جموں یونیورسٹی،جموں میں ’’موجودہ دور میں فیض احمد فیضؔ کی اہمیت ‘‘ موضوع پر توسیعی خطبہ کا انعقاد

فیض احمدفیض نہ صرف ایک شاعرتھے بلکہ ایک ہمدردانسان اور انقلابی سوچ وفکر کی حامل شخصیت کے مالک بھی تھے۔ڈاکٹر تقی عابدی کناڈا
ڈاکٹر تقی عابدی کناڈا، پروفیسرڈاکٹر خواجہ اکرام الدین دہلی، پروفیسرآرڈی شرماجموں،پروفیسرضیاء الرحمن سولن، کی شرکت
\"dsc_1421\"

جموں//(اسٹاف رپورٹر)۔ ’’فیض احمدفیض نہ صرف ایک شاعرتھے بلکہ ایک ہمدردانسان اور انقلابی سوچ وفکر کی حامل شخصیت کے مالک بھی تھے ۔ وہ ترقی پسندتحریک کے پیداکردہ اُردوکے ایسے شاعرتھے جن کی شاعری اعلیٰ اقدارسے بھرپورہے‘‘۔ ان خیالات کااظہار کناڈاکے نامور اُردومحقق ،نقاد،شاعرواسکالرڈاکٹر تقی عابدی نے شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کی طرف سے پروفیسرگیان چندجین سیمی نارہال میں ’’موجودہ دورمیںفیض احمدفیضؔ کی اہمیت ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ توسیعی خطبہ کے دوران کیا۔ اس دوران پروگرام کی صدارت سابق ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فروغ اُردو نئی دہلی اورجواہرلعل نہرویونیورسٹی کے پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے کی جبکہ وائس چانسلرجموں یونیورسٹی پروفیسرآرڈی شرمامہمان خصوصی تھے۔اس موقعہ پر اُردوٹیچنگ اینڈریسرچ سنٹرسنٹرل انسٹی چیوٹ آف انڈین لنگویجز ،وزارت فروغ انسانی وسائل حکومت ہند سپرون ،سولن پروفیسرضیاء الرحمن بھی دیگرشخصیات کے ہمراہ ایوان صدارت میں موجودتھے۔پرمغزخطاب میں ڈاکٹرتقی عابدی نے موجودہ دورمیں فیض احمدفیض ؔ کی اہمیت وافادیت کے بارے میں شرکاء سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان نیزپوری دنیا کے موجودہ حالات کے پیش نظر فیض احمدفیض کی شاعری کی کافی زیادہ اہمیت ہے۔ انہوں نے کہاکہ فیض کی شاعری امن وآشتی کاپیغام دیتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ فیض احمدفیض صرف ایک ترقی پسندشاعروادیب ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے اُردونثر کے میدان میںخطوط لکھ کر ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ فیض نے اپنی بیشترشاعری تہاڑودیگرجیلوں میں لکھی ہے ۔ ڈاکٹرتقی عابدی نے کہاکہ فیض احمدفیض موجودہ دورکے بلندپایہ شاعرہیں ۔انہوں نے کہاکہ فیض نے جن موضوعات کوشاعری میں برتاہے ان کونثرمیں استعمال نہیں کیا ہے۔ اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسرخواجہ اکرام نے شعبہ اُردو جموں یونیورسٹی کو عالمی شہرت یافتہ اُردوشاعرفیض احمدفیض کی موجودہ دورمیں اہمیت جیسے اہم موضوع پر توسیعی لیکچرمنعقدکرنے کیلئے مبارکبادپیش کی ۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرتقی عابدی نے یورپی ممالک سمیت پوری دنیامیں اُردو زبان وادب کوفروغ دینے کیلئے ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے فیض احمدفیض کی شاعری کے مختلف پہلوئوں پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ فیض کی شاعری انقلابی ہے اوروہ ترقی پسندتحریک کے قدآور شاعروں میں سے ایک ہیں۔وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر آرڈی شرمانے خطاب کرتے ہوئے شعبہ اُردو کو اُردوکے عظیم شاعرکی موجودہ دورمیں اہمیت کواُجاگرکرنے کے سلسلے توسیعی لیکچر منعقدکرنے کیلئے مبارکبادپیش کی۔ انہوں نے کہاکہ جموں یونیورسٹی کے لیے فخرکی بات ہے کہ ذاتی اخراجات میں سے شعبہ اُردوکینڈاکے ڈاکٹرتقی عابدی جیسے عالمی شہرت یافتہ شاعروں کومدعوکرکے پروگرام منعقدکرتاہے جس سے اُردوکے طلبہ واسکالروں کومستفیدہونے کاموقعہ ملنے کے ساتھ ساتھ جموں یونیورسٹی کانام بھی قومی اوربین الاقوامی سطح پرنمایاں ہوتاہے۔ پروفیسرآرڈی شرمانے اعلان کیاکہ ڈاکٹرتقی عابدی کوجموں یونیورسٹی میں اعزازی پروفیسرکے طورپرتعیناتی کیلئے پرپوزل مختلف یونیورسٹیوںکی اکائیوں کوبھیجاجائے گا۔ قبل ازیں پروفیسرشہاب عنایت ملک نے استقبالیہ خطاب میں کنیڈاسے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹرتقی عابدی کاتعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرتقی عابد ی 50 کے قریب کتب کے مصنف ہیں اور غالب ؔ، حالی،اقبال اورفیض پر عبوررکھتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اگرچہ ڈاکٹرتقی عابدی یورپ کے نامور کینسرماہرہیں لیکن یورپین ممالک میں اُردوزبان وادب کی ترویج میں ان کانمایاں رول ہے۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرتقی عابدی کاشعبہ اُردومیں تشریف لانا جموں یونیورسٹی کیلئے باعث فخربات ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرتقی عابدی کو سال میں دومرتبہ شعبہ میں مدعوکیاجائے گاتاکہ اُردوطلبہ واسکالرز کو اُردودنیامیں رونماہونے والی نت نئی تبدیلیوں کی جانکاری ہوسکے ۔ تقریب کے دوران ڈاکٹرتقی عابدی کی اقبالؔ اورحالی ؔ پرتصنیف کردہ تین کتابیں اور پروفیسر ضیاء الرحمن کی تحریرکردہ دوہندی کتابوں کے علاوہ اُردوڈکشنری اورالاسباب بھی وائس چانسلرجموں یونیورسٹی پروفیسرآرڈی شرمانے دیگرشخصیات کی موجودگی میں ریلیزکیں ۔بعدازاں ڈاکٹرتقی عابدی کے اعزازمیں مشاعرہ بھی منعقد کیاگیاجس میں عرش صہبائی ، موہن سنگھ اُلفت ، شام طالب، امین بانہالی ، جوگندرطائر، تسلیم منتظرودیگرشعراء نے اپناکلام پیش کرکے شرکاء کومحظوظ کیا۔تقریب کے دوران نظامت کے فرائض شعبہ اُردوکے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹرمحمدریاض احمد نے انجام دیئے جبکہ شکریہ کی تحریک اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرچمن لعل نے پیش کی۔اس کے علاوہ تقریب میں طلبہ، اسکالرز اورفیکلٹی ممبران کے علاوہ سول سوسائٹی کے ممبران بشمول پروفیسر سکھ چین سنگھ، پروفیسر ضیاء الدین ، ڈاکٹر عبدالرشیدمنہاس ، ڈاکٹرفرحت شمیم، پروفیسر ایم اے وانی ، اسیر کشتواڑی، بشیربھدرواہی ودیگران بھی موجودتھے۔مشاعرے کی نظامت ڈاکٹرضیاء الرحمن نے انجام دیں جبکہ صدرشعبہ اُردو پروفیسرشہاب عنایت ملک نے مہمانوں کاشکریہ اداکیا۔

\"dsc_1413\"
\"dsc_1436\"
\"dsc_1416\"
\"dsc_1407\"

Leave a Comment