نفرت کے ماحول میں ادیبوں کی ذمے داریاں

آج ملک عزیزنفرت کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پرایک عرصے سے نفرت کی جو فصل بوئی جارہی تھی وہ تیار ہوچکی ہے۔مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول یوں تو پوری دنیا میں ہے لیکن یہ برما، سری لنکا اور ہندوستان جیسے غیر براہیمی اکثریتی ممالک میں یہ نفرت زیادہ دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن مقرر کردیا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے لیے جو بیانیہ تخلیق کیا گیا ہے اس کی جڑیں ماضی سے جڑی ہیں۔ ہندوستان میں مسلم حکمرانوں نے لمبے عرصہ تک حکمرانی کی۔ ان کی حکومت کو کسی بھی صورت اسلامی حکومت نہیں قرار دیا جاسکتا۔ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلموں کو بھی اپنی فوج اور حکومت کے اہم عہدوں پر رکھا۔ اگر تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہندوستان میں مسلمانوں کی شکل میں پہلی بار ایسے حکمران ملے تھے جنہوں نے حکومت کو مذہب سے الگ رکھا۔ ورنہ اس سے پہلے یہ بات مشہور تھی کہ جو دھرم راجا کا وہی دھرم پرجا کا۔ اس حقیقت کے باوجود تاریخ کے چنندہ واقعات کو نیا رنگ دے کر ہندو عوام کو باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلم حکمرانوں نے ان کے ساتھ ظلم کیا ہے۔یہ بیانہ ہی چونکہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے خلاف نفرت کو فروغ دینے کے لیے گڑھا گیا ہے اس لیے سیاسی فائدے کے لیے اس کا استعمال بھی کیا گیا۔ اس جھوٹ کو فروغ دینے کے لیے ادب اور فنون لطیفہ کا سہارا لیا جارہا ہے۔ مسلم دور حکومت سے وابستہ فرضی اور گمنام کرداروں پر ناول لکھ کر انہیں تاریخ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔مثال کے طور پر  Legend of Suheldev:The King Who Saved India نام کے ناول میں ہندؤں اور مسلمانوں دونوں کے لیے باعث عقیدت سید سالار غازی کو نشانہ بنایا گیا۔ حد تو یہ ہوگئی کہ انگریزوں کے خلاف لڑنے والے خان قبائل کو ایک حالیہ فلم میں ولن اور انگریزوں کی طرف سے لڑنے والے سکھوں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا۔ آزاد ہندوستان میں اس سے پہلے انگریزوں کے خلاف لڑنے والوں کو ولن کے طور پر پیش کرنے کی ہمت کسی کو نہیں ہوئی تھی۔  ٹیپو سلطان جیسے وہ ہیرو جن پر ہم فخر کرتے ہیں ان کی کردار کشی کرکے ہم سے ہمارا فخر بھی چھیننے کی کوشش اسی کا حصہ ہے۔ آزادی کے مسلم ہیرو تاریخ کے اوراق سے غائب کئے جارہے ہیں۔ لوگوں کو جلیان والا باغ کا سانحہ یاد ہے لیکن یہ بھول گئے کہ یہ سبھا سیف الدین کچلو اور ستیہ پال کی گرفتاری کے خلاف بلائی گئی تھی۔ 

ملک میں بڑھتے اسلاموفوبیا کے واقعات کو روکنے کے لیے ہر سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں ادیبوں کی ذمے داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ انہیں ایسی چیزوں سے گریز کرنا ہوگا جس کے ملک کے بھائی چارے کو نقصان پہنچے ۔ دوسری طرف اپنی تخلیقات کے ذریعہ ملک عزیز کی مختلف قوموں کے درمیان بڑھتی اس خلیج کو کم کرناہوگا۔ ماضی میں بھی ہمارے ادیبوں نے اپنی تخلیقات سےبہت سارے اہم کام کیے ہیں۔ امید ہے کہ نفرت کے خلاف اس لڑائی کو بھی وہ پوری شدت سے لڑیں گےاور جیتیں گے ۔ 

ڈاکٹر عزیر اسرائیل

اداریہ