بزم کیف انجمن کی طرف سے سلطان اختر کو اعزاز اور شعری نشست کا پٹنہ میں اختتام

کیسے نہ ہنسے ان پہ تمدن کا اندھیرا————— جن جلتے چراغوں سے ضیا تک نہیں آتی
\"IMG_20160715_195322\"
پٹنہ17جولائی(پریس ریلیز)معروف و معتبر شاعر سلطان المتغزلین سلطان اختر کو بزم کیف کی طرف مومنٹو اور شال پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ بزم کیف کے ڈائرکٹر محمد آصف نواز کے علاوہ ڈاکٹر زرنگار یاسمین، مشتاق احمد نوری، قاسم خورشید، شہاب ظفر اعظمی،صفدر امام قادری اور ڈاکٹر واحد نظیر نے سلطان اختر کو مومنٹو اور شال پیش کر کے ان کی عزت افزائی کی۔ بزم کیف کے ڈائرکٹر آصف نواز نے کہا کہ سلطان اختر نے ہمارا اعزاز قبول کر کے دراصل ہمیں ہی اعزاز سے نوازا ہے ۔ صفدر امام قادری نے سلطان اختر کی شان میں ظفر کمالی کے چند قطعات پیش کیے۔ اس موقع پر ایک شعری نشست بھی منعقد ہوئی۔ نشست کی صدارت سلطان اختر نے فرمائی جبکہ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے انجام دیا۔ شعری نشست کا آغاز ڈاکٹر واحد نظیر کے حمدیہ و نعتیہ کلام سے ہوا۔ شعری نشست میں سلطان اختر، مشتاق احمد نوری، قاسم خورشید، شمیم قاسمی،ڈاکٹر زرنگار یاسمین، کاظم رضا، واحد نظیر، مظہر عالم مخدومی، ظہیر انور، تحسین روزی، صفدر امام قادری، شہاب ظفر اعظمی، نصر بلخی اور کامران غنی صبا نے اپنا کلام پیش کیا۔نشست میں پرویز انجم، محمد منہاج الدین ، علقمہ نایاب، اور محمد ایوب انصاری بھی موجود تھے۔اس مخصوص شعری نشست میں پیش کیے گئے کلام کا منتخب حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے:
سلطان اختر
بہت لوری سناتی ہے ہمیں خوابوں کی شہزادی
مگر ہم شب گزیدہ جشنِ بیداری میں رہتے ہیں
مشتاق احمد نوری
تھک کے بیٹھا تھا کہ منزل نظر آئی مجھ کو
حوصلہ دینے لگی آبلہ پائی مجھ کو
قاسم خورشید
میں تو اپنی موت سے اب ڈر رہا ہوں اس لیے
میرے اندر جینے والا بے اماں ہو جائے گا
شمیم قاسمی
تو نور ہے تو کبھی سامنے مجسم آ
کہ ہو رہے ہیں چراغ لہو بھی مدھم آ
واحد نظیر
ساقی یہ طورِ میکدہ اچھا نہیں لگا
رندوں کا پی کے ناچنا اچھا نہیں لگا
کاظم رضا
کیسے نہ ہنسے ان پہ تمدن کا اندھیرا
جن جلتے چراغوں سے ضیا تک نہیں آتی
مظہر عالم مخدومی
دامن کے چاک ہونے کا قصہ نہ چھیڑیے
لاکھوں بدن ہین جن پہ نہیں ہے لباس کچھ
تحسین روزی
دل میں ہے اضطراب کا عالم
ان سے تھوڑی سی بات ہو جائے
زرنگار یاسمین
کہاں فرصت کے دیکھوں راستے میں
چراغ دل جلا ہے یا بجھا ہے
نصر بلخی
امیر شہر محبت سے آشنا ہی نہیں
اصول حق بھی سنایا عتاب کی مانند
صفدر امام قادری
جو عذاب جاں ٹھہرا ہے وہی سفر درپیش
زندگی کے جینے سے زندگی کے ہارے تک
کامران غنی صبا
سچ نہیں بولنے کی سب نے قسم کھائی ہے
آئینہ جھوٹ اگر بولے تو حیرت کیسی

\"IMG_20160715_195256\"

Leave a Comment