پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ سے عمیر منظر کی گفتگو

پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ سے عمیر منظر کی گفتگو

ڈاکٹر عمیرمنظر اسسٹنٹ پروفیسر،شعبۂ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یوونی ورسٹی۔لکھنؤ کیمپس پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ کا مختصر تعارف:۔ پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ (پیدائش یکم جنوری ۱۹۴۵)کا شمارلسانیات کے مستند عالموں میں ہوتا ہے ۔لسانی مسائل و مباحث ...

Read More »

آزادئ ہند کا خواب اور اس کی تعبیر: علمائے کرام کی خدمات کے پس منظر میں

آزادئ ہند کا خواب اور اس کی تعبیر: علمائے کرام کی خدمات کے پس منظر میں

٭ پروفیسر صغیر افراہیم شعبۂ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ مئی ۱۸۵۷ء آزادئہندکا سنگ میل اِس لیے ہے کہ یہ نہ صرف اپنے پچھلے سو سال کا پس منظر پیش کرتا ہے بلکہ اِسی محور ومرکز سے ہمیں ۱۹۴۷ء ...

Read More »

راحت اندوری :بنائیں گے خاک کاسرمہ مگروہ خاک مزارہوگا

راحت اندوری :بنائیں گے خاک کاسرمہ مگروہ خاک مزارہوگا

٭پروفیسرشہاب عنایت ملک عالمی شہرت یافتہ اُردوشاعرراحت اندوری گذشتہ منگل کی شام اندورکے ایک مقامی ہسپتال میں دم توڑکر اپنے کروڑوں چاہنے والوں کو روتابلکتاچھوڑکرہم سے دورچلے گئے۔ یہ وہ دوری ہے جہاں سے کوئی مڑکرواپس نہیں آتاہے۔کروڑوں لوگوں کواپنی ...

Read More »

افراہیم کے صغیر افسانے

افراہیم کے صغیر افسانے

٭انیس رفیع،کولکاتا صغیر افراہیم کے برسوں پرانے افسانوں کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ اُن کی ذہنی پرورش ایک نیم متوسط خاندان کے کیپسول میں ہوئی۔افراد خانہ پڑھے لکھے روشن خیالی سے معمور ان کے تشکیلی دور میں اُن ...

Read More »

اردو کے عظیم افسانہ نگار۔منشی پریم چند

اردو کے عظیم افسانہ نگار۔منشی پریم چند

  منشی پریم چند اردو کے وہ افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اردو افسانوں کو طلسماتی اور رومانی فضا سے نکال کر زندگی کی حقیقتوں کا نقیب اور ترجمان بنایا۔ ان کے ابتدائی افسانوں میں اصلاح معاشرہ کا رنگ غالب ...

Read More »

افسا نہ نمک کا داروغہ۔منشی پریم چند

افسا نہ نمک کا داروغہ۔منشی پریم چند

منشی پریم چند افسانوی ادب کے وہ درخشندہ ستارہ ہیں جس کی چمک رہتی دنیا تک قائم رہنے والی ہے۔ 31 جولائی 1880 کو وارانسی کے لمہی گاؤں میں منشی عجائب رائے کے گھر میں پیدا ہوئے دھن پت رائے ...

Read More »

افسا نہ کفن۔منشی پریم چند

افسا نہ کفن۔منشی پریم چند

جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں، ایک بجھے ہوئے الاو کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا درد زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ...

Read More »
Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook