اُردو کے معروف شاعر اوردرگاہِ خواجہ ؒ کے سابق ناظم خداداد خان مونسؔ رِحلت کر گئے

\"thumbnail\"
ممبئی ،(ندیم صدیقی) اُردو کے معروف شاعر اور درگاہ ِخواجہؒ کے سابق ایڈمنسٹریٹر ۷۹سالہ خداداد خاں مونس گزشتہ اتوار (۲۴ دسمبر)کو دھیواڑی (گڑگاؤں۔ہریانہ) میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
خدا داد خاں۲۲نومبر۱۹۳۸ کو جے پور (راجستھان) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد فـضا جے پوری اپنے دور کے ممتاز اور استاد شاعر تھے جنہیں تصوف سےبھی شغف تھا۔
خداداد خاں مونس نے سائنس جیسے مضمون میں گریجویشن کیا تھا مگر انہوں نے بعد میں ایل ایل بی، ڈی اسٹیٹ، ڈی ایم آر ایس سی جیسی ممتازڈگریاں بھی حاصل کیں۔ جس سے ان کی ذہانت اور علمی تنوع کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ وہ راجستھان اُردو اکادیمی کے سکریٹری، مولانا آزاد عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ( ٹونک۔ راجستھان) کے ڈائریکٹر، ایم ڈی ایس یونیورسٹی (اجمیر) کے رجسٹرار اور درگاہ ِ خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے ناظم بھی رہ چکے تھے۔
ان کی چھ سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی سب سے پہلی کتاب ترجمان الفرید( بابا فرید شکر گنج کے پنجابی کلام کا منظوم ترجمے کی) شائع ہوئی تھی۔ جو بعد میں انگریزی میں بھی طبع ہوئی۔ مونس مرحوم نے فارسی کلام ِ خواجہ معین الدین چشتی کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔ مونس مرحوم نے شمیم جےپوری ،مخمور سعیدی، احترام الدین شاغل، بلراج کھوسلہ واقف، لکشمی نارائن فارغ جیسے شعرا کا مونوگراف بھی لکھا تھا۔ جبکہ دیوانِ اخگر(منشی عبد الحمید اخگر) اور مولوی اشفاق رسول جوہر پر ان کا تحقیقی کام بھی ہے۔
انکے شعری مجموعوں کے نام اس طرح ہیں: سعادتِ کبریٰ(نعت)، بخشش کی راہوں میں( سلام و منقبت)، پُر فضا (انتخابِ غزلیات)، طاقِ نسیاں،(بھولی بسری اصناف سخن پر مشتمل منظومات)، بکھرے ہوئے اوراق( مجموعۂ مضامین و مقالات) اور باقیات۔ آخر الذکر کتاب مئی۲۰۱۷ میں طبع ہوئی تھی جس میں دیگر شاعری کے علاوہ ایک کمیاب صنف’’ تاریخ گوئی‘‘ کےبھی نمونے ہیں۔
وہ اپنے بیٹے شاداب کےپاس دھیواڑی (گڑ گاؤں۔ ہریانہ) گئے ہوئے تھے جہاں انہوں نے آخری سانسیں لیں۔ اُن کا جسدِخاکی دھیواڑی سے جے پور لا یا گیا اور وہیں سپر د ِلحد کیا گیا۔ ان کے پسماندگان میں دو بیٹے، دو بیٹیاں اور بیوہ ہیں۔ اس وقت ان کا یہ شعریاد آرہاہے:
کتنی راتیں کھینچ سکتا تھا چراغِ انتظار
آپ اب آتے ہی رہیے جانے والا تو گیا

Leave a Comment