جشن ریختہ اور اردوپر تبسم فاطمہ کے تاثرات

\"\"
٭تبسم فاطمہ، نئی دہلی

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے . ٢٠١٨ تک ریختہ اردو کو استقبالیہ دے رہا تھا .تصویر دیکھئے . ٢٠١٩ میں اردو کی جگہ ہندوستانی نے لے لیا . سدھیر رنجن چودھری نے اور راہل بجاج نے بیان دیا کہ ملک میں بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے . اردو کے لئے یہ نصیحت دینا مناسب نہیں کہ اردو کو مسلمانوں سے جوڑا گیا اور اردو مسلمانوں کی زبان ہو گیی . اب یہ باتیں کویی نہیں کہتا . زبان ، زبان ہے .کویی زبان کسی قوم کی ملکیت نہیں .. اردو پہلے بھی مجھے ریختہ ، گجری ، لاہوری ، دکنی کے طور پر قبول نہیں تھی . اردو کو اردو کے نام سے یاد کرنے میں کیا قباحت ہے ؟ ماضی کے ریختہ سے اب تک ہماری دنیا کافی حد تک تبدیل ہو چکی ہے . اردو کی شناخت پر بھی خطرہ منڈرا رہا ہے . اردو ہندوستانی تھذیب کی امانت ہے . لیکن امانت تو ہندی بھی ہے . پھر اردو کو ہی ہندوستانی کہنے کی ضرورت کیوں پیش آیی ؟ دراصل یہ ڈرامہ بہت دنوں سے چل رہا ہے . اردو مکمل طور پر ہندوستانی ہوتے ہوئے بھی اردو ہے . ریختہ نے ہمیشہ اردو کو اردو کے جشن کے طور پر ہی منایا .اب ٢٠١٩ میں ہندوستانی کی طرف جھکاؤ کی کیا وجہ ہے ، یہ جناب فرحت احساس ، نعمان شوق ہی بتا سکتے ہیں . میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ اردو کو کسی اور نام سے یاد کرنے کی کویی ضرورت نہیں . اردو کی پہچان اس کے نام میں پوشیدہ ہے . اس نام کے ساتھ کویی چھیڑ چھاڑ منظور نہیں .

Leave a Comment