ادب پرعلامت نگاری کےاثرات

\"DSC_0270\"
٭ڈاکٹر محمد افضال بٹ

چیرپرسن شعبہ اُردو
جی سی ویمن یونیورسٹی،سیالکوٹ
Dr Muhammad Afzal Butt
Chairperson Department of urdu
GC Women University,Sialkot
Every era creates different sorts of art according to its requisitions in the wheel of time. It nourishes the art and then brings out innovations in it with the passage of time. An art passes through multiple dimensions In the process of internal and external changes. Along with content and structure its technical aspects also develop. When the diverse situations of life became a part of literature, symbolism surfaced as its inevitable fragment. After research and innovation in the fields of ancient knowledge, logic, philosophy, history, geography, zoology, mechanics and theology, only literature is a field where in the talent emotions of human beings get reflected. The things that cannot get absorbed in other subjects, they are embraced by symbolism and mark the different circles of the treatment of different cultures.
کسی بھی ادب کے پس منظر میں سماج کی فطری ضرورت حرکی قوت کے طور پر کام کرتی ہے ۔جہاں قدروں کے ٹوٹنے سے عدم تحفظ کی گھمبیرتا سماج کا حصہ بنتی ہے ۔وہاں بے روز گاری ،بیماری اور علاج کے وسائل سے محرومی اور سیاسی بے چینی سے انسانی ذہن ایک نئے رجحان کا شکار ہو جاتا ہے ۔ان حالات میں روایت سے بغاوت علامتی اور استعاراتی ادب کی طرف بہائو فطری عمل محسوس ہوتا ہے ۔قیام پاکستان ،پاکستانی مارشل لاء،قومی اور بین الاقوامی صورت حال نے ادب پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے،یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے ادیب ،شاعر ،دانشور اپنی تخلیقات اور بحث مباحثوں میں علامات ،استعارات کا استعمال کر کے انسانی زندگی کے مختلف پہلووں کو آشکار کرتے ہیں

\”علامت\” کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ اس کا وجود اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ انسان ۔ آغازِ تہذیب کا انسان تجرباتی دور سے گذر رہا تھا۔ اشیاء کے ساتھ تلازمات کے رشتے قائم ہو رہے تھے۔ انسان کو علامتی عمل تک پہنچنے کے لیے مختلف مرحلوں سے گذرنا پڑا چنا ںچہ حیاتیاتی ضروریات کے تحت اشارے، نشانات اور علامات استعمال ہوتی رہی ہیں۔ علامت، اشارے، اور نشان کی نسبت انسان کی ذہنی بالیدگی اور فکری نشوونما کا نتیجہ ہے۔ علامت\” عربی زبان کا لفظ ہے اور اپنے اندر کافی معنی خیزی رکھتا ہے۔ لُغوی لحاظ سے علامت کے درج ذیل معانی ہیں: نشان، پتا، سراغ، کھوج، اشارہ، کنایہ، چھاپ، مہر، آثارانگریزی میں علامت کے لیے لفظ\”Symbol\” استعمال کیا جاتا ہے جو دراصل یونانی لفظ Symbolein اورSymbolon سے نکلا ہے
لفظ(Symbol) جس کے لیے اب اردو میں علامت کی اصطلاح قبول کر لی گئی ہے، یونانی لفظ (Symbolon) سے نکلا ہے اور خود یہ لفظ دو لفظوں (Sym) اور(Bolon) کا مرکب ہے۔ پہلے لفظ کا مفہوم \” ساتھ\” ہے اوردوسرے کا \”پھینکاہوا\” چنانچہ پورے لفظ کا مطلب ہوا جسے ساتھ پھینکا گیا۔۱
علامت کا تعلق دراصل زندگی سے ہے۔ فرد اورمعاشرے کے رشتے سے ہے۔ مختلف واقعات اور انسانی زندگیکے مزاج و مذاق کو مختلف انداز سے پیش کرنا علامت کا کام ہے۔کیونکہ انسان کی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کا تعلق سیدھا اس کی اپنی جبلت اور محسوسات پر ہے۔
،،علامت سے مراد یہ ہے کہ جب کسی شے کا ذکر آئے تو یہ شے اس تصور کی طرف ذہن کو منتقل کرے جو اس کا بنیادی وصف ہے۔۔۔ یہ شے یا لفظ کے استعمال سے اس کے مخفی معانی تک انسانی ذہن کی دسترس کو ممکن بناتی ہے۔یہ مخفی تجربے کی سطح پر اس شے یا لفظ سے مربوط ہوتا ہے۔ تاہم اس کی کوئی معین صورت نہیں ہوتی۔،،۲
علامت اپنے محسوس دائرے میں رہ کر کسی بھی شخص، معاشرے ، ملک، تہذیب اور سیاست کے لوازمات کو خوب طریقے سے سمیٹتی ہے۔ اس کا بہائو گہرا اور لامحدود ہوتا ہے۔یہ زندگی کو نیا معنوی پیکر عطا کرتی ہے۔ جہاں تک معنی کی ایک سے زیادہ سطحوں کا تعلق ہے وہ تخلیقی اظہار کی ہر ہیٔت میں (وہ علامتی ہو یا غیر علامتی) ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔ ہر معنی خیز فن پارے کے تاثر اور مفہوم کی لہریں بیک وقت کئی سمتوں میں سفر کرتی ہیں اور ان کی وساطت سے حقیقت کے کئی مراکز تک پہنچا جا سکتا ہے۔ لیکن فنکار اگر لغوی معنی کے جبر سے آزاد نہیں ہو پاتا اور لفظ پر اس کی گرفت صرف اوپری یا ایک ہی سطح پر ہوتی ہے۔ تو ایسی صورت میں الفاظ کا استعمال صرف ذہنی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور کسی استدلال یامنطق کا مطیع ہو کر رہ جاتا ہے۔اس طرح الفاظ سے واقعہ کی تصویر تو بن جاتی ہے۔ لیکن اس میں کسی وسیع تر حقیقت کے چھپے ہوئے راز کا نشان نظر نہیں آ سکتا۔نتیجتاً اس سے ذہنی طور پر تو متاثر ہوا جا سکتا ہے، لیکن کسی تخلیقی تجربے تک رسائی نہیں ہوتی۔
علامت اپنی خصوصیات اور ہیئت کے ذریعے انسانی ذہن کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور اسی خصوصیت اور ہیئت سے ایک خیال کا وجود ہوتا ہے جو اس علامت کا معنوی پہلو ہو گا۔ علامت صرف اندرونی پرکسی معنی کو ظاہر نہیں کرتی، بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر، تہہ در تہہ اور بعض اوقات پیچیدہ مفہوم بھی چھپاہوتا ہے۔ یہ ہر کسی شخص کے ذہن میں مختلف ردعمل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
علامت ایک ایسا اشارا ہے جو اپنے خواص کے ذریعے ان خیالات کو قاری اور سامع تک لے جاتا ہے۔ جو اس علامت کے پردے میںشاعر نے بیان کیے ہیں۔ گویا علامت گاگر میں ساگر ہے یعنی اندرون کے خیالات کی پردہ پوش بھی ہے اورپردہ دری بھی کرتی ہے۔ علامت کا یہی عمل اس کی بقا کا ضامن ہے۔۳
ہر عہدوقت کے پہّیے میں گھومتے ہوئے، اپنی ضرورت کے لحاظ سے مختلف قسم کا فن تخلیق کرتا ہے۔ اُسے پروان چڑھاتا ہے اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ا س میں نت نئی تبدیلیاں کرتا ہے۔ ایک فن اپنے داخلی اور خارجی تغیر و تبدل میں مختلف صورتیں اختیار کرتا ہے۔ مواد اور ہیئت کے ساتھ ساتھ تکنیک میں بھی اہم پیش رفت نظر آنے لگتی ہے۔ادب اس کی ایک کی ایک بہترین مثال ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ادب کی کوئی قسم بالکل ختم نہیںہو جاتی۔ بلکہ رفتہ رفتہ اس میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
ابتدا میں داستان معرضِ وجود میں آئی ۔ پھر ضخیم ترین ناول، اس کی جگہ درمیانی ضخامت کے ناول نے لے لی اور پھر اس نے ناولٹ کی شکل اختیار کر لی۔اور پھر ناولٹ نئی صورت میں افسانہ بن کر سامنے آیا۔جدید ادب میں افسانہ بھی ایسے ہی مقام پر کھڑا بلکہ دوڑتا نظر آتا ہے۔ پہلے صرف سادہ یا بیانیہ افسانہ لکھا جاتا تھا۔ پھر پرُ اسرار، جرائم ، علامتی و تجریدی، سائنس فکشن اور نان فکشن افسانے لکھے جانے لگے۔ اس تمہید کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ ہر دور میں ادب کسی نہ کسی مخصوص فلسفے، نظریۂ حیات یا نقطۂ نظر کی ترجمانی اور نمائندگی کرتا ہے۔
فن کو سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے اس کی مبادیات سے واقف ہونا ضروری ہے۔مثلاً کلاسیکی موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے لیے راگوں اور راگنیوں کو جاننا ضروری ہے۔ مصوّری سے لطف اٹھانے کے لیے اس کے اسالیب اور رنگوں کی علامتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ ادب سے لطف اٹھانے کے لیے بھی ذوقِ سلیم کی ضرورت ہے۔۴
لفظ کا علامتی تبدل اور اشیا کا علامتی اظہار تخلیقی عمل سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اس طریقۂ کار کی بہت سی وجوہات بھی ہیں۔ جو تخلیقی ، فنی، نفسیاتی اور خلقی عناصر پر مشتمل ہیں۔جہاں تک علامت نگاری کا تعلق ہے اس کے آغاز کی کڑیاں زمانہ قبل از مسیح کی یونانی ، مصری ، ایرانی ، ہندوستانی دیومالائی قصوں سے جڑی نظر آتی ہیں۔ قدیم قصوں میں سورج دیوتا، آگ دیوتا اور اگنی دیوی (توانائی اور حیات افروزی کی علامت ) برگد کا درخت (حیات کی علامت) ناگ لنگ (جنس کی علامت) وغیرہ علامت نگاری کا ابتدائی مظہر ہیں۔
لیکن صرف ان علامتوں تک پہنچ جانا ہی کافی نہیں ہے۔ جب تک انسان ان علامتوں کو اپنے وجود میں زندہ نہ کرے اور ان کے ذریعے فطرت اور اپنے رویہ کے درمیان ایک اشتراک نہ ڈھونڈ سکے، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ علامتیں چاہے خواب کے راستے ملیں، یا مراقبے کی کیفیت میں ، شعوری طور پر اپنایا جائے یا روایتی دستاویزات کے مطالعہ کے ذریعے۔ اصل میں انفرادیت ان کے مشاہدہ کے باعث اہم ہوتی ہے۔ جو علامتیں عام سے فطرت کی اشیاء میں اپنا ظہور کرتی ہیں وہ باطنی جوہر سے ہم آہنگ بھی ہوتی ہیں۔
افریقہ اور مصر کی کہانیوں میں \”خرگوش\” چالاکی کی علامت ہے۔ یونان میں لومڑی اور طوطا عقل مندی کی علامتیں ہیں۔ گیڈر کی بزدلی، کوّے کی عیاری بھی علامات کا حصّہ ہیں۔ علامت اظہار کی قدیم ترین صورت ہے۔ یہ انسانی تہذیب کے آغاز سے آج تک علم و فن کی مختلف اور رنگا رنگ تصویر پیش کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے۔
,,علامتوں کا تعلق ہر ملک میں اس کی اپنی آب وہوا، فطرت ، تہذیب ، رسم و رواج مذہبی تصّورات ، سماجی و سیاسی آگہی اور قلمکار کی ذاتی افتاد سے ہوتا ہے۔ اور علامتیں انھیں فکری جہات پر تشکیل پاتی ہیں،،۵
جب ادب میں زندگی کی گو ناگوں کیفیات کو شامل کیا گیا تب سے علامت ادب کے لیے ناگزیر جزو بن گئی۔ قدیم علوم ، منطق ، فلسفہ ، تاریخ ، جغرافیہ ، علم حیوانات ،فلکیات ، ارضیات اور مذہبیات کی تحقیق اور تفسیر کے بعد ادب ہی ایسا حوالہ ہے، جہاں انسان کے باطن میں رو پوش جذبوں کا انعکاس ہوتا ہے۔ جو دیگر علوم میں سما نہیں سکتے۔ علامت اُسے اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔
علامت کا استعمال عام طور پر اُس وقت زیادہ ہو جاتا ہے۔ جب بر ملااظہار پر پابندی ہو، حاکم ِوقت کی جانب سے لوگوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جائے اور انہیں نت نئی تعریزوں اور ضابطوں میں جکڑ دیا جائے۔ ایسے عالم میں جب چہار جانب خوف و ہراس کی صورت ہو اور سراسیمنگی کا عالم ہوایسی نا گفتہ بہ صورت ِحال میں علامت کے نت نئے سانچے اور مفاہیم وضع ہوتے ہیں اور اس کے نئے نئے حوالے سامنے آتے ہیں ۔ شاعر نئی نئی علامتیں تخلیق کرتا ہے اور عوام کے جذبات اور احساسات کی نمائندگی کرتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہر آمرانہ دورِ حکومت میں جب جمہوری نظام اُس کی قدروں ، روایات کو پائمال کیا گیا اور لوگو ں سے ہر سطح پر نا روا سلوک روا رکھا گیا۔ ظلم اور ناانصافی کے ایسے ادوار میں ادیبوں اور شعراء نے اپنی اپنی علامتوں میں ایسے ظلم اور جبر کے خلا ف واضح نفرت اور ردِعمل کا اظہار کیا۔ یہ علامتیں پھر عہد کی معاشرتی ، سیاسی ، سماجی اور تہذیبی زندگی کی تر جمان ٹھہریں۔ ان علامتوں کے مطالعے سے مختلف ادوار کی زندہ تصویریں ہماری نظروں کے سامنے گھوم جاتی ہیں۔
علامت کی یہ خصوصیت اور خاصیت رہی ہے کہ اُس کے پسِ پردہ تہہ در تہہ معانی و مفاہیم کا ایک سلسلہ پوشیدہ ہوتا ہے۔یہی معانی و مفاہیم دراصل ایک علامت کے پورے بیک گرائونڈکو واضح کرتے ہیں، جوں جوں ہم ان معانی و مفاہیم کو تہہ میں اُترتے ہیں ہمارے سامنے ایک اور ہی جہاں کا نقشہ نگاہوں میں پھر جاتا ہے۔ یہ جہاں جو تصوراتی یا تخیلاتی نہیں بلکہ آج کا وہ جہاں ہے جس میں آج کا انسان سانس لے رہا ہے اور قدم قدم پر نت نئے مصائب اور المیوں کا شکار ہو رہا ہے۔ ان مصائب اور المیوں نے اس کی شناخت اور پہچان کو مٹا کر رکھ دیا ہے۔ استحصالی قوتیں جن کا ہر سطح پر استحصال کر رہی ہیں اور اُسے اس کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہیں ۔ ان استحصالی قوتوں ، اُن کے استحصالی ہتھکنڈوں، اُن کے ظلم و ستم ، اُن کی زیادتیوں اور ناانصافیوں کے متعدد حوالوں کو عہد ِ جدید کے علامت نگار شعراء نے اپنی اپنی علامتوںمیں اُجاگر کیا ہے۔ یہ علامتیں استحصالی قوتوںکی بھیانک اشکال کو سامنے لا رہی ہیں۔
علامت شعور ، لاشعور اور اجتماعی لا شعور کے مختلف حوالوںسے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ اس کا تعلق انسان کے ذہن سے جڑا ہوا ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ انسان سوچ اور فکر کے اَن گنت حوالوں کا پر تو علامت کے اندر نظر آتا ہے۔ گویا انسانی سوچ اور فکر کے ارتقاء کے ساتھ علامت کا دائرہ بھی پھیلتاچلا جاتا ہے۔ اس کے اندر بھی وسعت آجاتی ہے ۔ ہرآن بدلتی ہوئی زندگی کے مختلف پہلوئوں کی تصویریں اُس کے اندر جھلکتی نظر آتی ہیں۔
’’ شعور اور لا شعور اور اجتماعی لاشعور ۔۔۔۔۔۔۔ ا ن تین جہات کے جہاں میں علامت جنم لیتی ہے اسے محض تخلیق کار کے ذہن کا کرشمہ قرار دیا جا سکتا ۔ علامت بشرطیکہ وہ شعوری طور پر وضع نہ کی گئی
ہو یا کہیں سے اخذ ومستعارنہ ہو۔۔۔۔۔۔۔ لاشعور کی انتہائی گہرائی میں موجود تخلیقی سر چشمے سے
پھوٹتی ہے یہ وہ کرن ہے جو اجتماعی لا شعوری عوامل کے سہارے قرنوں کی ذہنی تاریکیوں کو منور کرتی ہے۔ علامت اس نفسی قوت کی مظہر ہے جو تخلیقی ابال کے روپ میں اساطیر ، مذہب ،فنونِ لطیفہ اور ادب میں رنگ آمیزی کا باعث بنتی ہے۔ یہ وہ رہنما ستارہ ہے جس کی جوت میں لاشعورکی اتھاہ گہرائیوں میں جھانکنا ممکن ہے۔ اس لیے علامت محض اظہار کا ایک اندازاور اسلوب کی صفت نہیں بلکہ ان سے بڑھ کر یہ ایک ایسے آئینے کی صورت اختیار کر لیتی ہے جس میں عصر حاضرکے خدوخال کی تزئین بھی اسی سے ہوتی ہے۔‘‘ ۶
ہر عہد اور ہر دور میں علامت سے اظہار کے نئے نئے وسیلے سامنے آتے رہے اور تہذیبی اور معاشرتی زندگی کی مختلف اشکال علامت کے سانچوں میں ڈھل کر ایک نئی معنویت اور مفاہیم میں ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ اسی چیز نے علامت کو انسانی زندگی اور اس کی پیچیدہ جہتوں کا عکاس بنا دیا ہے۔ علامت کی زبان بظاہر گنجلگ اور پیچیدگی کی حامل نظر آتی ہے۔ لیکن ذرا سے غور کرنے سے اس کی پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں ۔ اور علامت کے الفاظ اور اصطلاحات کی تفہیم اور اس کی گہرائی تک پہنچنا قاری کے لیے کچھ ذیادہ مشکل نہیں رہتا۔ علامت کی ان مخصوص اصطلاحات کے تنا ظر میں انسان کے محض جذبات و احساسات ، تصورات اور خیا لات کے نقوش ہی واضح نہیں ہوئے بلکہ تہذیبی اور تمدنی زندگی کی کئی ایک جہتیں بھی نمایاں ہوتی چلی گئی ہیں۔ جدید زندگی میں ہر آن رونما ہونے والی تبدیلیوں اور تغیرات کے نقوش کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کے نشیب وفراز کا عکس بھی علامت کے ذریعے وسیلہ اظہار پایا نظرآتاہے۔ الفاظ علامتوں میںڈھل کر ایک زندہ اور جیتی جاگتی زندگی اور اس کے متنوع پہلوئوں کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔
’’ علامات وہ الفاظ یا اصطلاحات ہیں جو مصنف اور قاری کے درمیان معاہدے کی بناء پر ایک خاص مقصدکے اظہار کے لیے جائز قرار دیئے جاتے ہیں ۔ علامات ایک قابل فہم زبان ہے۔ زبان اس لیے کہ وہ جذبات و احساسات کا اظہار کرتی ہے اور معقول اس لیے کہ وہ ذہنی خیالات و نتائج کا اظہار بھی ہے۔ الفاظ صرف اور صرف احساس کا اظہار کرتے ہیں اور علامات احساس کی اس ارتقائی منزل کی طرف اشارہ کرتی ہیں ، جہاں پہنچ کر احساس ایک پختہ خیال کی صورت اختیار کرتاہے۔ ‘‘ ۷
علاماتی اور استعاراتی اظہار آغاز تمدن سے انسانی زندگی سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کرہِ ارض پر انسان نے جب چیزوں کو پہچاننے کا آغازکیا تو زبان کے مخصوص علامتی اور صوتی اشارے وجود میں آتے چلے گئے۔ یہ صوتی اور علامتی اشارے مختلف اشیاء کی حقیقتوں کو پرکھنے ، جانچنے اور ان کے اظہار کے حوالے سے تھے ۔ قدیم انسانوں نے اسی علامتی پیرائے میں اظہار کے نئے نئے وسیلے ڈھونڈے۔
’’ ہر زبا ن بنیادی طور پر استعاری اظہار ہے۔ جب انسان نے کرہ ِارض پر آنکھیں کھولیں تو اس نیاپنے اردگرد کی چیزوں کا ادراک کرنا شروع کیا۔ تو پھر اس ادراک کے اظہار کی ضرورت پیش آئی تو چیزوںکوپہنچاننے کا عمل شروع ہوا۔ حقیقت کے عرفان کی طلب ہوئی تو زبان وجود میں آئی گویا زبان صوتی اشاروں میں نقل ہے ، یہ صوتی اشارے بصارت سے متعلق ہوئے ۔ دور کی حقیقتوں کے حوالے سے پرکھنے کا عمل شروع ہو ا ۔ ماورائی حقائق کو محسوس حقائق کی نسبت سے جانچنا اور ظاہر کیا جانے لگا ۔ ہر لفظ اپنی ابتداء میں ایک زندہ استعارہ تھا۔ قدیم انسانوں میں اور قدیم اساطیری اوردیو مالائی ادب میں حقیقت کی تقسیم روحانی اور مادی تناظر میں نہیں تھی ، حتٰی کہ قدیم الہامی کتابوں میںبھی حقیقت کو معجزے اور کرشمے سے الگ نہیں کیا جا سکتا ، ،مگر جوں جوں وقت گذرتا گیایہ استعارے اپنی تازگی کھوتے گئے اور محض علامت بن کر رہ گئے۔۸
علامات آفاقی اور علاقائی دونوں طرح کی ہوتی ہیں ۔ علاقائی علامتیں محض ایک خطے تک محدود ہوتی ہیں۔ ان میں سے اسی خطے کے مخصوص ر سم و رواج ، روایات واقدار اور شخصی زندگی کے متعدد پہلوئوں کو اجاگر کیا جات ہے۔ علاقائی علامتیںایک محدود تہذیبی سیٹ اپ کی مختلف النوع جہتوں کی عکاس ہوتی ہیں۔ ان کے اندر انسانی رویوں کی رنگارنگی بھی نظر آتی ہے ، جب کہ آفاقی علامتیں پوری بنی نوع انسان کی نمائندگی ہوتی ہیں۔ ان میں بلا تحصیص مذہب و ملت ، نسل اور گروہ کے تمام دنیا کے انسانوں کے لیے ایک ہی پیغام اور ایک ہی نظریہ حیات ہوتا ہے۔ ان علامتوں میں انسان کے مجموعی مسائل ، ان کی زندگی میں رونما ہونے والے حادثات اور آفات اور معاشی اور معاشرتی نا ہمواری کے مختلف پہلوئوںکو موضوع بنایا جاتا ہے۔ یہ علامتیں زندگی کے ان پہلوئوں کے حوالے سے پوری دینا میں بسنے والے لوگوں کے جذبات کی ترجمان بن جاتی ہے۔
علامت محض ایک استعارے کی مانند ایک شے یا تصویر کی ترجمانی ہی نہیں کرتی بلکہ یہ تو روابط کا ایک بنیادی نقطہ بھی ہوتی ہے۔ اس میں بے حد ایجاز و اختصار ہوتا ہے۔ اس کے اندر ارتکاز کی یہ صورت ہوتی ہے کہ اکثر ایک صورت ایک لفظ سے منعکس ہو کر ایک علامت بن جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ ایک \’\’image\” کی صورت میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اور غیر لسانی روپ اور اشکال کے لیے بھی سامنے آتی ہے۔ یہ صرف شعر و شاعری اور نثر میں ہی نہیں بلکہ سنگتراشی اور مصوری میں بھی اظہار پاتی ہے۔ اس کے ذریعے تہہ در تہہ کیفیات کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ جن کا تعلق ہمارے باطن اور وجدان سے ہوتا ہے۔ علامت بعض اوقات ان نفسیائی حقائق کا اظہار بھی کرتی ہے۔ جن کی قطعی تشکیل بعض اوقات ممکن نہیں ہوتی ، نیز یہ انسانی شعور کی تہہ در تہہ پیچیدگیوں میں اترنے اور حقیقت کو ٹٹونے کا نام ہے۔
علامت کو وسیع معنوں میں استعارہ بھی کہاگیا ہے۔ جو ایک وسیع تر نظام کا حصہ ہوتی ہے، نہ صرف یہ کہ وہ بیک وقت کئی چیزوں کا استعارہ ہوتی ہے بلکہ وہ شے جو حقیقت میں موجود ہے، اس کی ایک نمائندہ حیثیت سے بار بار سامنے آتی ہے۔
’’گویا علامت ایسی کوششں ہے جو اسباب کے متعلق ارادی فکر مندی سے وجود میں آتی ہے ۔ جوخیالات کے باہمی میل جول کا ایسا الجھائو ہے جو استعارات کی ہفت رنگی سے عبارت کرتا ہے ۔ تاکہ یکتا انفرادی احساسات کی خبر رسانی کر سکے۔ ‘‘ ۹
علامت بیک وقت اشیاء اور حقائق کے مختلف پہلوئوں کا نہ صرف انکشاف کرتی ہے۔ بلکہ انہیں پوشیدہ بھی رکھتی ہے۔ علامت جس انداز سے واردات قلبی ، زندگی کے حقائق اور تصورات کا جس مخفی انداز سے اظہار کرتی ہے ۔ انہیں کسی اور طریقے سے اس درجہ موثر انداز سے پیش کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔ علامت کی یہ خاصیت اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے ۔ کہ وہ کسی بھی سطح پر واشگاف طریقے اور انداز سے معانی کا اظہار نہیں کرتی ، اس کے بطن میںجو معانی پوشیدہ ہوتے ہیں انہیں مخفی رکھتی ہے ۔ اس حوالے سے علامت استعارے سے کسی حد تک قریب ضرور ہو جاتی ہے ، لیکن مکمل استعارہ نہیں بنتی، بلکہ اپنی انفرادیت اور معنویت ہر سطح پر بر قرار رکھتی ہے۔
شاعرانہ تجربات اور تصورات کے حامل وہ عناصر جو تربیت میں نہیں ہوتے بلکہ منتشر حالت میں ہوتے ہیں، محض علامت کی مدد سے وحدت حاصل کر لیتے ہیں اور ایک منطقی صورت میں ڈھل کر معنویت کے حامل بن جاتے۔ انسان علامتوں میں ہی زندگی بسر کرتا ہے۔ اور ان کی مدد سے ہی حقیقت تک رسائی حاصل کرتا ہے ۔ بعض فلسفیوں نے علامت کو زندگی میں جو نمایاں اہمیت دی ہے وہ فضول اور لا یعنی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔ وہ علامت کی تخلیق کو ایک فطری عمل قرار دیتے ہیں ۔جن کے ذریعے اپنا اظہار پاتے ہیں ۔ اور ذہن کی پیچیدہ گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں ۔
شاعری اور ادیبات میں علامتوں کی حیثیت قدرے مختلف ہوتی ہے۔ ادبی علامت کے اظہار سے اشیاء حقائق اور شخصی رویوں اور ان کی واردات کی تفہیم کا ایک خاص انداز اور طریقہ سامنے آتا ہے۔ شاعری اور ادبیات میں علامتوں کا استعمال شعوری سطح پر ہوتا ہے۔ شاعر اپنی تخیل کی اُڑان سے علامتوں کے نت نئے سانچے وضع کرتا چلاجاتا ہے۔ یہ سانچے معاشرتی اور تہذیبی زندگی کے پیچیدہ پہلوئوںاور حقائق کو سامنے لاتے ہیں، جن سے انسان جڑا ہوا ہے، اور ان سے کسی طور پر بھی علیحدہ نہیں ہو سکتا۔ادب سے وابستہ بعض لوگوں نے اشارے اور علامت کو ایک ہی معنوں میں لے لیا ہے، حالاںکہ ان دونوں کے اندر ایک بنیادی فرق ہے۔ جو ذرا غور کرنے سے کھل کر واضح ہو جاتا ہے۔
’’ اشارے کو بعض نے علامت کا متبادل قرار دیا ہے ، لیکن اشارے اور علامت میں ایک بنیادی
فرق ہے۔ یہ فرق شاعری میں بہت جلد نمایاں ہوجا تا ہے ۔ اشارہ کسی چیز یا حقیقت کے براہِ
راست تعلق کو ظاہر کرتا ہے، علامت میں اس کے برعکس تعلق غیر معین ہوتا ہے۔ اشارہ محض کسی
چیز یا حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے ، جب کہ علامت کا دائرہ اشارے سے کہیں وسیع اور بڑا ہوتا
ہے۔ یہ اپنے باطن میں اشارے کے علاوہ دوسری متنوع چیزوں کو سمیٹے ہوئے نظر آتی ہے۔ وہ
ایک مکمل تصور کی حامل ہوتی ہے۔ وہ حقیقت یا تصویر کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ اس کے مکمل تصور
کو اُجاگر کرتی ہے ۔۱۰
’’ اشارہ تو کسی حقیقی چیز کا قائم مقام یا نمائندہ ہوتا ہے ۔ جب کہ علامت زیاد ہ وسیع معنی کی حامل ہوتی ہے۔ اور ان نفسیاتی حقائق کا اظہار بھی کر سکتی ہے ۔ جن کی قطعی تشکیل ممکن نہ ہو۔ ‘‘ ۱۱
ایک ادیب بعض مخصوص حالات میں محض علامت کے وسیلے سیا یک عہد کے جبر اور ظلم کے خلاف اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتا ہے۔ اور اکثر اوقات تو پوری قوم کے جذبات کی عکاسی علامت کے پیرائے میں ہو رہی ہوتی ہے۔ اس کی وضع کی ہوئی علامتوںکے اندر وہی کا ٹ اور معنویت ہوتی ہے جو واضح اور بر ملا لکھنے والے کی قلم میں ہوتی ہے۔
علامت محض تخیلاتی اور تصوراتی بنیادوں پر استوار نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس پردہ زندگی کے وہ حقائق ہوتے ہیں ، جو عموماََ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں ، یا پھر انہیں ان کا مکمل ادراک نہیں ہوتا ۔ گویا علامت کے حوالے سے ہم زندگی کے بعض اہم محرکات اور عوامل تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ علامت کی زندگی وقتی یا لمحاتی نہیں ہوتی بلکہ علامت کا سفر انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، اور وقت گذرنے کے ساتھ اس کے اندر تنوع پیدا ہو تا چلا جاتا ہے۔ علامت کا فطری ارتقاء کبھی جمود یا ٹھہرائو کا شکارنہیں ہوتا اور نہ ہی حالات و واقعات اور زندگی میں رونما ہونے والے تغیرات اس کی حیثیت کو متا ثر کرتے ہیں۔
علامت عوامی جذبوں ، امنگوں اور احساسات کی ترجمانی ہوتی ہے۔ مخصوص حالات میں بعض مخصوص علامات یا نئی علامتیں وضع ہوتی رہتی ہیں ۔ ایک ناول نگار یا شاعر اپنے معاشرتی حالات اور اس کے تقاضوں کے مطابق ان کا استعمال کرتا رہتا ہے۔ زندگی کی ہر تبدیلی اور تغیر نیز زندگی کی رنگارنگی اور اس کے متنوع پہلو علامت کے ذریعے اپنے اظہار اور تکمیل کے مراحل طے کرتے ہیں۔
علامت کی زبان سے بعض اوقات وہ کام لیا جاتا ہے ۔ کہ لوگوں کی زندگی میں انقلاب برپا ہو جاتے ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے جملے یا لفظ ایسا تاثر چھوڑ جاتے ہیں ، کہ اذہان بیدار اور جدوجہد پر آمادہ ہو جاتے ہیں، اور صدیوں سے چھاپا ہوا جمود اور ٹھہرائو ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح علامت کا سفر ایک زبان سے دوسری زبان کی جانب جاری و ساری رہتا ہے۔ اُردو ادب میں جہاں مقامی علامتوں کا کثرت سے استعمال کیا گیا ہے،وہاں بدیسی زبان اور اس کے ادب کی مخصوص علامتیں بھی اُردو میں چلی آئی ہیں ، اور آج یہ علامتیں بدیسی نہیں رہیں۔ ہمارے ادیبوں نے انہیں اپنے تہذیبی و معاشرتی سیٹ اپ اور معروضی حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے،اور یہ اُردو ادب کا حصہ بن چکی ہیں۔
بعض اوقات علامتی پیرایہ اس قدر جانا پہچانا ہوتا ہے۔کہ اس میں معاشرے اور تہذیب میں رہنے والے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی ہونے لگتی ہے۔ اس طرح وہ علامت اس معاشرے کے رحجانات و میلانات اور اقدار و روایات کی عکاس بن جاتی ہے۔ یہ علامتی پیرایہ آنے والی نسلوں کو کئی ایک حقیقتوں اور زندگی کے نئے پہلوئوں سے روشناس کراتا ہے۔ علامتیں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اپنی معنویت اور حقیقت منواتی چلی جاتی ہیں۔ بعض اوقات اس علامتی پیرائے یا علامتوں کو نئے نئے معنی اور مفاہیم ملتے رہتے ہیں ۔ گویا علامتی رحجان ہر عہد اور تہذیب کے نمائندہ میلانات ورحجانات کو اپنے اندر سموتا چلا جاتا ہے۔ اور معاشرتی زندگی کی نئی نئی جہتیں اس علامتی سانچے میں ڈھلتی چلی جاتی ہیں۔
علامت کے رحجان کو محض وقتی تا تصوراتی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ ہر علامتی رحجان ایک عہد ساز رحجان ہوتا ہے۔ اس کا تعلق جہاں ایک تہذیب اور اس کی معاشرت سے ہوتا ہے، وہاں اس کا براہِ راست رشتہ انسان کے ذہن، جذبات و احساسات ، تصورات اور ان کے محرکات سے بھی ہوتا ہے۔
’’ علامت سازی کا عمل ایک ایسا عمل ہے،جو ہر وقت ، ہر لمحہ انسانی ذہن سے وابستہ رہتا ہے ۔ انسان کا ذہن ایک ایسی مشین ہے ، جو مختلف خیالات ، احساسات و تلذـٍٍٍمات کے رشتوں کو علامتی شکل میں ڈھالتی ہرتی ہے ۔‘‘ ۱۲
علامت ان خوابیدہ اور ادھوری خواہشات کی بھی ترجمان نظر آتی ہے،جو کسی بیرونی جبر یا غیر موافق حالات کی وجہ سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتیں یا ان کا عملی اظہار ممکن نہیںہوتا، علامت کے وسیلے سے عملی اظہار تک پہنچتی ہیںاور محض ایک چھوٹی سے علامت کے اندر ان کا بھر پور اظہار ہوتا ہے۔
’’ بے شمار جذبات ، احساسات ،تصورات، خیالات اور افکار ایسے ہیںکہ عام زبان ان کو ادا کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ ایسی صورت میں ہی علامتوں کے بت تراشے جاتے ہیں۔‘‘ ۱۳
علامت کی زبان کا مخصوص مزاج رہا ہے اور یہ علامتی زبان وقت کے ساتھ ساتھ اپنے سانچے بدلتی رہتی ہے۔ یہی چیز علامت کو تنوع اور جدت سے ہم کنار کرتی ہے۔ اور اس کی اہمیت کو کم نہیں ہونے دیتی، اس کا رشتہ بیک وقت ماضی، حال اور مستقبل سے استوار رہتا ہے۔ علامت کے اندر ماضی کے واقعات یا حال کی کسی بڑی حقیقت یا آنے والے مستقبل کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ بعض اوقات علامت کے پیرائے میں آنے والے کل کی پیش گوئی کر دی جاتی ہے۔ ماضی ،حال اور مستقبل کے حوالے سے وضع ہونے والے علامتی اشارے یا پیرائے ایک شاعر یا ادیب کے گہرے معاشرتی اور تمدنی شعور کے عکاس ہوتی ہیں ۔ اس کی نظر زیادہعمیق اور دور تک دیکھنے والی ہوتی ہے، اس کا ذہن رسا اور مشاہدہ گہرا ہوتا ہے۔ وہ آنے والے کل کا مشاہدہ دوسرے لوگوں سے کہیں زیادہ بہتر انداز سے کر رہا ہوتا ہے۔ نتیجتاََ اس کے وضع کیے ہوئے اشارے یا پیرائے آنے والے کل کا انکشاف کر دیتے ہیں۔
علامتیں جس تہذیب اور تمدن سے وابستہ ہوتی ہیں، اس کے رحجانات اور میلانات کا بھی عکس ہوتی ہیں۔ اور ایک مخصوص تہذیبی سیٹ اپ اور پس منظر میں ان کی معنویت واضح ہوتی ہے۔ ہم مختلف ادوارمیں وضع ہونے والی علامتوں کے اندر مختلف تہذیبوں کا عکس دیکھتے ہیں۔ تہذیبوں کے اندر کس طرح سے انقلاب اور تغیرات رونما ہوئے ، تہذیبی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں معاشرتی زندگی کس طرح متاثر ہوئی ، یہ وہ پہلو ہیں جن کا اظہار ہر عہد کے علامتی پیرائے کے اندر موجو دہوتا ہے۔ گویا ایک خاص تہذیبی ماحول کے اندر ہی علامتیں اپنا طلسماتی اثر دکھاتی ہیں۔اور افراد معاشرہ ان علامتوں کے ذریعے زندگی کے حقائق سے روشناس ہوتے ہیں۔
’’ علامت ایک خاص تہذیبی پس منظر میں ہی سحر آفرینی کر سکتی ہے۔ ‘‘ ۱۴
علامت کا تعلق زندگی کے چھوٹے چھوٹے جذبوں اور خواہشات سے بھی ہوتا ہے۔ یہ وہ جذبے ہیں، جس سے انسان کی زندگی کی کائنات میں رنگا رنگی اور دلکشی نظر آتی ہے۔ جب یہ جذبے علامت کے سانچے میں ڈھلتے ہیں، تو جمالیاتی ذوق کی تسکین کے ساتھ انسانی ذہن کو حد درجہ طمانیت اور راحت کا احساس ہوتا ہے۔ اگر یہ جذبے کسی وجہ سے اظہار نہ پا سکیں ،تو انسانی زندگی میں ایک نہ ختم ہونے والا اضطراب اور بے چینی جنم لیتی ہے۔ جس سے تہذیبی اور معاشرتی سیٹ اپ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔
’’ علامتوں کے وسیلے سے جذبات و احساسات کی تجریدیت کو اس قدر دل آویز مجسموں میں ڈھالا گیا ہے، کہ جمالیاتی ذوق عش عش کرنے لگتا ہے۔ ‘‘ ۱۵
علامت کا وجود کسی بھی دور یا عہد میں ختم نہیں ہوتا البتہ داخلی اور خارجی عوامل اس کی ظاہری ہیئت اور اشکال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعض مخصوص حالات میں علامت کا ارتقائی سفر معاشرتی اور تمدنی پیچیدگیوں کا شکار بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ علامت کا وجود بظاہر نا پید اور مٹ گیا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، بلکہ ایک عہد کا مصنف اور شاعر بعض داخلی اور خا رجی عوامل اور دیگر وجوہات کی بناء پر علامت کی ظاہری اشکال کو بڑی حد تک تبدیل کر دیتا ہے۔ جس سے علامت کی معنویت میں کمی نہیں آتی، اور نہ اس کا تاثر خراب ہوتا ہے۔ بلکہ شاعر اور ادیب علامت کی جو نئی نئی اشکال وضع کرتا ہے، وہ پہلے سے کئی زیادہ جاندار اور اپنے اندر وسعت لیے ہوتی ہیں، اور اپنے عہد کے رحجانات و میلانات کے مختلف پہلوئوں کو موثر انداز سے پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ ایسی کیفیت عام طور پر آمریت کے دورِ حکومت میں پیدا ہوتی ہے۔
علامت بعض اوقات ایک سے زائد مفاہیم میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ ایک ہی علامت کے مخصوص حالات معنی اخذ کیے جاتے رہے اور علامتوں کے پیرائے اور اسالیب بھی تبدیلیوں اور تغیرات سے ہمکنار ہوتے رہے ، اور ایسا شاید وقت کا تقاضا بھی ہوتا ہے کہ ہیئت اور اشکال کے حوالے سے تبدیلیوں کا عمل جاری رہے۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ آج علامت کا پیرایہ اور اسلوب جن معنوں میں استعمال ہو رہا ہے، آنے والے کل میں بھی وہی علامت اور اس کا پیریہ انہی معنوں اور مفا ہیم میں استعمال ہو گا۔ بلکہ حالات وو اقعات خود بخود علامت کی نئی نئی اشکال کو معرض وجود میں لانے کا باعث بنتے ہیں۔ عام حالات میں کوئی ایسی ناقابل یقین تبدیلی یا تغیر رونما ہوتا ہے، کہ جس سے حالات کی ڈگری تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔ اور لوگوںکا زاویہ نگاہ ہی بدل جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ بعض اوقات معاشرے کے اندر تعمیری اور مثبت رحجانات کی بجائے منفی اور تخر یبی قوتیں اور عنا صر پروان چڑھنا شروع ہو جاتے ہیں ، جن سے لوگوں کی زندگی سے آرام و سکون معدوم ہو جاتا ہے۔ اور ایک خوف اور گھٹن کی فضا چاروں طرف پھیل جاتی ہے۔ ایسی کیفیت اور حالات میں علامت کا مفہوم جو عام حالات میں اور ہوتا ہے۔ مخصوص حالات اور کیفیات میں بالکل بدل جاتا ہے۔ اور آنے والے دور کے لیے جو علامتیں وضع ہوتی ہیں، ان کی لسانی کیفیت اور حالت وہ نہیں رہتی جو پہلے رہی ہوتی ہے۔ یہی چیز شاید علامت کے وجود کو زندہ رکھتی ہے، اور ہر عہد میں اس کی معنویت برقرار رہتی ہے۔
بعض اوقات ایک ہی علامت کے ایک سے زائد پہلو اور جہتیں سامنے آتی ہیں۔ اور کوئی بھی جہت بے معنی یا غیر حقیقی نہیں ہوتی۔ ضرورت ان جہتوں کو سمجھنے کی ہوتی ہے۔کہ یہ جہتیں کن رحجانات و میلانات کی ترجمان اور عکاس ہیں۔ آیا یہ جہتیں واقعتاََ زندگی کے کسی نہ کسی مثبت پہلو اور تعمیری رحجان کی نمائندہ ہیں، یا یہ محض فرضی یا تصوراتی ہیں۔ اور ان کا انسانی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔
علامت کا وجود جن مقاصد کے لیے تخلیق کیا جاتا ہے، ان کی نوعیت ماسوائے اس کے کچھ نہیں ہوتی ،کہ اس کے ذریعے اس عہد کا مصنف یا شاعر معاشرے کی تعمیری اور مثبت قدروں کو پروان چڑھاتا ہے۔ جو کسی وجہ سے پنپ نہیں رہی ہوتیں، نیز علامت متضاد تہذیبی ، معاشرتی اور شخصی رویوں کی بھی عکاس ہوتی ہے، اور ایک معاشرے ، تہذیب یا فرد کے باطن میں ہونے والے اندرونی تصادم کی کیفیت کو بھی اُجاگر کرتی ہے۔ اس کے اندر گہرا داخلی شعور بھی ملتا ہے اور ایک نامانوس دنیا کا تصور بھی آنکھوں کے سامنے اُبھرآتا ہے۔
’’علامت گہرے داخلی شعور کی طرف مراجعت کا بلاوا ہے، اور تعلقی تفہیمات سے آگے نامانوس دنیا کی سمت کھینچتی محسوس ہوتی ہے۔‘‘ ۱۶
علامت کا سفر تہذیبی ارتقاء کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے گویا علامت تہذیبی کروٹوں اور اس کے تمام نشیب و فراز کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ یہ مٹی ہوئی تہذیبوں اور ان کے فنون کی بھی عکاس ہے۔ مختلف ادوار میں کون کون سی تہذیبیں منظر عام پر آئیںاور پھر صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لیے مٹ گئیں ، اس کی کامیا ب فوٹو گرافی مخصوص علاقوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔
’’ ہر لفظ کی ایک تا ریخ ہوتی ہے۔ ایک پس منظر ہوتا ہے۔ کسی لفظ کے معنی میں طرفگی تو ہوتی ہے
مگر کسی لفظ کا کوئی مترادف نہیں ہوتا ۔ ہر فقرے میں ہر لفظ کا ایک خاص مقام ہوتا ہے۔ اور تحریر
میں اس فقرے کی جگہ متعین ہوتی ہے ۔ اگر کسی لکھنے والے کو لفظ کی شخصیت کا شعور نہ ہو تو وہ اپنا
مافی الضمیر کو بعینہ قاری تک نہیں پہنچا سکتا۔ ‘‘ ۱۷
علامت کے اندر ہمیں وہ تمام تہذیبیں جلوہ گر نظر آتی ہیںبلکہ ان کے فنون ، معاشرتی رسوم ، اقداروروایات بودوباش ، فرد کے جذبات و احساسات اور ان کے معاشرتی تنزل اور ترقی کے مختلف پہلوئوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ہر عہد کے ادب کے اندر وضع ہونے والی بعض علامتوں کے اندر اس عہد کی زندہ تصویریں نظر آتی ہیں۔ یہ علامتیں عہد گذشتہ کی تہذیبی صورت حال سے پردہ اُٹھاتی ہیں اور ان کے اندر چھپے ہوئے صدیوں کے انسانی تجربات، علوم وفنون ، جنگ وجدل ، حکمرانوں کے طرز ِحکومت اور رعایا کی معاشی اور معاشرتی حالت کا عکس بھی جھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے وہ عہد ہماری نظروں کے سامنے کھڑا ہے اور ہم اس عہد کے اندر سانس لے رہے ہیں، اور اس کے انسانوں کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں۔ گویا گذشتہ عہد کی تمدنی اور معاشرتی جہتیں کھل کر علامتی پیرائے کے اندر آجاتی ہیں، اور اس عہد کی زندگی کا ہر پہلو پوری جزئیات کے ساتھ نمایاں ہوتا نظر آتا ہے۔ اس عہد کے تہذیبی اور معاشرتی نشیب و فراز کے نقوش نگاہوں میں پھر جاتے ہیں۔ عہد گذشتہ کی تہذیبی اور تمدنی زندگی کے ارتقاء کی جہاں اور بہت سی صورتیں ان علامتوں کے اندر نظر آتی ہیں ، وہاں انسانی عبرت کی مثالیں بھی ان کے اندر ملتی ہیں ۔ جو ہر شخص کو ذاتی احتساب کا موقع دیتی ہیں۔
علامتی پیرائے میں عموماََ ایک شخص پوری کمیونٹی کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔ ایک علامت کے اندر ایک شخص جس طرح ہوتا ہے۔ وہ محض ایک شخص کی تصویر نہیں ہوتی بلکہ ا یک عہد اور تہذیب کی تصویر ہوتی ہے۔ اس شخص کی علامت کے اندر اس نسل کے رحجانات ومیلانات ، منفی اور مثبت رویے اور معاشرے کی تعمیر وترقی یا بد حالی کے خدوخال کو دیکھا جا سکتا ہے۔ زندگی ہر آن تبدیلیوں سے گذر رہی ہے۔ افراد معاشرہ جس طرح ان تبدیلیوں سے متاثر ہوتے ہیں ۔ معاشی ،معاشرتی، نا انصافی اور ظلم و جبر سے معاشرے کا سکون جس طرح تباہ ہوتا ہے۔یہ تمام کیفیات علامت کے پیرائے میں سمٹ آتی ہیں۔
’’ علامت محض علامت نہیں ہوتی۔ آج کے پیچیدہ ذہن کی گہری تہوں کو ٹٹولتی ہے۔
اور ٹٹول کر گوہر معنی کو ذہن کے روبرو کر دیتی ہے۔ ‘‘ ۱۸
اُردو ادب میں علامت نگاری کی روایت بڑی پرانی ہے۔ علامتیں اساطیری داستانوں ،دیو مالائی قصوں اور مقدس مذہبی کتابوں سے بھی ادب میں آئی ہیں۔ عادل شاہی ، قطب شاہی اور محمد شاہی دور کی مثنویوں میں جابجا علامت نگاری کے نمونے ملتے ہیں۔ ان مثنویوں میں علامت نگاری کے نمونے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ کلاسیکل ادوار کے شعراء بعض مقامات پر محبوب سے براہِ راست اظہار محبت کرنے کی بجائے محض علامت کے پیرائے میں اپنے جذبات و احساسات کا بیان کرتے تھے۔ عادل شاہی اور قطب شاہی دور کے شعراء نے جوعلامتیںاستعمال کی ہیں۔ ان میں وہ تنوع اور جدت نظر نہیں آتی جو جدید دور کے شعراء کے ہاں نظر آتی ہیں ۔ اس کے باوجود علامتی پیرائے میں جذبات کا اظہار اس دور کا صحت مند رحجان ضرور قرار پاتا ہے۔
علامت نگاری کا یہی رحجان دبستان دہلی اور دبستا ن لکھنو کے شعراء کے ہاں توانا ہو جاتا ہے۔ دبستان لکھنو میں اس رحجان کے نمونے خواجہ حیدر علی آتش ؔ، مصحفی ؔ ، انشاء اللہ انشاءؔ، جراتؔ، ناصحؔ، پنڈت دیا شنکر نسیمؔ، انیس ؔو دبیرؔ وغیرہ کے ہاں ملتے ہیں۔ علامت نگاری کی یہی کیفیت دبستان دہلی کے شعراء کے ہاں بھی ملتی ہے۔ میر تقی میرؔ، خواجہ میر درد ؔ، داغ ؔ ، سودا ؔ، بہادر شاہ ظفر ؔ، ابراہیم ذوقؔ اور میر حسن ؔکے ہاں علامت نگاری کے بڑے عمدہ نمونے موجود ہیں۔ یہ شعراء بنیادی طور پر علامتی نہیں ہیں، لیکن ان کی شاعری میں تہذیبی ، تمدنی اور معاشرتی علامات کا خوبصورت استعمال ملتا ہے۔
قدیم داستانوں میں علامت کے قابلِ ذکر نمونے ملتے ہیں ۔ علامت کے یہ نمونے اپنے عہد اور معاشرے کے عکاس ہیں ۔ ان علامتوں کے اندر اشخاص کے جذبات و احساسات اور زندگی کی مختلف جہتوں کی تصویریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اُردو میں تخلیق ہونے والی داستانوں میں ’’ داستان امیر حمزہ ‘‘ ’’ داستان الف لیلہ‘‘ ’’ طلسم ہوش ربا ‘‘ اور فورٹ ولیم کالج کی داستانیں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ ان داستانوں کے اندر بیشتر علامتیں ملتی ہیں، جو ایک عہد اور اس کی معاشرتی اور تمدنی زندگی کے متنوع پہلوئوں کی عکاس ہیں ۔
’’ الہ دین کا چراغ ، پیرتسمہ پا، اڑان کھٹولہ ، پرَاں دری ، سند باد جہازی ، مہم جو کا پتھر کی مورتی میں
تبدیل ہو جانا ، انسان کا بند بن جانا ، بوتل کا جن ، یک طشم دیو ، رنگ برنگ کی پریاں ، جل پری
وغیرہ ایسی علامتیں ہیں جو ہماری داستانوں میں ملتی ہیں جنہیں ہم آج تک مافوق الفطرت عناصر
کہہ کر غیر حقیقت پسندی کا ثبوت دیتے رہے ہیں ۔ حالاں کہ یہ علامتیں ہماری انفرادی اور اجتماعی
تمنائوں اور امنگوں کی ترجمانی کر رہی ہیں۔ اور زرخیز دماغ کی اختراعات ہیں۔ ان میں سے بعض
علامتیں ایسی بھی ہیں جو تبدیلی ہیت ،قلب ماہیت کی اعلی صورتیں ہیں۔ ‘‘ ۱۹
غالب کے خطوط دیکھ لیں جن کے اندر بیشتر جگہ پر علامت نگاری کی جدید اشکال ملتی ہیں۔ غالب اور میر کے عہد اپنی اپنی جگہ پر ظلم وستم اور جبر کے عہد ہیں، جس میں مغلیہ سلطنت زوال کا شکار ہو رہی تھی۔ مر ہٹے اور دیگر حملہ آور دہلی کو بے دردی سے لوٹ کر تباہ کر رہے تھے۔ اس تباہی کا نظر اور تہذیبی و تمدنی زوال کی جھلکیاں خطوط غالب میں کہیں واضح اور کہیں علامتی پیرائے میں ملتی ہیں ۔ نجی معاملات کے حوالے سے بھی غالب کے ہاں علامتوں کا استعمال ہوا ہے۔
’’ ۱۳،برس حوالات میں رہا، ۷۔رجب ۱۲۲۵ھ کو میرے واسطے حکم دوام حبس صادر ہوا۔ ایک بیڑی میرے پائوں میں ڈال دی اور دلی شہر کو زندان مقرر کیا اور مجھے اس زندان میں ڈال دیا ۔ فکر نظم و نثر کو مشقت ٹھہرایا۔ ‘‘ ۲۰
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد برصغیر پر انگریز غالب ہو گیا اور یہاں کے باشندوں پر عرصہحیات تنگ کر دیا گیا۔ ان کو پھانسی پر لٹکایااور بہت سو ں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ انگریزی حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر تحریک کو سختی سے کچل دیا گیا اور ہر آواز کو دبا دیا گیا۔ ظلم و ستم کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ انگریز حکومت کے خلاف بولنا جرم ٹھہرا۔ اس عہد کے جبر اور معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کی حقیقی تصویریں علامتی پیرائے میں خطوط غالب میں بکھری پڑی ہیں۔
’’ مبالغہ نہ سمجھنا ہزار ہا مکان گر گئے ۔ سینکڑوں آدمی جابجا دب کر مر گئے۔ گلی گلی ندی بہہ رہی ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ وہ ان کال تھا کہ مینھ نہ برسا۔ اناج نہ پیدا ہوا۔ یہ پن کال ہے۔ پانی ایسا برساکہ
ہوئے ہوئے دانے جنہوں نے ابھی نہیں بویاتھا وہ بولنے سے رہ گئے سن لیا۔ دلی کا حال اس کے سوا کوئی نئی بات نہیں۔ ‘‘ ۲۱
غالب ؔ اس عہد کی معاشی ، معاشرتی اور تہذیبی زوال کو علامت کے پردے میں اپنے خطوط کے اندر سمیٹ رہا تھا ۔ وہ اس عہد کے انسان کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ فرد کی معاشی تباہی اور بربادی اور معاشرت کے زوال کی تصویریں جاندار اور متحرک ہیں۔ غالب زوال کے محرکات اور عوام کی جھلکیاں بھی دکھاتا جاتا ہے۔ اور مخصوص علامتوں کے ذریعے ایک عہد کی فوٹو گرافی بھی کیے جاتا ہے ، جو تیزی سے زوال کی جانب بڑھ رہا ہے۔
’’ وہ دلی نہیں جس میں تم شعبان بیگ کی حویلی میں مجھ سے پڑھنے آتے تھے۔ وہ دلی نہیں جس میں سات برس سے مقیم ہوں۔ مسلمان اہل حرفہ یا حکام کے شاگرد پیشہ ۔ باقی سراسر ہنودومعزول بادشاہ کے ذ کور جو بقتہ السیف ہیں وہ پانچ پانچ روپیہ مہینہ پا تے ہیں ـ۔‘‘ ۲۲
میر تقی میر کی شاعری میں استعمال ہونے والی بعض علامتیں مغل دور کی تہذیبی ٹوٹ پھوٹ اور زوال کی عکاس ہیں اور انسانی زندگی میں رونما ہونے والے نشیب و فراز اور معاشرتی تباہی کے مختلف پہلوئوں کو اُجاگر کرتی ہیں۔ میر کے عہد کا انسان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بکھر رہا تھا اور اس کی شناخت مٹ رہی تھی۔ مغلیہ سلطنت کی شان و شوکت خاک میں مل رہی تھی۔ میر نے اس عہد کے المیے کو علامتوں کے ذریعے بیان کیا ہے۔
غالب کی شاعری کے اندر خوبصورت علامات کا استعمال ہوا ہے۔ ان کی علامتوں میں مغلیہ سلطنت کی تباہی و بر بادی کے مختلف پہلو اور محرکات وعوامل نظر آتے ہیں۔ اور بعض شخصی علامتیں تہذیبی سیٹ اپ کی ٹوٹ پھوٹ کو واضح کرتی ہیں۔
میر و غالب کی شاعری کی وضع ہونے والی علامتیں جہاں اپنے اندر گہرا تہذیبی شعور رکھتی ہیں، وہاں اس عہد کے مخصوص رحجانات و میلانات سے بھی روشناس کراتی ہیں۔ میرو غالب کی علامات متحرک ہیں، اور ان میں جمود یا ٹھہرائوکی کیفیت نظرنہیں آتی ۔ یہ علامتیں اپنے عہد کے اشخاص کے جذبات و احساسات کی عکاس ہیں، اور ان علامات کے تناظر میں ایک عہد کے زوال کی جھلکیوں کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔
علامتی تحریک انیسویں صدی(۱۸۸۵ء)کے وسط میں فرانس میں شروع ہو کر بیسویں صدی میں ایک عالم گیر تحریک کی صور ت اختیار کر گئی۔ علامت نگاری محض شاعری تک محدود ہی رہی، بلکہ بعض دوسری ا اصناف ادب میں سرایت کرتی چلی گئی ۔ اٹھارویں صدی کی انگریزی شاعری کی کلاسکیت کے ردعمل کے طور پر انیسویں صدی میں رومانیت نے جنم لیا تھا۔ جب کہ رومانیت کے ردعمل میں علامت نگاری وجود میں آئی ۔ بعض رومانوی شعراء رومانیت کو Byron اور Words worth سے آگے لے گئے، اور علامتی زبان کے پیش رو بن گئے۔ گیرار ٹی نرول رومانوی نظریے کا سخت مخالف تھا۔ اس کا نظریہ یہ تھا کہ آرٹ کا کوئی اخلاقی یا افادی مقصد بھی ہونا چاہیے۔ وہ رومانیت کے خلاف اس لیے بھی تھا کہ اس میں جھوٹی جذباتیت حد سے بڑھی ہوتی ہے ۔ اور داخلیت اور ہئیت کے احساس کا فقدان ہوتا ہے۔
علامتی اظہار کی ابتدائی تاریخ میں ’’ بود لیئر ‘‘ کے ذریعے ’’ پو‘‘ کی دریافت نہایت اہمیت کی حامل تھی۔ رومانی بود لیئر نے پو کو پہلی مرتبہ ۱۸۴۷ء میں پڑھا تو اسے اپنے اندر ایک عجیب قسم کی ہلچل محسوس ہوئی۔ امریکی رسالوں کی فائلوں میں جب اس نے پو کی تخلیقات کا عمیق مطالعہ شروع کیا تو ان کے اندر ایسی کہانیاں اور نظمیں نظر آئیں ، جن کے متعلق پہلے پہل خود اس نے واضح اندازسے نہیں سوچا تھا ۔ لیکن جیسے جیسے وہ اس کی تخلیقات پڑھتا گیاتو نہ صرف اس کی ان میں دلچسپی بڑھی، بلکہ یہ دلچسپی ایک شدید جذبے میں ڈھل گئی ۔ ۱۸۵۲ء میں اس نے پو کی کہانیوں کا ترجمہ کیا ، جس سے فرانسیسی ادب میں پو کی کہانیوں سے ایک علامتی اظہار کی تحریک وجود میں آگئی ۔ پو کے تنقیدی مضامین علامتی اظہار کی تحریک کے صحیفے ثابت ہوئے۔ اس علامتی تحریک نے فرانسیسوں میں تحیر کی ایک نئی لہر دوڑا دی۔ رمزیہ اور اشاراتی تصویروں کی ہفت رنگی ، جذبہ و عقل کا خوبصورت استعاروں کے ذریعے بر محل اظہار سے ایک پُر تکلف نثری اسلوب معرض وجود میں آگیا۔ جو روح اورمادے کے میلاپ کا واضح عکاس تھا۔
علامتی اظہار کی تحریک نے الفاظ اور معنی کے نئے نئے سانچے دریافت کیے۔ اور اس تحریک کا براہِ راست اثر فرانسیسی عروض اور قواعد پر بھی پڑا ، جس سے لسانی تبدیلیاں اور تغیرات رونما ہوئے۔
’’ علامتی اظہا ر کی تحریک نے فرانسیسی عروض کے وہ قواعد توڑڈالے جو رومانیت پسندوں نے صحیح و سالم رہنے دیئے تھے ۔ آخر کار یہ تحریک جس کا رومانوی ادیب بھی کافی حد تک احترام کرتے تھے۔ فرانسیسی کلاسیکی روایت کی وضاحت اور استدلال کو مکمل طور پر ترک کر دینے میں کامیاب ہو گئی۔‘‘ ۲۳
فرانسیسیوں کے لیے ’’ پو‘‘ کی اہمیت اور مقبولیت کی بنیادی وجہ اس کا نظریہ جمال اور اس میں دلچسپی تھی، اور اسی چیز نے اسے بیشتر رومانی شعرا سے ممتاز کیا۔ فرانس ہی وہ ملک تھا ، جہاں ’’ پو‘‘ کے ادبی نظریات کو بے حد پذیرائی ملی، اور اس کے خیالات اور نظریات یورپ کے دوسرے ممالک تک پہنچے۔
انیسویں صدی کے وسط میں امریکی رومانوی شعراء اور دیگر اہل قلم جن میں ’’ پو‘‘ ’’ ہاتھبورن ‘‘ ’’ میلول ‘‘ ’’ وھمٹین‘‘ اور ’’ ایمرس ‘‘ علامت نگاری کی سمت میں گامزن ہو چکے تھے۔ جب کہ فرانس میں ’’ والری ‘‘ جیسے شاعر اور ’’ پروست ‘‘ جیسے ناول نگار علامتی تحریک سے پیدا ہوئے۔
علامت نگاری کی تحریک میں ’’ ملارے ‘‘ کا نام خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ اپنے زمانے کا ایک نامور شاعر تھا، اس نے فرانس اور انگلستان کے نئے لکھنے والوں کو متاثر کیا۔ اس سے متاثر ہونے والوں میں مغربی ادب کی متعدد غیر فانی شخصیتیں بھی شامل نظر آتی ہیں۔ ’’ ملارے ‘‘ کے نزدیک کسی چیز کا نام نظم کی ایک تہائی لذت کو غارت کر دیتا ہے ۔ نظم کی اصل لذت اور خوبصورتی اس کے معنی کا آہستہ آہستہ مشاہدہ کرنے میں ہے ۔ نظم میں جو چیز تخیل کو خوبصورت اور دلکش بناتی ہے، اور اس کے لیے رعنائی کا باعث ہوتی ہے، وہ کسی چیز کا نام لینے کی بجائے ، اس کی طرف اشارہ کرنا اور اس کے متعلق اپنے جذبات اُبھارنا ہے۔ انگریزی ادب میں yeast ا ور Eliot جیسے شاعر اور ’’ جوائس ‘‘ جیسے ناول نگار اس تحریک کی پیداوار ہیں۔ انگلستان کے رومانوی شعراء نے کلاسیک اور جدید دونوں طرح کی علامتیںاستعمال کی ہیں۔ ان میں William Blake, Shellay, Baudeliar,
Paul Valory, Mallarme, نمایاں نظر آتے ہیں۔ \”Jean Moreas\” نے ۱۸۸۶ء میں Symbolic Manifesto\” \”شائع کیا۔ جدید انگلش اور امریکن شاعروں میںSteven, Hart Crane, Pound, Eliet, اور Yeast علامتی رحجانات اور میلانات سے متاثر نظر آتے ہیں۔
ــ’’ علامتی تحریک کو فرانس سے محض اس لیے منسوب کیا جاتا ہے کہ اس تحریک کے زیر اثرعلامتوں کو نئے انداز سے استعمال کیا گیا اور انہیں نئے معنی اور مفہوم دیا گیا ۔ ‘‘ ۲۴
فرانس میں جس علامتی اظہار کا آغاز ہوا اسی حوالے سے اسے جدید ادب میں خاص مقام حاصل ہوا، اور اس کے زیر اثر علامتی ادب میں نئے رحجانات و میلانات داخل ہوئے، اور جدید حالات اور تقاضوں کے مطابق نئی نئی علامتیں وضع ہونی شروع ہوئیں، جو ایک تہذیب ، اس کی روایات اور اقدار کی امین اور اشخاص کے جذبات و احساسات کی ترجمان اور عکاس تھیں۔ ہم اس دور میں وضع ہونے والی علامتوں کے اندر یورپ کی تہذیب کے نشیب و فراز اور اس کی معاشرتی اور اقتصادی ترقی کی بعض جہتوں سے بھی آشنا ہوتے ہیں۔ اور اس عہد کے انسان کے شخصی رویوں اور عمومی رحجانات و میلانات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ بدلتے ہوئے حالات و واقعات کی پر چھائیاں بھی ہمیں ان علامتوں کے اندر نظر آتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ مادیت کی دوڑ میں اخلاقی قدروں کی ٹوٹ پھوٹ کا تجزیہ بھی اس دور کی علامتوں کے اندر موجود ہے۔
مغرب کی علا متیی تحر یک کے اپنے مخصوص میلا نا ت اور رجحانات تھے جو مشرق میں استمعمال ہو نے وا لی علا ما ت کے رجحان سے قطعی مختلف تھے ۔ مغرب میں پروان چڑھنے والی علا متی تحریک کے پس پردہ عوامل اور محرکات بھی مختلف تھے ۔آہستہ ٓاہستہ مغرب کی شاعری میں استعمال ہو نے والی علا مات نے بر صغیر کے لوگوں کے اذہان کو متاثر کیا ،کیوں کہ بر صغیر کی علامات کا صدیوںسے ایک مخصوص مزاج چلا آرہا تھا۔جس کے تناظر میں ہندو ستان میں رہنے والے لوگوں کی روایات و اقدار اور سوم و رواج کے ساتھ ساتھ شخصی رویوں کے متنوع پہلو ئو ں کا اظہار ہو رہا تھا ۔یہ اظہار یہاں کے تہذیبی اور معاشرتی سیٹ اپ کے عین مطابق تھا۔مغربی علامت کی تحریک نے یہاں کے کلچر اور تمدن کی نما ئندہ علامتوں کے مزج پر گہرا اثر ڈالا ۔نتیجۃ یہاں کی علامت لسانی اور تہذیبی مفا ہیم کے اعتبار سے کئی ایک یبدیلیوں اور تغیرات سے ہم کنارہ ہوئی ۔اس میں اظہار کے نئے نئے وسیلے سامنے آنے لگے جس کی وجہ سے برصغیر کی علامت کے روایتی سانچے بھی تیزی سے بدلتے چلے گئے ۔یہاں کی علامت میں سادگی کی بجائے پیچیدگی آتی چلی گئی ۔دقیق اور مشکل عناصر کے آنے کے باوجود مقامی علامت مغربی علامت کی تحریک کے زیرِاثر وسعت سے ہم کنار ہوئی۔اس میںجہاںمغربی زباں کے نئے نئے الفاظ اورنظریات کی آمیزش ہوئی وہاں جدید زندگی اوراس کے رجحانات کا عکس اور پر توں بھی اس کے اندر واضع جھلکنے لگا۔
مغرب میں جبر و استبداد اور آمریت کا وہ سلسلہ نہ تھا جس کی جھلک برصغیر میںنظر آتی ہے ،لہٰذا مغرب کی تہذیب کے اندر رہنے والے شعراء نے آمریت اور جبر کے خلاف اظہارِخیال کی بجائے معاشی اور معاشرتی عوامل کے ہوالے سے نئی نئی علامتیں وضع کیں ۔مغرب میں صنعتی انقلاب کے حوالے سے معیشت کے اندر رو نما ہونے والی تبدیلیوں اور تغیرات کے اثرات با لواسطہ اور بلا واسطہ افراد معاشرہ کی زندگی پر پڑ رہے تھے ۔سائنسی ایجادات کے نتیجے میں مغربی معاشرے کے افراد جن معاشرتی اور معاشی ثمرات سے فیض یاب ہو رہے تھے،اس کے مختلف پہلو ہمیںمغربی علامتو ں کے اندر ملتے ہیں۔مغربی معاشرہ تیزی سے ترقی کی جانب گامزن تھا اور وہاں کے لوگوں کی زندگی میں ظاہری طور پر بڑی ہمہ گیر نوعیت کی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں،اس کے با وجود فرد کو جس ذہنی سکون اور راہت کی تلاش تھی وہ انسانی زندگی سے ناپید ہو رہا تھا ۔یہ ایک ایسا المیہ تھا جو اس عہد کی سو سائٹی میں پروان چرھ رہا تھا ۔اس المیے کو اس عہد کے مغربی شاعروں نے مختلف انداز سے علامتی پیرائے میں بیان کیا ہے ۔مغرب کے مادی اور صنعتی انقلاب سے جہاںانسانی زندگی میں نئے تغیرات اور تبدیلیوں کی بنیاد پڑی وہاں اس انقلاب کے نتیجے میں بہت سی اخلاقی اور معاشرتی قدروں کو نقصان پہنچا، اس کے مختلف پہلو اس عہد کے اندر تخلیق ہونے والی علامتوں کے اندر نظر آتے ہیں۔
فرانس سے شروع ہو نے والی علامتی تحریک اور اس تحریک کے نتیجے میںوضع ہو نے والی علامتوں نے پوری دنیا کے ادب کو متاثر کیا۔اس علامتی رجحان نیدنیائے ادب پر چھا جا نے والے جمود کو توڑا اور ادب کو نئے تقاضوں اور حالات کے مطابق ڈھالا۔علامت کے لیے نئے نئے سانچے تخلیق کیے گئے جس سے ایک نئے علامتی دور کا آغازہوا لہٰذا فرانس سے شروع ہو نے والی علامتی تحریک لے زیرِاثر تخلیق ہونے والا ادب زندگی کی حقیقی قدروں کا ترجمان نظر آتا ہے ۔فرانس سے آنے والی علامتی تحریک بنیادی طور پر زندگی اور اس کے بدلتے رویوں کی ترجمان تھی ۔اس سے زبان کو نئی توانائی اور تحریک ملی اور الفاظ کو نئے نئے معنی دئے گئے۔
مغرب کی علامت نگاری نے زند گی کے ٹھوس حقائق اور معاشرتی قدروں کو ـاظہار کا وسیلہ بنا یا۔بعض اوقات چند مخصوص علامتوں کے اندر زندگی کے نہایت دقیق اور الجھے ہوئے مسائل کی گرہ سلجھائی گئی ،اس لیے ان علامتوں کا وجود محضوقتی یا لمحاتی نہیں بلکہ مستقل اور عہدِ جدید کے مغربی سیٹ اپ کا عکاس ہے ۔مغربی علامت کا رجحان اور اس کی روایت جدید انسانی رویوں کی عکاسی نظر آتی ہے اور یہ اپنے اندر زندگی کے گہرے تجربے اوراس کی مختلف جہتوں اور پہلوئوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔
مغربی علامتیں اپنے اندر گہرا تہذیبی شعور لئے ہوئے نظر آتی ہیں اور ان کا ایک مخصوص مزاج اور ہیئت ہے ۔یہ علامتی رجحان جب مغربی دنیا سے نکل کر دوسرے ممالک میں پہنچا تو اس سے متاثر ہو کر وہاں کے دیبوں اور شاعروں نے ان سے ملتی جلتی اور اپنی تہذیب کے مخصوص رجحانات ومیلانات کے مطابق نمائندہ علامتیں وضع کیں ۔دوسرے ممالک کے ادب میںان کی وجہ سے تبدیلیاں آئیں اور وہاں کے ادب کا مزاج بدلا ،اس کے اندر جدت پیدا ہوئی اور اس کا دائرہ اسعت سے ہم کنار ہوا۔ان حالات اور حقائق کے پیش نظر دوسرے ممالک کے ادب کو مخصوص رجحانات دینے اور اس کو جدیدیت سے ہم کنار کرنے میںان مغربی علامات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔
جدید دور میں جہاں اردو ادب لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے بے شمار نئی علامتیں وضع کیں ہیں ،وہاں مغرب سے آنے والی علامتوں نے بھی اردو ادب کی تمام اصناف پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں ۔برصغیر کے ادیب اور شعراء ان سے با لواسطہ اور بلا واسطہ متاثر ہوئے ہیں ۔اگرچہ اردو ادب میں وضع ہونے والی علامتیں خالصتاََہماری تہذیب اور تمدن کی عکاس ہیں اور ان میں افراد معاشرے کے جذبات و احساسات ،روایات واقدار کی گہری جھلک ملتی ہے ۔اس کے با وجود ان علامتوں کے پسِ پردہ مغرب سے آنے والی علامتی زبان اور اسالیب کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ۔بر صغیر چونکہ طویل عرصہ تک انگریزی تسلط میں رہا اس لیے مغرب سے آنے والی علامتی تحریک نے یہاں اپنے اثرات چھورے نتیجۃیہاں تخلیق ہونے والی علامتوں میں اگر چہ برصغیر کی مٹی کی بو باس شامل ہے اور ہر سطح پر ان پر مشرقی تہذیب کی گہری چھاپ نظر آتی ہے ،اس کے باوجود بد یسی فضا کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔
جدید اردو ادب میںوضع ہونے والی علامتیں اگرچہ مغرب سے آنے والی علامتوں کے اثرات لیے ہوئے ہیں۔ان کی ہیئت اور اشکال مغرب سے آنے والی علامت کے بنیادی سانچے اور مزاج سے مختلف اور میلانات بھی الگ تھلگ نظر آتے ہیں۔جن مغربی علامات کو بعینہ استعمال کیا گیا ہے وہ علامتیں بھی اردو ادب میں آکر غیر مانوس اور بد یسی محسوس نہیں ہو تیں بلکہ مقامی لگتی ہیں۔
فرانس سے پروان چڑھنے والی علامتی تحریک نے بعض تشنہ موضوعات کے اظہار کو ممکن بنا یا اور برصغیر کی مشرقی علامت کے مزاج ،ہیئت اور اشکال میں تبدیلیاں پیدا کیں۔مغرب کے علامتی رجحان کے زیرِاثر اردو شاعری محض روایتی شاعری نہ رہی بلکہ اس میں جدت پیدا ہو گئی۔نئے نئے مضامین شاعری میں داخل ہوئے ۔زندگی کی رنگا رنگی اور تنوع کا احساس اجاگر ہوا ۔مغربی معاشرے کے رسوم و رواج ،روایات و اقدار ،کلچر ،ثقافت اور تہذیب و تمدن کے رجحانات بھی اردو شاعری اور دیگر اصناف میں رواج پاتے چلے گئے ۔یہاں تک کہ سائنس اور دیگر علوم کی فکر بھی آہستہ آہستہ اپنی خدو خال کے ساتھ نمایاں ہوتی چلی گئی اورادب کا دائرہ وسعت اختیار کرتا چلا گیا۔
جدید دور میں وضع ہونے والی علامت کی روایت مغربی علامت کے رجحانات اور اثرات لیے ہوئے نظر آتی ہے۔اس نے جہاں اپنی مخصوص ہیئت اور اشکال کو بر قرار رکھا ہے وہاں مغربی علامت کی ہیئت اور اشکال نے اس مخصوص مزاج اور انداز کو متاثر ضرور کیا ہے ۔جدید اردو ادب میں آنے والی علامت کا دائرہ کار محدود نہیں رہا بلکہ جدید زندگی کی متعدد معاشرتی کروٹوں اور نشیب و فراز اور تغیرات کا عکاس بن گیا ہے۔مغرب کے علامتی رجحان سے متاثر ہونے کے با وجود یہاں کی علامت کی انفرادیت اور معنویت ہر سطح پر بر قرار نظر آتی ہے ۔جدید اردو ادب میں آنے والی علامت کے مفاہیم کو نہ صرف پورے برصغیر میں بلکہ پوری دنیا میں سمجھا جا رہا ہے۔جدید اردو شاعری نے بھی مغرب سے آنے والے علامتی رجحان کو بخوشی قبول کیا اور اس اجحان کے زیرِ اثر اردو شاعری میں کئی ایک تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں ،مغربی علامت کے آنے سے اردو شاعری کے موضوعات میں وسعت اور زبان و اسلوب میں تنو ع اور جدت پیدا ہوئی ہے۔
مغربی علامت کا رجحان اپنے ساتھ جو مخصوص کلچر اور روایات و اقدار لایا ،اس کے اثرات بھی اردو شاعری پر پڑے ہیں نتیجۃ سوچ کے دائرے پھیلتے چلے گئے ہیں ۔علامت میں نئے اور جدید رجحانات میلا نات کو متعارف کرانے والوں میں میراجیـؔ،منیر نیازی ؔ،جیلانی کامرانؔ،مجید امجد ؔ،نـ ۔م ۔راشدـؔ،عرش صدیقیؔ،فیض احمد فیضؔ،احمد ندیم قاسمی ؔ،احسان دانش ؔ،جوش ملیخ آبادیؔ،ابنِ انشاء ؔ،قتیل شفائی ؔ،ظہیر کاشمیری ؔ،محسن نقویؔ،مصطفی زیدیؔ،عدمؔ،علی سردار جعفریؔ،حبیب جالبؔ،افتخار عارف ؔ،اور مقصود حسینی ؔنمایاں ہیں ۔ان شعراء نے جہاں علامت کے رجحان میں مغربی اثرات کو قبو ل کیا وہاں جدید حا لات اور اس کے تقاضوں کے مطابق نئی نئی علامتیں بھی وضع کی ہیں جن کا خمیر مشرقی تہذیب سے اٌُٹھایا گیا ہے ۔جدید شعراء نے اپنے عہد کے رجحانات و میلانات اور روایات و اقدار کے ساتھ علامت نگاری کی کلاسیکل روایت میںجدت پیدا کی ہے۔علامت کو نئے حالات و واقعات ،معاشی اور معاشرتی قدروں اور بدلتے ہوئے حالات اور معاشرے میں رو نما ہونے والی تبدیلیوں اور تغیرات کا عکاس بنا دیا ہے ۔بدلتے ہوئے تہذیبی اور معاشرتی سیٹ اپ کے حوالے سے علامات کی اشکال ،رجحانات اور ہیئت کو تبدیل کیا ہے،خصوصاََترقی پسند شعراء نے علامت علامت کے سانچوں کو ہی بدل کر رکھ دیا ۔انہوں نے بعض مخصوص علامتوں کے زریعے لوگوں کے اندر تحری پیدا کی اور ظلم اور جبر کے خلاف بغاوت اور نفرت کیاحساس کو اجاگر کیا۔
جدیدعہد کی شاعری کے اندر آنے والی علامتیں کلاسک ادوار کی علامات سے قطعی مختلف اور بدلتے ہوئے حالات اور تہذیبی کروٹوں کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہیں۔جدید عہد کی زندگی جس طرح نت نئے سانچوں میں ڈھل رہی ہے ،مادیت کا شکار ہو رہی ہے ،معاشرتی اور اخلاقی اقدار اس مادیت کے نتیجے میں جس ٹوٹ پھوٹ کے عمل گزر رہی ہیں ۔افراد ایک دوسرے کے قریب آنے کی بجائے دور ہو رہے ہیں۔معاشرے میں ہر جگہ ایک نفا نفسی اور بے حسی کی کیفیت طاری ہو رہی ہے ،اس کا واضع عکس ہمیں جدید عہد کے شعراء کی علامتوں کے اندر ملے گا ۔گویاء جدید عہد کے شعراء کی وضع کردہ علامتوں نے فرد کو اس کی حقیقی پہچان کروائی ہے ۔اس کا جو ربط اور تعلق اپنے معاشرے اور اس کے افراد سے ٹوٹ رہا ہے اس کو استوار کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔
معاشرتی زندگی میں پیدا ہونے والے اضطراب اور بے چینی کی کیفیت نے فرد سے اس کا ذہنی سکون اور آرام چھین لیا ہے۔اس کے ذہن میں بے یقینی اور عدم تحفظ کے احساسات پیدا کر دیئے ہیں ۔معاشی،معاشرتی اور طبقاتی ناہمواری کی وجہ سے افراد ،معاشرہ جسطرح معاشی بدحالی کا شکار ہو کر ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں اور دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دئے گئے ہیں ،ان پِسے ہوئے طبقات کی آواز جدید شاعری شاعری کی علامتوں کے اندر اٌبھرتی نظر آتی ہیں ۔جبر اور معاشی نا ہمواری کی سطح کے خلاف شدید نفرت اور بے زاری کے جذبات کا اظہار بھی ملتا ہے ۔
تہذیبی ،تمدنی معاشرتی اور اخلاقی قدریں ہی کسی ملک کے سیٹ اپ کی اساس اور بنیادہوتی ہیں جو اگر صحیح سمت میں پروان چڑھتی چلی جائیں تو معاشرے کے اندر ترقی اور خوش حالی آتی ہے،جس کے ثمرات افراد معاشرہ تک پہنچتے ہیں اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہو تا ہے ،لیکن اگر انہی مثبت قدروں اور رجحانا ت کو منفی قوتیں دبا لیں یا ان کے پنپنے کے راستے میں رکاوٹ بنیںتو معاشرے کے اندر شدید انتشار اور بے چینی جنم لیتی ہے ۔پاکستان کے اندربعضآمرانہ قوتوں نے ہمیشہ اس کے تہذیبی اور معاشرتی سیٹ اپ کو تباہی سے دو چار کیا اور فرد واحد نے من مینی کرتے ہوئے ایسے اصول و ضوابط وضع کیے جو سراسر ظلم و جبر کے آئینہ دار تھے جس نے ایک نہ ختم ہونے والے معاشرتی اضطراب اور بے چینی کو جنم دیا،جس سے افرادِمعاشرہ بے حد متاثر ہوئے ۔جدید شاعری کے اندر آنے والی مخصوص علامتوں کے ذریعے آمرانہ طرزِ عمل کے خلاف شدید ردِ عمل کی کیفیت ملتی ہے،جس سے ہے علامتیں انسانی جذبات و احساسات کے عکاس بن گئی ہیں۔
فرانس کی علامتی تحریک نے اردو ناول پر بھی اثرات چھوڑے اور بعض مغربی علامتیں تھوڑی بہت تدیلیوں سے اردو زبان کے سانچے میں ڈھلتی چلی گئیں اور جدید اردو ناول کا حصہ بن گئیں ۔جدید اردو ناول نگاروں نے ان مغربی علامتوں کو برصغیر کی مخصوص فضاء اور کلچر کے مطابق ڈھال لیا ۔ان علامتوں کے اندر بدیسی فضا غالب نظر نہیں آتی بلکہ آج یہ علامتیں ہمارے تہذیبی اور تمدنی زندگی کے متنوع پہلوئوں کے ساتھ شخصی روویوں کی عکاسی بن گئی ہیں اور ان کے تناظر میں فرد کی زندگی میں متعددپہلوئوں کی کامیاب فوٹوگرافی کی گئی ہے ۔تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ پر موجود ہے کہ جدید اردو ناول کی بناوٹ اور تشکیل میں مغربی علامتوں کا جو حصہ ہے اس سے صرف ِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔
ناول میں نئے نئے تجربات ہوئے ہیں ۔جدید عہد کے ناول نگاروں نے تہذیبی اور معاشرتی روایات و اقدار کو نئے علامتی معنی دئیے ہیں ۔آج کا ناول علاامت کے حوالے سے توانا روایت کا حامل ہے ۔جدید دور کے ناولوں میں استعمال ہونے والی علامتیں معاشرتی تغیرات کے محرکات کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ان کے اندر فرد کے جذبات و احساسات کے حقیقی نقو اٌبھرتے نظر آتے ہیں ۔اس کے ساتھ تہذیبی اور معاشرتی اقدار جس تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں اور اس ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں عہدِجدید کا انسان جس زوال کے دوراہے پر کھڑا ہے ،معاشرے کے اندر جواضطراب اور بے چینی کی کیفیت جنم لے رہی ہے اس کے متنوع پہلو جدید دور کے ناولوں کی علامات کے اندر کامیابی اور فنکاری سے اٌ جاگر کیے گئے ہیں۔ گویاء آج کا ناول علامتی پیرائے میں معاشرتی زوالاور اقدار کی ٹوٹ پھوٹ کو واضع کر رہا ہے۔
جدید عہد کا معاشرہ اپنے اندر تہذیبی پیچیدگی کے ساتھ معاشی اور معاشرتی ناہمواری جیسے پہلو لیے ہوئے ہے۔آمرانہ نظام میں چونکہ اظہار پر پابندی ہو تی ہے اس لیے ایسی علامتیں وضع کی جاتی ہیں جو اس عہد کے نقوش اور زندگی کے حقائق کی زندہ تصویریں سامنے لے آئیں ۔اس لیے ایسی وضع ہونے والی علامتوں کے پسِ پردہ ایک عہد کے معاشرے میں ہونے والے جبر اور گھٹن کی عکاسی کرنا ہوتا ہے تاکہ اس عہد کا قاری نہ صرف اپنی معاشرتی اور تہذیبی زندگی کے دران میں جھانک سکے بلکہ ناول نگار کے انداز فکر اور اس عہد کی اجتماعی سوچ سے بھی بخوبی آگاہ ہو سکے جس میں وہ سانس لے رہا ہے۔جدید علامتی ناولوں میں ان تمام پہلوئوں کا تجزیہ ملتا ہے ۔اس ضمن میں انتظار حسین ،بانو قدسیہ ،شوکت صدیقی ، جمیلہ ہاشمی، عبداللہ حسین اور خدیجہ مستور کے بعض ناول علامتی پیرایہ لیے نظر آتے ہیں ۔
آج کا علامتی ناول محض جدید تہذیبی رویوں کا ہی عکاس نہیں بلکہ معاشرتی رویوں میں جس طرح نشیب و فراز اور تغیرات رو نما ہو رہے ہیں ،اس کا بھی واضع اظہار کر رہا ہے ۔جدید ناول نگاروں نے مخصوص علامات کے ذریعے جہاں جدید انسانی زندگی میں رونما ہونے والے مادی تصورات ،نفسانفسی اور بے حسی کی نفی کی ہے وہاں ان علامتوں کے ذریعے اخلاقی قدروں کو بھی اُجاگر کیا ہے،نیز انسان کی اندر محبت ،بھائی چارے ،ایثار اور قربانی کے جذبات کو پروان چڑھانے کے لیے ان علامتوں سے بھر پور مدد لی گئی ہے۔
جدید زندگی جس طرح نئے نئے ڈھل رہی ہے اور شخصی رویوں اور میلانات میں جو نت نئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اس کا واضع اظہار جدید ناولوںکے اندر آنے والی علامتوں میں برابر ہو رہا ہے ۔ان علامتوں کے اندر کہیں بھی جمود یا ٹھرائو کی کیفیت پیدا نہیں ہوئی بلکہ ہر آن بدلتے ہوئے حالات کا واضع عکس ان کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔
اردو کے ’’افسانوی ادب ‘‘پر بھی مغرب سے آنے والے علامتی رجحان کی پرچھائیں واضع نظر آتی ہیں ۔جدید عہد کے افسانے نے جو نئی کروٹیں لی ہیں اور اس میں جو نئے میلانات داخل ہوئے ہیں ان کے پسِ پردہ مغرب سے آنے والا علامتی رجحان اور اس کے مختلف پہلو کار فرما ہیں ،جس نے ہمارے ہاں کے افسانوی ادب کے مزاج اور میلانات کو بڑی حد تک متاثر کیا ہے۔اگرچہ ہمارے ’’افسانویادب‘‘پر کہیں کہیں بدیسی تہذیب کی علامتیں اثر انداز ہوئی ہیں لیکن جدید افسانوی ادب کے اندر تخلیق ہونے والے افسانوں کا خمیر ہماری مشرقی تہذیب سے اٹھا ہے ۔یہ افسانے ہماری مشرقی روایات و اقدار کے ساتھ اس کے رجحانات و میلانات کے عکاس نظر آتے ہیں۔
عہدِجدید کے جن افسانوں کی اساس بنایا اور اس معاشرتی اور تہذیبی زندگی کی سچائیوں کو رقم کیا اُن میں انتظار حسین،احمد ندیم قاسمی،ڈاکٹر سلیم اختر ،خالدہ حسین ،اکرام اللہ ،رشید امجد،منشاء یاد،احمد ہمیش ، مظہر الاسلام ،مرزا حامد بیگ ،منصور قیصر ،احمد دائود،نجم الحسن رضوی ،سلطان جمیل نسیم ،ناصر بغدادی اور مقصود حسینی کے اسماء گرامی شامل ہیں ۔ان افسانہ نگاروں کی علامتوں کا خمیر ہمارے معاشرتی اور تہذیبی زندگی سے اُٹھایا ہے۔اس معاشرتی اور تہذیبی زندگی میں آج کا انسان کس قسم کے المیوں اور محرومیوں کا شکار ہے؟معاشی ،معاشرتی اور طبقاتی نا ہمواریوں نے معاشرے میں کس قسم کے تضادات اور نفرتوں کو جنم دیا ہے،یہ تضادات اور نفرتیں کیسے کم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جا رہے ہیں ۔عام شخص کہاں کھڑا ہے ؟اُس کی شناخت اور پہچان کیسے مٹ کر رہ گئی ہے؟ سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقے آس سر مایہ داری اور جاگیرداری نظام میں کیسے مضبوط سے مضبوط ہو رہے ہیں اور مفلس اور محنت کشوں کا استحصال کر رہے ہیں ،اُس کے مختلف حوالوں کی کامیاب مصوری کی گئی ہے۔
ہمارے علامتی افسانہ نگاروں نے شعوری اور لا شعوری طور پر اگرچہ کے علامتی رجحان کو قبول کیا لیکن اپنے افسانوں پر اس کو غالب نہیں آنے دیا۔ہمارے افسانہ نگاروں کے افسانوں کی فضاء،ماحول سب کا سب دیسی ہے بندیسی نہیں۔ان افسانہ نگاروں نے اپنی علامتوں کے مواد کو اِسی فضاء اور ماحول سے لیا ہے،یہی وجہ ہے کہ اُن کے اندر ایک اپنایت ہے کہیں بھی اجنبیت اور غیریت کا احساس نہیں ہوتا جوں جوں ہم اُن کے افسانے اور ان اکے اندر آنے والی علامتوں کا معائنہ کرتے ہیں ہمارے سامنے آج کی تصویر یں اُبھر نے لگتی ہیں ،یہ تصویریں ہولناک اور بھیانک ہیں
انتظار حسین کی علامتیں معاشرتی اور تہذیبی اقدار کی شکست و ریخت اور اُس کے زوال کا نوحہ ہیں ۔اُن کی جڑیں ہماری تہذیبی زندگی کے اندر پیوست ہیں ۔اِن علامتوں پر دیو مالائی ،اساطیری اور داستانی اثرات غالب ہیں۔اِن علامتوں کا اسلوب بھی داستانی ہے ۔خالدہ حسین کی علامتیں سماجی گھٹن کے ساتھ آج کے انسان کے ڈر اور خوف کے مختلف حوالوں کو سامنے لا رہی ہیں ۔احمد ہمیش کی علامتیں عہدِجدید کے انسان کی کتھا ہیں ۔رشید امجد کی علامتوں میں جدت اور انفرادیت نظر آتی ہے۔اُس نے عہدِ جدید کے انسان اور اس کے مصائب کو اپنی علامتوں کے ذریعے اُجاگر کیا ہے ۔منشاء یاد کی علامتوں کا محور ہماری دیہاتی زندگی ،اُس کے مسائل اور اس کا ماحول ہیں ۔اِس دیہاتی ماحول میں رہنے والے والے لوگوں کی سدھریں ،آرزوئیں ،تمنائیں ،محرومیاں ہیں ۔دیہات کے کلچر میں پنپنے والی محبتوں کے ساتھ انسانی قدورتوں ،نفرتوں اور تعصا بت کے مختلف حوالوں کی کامیاب فوٹو گرافی کی گئی ہے۔احمد ندیم قاسمی کی علامتوں میں دیہاتی اور شہری زندگی کے تضادات کو نمایاں کیا گیاہے۔نیز ین علامتوں کے زریعے سماجی نا انصافین، جبر اور ظلم کے سا تھ جاگیر داری نظام اور اس کے استحصالی ہتھکنڈوں کے خلاف نفرت اور ردِ عمل کا یظہار کیا گیا ہے ۔اِن علامتوں کے ذریعے معاشی اور طبقاتی ناہمواری کے خلاف بھی آواز اُٹھائی گئی ہے ارور پسے ہوئے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کی گئی ،ڈاکٹر سلیم اختر کے افسانوں میں آنے والی علامتیں انسانی نفسیات کی مختلف جہتوں کو نما یاں کرنے کے ساتھ سماجی اور تہذیبی زندگی کی بھی اہم حقیقتوں سے پردہ آٹھاتی ہیں ۔ مرزا حامد بیگ کی علامتوں میں نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں ۔سلطان جمیل وسیم کی علامتیں آج کی معاشرتی اور تہذیبی زندگی کے زوال کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر رونما ہونے والے فسادات کے مختلف حوالوں کو سامنے لا رہی ہیں۔ان فسادات کے انسانی زندگی پر ہونے والے اثرات کا بھی پَرتواِن علامتوں کے اندر واضع نظر آتا ہے ۔ناصر بغدادی کی علامتیں اپنے اندر گہرائی کے ساتھ معنویت رکھتی ہیں۔عہدِجدید میں ہمارے سماج میں ہونے والی دہشت گردی ،قتل و غارت ،جبر اور ظلم کے ساتھ اُس گھٹن اور خوف و ہراس کی صورتحال کو بھی نما یاں کرتی ہیں جو آج کے انسان کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔اِس گھٹن اور خوف سے وہ چاہتے ہوئے بھی نجات حاصل نہں کر پا رہا۔
مغرب سے آنے والی علامت انگریزی مضامین کے زریعے سے بھی اُردو ادب میں آئی اور اس سے اردو مضامین کے مزاج اور ہیئت میں تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔اردو مضامین نئے نئے علامتی سانچوں میں ڈھلتے چلے گئے ۔اردو مضامین لکھنے والوں نے ان مغربی علامتو ں کو اپنے مخصوص تہذیبی سیٹ اپ کے مطابق ڈھال لیا ۔مغربی مضمون نگاروں جن میں جانسن،اڈیسن اور دیگر معروف لکھنے والے شامل تھے ،نے محض ضروری وسیلے کے اظہار کے طور پر تمثیل کی راہ اختیار نہیں کی تھی ،بلکہ فارم کی دلچسپی کی خاطر اس پیرایہ بیان کو اختیار کیا ،جس سے نئی نئی علامتیں وضع ہوئیں جو اس عہد کے مغربی تمدن اور معاشرت کی عکاسی نظر آتی ہیں۔اردو ادب کے مضمون نگاروں نے ان مغربی علامتوں کو اپنی معاشرت اور تہذیبی سیٹ اپ کے مطابق ڈھال لیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اندر بدیسی فضاء اور غیریت کی بو محسوس نہیں ہوتی بلکہ برِصغیر کی مٹی کی خوشبو ان میں رچی بسی محسوسہوتی ہے ۔جدید اردو مضامین نویسوں میں سر سید کا نام اولیت کا حامل ہے،جنہوں نے مغربی انداز کے مطابق مضمون نویسی کا آغاز کیا اور اسالہ ’’تہذیب الاخلاق ‘‘میں متعدد موضوعات پر مضمون لکھے ،جو اس عہد کے ہندوستان کے کلچر،ثقافت اور شخصی رویوں کے عکاس ہیں۔ان کے بعض مضامین کے اندر علامتی اور اشارتی انداز ملتا ہے،جس کے تناظر میں بعض معاشرتی ور اخلاقی برائیوں کے ساتھ ساتھ تہذیبی رسومات اور روایات واقدار کے کامیاب فوٹو کرافی کی گئی ہے۔دیگر مضمون نگاروں میں شررؔ،مولوی چراغ علی،ماسٹر رام چند جی ،مولوی کریم الد ین ،منشی عزیز لدین اور محمد حسین آزادـؔ نے جو تمثیلی تخلیقات پیش کی ہیں ،ان پر مغربی علامت کے اثرات نظر آتے ہیں۔اگرچہ یہ علامتیں خالصتاََمشرقی ماحول اور فضاء کو اُجا گر کرتی ہیں اور ان کو خمیر یہاں کی مٹی سے اُٹھا ہے لیکن ان کی ہیئت و اشکال اور مفاہیم پر مغربیت کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں ۔ان کی واضع مثال انیسویں صدی کے عہد میں بر صغیر میں قائم ہونے والی انگریزی حکومت ہے ،جس کے دور میں انگریزی ادب کی شاہکار کتابیں ترجمہ کے وسیلے سے اردو ادب میں آنے لگیں ۔اس سلسلے کو بڑھانے اور فروغ دینے میں انگریزی مستشرقین کے ساتھ قدیم دیلی کالج کی ورنا کیولر ٹرانسلیشن سوسائٹی کی خدمات قابلِ ذکر ہیں ،جن کی وجہ سے تراجم کا مشکل اور دقیق کام ممکن ہو سکا اور مغربی ادب اور اس کے لٹریچر کو اردو زبان کا قالب پہنایا گیا جس سے مغربی ادب کی شاہکار کتابیں برصغیر کے لوگوں تک پہنچی تو انہیں مغربی ادب کے رجحانات اور میلانات کو سمجھنے اور جاننے کا موقع ملا ،جس سے ان کی سوچ اور فکر کے زاویے بدلتے چلے گئے اور مغرب کے تمثیلی رجحانات کے متنوع پہلوئوں کا ادراک اور ان کی تفہیم ہوئی ۔تمثیل اور تراجم کے حوالے سے جو سلسہ انگریزی حکومت کے دور میں شروع ہوا ۔
اس ضمن میں گارساں دتاسی کی رائے خصوصی اہمیت کی حامل ہے ۔
’’ایک ما ہ نامہ رسالہ جس کا نام ’’فوائد النا ظرین ‘‘ہے اس میں علاوہ خبروں کے مضمون بھی چھپتے ہیں جو انگریزی ذرائع سے ماخوذ ہو تے ہیں۔‘‘۲۵
تمثیل کے ضمن میں شائع ہونے والی کتابوں کے بارے میں رقم طراز ہیں:
’’اِن میں (حالیہ مطبوعات) قدیم و جدید زمانے کی چند تاریخیں اور اخلاقی اور مذہبی کتابوں کے ترجمے بھی ہیں مثلاََ بنین کی ’’پلگر مس پراگریس‘‘ اور میسن کی’’سیلف نالج ‘‘ کے ترجمے ،قصے کہانیوں کے بھی ترجمے ہوئے ہیں مثلاََ’’ریسے لاس‘‘ اور ’’قزلباش‘‘ بعض نظموں کے تراجم بھی کیے گئے ہیں مثلاََ’’گے ‘‘ کی حکایتوں کے ۔‘‘۲۶
تراجم میں جو تمثیلی رجحان آیا ہے اس کے حوالے سے دسویں خطے میں اظہار خیال کرتے ہیں :
’’مسٹر فیلسن نے مجھے ایک اور کتاب بھی بھیجوائی ہے جس کا نام ــ’’رشیدن شہ ‘‘ ہے ۔یہ شیو نرائن کی انگریزی اخلاقی کہانی کا ترجمہ ہے۔اس کاتمثیلی طرزِبیان مشرقی مذاق کے بالکل مطابق ہے ۔یہ سچ ہے کے اس قسم کی ادبیات ہماری ذہنیت سے کوئی نسبت نہیں رکھتی مگر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس میں ایک خاص حسن و لطف ہے۔‘۲۷
علامتی رجحان سے اظہار کے نئے نئے وسیلے سامنے آئے ہیں ۔مخصوص علامتی الفاظ اور پیرائے میں ایک عہد کے شاعر اور ادیب نے تہزیبی اور معاشرتی زندگی کے متنوع پہلوئوں کو اُجاگر کیا اور علامت کو ایک عہد کے رویوں کا ترجمان بنا دیا ہے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت پر مبنی ہے کہ علامتی اظہار کی پیچیدگی سے علامتوں کی تفہیم پورا طرح قاری تک نہیں پہنچ سکی ۔ایک مصنف اور شاعر نے علامت کو جن معنوں میں استعمال کیا یا اس کے جو معنی اور مفاہیم اخذکر لیے قاری اس علامت کو انہیں معنوں میں نہیں لیتا بلکہ اس سے ایسے معنی اور مفاہیم اخذکر لیے جاتے ہیں جس سے مصنف یا شاعر کی وہ مراد نہیں ہوتی بلکہ مختلف ہوتی ہے ۔علامت کی پیچیدگی قاری کو اس کے حقیقی معنوں تک نہیں پہنچنے دیتی اور وہ لفظوں کا ایک گورکھ دہندہ بن کر رہ جاتی ہے۔ مصنف یا شاعر کے مخصوص نظریات اور تصورات کے تناظر میں جو علامتیں تخلیق ہوتی ہیں ،ان کا گنجلک پن اور مخصوص سانچے قاری کو معنی کی تفہیم دینے کی بجائے اسے الجھا کر رکھ دیتے ہیں ۔ وہ اپنے ذہن کی بساط ،مخصوص ماحول اور سیٹ اپ جس میں وہ رہ رہا ہوتا ہے،کے مطابق معنی اخذکرتا ہے اور وہ معنی ایک ادیب اور شاعر کے معنی سے مطابقت اورمناسبت نہیں رکھتے ۔ اسی چیز نے علامت اور اس کی تفہیم اور ابلاغ کے راستے میں نت نئی پیچیدگیاں پیدا کی ہیں اور اس کا دائرہ سمٹ کر مصنف یا شاعر کی ذات تک رہ گیا ہے۔
کلاسیکل ادوار کی علامت کے معنی اور مفاہیم واضع تھے اور ان میں کوئی ابہام اور پیچیدگی نہیں تھی بلکہ وہ مخصوص رویوں کی عکاس تھیں لیکن جدید عہد میں عضع ہونے والی علامتیں محض ایک رجحان یا رویوں کی عکاس نہیں ۔ایک ہی وقت میں اس کے مختلف شیڈز نظر آتے ہیں ۔جدید عہد کے مصنف اور شاعر نے اپنے عہد کی پیچیدہ جہتوں کی عکاس کے لیے جو علامتی سیٹ اپ وضع کیا ہے اس کی تفہیم ایک عام قاری کے بس کی بات نہیں رہی بلکہ یہ علامت صرف اور صرف مصنف اور شاعرکی ذات کے ارد گرد گھومنے لگی ہے اور اس چیز نے علامت کے فطری ارتقاء میں پیچیدگی پیدا کی ہے ۔
’’علامتی اظہار کو اپنانے کا نتیجہ نکلا کے شاعری صرف شاعری کی ذات تک محدود ہو گی اور قاری کے لیے ناقابلِ بیان تجرِبہ بن گئی‘‘۲۸
جدید دور کی بعض علامتوں کا ابلاغ اور تفہیم ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے اور یہ علامتیں محض مصنف اور شاعر کی ذات کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔اس رویے نے علامتی رجحان کو نہ صرف پیچیدگی کا شکار کیا بلکہ علامتی اظہار ایک مخصوص دائرے تک محدود ہو کر رہ گیا۔جدید دور کے علامتی اظہار کے نئے نئے وسیلہ اپنی جگہ لیکن ان کی تفہیم اور ابلاغ کا مسئلہ یقیناََتوجہ طلب ہے
علامت کے اندر کیا حقیقت چھپی ہے ،یہ تو صرف ایک مصنف اور شاعر ہی جانتا ہے ،قاری شاید پوری طرح اس کی تہ یا حقیقت تک نہیں پہنچ پاتا ۔ علامتوں کے مخصوص سیٹ اپ اور ان کے نت نئے استعمال سے کئی ایک مفہوم سامنے آتے ہیں،جوزندگی کی کسی ایک جہت کے نمائندے نہیں بلکہ متنوع پہلو ئو ں کے ترجمان ہیں ۔علامت کی پیچیدگی نے معنی کی تاثیر میں کمی کی ہے اور اس کا دائرہ کار سمٹ کر ایک شاعر اور مصنف کی ذات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
علامت جب مصنف یا شاعر کی ذات تک محدود ہو جاتی ہے تو اس سے بعض مخصوص تصورات اور نظریات کی ترویج کی کام لینا ممکن نہیں رہتا اور نہ ہی اس کے اندر وہ معنویت اور گہرائی پیدا ہوتی ہے جو عموماََایک علامت کی پہچان ہوتی ہے۔

حوالہ جات
۱ سہیل احمد خاں ،مجموعہ،سہیل احمد خاں سنگ میل پبلی کیشنز ،لاہور ۲۰۰۹،ص۱۱
۲ وزیر آ غا، ڈاکٹر ،اردو شاعری کا مزاج ،جدید ناشرین ،لاہور ،۱۹۹۵ص ۴۰۷۔۴۰۸
۳ سرور احمد ،ڈاکٹر اردو اور ہندی رومانوی شاعری میں علامتوں کا مطالعہ ،معیار پبلی کیشنز ،نئی دہلی،۱۷ جنوری ۱۹۹۲ ص ۴۸
۴ شہزاد منظر ،علامتی افسانے کے ابلاغ کا مسئلہ (تنقید) ،منظر پبلی کیشنز ،کراچی ،۹۹۰،۱ص۱۵
۵ سرور احمد ،ڈاکٹر اردو اور ہندی رومانوی شاعری میں علامتوں کا مطالعہ ،معیار پبلی کیشنز ،نئی دہلی، جنوری ۱۹۹۲ ص ۴۹
۶ ڈاکٹر سلیم اختر:علامت کا جنم،ماہنامہ فنون،شمارہ۵،جولائی،گست ،۱۹۷۷ ،ص۲۳
۷ محمد حنیف شاہد :(مرتبہ)مقالات عبدالقادر،مجلس ترقی ادب لاہور ،۱۹۸۶،ص۳۳۳
۸ اسلم رانا:سمبلزم (اشاریت) کیا ہے،ماہنامہ قرطاس گوجرنوالہ،شمارہ ،مارچ۱۹۹۲ ،ص۱۶
۹ صدیق کلیم:(مرتبہ)،نئی تنقید ،سوندی ٹرانسلیشن سوسائٹی گو رنمنٹ کالج لاہور ،۱۹۶۹،ص۱۵۲
۱۰ انیس ناگی :تنقید شعر،نئی مطبوعات لاہور،اپریل ۱۹۶۵،ص ۸۲
۱۱ شمس الرحمٰن فاروقی : علامت کی پہچان ،ماہنامہ شب خون ،شمارہ ۴۷،اپریل ۱۹۷۰،ص۸
۱۲ ڈاکٹر تبسم کاشمیری ـ:اردو شاعری میں علامت نگاری ،سنگ میل پبلی کیشنز لاہور،۱۹۷۷،ص۴۰
۱۳ ڈاکٹر منظر اعظمی :اردو میں تمثیل نگاری،انجمن ترقی اردو ہند ،نئی دلی،۱۹۹۲،ص ۱۳۲
۱۴ ڈاکٹر انور سدید :اردو ادب کی تحریکیں ،انجمن ترقی اردو کراچی،۱۹۹۱،ص۱۳۴
۱۵ مسعود جاوید :گنجینہ معنی کا طلسم ۔۔۔علامت ،ماہنامہ سیارہ لاہور،شمارہ مارچ ،۱۹۷۷،ص ۱۲۳
۱۶ ڈاکٹر تبسم کاشمیری :اردو شاعری میں علامت نگاری ،سنگ میل پبلی کیشنز ،لاہور۔۱۹۷۷،ص۴۶
۱۷ مسعود جاوید :گنجینہ معنی کا طلسم ۔۔۔علامت ،ماہنامہ سیارہ لاہور،شمارہ مارچ۔۱۹۷۷،ص۱۳۲
۱۸ ڈاکٹر منظر اعظمی:اردو میں تمثیل نگاری ،انجمن ترقی اردو ہند،نئی دہلی ،۱۹۹۲،ص۲۵۲
۱۹ مسعود جاوید ـ:گنجینہ معنی کا طلسم ۔۔۔علامت،ماہنامہ سیارہ لاہور،شمارہ مارچ،۱۹۷۷،ص۱۳۲
۲۰ ڈاکٹر عبادت بریلوی :(مرتبہ )انتخاب خطوطِ غالب،مشرف انصاری ،اردو اکیڈمی سندھ کراچی،۱۹۸۸،ص۳۲
۲۱ ڈاکٹر عبادت بریلوی:(مرتبہ)انتخاب خطوطِ غالب ،مشرف انصاری ،اردو اکیڈمی سندھ کراچی۱۹۸۸،ص۹۱
۲۲ ڈاکٹر عبادت بریلوی:(مرتبہ)انتخاب خطوطِ غالب،مشرف انصاری،اردو اکیڈمی سندھ کراچی
،۱۹۸۸،ص۵۸
۲۳ صدیق کلیم :(مرتہ)،نئی تنقید ،سونڈی ٹرانسلیشن سوسائٹی،گورنمنٹ کالج لاہور،۱۹۶۹،ص۱۴۷
۲۴ مقصود حسینی :تحریکات اردو ادب ،فہد پبلہشرز راجپوت مارکیٹ اردو بازار لاہور،۱۹۹۶،ص۱۳۲
۲۵ ڈاکٹر مولوی عبد الحق :(مرتبہ)خطبات گارساںدتاسی،انجمن ترقی اردو ادب پاکستان کراچی ،۱۹۳۵،ص۲۳
۲۶ ڈاکٹر مولوی عبد الحق:(مرتبہ)خطبات گارساںدتاسی،انجمن ترقی اردو ادب پاکستان کراچی،۱۹۳۵،ص۵
۲۷ ڈاکٹر مولوی عبد الحق :(مرتبہ)خطبات گارساں دتاسی ،انجمن ترقی اردو ادب پاکستان کراچی،۱۹۳۵،ص۲۷۲
۲۸ صدیق کلیم :(مرتبہ)،نئی تنقید ،سونڈی ٹرانسلیشن سوسائٹی،گورنمنٹ کالج لاہور،۱۹۶۹،ص۱۵۰

Leave a Comment