،ص:63)
ایک اور اقتباس ملاحظہ کریں:
’’غالب نے فارسی سب سے زیادہ خطوط دو حضرات کو لکھے ۔ اپنے رفیق قدیم مولوی عبدالکریم کے بھتیجے مولوی سراج الدین کو ۵۲/خط لکھے جب کہ صرف چار برس کے عرصے میں دیوان محمد علی کو ۳۷ /خط لکھے ہیں ۔( ابھی اور بھی دستیاب ہو سکتے ہیں )تعداد میں کم ہونے کے با وجود دیوان محمد علی اس اعتبار سے فوقیت رکھتے ہیں کہ انہوں نے کلکتہ میں مقیم اپنے عزیزوں کو کلکتہ خط لکھے کہ وہ غالب کی ممکنہ تمام مدد کریں ۔۔۔‘‘(غالب،باندہ اوردیوان محمد علی، صغیر افراہیم،ص:64)
غالب کا اپنی زندگی میں مختلف شخصیات اور شہروں سے تعلق رہا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا سبب شاید پینشن کا قضیہ ہے جس کے لیے وہ مسلسل پریشان رہے بلکہ ایک طرح سے مرتے دم تک اس مسئلے سے چھٹکارا نہ پا سکے ۔ اس سلسلے میں کئی امراء اور نوابوں کو خطوط بھی غالب نے لکھے ہیں جن میں پینشن کی روداد کے ساتھ ہی اس دور کے سیاسی ، سماجی،تہذیبی، ثقافتی، تمدنی اور اقتصادی حالات سے واقفیت کے سلسلے میں یہ خطوط اہم دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہ خطوط اس بات کے غماز ہیں کہ باندہ میں دیوان محمد علی کو غالب اپنا بزرگ ، بہی خواہ اور سر پرست سمجھتے تھے اور ان پر بے پناہ اعتماد کرتے تھے ۔ دیوان صاحب نے کلکتہ میں اپنے جن عزیزون کو غالب کی مدد کے واسطے خطوط لکھے صغیر افراہیم نے ان کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی ہے اور دیوان محمد علی کو لکھے گئے خطوط پر بھی جن سے محبت ، اخوت ، رواداری ، ممنونیت ، احسان شناسی اور گہرے جذبات و احساست جھلکتے ہیں ۔ اس لحاظ سے کتاب کا چھٹا باب بے حد معروضی ، دلچسپ اور معلوماتی ہے ۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس :
’’ غور طلب ہے کہ جولائی ۱۸۲۷ ء میں دیوان محمد علی کی ملاقات غالب سے ہوتی ہے اور نومبر ۱۸۳۱ ء میں ان کا انتقال ہو جاتاہے ۔ پسندیدگی اور قربت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ محض چار سال میں غالب نے موصوف کو جو خطوط لکھے ان میں ۳۷ /فارسی خطوط دستیاب ہیں ۔‘‘ (غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی ، صغیر افراہیم ، ص:73)
غالب کی زندگی کے وہ اسفار بہت اہم ہیں جو انہوںنے مختلف وقتوں میں کیے جن میں مرشد آباد ، الہ باد ، بنارس ، آگرہ ، باندہ ، بھوپال ، حیدرآباد ، بدایوں ، رامپور ، الور ، راجستھان اور ہریانہ وغیرہ کے سفر شامل ہیں ۔مگر اہم سفر کلکتہ کا ہے جو خود کئی شہروں کے اسفار کو جنم دیتا ہے ۔ ان شہروں کے سفر کے دوران غالب کو جو حادثات پیش آئے ، مالی پریشانیوں ، رفاقتوں اور رقابتوں ، محبتوں اور عداوتوں ، اچھے اور برے جن حالات سے وہ گزرے محققین کے لئے شروع ہی سے تحقیق کا موضوع رہے ہیں ۔ غالب نے اپنے سفر کلکتہ کے درمیان جن جن شہروں میںقیام کیا ، جن شخصیات سے ملاقاتیں کیں ان سے متعلق محققین نے خاطر خواہ معلومات بہم پہونچائی ہیں ۔ لیکن اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے صغیر افراہیم کی کتاب ’’ غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی ‘‘ ۔
صغیر افراہیم نے اس کتاب میں غالب کی زندگی کے ایک ایسے گوشے کو اہم تاریخی مآخذ کی روشنی میں پیش کیا ہے جس پر اس سے پہلے اتنی تحقیق و جستجو سے نہیں لکھا گیا ۔ ساتھ ہی انہوں نے تفہیم غالب سے متعلق بہت سی غلظ فہمیوں کا ازالہ بھی کیا ہے ۔ صغیر افراہیم کی علمی متانت وسنجیدگی ، باریک بینی اور تحقیقی توازن پوری کتاب میں نمایاں ہے ۔ کتاب کو غالب فہمی کا ایک نیا باب قرار دیتے ہوئے شافع قدوائی لکھتے ہیں :
’’گیارہ مختصر ابواب میں منقسم اور ۱۴۰ صفحات پر مشتمل کتاب ’’ غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی واقعتا غالب کے ایک غیر معروف ممدوح دیوان محمد علی کی شخصیت کو پوری شرح و بسط کے ساتھ پیش کرتی ہے ۔ صغیر افراہیم نے غالب سے متعلق تحقیقی کتابو ں میں مندرج نکات کی تلخیص اور پیرایۂ اسلوب میں معمولی سی تبدیلی کے ساتھ نئے پہلوؤں پر مبنی تحقیق پیش کرنے کا پُر شور دعویٰ نہیں کیاہے بلکہ پوری سنجیدگی اور علمی متانت کے ساتھ تحقیق غالب میں ایک نئے باب کا اضافہ کیاہے ۔‘‘(مقدمہ ، غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی ، شافع قدوائی ،ص:25)
یہ کتاب اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس کے آخری تین ابواب میں غالب کے عاشقین اور جوہر شناسوں پر بھیصغیر افراہیم نے سلیقہ اور ہنر مندی کے ساتھ معلومات بہم پہنچائی ہیں۔یہ کتاب مصنف کی تحقیقی دیانت داری کو آشکار کرتی ہے کہ غالب سے والہانہ عشق رکھنے والے ادیبوں سید اکبر علی ترمذی ، پرتو روہیلہ اور لطیف الزماں خاں پر الگ سے مستقل ابواب قائم کیے گئے ہیں ۔سید اکبر علی ترمذی نے غالب کے ان فارسی خطوط کو بھی دریافت کیا ہے جو پنج آہنگ میں شامل نہیں تھے ۔ ان خطوط سے غالب کی بعض شخصی کمزوریوں،جن کا ذکر باندہ کی امدادو ضیافت کے تعلق سے بعض ناقدین نے کیا ہے ، سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہوتا ہے۔صغیر افراہیم نے درست ہی لکھا ہے :
’’جب تک سید علی ترمذی کے توسط سے سے غالب کے مزید خطوط قارئین کے سامنے نہیں آئے تھے تو ناقدین باندہ کی امداد و ضیافت کے تعلق سے بالواسطہ طور پر یہاں تک کہہ جاتے تھے کہ غالب موقع پرست، مطلبی اور احسان فراموش تھے ۔لیکن تلاش جدیدنے یہ ثابت کر دیا کہ غالب مطلب براری کے لئے ضمیر کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے تے بلکہ خود کو احسان کے بوجھ تلے محسوس کرتے اور محسن کو ہمیشہ یاد رکھتے ۔ اس کا بین ثبوت کلکتہ سے واپسی کے سفر میں، راستے سے دور ،سمت مخالف میں، صرف اور صرف دیوان محمد علی کا شکریہ ادا کرنے کی غرض سے باند ہ پہنچنا ہے۔ ان کا یہ منکسرانہ ،مخلصانہ نہ اور بے لوث عمل بھی ان کے قول و فعل اور عادات و اطوار کوعیاں کرتا ہے۔ اس طرح خطوط غالب بنام محمد علی ،مکتوب نگار اور مکتوب الیہ کے جذبات کے پاس و لحاظ کے ساتھ ساتھ شہر باندہ اور وہاں کی ادبی ہلچل کے بھی ضامن بنتے ہیں۔‘‘( غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی،ص:27-28)
صغیر افراہیم نے اپنی اس کتاب میں غالب کے سفر باندہ اور یہاں کے قیام اور ادبی و شعری محافل کی تمام تر جزئیات کوٹھوس حقائق کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ اس طرح تاریخی شواہد کی روشنی میں صغیر افراہیم ہمیں غالب کے سفر باندہ کے اسباب ، مدت قیام اور غالب کس راستے سے باندہ پہنچے سب سے آگاہ کر دیتے ہیں۔ دیوان محمد علی سے متعلق تما م تر تفصیلات ، شعرو ادب سے ان کا گہرا لگاؤ ، تبحر علمی اور غالب کے خطوط بنام محمد علی کی صحیح تعداد سے متعلق تمام تفصیلات جمع کرنے میں صغیر افراہیم نے جس محنت ، جاں فشانی ،عرق ریزی ، دقت نظر اور تحقیقی مزاج کا ثبوت دیا ہے، وہ لائق تحسین ہے ۔ شافع قدوائی لکھتے ہیں :
’’ پروفیسر صغیر افراہیم کی کتاب نہ صرف دیوان محمد علی سے متعلق معلومات کے فقدان کو تحقیقی دقت نظر کے ساتھ پورا کرتی ہے بلکہ غالب کے قیام لکھنؤ ، کانپور اور باندہ سے متعلق دستیاب تفصیلات کو Cross Checkبھی کرتی ہے اور بعض غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کرتی ہے ۔ دیوان محمد علی کمپنی کے ملازم تھے ، نواب باندہ سے ان کے مراسم تھے ، غالب سے ان کی ملاقات کی تفصیل نہ تو مالک رام نے درج کی ہے اور نہ خلیق انجم نے ۔دونوں نے عمومی باتیں لکھیں ۔ ‘‘( مقدمہ ، غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی ، شافع قدوائی،ص:26)
میں نے اپنے محدود مطا لعہ کے د رمیان مذکورہ کتاب سے غالب اور دیوان محمد علی سے متعلق جو نئے حقائق دریافت کیے ہیںان کی درجہ بندی کچھ اس طرح کی جا سکتی ہے:
(1) مدلل انداز میں باندہ کا جغرافیائی اور تاریخی ذکر
(2)غالب کے سفر کلکتہ کے درمیان باندہ میں طویل قیام کو نئے سرے سے جانچنے پرکھنے کی کامیاب کوشش
(3)سفر باندہ کے لیے انتخاب راہ کا تاریخی شواہد کی روشنی میں بیان
(4)دیوان محمد علی کے احوال و کوائف جو محققین کی گرفت سے باہر تھے ، ان کی تفصیلات کے ساتھ ادبی و شعری کمالات اور غالب سے ان کی غایت درجے کی عقیدت و محبت سے متعلق نئے پہلوؤں کی تلاش اور جستجو
(5)اہم تاریخی شواہد کی روشنی میں دیوان محمد علی کو لکھے گئے غالب کے فارسی خطوط کی صحیح تعداد کا تعین اور ادبی و تاریخی نقطہ نظر سے ان کا معروضی مطالعہ
(6)باندہ کے حوالے سے غالب کا جو شعری و نثری سرمایہ ہے، اس سے متعلق تمام تر شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کا تحقیقی شواہد کی روشنی میں ازالہ
(7)ہر باب کے آخر میں حواشی کا بھر پور اور مستند اہتمام نیز کتاب کے آخر میں فہرست کتابیات کے تحت اہم مصادر و مراجع کا ذکر
مختصر یہ کہ صغیر افراہیم نے جدید طریقہ کار کو ملحوظ رکھتے ہوئے غالب، باندہ اور دیوان محمد علی سے متعلق تمام تر تفصیلات کو پوری دلجمعی ،محنت اور لگن کے ساتھ اس کتاب میں مرتب کیا ہے۔یقیناً یہ کتاب غالب فہمی کے نئے در وا کرے گی اوراس کتاب کے ذریعے قارئین غالب کی زندگی اور شخصیت سے متعلق نئی روشنی حاصل کریں گے۔ مطالعہ غالب کو جس نئے زاویے سے سمجھنے کی کوشش صغیر افراہیم نے کی ہے وہ یقینا اپنی اس کوشش میں پوری طرح کامیاب نظر آتے ہیں ۔صغیر افراہیم سادگی ، معروضیت اور مدلل انداز میںاپنی بات کہتے ہیں۔بے جا طوالت اور مبالغہ آرائی سے ان کی تحریریں پاک ہوتی ہیں۔مذکورہ کتاب میں یہ تمام خوبیاں موجود ہیں۔ امید ہے کہ اردو ادب کی عظیم ہستیوں سے متعلق نت نئے گوشوں کو سامنے لاکروہ اردو تحقیق میں نئے باب رقم کرتے رہیںگے۔ میں اپنی بات مشہور محقق و ناقدپروفیسر علی احمد فاطمی کے ان قیمتی جملوں پر ختم کرنا چاہتا ہوں جو ان کے ایک غیر مطبوعہ مضمون سے ماخوذہیں :
’’ غرض یہ کہ غالب اور باندہ ، سفر باندہ، قیام باندہ ، نواب باندہ اور دیوان باندہ کے تعلق سے یہ کتاب بے حد اہم اور تاریخی نوعیت کی ہے اوریہ بھی کہ تعلق باندہ اور تعلق محمد علی کے سلسلے صرف باندہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے سلسلے کلکتہ تک پھیل جاتے ہیں ۔ اس لیے دیوان اور قیام دونوں کی حیثیت تاریخی نوعیت کی ہے جس پر صغیر افراہیم نے خاطر خواہ روشنی ڈالی ہے ۔۔۔ غرضیکہ یہ کتاب صرف صغیر کی کتابوں میں نہیں بلکہ عہد حاضرکی غالب شناسی سے متعلق غیر معممولی اہمیت رکھتی ہے ۔ ایک ایسے دور میں جب اردو میں غالب شناسی اور فارسی شناسی کے سلسلے ختم ہو چکے ہیں ، صغیر کی یہ کتاب نہ صرف متوجہ کرتی ہے بلکہ اضافے کی حیثیت رکھتی ہے ۔‘‘(بحوالہ مضمون :غالب ، باندہ اور دیوان محمد علی :عمومی جائزہ ، پروفیسرعلی احمد فاطمی )

صدام حسین
احمد نگر ، سوار ، ضلع رامپور (یوپی)
موبائل:9058383660
ای ۔میل : smhusainalig@gmail.com

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook