Home / خبریں / وائس چانسلرمانو پروفیسرسیدعین الحسن،ایک تعارف

وائس چانسلرمانو پروفیسرسیدعین الحسن،ایک تعارف


پروفیسر اشتیاق احمد … جے این یو
کسی جامعہ یا یونیورسٹی کی ترقی میں اُس کے وائس چانسلر اور اساتذہ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر یہ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائیں تو یونیورسٹی قومی و عالمی سطح پر اپنا ایک منفرد مقام بنانے میں کامیاب رہتی ہے۔ ہر یونیورسٹی کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کے وائس چانسلر غیرمعمولی انتظامی صلاحیتوں کے حامل ہوں اور میرٹ کی بنیاد پر کام کرنے کی جنہیں عادت ہو۔ قومی و ریاستی یونیورسٹیز میں اکثر و بیشتر یہی دیکھا گیا کہ جو بھی وائس چانسلر کے عہدہ پر فائز ہوتے ہیں ان کے اطراف ایسے عناصر جمع ہوجاتے ہیں جو اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے چاپلوسی کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اس طرح کے چاپلوسوں سے وہی وائس چانسلر محفوظ رہتے ہیں جو علمی صلاحیتوں اور محنت میں یقین رکھتے ہیں۔ دیانت داری کی راہ پر چلنا جن کی عادت ہوتی ہے۔ جہاں تک یونیورسٹیز کا سوال ہے، مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی (مانو) ہندوستان کی فی الوقت واحد اُردو یونیورسٹی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اسے اردو کی پہلی یونیورسٹی نہیں کہا جاسکتا، اس لئے کہ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد کو یہ اعزاز حاصل ہے۔ نواب میر عثمان علی خاں بہادر کی قائم کردہ عثمانیہ یونیورسٹی نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا کی پہلی اُردو یونیورسٹی رہی ہے۔ بہرحال جب صلاحیتوں کی بات آتی ہے تب ہم یہاں پروفیسر سید عین الحسن کا تذکرہ ضرور کریں گے۔ حکومت ِہند نے اُنہیں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا ہے۔ اُن کا شمار نہ صرف ہندوستان بلکہ ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے فارسی کے سرفہرست اساتذہ میں ہوتا ہے۔ وہ ایک علمی شخصیت ہیں جنہیں تعلیمی شعبہ میں کارہائے نمایاں کیلئے بے شمار باوقار اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے کئی بیرونی ممالک کے دورے کرتے ہوئے فارسی ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ جہاں فارسی کے ایک قابل استاذ ہیں وہیں اچھے شاعر اور نقاد بھی ہیں۔ 15 فروری 1957ء کو پیدا ہوئے پروفیسر سید عین الحسن کو فارسی کے فروغ میں ان کے نمایاں کردار کیلئے 2019ء میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ حکومت افغانستان نے بھی اُنہیں اپنا قومی ایوارڈ عطا کیا۔ پروفیسر صاحب 37 سال کا درس و تدریس کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کم از کم 13 کتب تصنیف کی ہیں۔ چار کتابوں کا تنقیدی جائزہ لیا۔ ملک و بیرون ملک اُن کے 50 سے زائد مضامین شائع ہوچکے ہیں اور تین پراجیکٹس پر کام مکمل کیا ہے۔ پروفیسر سید عین الحسن کے بارے میں آپ کو یہ بھی بتادوں گا کہ انہوں نے 111 مقالے مختلف عنوانات کے تحت پیش کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پروفیسر سید عین الحسن کو نیوجرسی ، امریکہ کی روٹگیرس اسٹیٹ یونیورسٹی کی فل برائیٹ فیلوشپ بھی حاصل رہی۔ پروفیسر صاحب نے 13 سے زائد سیمیناروں اور کانفرنسوں کا اہتمام بھی کیا۔ انہوں نے دارا شکوہ اسٹیڈیز، ہند۔ ایران تعلقات، ہند۔ وسطی ایشیائی ممالک تعلقات، تقابلی ادب و تہذیب ہند شناسی ، کلاسیکی و عصری فارسی جیسے مضامین پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹیڈیز جے این یو نئی دہلی میں ڈین کی حیثیت سے بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ وہ آل انڈیا پرشین اسکالرس اسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں۔ اپنے کیریئر کے دوران پروفیسر سید عین الحسن جے این یو میں چیرمین بورڈ آف اسٹیڈیز، صدر شعبہ، رکن اکیڈیمک کونسل، رکن مجلس عاملہ، رکن پیشہ ورانہ ، تعلیمی ادارہ جات کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دی۔ انہیں ہندوستان کی کئی ریاستی اور مرکزی جامعات کی مختلف کمیٹیوں کے رکن ہونے کا بھی اعزاز حاصل رہا اور وہ کئی قومی و بین الاقوامی جریدوں کے ادارتی بورڈ کے رکن بھی رہے۔ ان کی تصانیف میں داستان بو، ستون ہائے شعر نو، فارسی کے قواعد بھی شامل ہیں۔ جبکہ پروفیسر صاحب نے راج کشور کی ناول ’’مرا ہوا چاند‘‘ کا ہندی سے اُردو میں ترجمہ بھی کیا۔ فارسی زبان و ادب کے مطالعہ ، مسائل اور عنوانات کے زیرعنوان اُن کی کتاب 2003ء میں شائع ہوئی۔ گوہر شب چراغ عصمت، ضیائے بدر، ضوفشانِ بدر ، اجزائے ترکیبی، اٹھارہ سو ستاون کی ڈائری داستان بو، مولانا آزاد : معمار فرہنگ ہند ۔ایران ، ایک شمع تھی دلیل سحر سو خموش ہے (ڈاکٹر ناظم جعفری)، آزاد کاکوروی کے فارسی دیوان کا تنقیدی جائزہ وغیرہ وغیرہ جیسی تصانیف شامل ہیں۔ یہ ایسی کتابیں ہیں جسے انہوں نے تحریر کیا ہے، کسی کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور ایڈٹ کیا ہے۔ پروفیسر سید عین الحسن کو کئی اہم تحقیقی پراجیکٹس مکمل کرنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ انہوں نے ایم اے، ایم فل؍ پی ایچ ڈی کورس کی کتابیں ڈیزائن بھی کی ہیں۔ فارسی ، انگریزی اور اُردو کے سرٹیفکیٹ کورس بک کو بھی ڈیزائن کرنے کا انہیں اعزاز حاصل رہا۔ پروفیسر عین الحسن نے 1978ء میں یونیورسٹی آف الہ آباد سے فارسی، اُردو اور تاریخ کے مضامین میں بی اے کیا۔ 1981ء میں جے این یو نئی دہلی سے فارسی میں ایم اے کیا۔ جے این یو سے ہی 1982ء میں فارسی سے ہی پری پی ایچ ڈی کی تکمیل کی اور 1986ء میں جدید فارسی میں پی ایچ ڈی کی۔ ایران کے دارالحکومت تہران، شیراز اور مشہد میں مختلف موضوعات پر انہوں نے لیکچرس بھی دیئے۔ دہلی یونیورسٹی، جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، گوا یونیورسٹی، غالب انسٹیٹیوٹ آف دہلی، یونیورسٹی آف ممبئی، تاجکستان کے دوشنبہ، سمپورنانند سنسکرت یونیورسٹی وارناسی، بنارس ہندو یونیورسٹی، یونیورسٹی آف کلکتہ، یونیورسٹی آف گوہاٹی آسام ، امامیہ انگلش ہائی اسکول بنگلور، سنٹرل انسٹیٹیوٹ آف انڈین لینگویجس میسور، باب العلم سوسائٹی مالیر کراچی (پاکستان)، یونیورسٹی آف لکھنؤ، شکاگو کلچرل سنٹر یو ایس اے، یونیورسٹی آف کشمیر، میری لینڈ ایجوکیشن سنٹر یو ایس اے، اسلامک ایجوکیشن سنٹر گریٹر شکاگو، غازی عباس سوسائٹی آف پٹنہ اور عون محمد سوسائٹی حیدرآباد میں علمی مقالے پیش کئے۔ ان کی کئی کتابیں زیرطبع بھی ہیں۔ انہیں جہاں ہندوستان کا صدارتی ایوارڈ حاصل ہوا، وہیں حکومت ِ افغانستان نے 2019ء میں نمایاں تعلیمی خدمات کے صلے میں ایوارڈ سے نوازا۔ 2015ء میں اسلامک ایجوکیشن سنٹر شکاگو نے پروفیسر صاحب کو کارنامہ حیات ایوارڈ عطا کیا۔ 2007ء میں انہیں وزارت ِ ارشاد اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے سال کا بہترین فارسی شاعر بھی قرار دیا گیا۔ آل انڈیا اورینٹل کانفرنس 2009ء میں ایرانی سیکشن کیلئے انہیں صدر منتخب کیا گیا۔ 2015ء میں این سی پی یو ایل نے پروفیسر صاحب کو چیرمین ریلیجن اینڈ کلچر کیلئے نامزد کیا۔ وہ ملک میں کئی علمی اداروں سے وابستہ ہیں۔ پروفیسر سید عین الحسن مانو کیلئے ایک ویژن رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی شعبہ کی کئی ضروریات کے متعلق جو موجودہ رجحان پایا جاتا ہے، خاص طور پر کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر وہاں تعلیم کے اپلائیڈ پہلوؤں کو سب سے زیادہ اہمیت یا ترجیح دی جاتی ہے۔ کئی اسکالرس اور ماہرین تعلیم، تعلیم کے تئیں متبادل طریقہ کار کے امکانات پر غور کررہے ہیں۔ خاص طور پر تیسری سطح پر۔ ان میں سے بعض مجموعی آن لائن تعلیم کے امکانات کو اپنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اس معاملے میں ہمیں اپنے ویژن یا بصیرت کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو بین مضامین اسٹیڈیز کیلئے ایک ایسا پروگرام بنانا چاہئے اور مربوط تحقیق کو اہمیت دی جانی چاہئے جس سے طلبہ بہتر انداز میں استفادہ کرسکیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ بیرونی زبان و ادب، تقابلی ادب، سماجی علوم، فلسفہ، تقابل ادیان، لسانیت اور کلچر اسٹیڈیز شامل ہیں جن پر زور دیا جانا چاہئے۔ مانو کیلئے ایسا تعلیمی انداز و طریقہ کار اپنانا چاہئے جو اکیسویں صدی کی نئی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہو۔ اس چیلنج سے پُر دور میں جبکہ دنیا کے حالات یا ورلڈ آرڈر تیزی سے تبدیل ہورہا ہے، مانو کیلئے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ایک ایسا مرکز بنے جہاں ہندوستان اور اردو۔ عربی۔ فارسی کی دیگر مغربی تہذیبوں کے ساتھ بین تہذیبی و ثقافتی تبادلے میں تشریح کے ذریعہ مدد کرسکتا ہے اور ہندوستانی تہذیب اور اس کی ضروریات سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ مانو کو ایک ایسا مرکز بننا ہے جس سے ہند و بیرونی ہند کے ممتاز اسکالرس جڑے رہیں گے اور اُن کے باہمی اشتراک و تعاون سے تحقیقی پراجیکٹس پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔ اس طرح ہم مانو کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی کے جو پروگرامس ہیں ،ان کی رینج کس طرح ہوسکتی ہے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے۔
سیمیناروں، ورکشاپس اور مشترکہ تحقیقی پروگرامس کے ذریعہ ایشیا اور یورپ کے درمیان تہذیبی بات چیت کی پہل، ہندوستان کے قدیم اکیڈیمیوں کا احیاء کرتے ہوئے انہیں جدید تناظر میں مستحکم کرنا، مختلف ممالک سے ایک مخصوص میعاد تک ’’اسکالرس اِن ریسیڈنز کا اہتمام کرنا۔ نئے علوم ، ٹیکنالوجیز ، اقتصادیات اور تجارتی پالیسیوں خاص طور پر ہندوستان اور ایشیا پر اثرات پر خصوصی توجہ ۔ جنوبی ایشیا میں شاندار اُردو روایات کے بارے میں شہریوں میں شعور بیدار کرنے ، سماجی و تعلیمی میٹنگس کی سہولتیں فراہم کرنا ،کے علاوہ پروفیسر سید عین الحسن اردو میڈیم ذریعہ تعلیم میں ووکیشنل و ٹیکنیکل ایجوکیشن (فنی تعلیم) کو مستحکم بنانا ، مختلف اقوام کی زبانوں اور اَدب میں تقابلی جائزہ کو فروغ دینا خاص طور پر براعظم ایشیا میں اس طرح کے اقدامات کرنے کی تجویز رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تحقیقی پراجیکٹس بھی قومی و بین الاقوامی اداروں کے تعاون و اشتراک سے مکمل کیا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مانو کئی بیرونی اور ہندوستانی یونیورسٹیز اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون و اشتراک کے ذریعہ ریسرچ پراجیکٹس کی راہ پر چلے۔ اس کے علاوہ مانو کو چنندہ بیرونی اور ہندوستانی یونیورسٹیز کے ساتھ ایک شراکت دار ادارہ بننا چاہئے اور ان کے درمیان فیکلٹی و ریسرچ اسکالرس کا تبادلہ عمل میں آنا چاہئے۔ پروفیسر صاحب کے مطابق یو جی سی نے حال ہی میںموک اور سوئم جیسے اسکیمات متعارف کروائی ہیں ، اس سے مانو کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔وزارت اُمور خارجہ ایسے اداروں کی خواہاں ہیں جو باقاعدہ بنیاد پر ہندوستانی تہذیب و تمدن متعارف کروائے۔ ان حالات میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ملک کے مختلف تعلیمی مراکز سے فیکلٹی کو مدعو کرسکتی ہے تاکہ ان پروگرامس کے انعقاد میں مدد مل سکے ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook