آج اپنے ہی ہاتھوں تجھے مٹی میں دباآئے‘۔آہ ڈاکٹر آصف فرخی

\"\"
٭ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

\"\"

  ڈاکٹر آصف فرخی کے والدپروفیسر ڈاکٹر اسلم فرخی نے کبھی یہ شعر کہا تھا، ان کے بیٹے ڈاکٹر آصف فرخی جون 2020 ء کو جامعہ کراچی کے قبرستان میں ان کے والد کے پہلو میں سپرد کردیا گیا۔اسلم فرخی کا شعر دیکھئے۔

آج اپنے ہی ہاتھوں تجھے مٹی میں دباآئے

کل تک تیرے جینے کی دعا مانگ رہے تھے

 آصف فرخی کے والد پروفیسر ڈاکٹر اسلم فرخی جن کا شمار اردو ادب کی پائے کے علمی و ادبی شخصیات میں ہوتا تھا،وہ ایک استاد، نثر نگار، خاکہ نگار، شاعر، محقق اور براڈکاسٹر اور ایک ملنسار اور نرم مزا ج انسان تھے۔ ان سے میرے تعلق کی کئی جہتیں تھیں،  البتہ ان کے صاحبزادے ڈاکٹر آصف فرخی سے تعلقات کی نوعیت قدرِ مختلف تھی، شاید عمرکے فرق کے باعث وہ دور دور ہی رہے، مختلف ادبی تقاریب میں انہیں دیکھا، نہ تووہ  کبھی ہماری جانب متوجہ اور نہ ہی ہم، بس انہیں دیکھ کر ان کے والد صاحب سے تعلق کی یادیں تازہ ہوجایا کرتی تھیں۔ ڈاکٹر آصف کم گو، خاموش رہنے والے، دوستی کے جھمیلے کم سے کم پالنے والا مزاج رکھتے تھے۔ اپنے کام سے کام، ان کا حلقہ احباب وسیع نہ تھا۔ ان کی یہ عادت اچھی بھی تھی لیکن بعض نے اس عادت سے اختلاف بھی کیا،بعض نے انہیں مغرور بھی کہا۔ ہر انسان اپنی الگ عادت لیے ہوتا ہے، کم تعلقات رکھنا، کم گو ہونا، اپنے کام سے کام رکھنے کا مطلب مغرور ہونا ہر گز نہیں۔ ڈاکٹر اسلم فرخی مرحوم گورنمنٹ کالج فار مین ناظم آباد میں استاد رہے، طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں کے نگراں رہے، کالج کے میگزین کے چیف ایڈیٹر رہے،مجھے بھی یہ اعزاز حاصل رہا کہ میں نے اپنی ملازمت کے آخری12 سال اس کالج میں گزارے، یہی سے ریٹائر ہوا، کالج میں رہتے ہوئے مجھے ان تینوں حیثیتوں پر فائز رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔یعنی طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں کا نگراں بھی رہا، کالج کے میگزین ’روایت‘ کا چیف ایڈیٹر بھی۔کالج میگزین ’روایت‘ کے گولڈن جوبلی نمبر کی اشاعت کا مرحلہ آیا تواس کے لیے ڈاکٹر اسلم فرخی کا مضمون ضروری تھا۔اس مقصد کے حصول کے لیے میں ان کے گھر گیا، انہوں نے اتوار کا دن مقرر کیا، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ وہ بولیں گے اور میں لکھتا جاؤں یعنی انہوں نے مجھے اپنا مضمون (املا) ڈکٹیٹ کرایا، پھر وہ مضمون انہیں دکھانے ان کے گھر جاناہوا، اس کے علاوہ ان سے تعلق جب وہ جامعہ کراچی تھے قائم رہا۔ ان کا سانحہ ارتحال ہوا تو میں ان کی تدفین میں شریک تھا اور ان کے سفر آخر کو قرطاس پر منتقل کیا، میرا یہ مضمون روزنامہ جنگ میں 10جولائی2016کو شائع ہوا تھا۔ عنوان ہے”ڈاکٹر اسلم فرخی کا سفرِ آخر“، اپنے اس مضمون میں مَیں نے ڈاکٹر آصف فرخی کا ذکر اس طرح کیا ہے۔ ”اب وقت ِآخر تھا۔ سب لوگ سر جھکائے لحدِ اسلم فرخی کے گرد جمع تھے۔ نم آنکھوں،افسردہ اور بوجھل دل کے ساتھ اپنے ہر دلعزیز استاد، ادب کے قیمتی سرمایے اور ایک شفیق و مہر بان بزرگ کے جسد خاکی کو اپنے ہاتھوں لحد کے سپرد کر رہے تھے،ڈاکٹر اسلم فرخی کے صاحبزادے ڈاکٹر آصف فرخی جو کٹ کاٹ اورجسامت میں اپنے والد کے مُشابِہہ ہیں استقامت اور حوصلے کے ساتھ اپنے والد کے جسدِ خاکی کو لحد کے سپرد کیے جانے کے عمل میں شریک رہے۔ وہ اس موقع پر صابر و شاکر نظر آئے جیسا کے حکم خدا وندی ہے کہ’ہر ایک کو لوٹ کر واپس جانا ہے‘۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی موت کا وقت بھی مقرر کر رکھا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ڈاکٹر اسلم فرخی کی لحد گلاب کے پھولوں اور پتیوں سے سجادی گئی“۔میری یہ تحریر روزنامہ جنگ میں نمایاں طور پر شائع ہوئی تھی۔

 ڈاکٹر آصف اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ڈاکٹر آصف کی پہچان ایک تو ان کے والد ڈاکٹر اسلم فرخی تھے۔وہ شعبہ طب سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک مترجم، افسانہ نگار، ناشراور ادیب کے طور پر جانے جاتے تھے۔ بچپن سے پڑھاکو اور ذہین تھے تب ہی تو 1976میں انہوں نے کراچی تعلیمی بورڈ سے میٹرک کے امتحان ایم ایس سی (پری میڈیکل) میں اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ اس وقت وہ آصف اسلم فرخی تھے۔ انہوں نے ڈاؤ کالج سے ایم بی بی ایس کیا، ہارورڈ یورنیورسٹی سے پبلک ہیلتھ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی، آغاں خان یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے تحت کراچی ادبی میلے کے انعقاد میں شامل رہے، لکھنا اور پڑھنا ان کی زندگی کا مقصد تھا، تعلیم ان کے گھرانے کی اعلیٰ روایت تھی، ان کے والد ہی نہیں بلکہ ان کی والدہ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتی ہیں، کراچی کے ایک کالجوں میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

 ڈاکٹر آصف فرخی نے ترجمے، کہانی نگار اور افسانہ نگار کے علاوہ اشاعتی سرگرمیوں میں زیادہ توجہ دی۔ انہوں نے افسانے بھی لکھے، ناول بھی، ترجمے زیادہ کیے۔ادبی جریدے ”سلسلہ“ کے چیف ایڈیٹر مرتضیٰ شریف 20سال قبل جب وہ روزنامہ ایکسپریس میں صحافی تھے ڈاکٹر آصف فرخی کا انٹر ویو کیا تھا جو 19جولائی 2000ء میں شائع ہوا تھا۔ ”اس مکالمہ میں ڈاکٹرآصف نے جدید افسانہ نگاری اوراپنے شخصیت کے حوالے سے کئی اہم سوالوں کے جوابات دئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’علامتی اسلوب سنجیدہ اور بامعنی طرز اظہار ہے‘۔ مکالمہ میں ڈاکٹر آصف نے ایک سوال کے جواب میں بتا یا تھا کہ وہ افسانہ نگار کرشن چندر، غلام عباس، عصمت چغتائی اور بیدی سے بے حد متاثر ہیں، اس مکالمے میں انہون نے نثر اور شاعری کے تقابل بھی پید کیا اور میڈیا کے ادب پر اثرات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی“۔

 ڈاکٹر آصف انگریزی میڈیم میں پڑھے، خاندانی علمی وادبی روایات اور والدین کا علم و ادب سے تعلق کے باعث وہ ادب کی جانب راغب رہے۔ بچپن سے ہی کہانیاں لکھیں، اس ماحول اور تربیت نے انہیں ایک طبیب کے ساتھ ساتھ ادب کی جانب زیادہ مائل کیا، انہوں نے کہانی کاری کا آغاز کیا۔انگریزی ادب پڑھا خاص طور پر ’آنیڈبلائٹن، چارلس ڈکنز اور جین آسٹن کی کتب کا مطالعہ کیا، اردو ادب میں عصمت چغتائی کی ’ٹیڑھی لکیر“ پھر منٹو کو پڑھا۔ انگریزی سے اردو اور اردو سے انگریزی میں ترجمہ کیے۔انگریزی میں لکھنے کا آغاز کیا پھر اردو میں لکھنے کی جانب راغب ہوئے، متعدد اردو شعرا کے کلام کا انگریزی ترجمہ کیا، معروف ناول نگار ہر مین ہیسے کے ناول ’سدھارتھ‘ کا اردو ترجمہ کیا، شیخ ایاز پر دو کتابوں کی تدوین میں شریک رہے،نجیب محفوظ کی تحریروں کا اردو ترجمہ کیا، افسانے لکھے اور پھر اپنا ایک اشاعتی ادارہ ’شہرزاد‘ قائم کر کے اپنی اور دیگر کی کتب شائع کا اہتمام کرتے رہے۔ان کی بعض تصانیف میں

افسانوں کے مجموعے’آتش فشاں پر کھلے گلاب،  چیزیں اور لوگ،ایک آدمی کی کمی، شہر بیتی ماجرا،تراجم میں ہر مین ہیسے کے ناول ’سدھارتھ‘ کا ترجمہ ”صدا“، لاطینی امریکہ کے افسانووں کے مجموعے ’موت اور قطب نما، ماتم اریک عورت کا، سبز رنگ، یادوں کی باز گشت،خواب نامہ، عالم ایجاد، میں شاخ سے کیوں ٹوٹا، چیزوں کی کہانیاں، اسم اعظم کی تلاش،، میرے دن گزررہے ہیں“ شامل ہیں۔ اردو جریدہ کتابی سلسلہ ”دنیا زاد“ کے عنوان سے جاری کیا۔ انہیں کراچی لٹرری فیسٹیول کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے تعاون سے کراچی ادبی میلہ ہر سال سجایا جاتا ہے۔ وہ اس کے اانتظامی امور کا اہم کردار رہے،2014سے وہ کراچی میں حبیب یونیورسٹی میں بحیثیت ایسو سی ایٹ پروفیسرو ڈائریکٹر

 ”آ رزو سینٹر و برائے ریجنل زبانیں اور ہومنیٹیز“ خدمات سرانجام دے رہے تھے۔2005میں حکومت نے ان کی علمی و ادبی خدمات پر تمغہ امتیاز سے نوازا۔

 موت بر حق ہے ڈاکٹر آصف اس دنیا سے رخصت ضرور ہوگئے لیکن وہ ہمیشہ ادبی دنیا میں زندہ رہیں گے۔ ان کے علمی و ادبی کارنامے اس دنیا میں رہتی دنیا تک لوگوں کو فیض پہنچاتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ڈاکٹر آصف کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔ثمہ آمین۔ڈاکٹر آصف کے والد ڈاکٹر اسلم فرخی کے اس شعر پر اختتام کرتا ہوں۔

آج اپنے ہی ہاتھوں تجھے مٹی میں دباآئے

کل تک تیرے جینے کی دعا مانگ رہے تھے

Leave a Comment