جنت ِ بے نظیرسے جنت بے نظیرتک

سفر نامہ ماریشس (تیسری قسط)

\"\"
٭پروفیسرشہاب عنایت ملک
9419181351
\"\"

سیکورٹی اہلکاروں کواپناٹکٹ اورپاسپورٹ دکھانے کے بعدمیں ایئرپورٹ کے اندرچلاگیا۔سامنے ہی ایئرمارئشس کاکونٹرتھا۔جب کونٹرپربورڈنگ پاس بنانے کے لئے چلاگیاتومعلوم ہواکہ آج ماریشس جانے والی فلائٹ کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ردکردی گئی ہے۔کاؤنٹرپرمختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بہت سارے افرادبھی موجودتھے۔ایئرماریشس کے اہلکاران نے ہمیں بتایاکہ اب 9تاریخ کی صبح 4 بج کر 40 منٹ پرہمیں دوسری فلائٹ سے بھیجاجائے گا۔گویا ہمارے پاس ابھی پورا ایک دن اورایک رات ممبئی میں گزارنے کے لئے تھی۔ایئرماریشس نے تمام مسافروں کے رہنے کاانتظام ایئرپورٹ کے ساتھ ہی ایک ہوٹل میں کیا۔ہوٹل پانچ ستارہ تھا۔اس ہوٹل میں ہرقسم کی سہولت موجودتھی۔صبح چھ بجے نہادھوکرہم نے ناشتہ کیااورچوں کہ رات بھرنیندسے ہم محروم رہے تھے۔اس لئے ناشتہ کے بعدآرام دہ کمرہ میں میں سوگیا۔ناشتے پرمیری ملاقات مدگھاسکرکے ایک تاجرسے ہوئی۔جواپنی اہلیہ کے ساتھ ہندوستان تجارت کی غرض سے آیاتھااوراب ماریشس سے ہوتے ہوئے اپنے ملک مدلھاسکرجارہاتھا۔کچھ ایسے مسافربھی تھے جواپنی فلائٹ سے مراکش کاسفربھی کررہے تھے۔مدکھاسکرکامسافرمسلمان تھااورنفیس اُردوبول رہاتھا۔
دوران ملاقات اُس نے بتایاکہ اُن کے ملک میں عیسائیوں کی تعدادزیادہ ہے البتہ مسلمان بھی اچھی خاصی تعدادمیں موجودہیں۔البتہ ان کے یہاں مذہب کے نام پرہندوستان کی طرح کوئی دنگانہیں ہوتاہے۔عوام آپس میں نہایت پیارومحبت سے رہتے ہیں۔ مساجدکی تعدادبھی ان کے ملک میں اچھی خاصی ہے۔میرے اس سوال پر کہ اُردوانہوں نے کہاں سے سیکھی۔اُس نے کہاکہ اس نے اُردوہندوستانی فلموں کے نغموں سے سیکھی ہے۔اس شخص نے مجھے اپنے ملک آنے کی دعوت بھی دی۔کشمیرسے متعلق اُن کاکہنا تھاکہ اگرچہ کہ کشمیرزمین پرجنت ہونے کادرجہ رکھتاہے لیکن یہاں آئے دن بندوقوں کے منہ کھلے رہتے ہیں جس کے خوف سے وہ کشمیرکاسفرنہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ انہیں اس کشمیرکی خوبصورتی کامشاہدہ کرنے کابہت شوق ہے۔میں نے دونوں میاں بیوی کوکشمیرآنے کی دعوت یہ کہہ کردی کہ سیاحوں کے لئے کشمیربالکل محفوظ جگہ ہے۔ناشتہ پرہی ایک اورعورت سے بھی ملاقات ہوئی جومراکش کی رہنے والی تھیں۔میں نے اُس سے ہندوستان آنے کاسبب پوچھا تواُس نے کہاکہ چونکہ رمضان کامبارک مہینہ قریب آرہاہے اس لیے وہ خریدوفروخت کے لئے ممبئی آئی ہوئی تھیں چونکہ ممبئی میں چیزیں اُن کے ملک سے کم قیمت میں دستیاب ہیں۔ بہرحال تقریباً 2 بجے دوپہرمیری نیندکھلی۔دوپہرکاکھانا کھانے کے بعد میں پھرایک دفعہ سوگیا۔
میں نینداس لئے بھی زیادہ کرناچاہتاتھاکیوں کہ رات میں کسی بھی وقت ہمیں ایئرپورٹ جاناتھا۔رات کے کھانے کے وقت سے پہلے ایئرماریشس کافون آیاکہ کھاناکھانے کے بعد12 بجے رات ہوٹل کی لابی میں تمام مسافرجمع ہوجائیں تاکہ وہاں سے سب مسافروں کوبذریعہ بس ایئرپورٹ پہنچایاجائے۔میں نے فلائٹ کینسل ہونے کی اطلاع صبح ہی ڈاکٹر آصف کودے دی تھی اوراب اسے دوبارہ ایئرپورٹ جانے کی اطلاع بھی دی۔رات 12 بجے ہم ہوٹل کی لابی میں جمع ہوگئے۔ایک بس کے ذریعے ہمیں ایئرپورٹ پہنچاکربورڈنگ پاس دیاگیا۔آج وقت کے مطابق فلائٹ 4 بج کر 40 منٹ،صبح ماریشس کے لئے روانہ ہورہی تھی۔تقریباً ایئرپورٹ پرتین گھنٹے انتظارکرنے کے بعدہمیں جہازمیں بٹھایاگیااوریوں جہاز نے تقریباً 5 بجے صبح ماریشس کے لئے پروازبھری۔اب مجھے امیدہوگئی کہ ماریشس گھومنے کامیراسپناپورا ہورہاہے۔میری ملاقات ایئرپورٹ پرایک نیپالی لڑکی سے ہوئی۔اس نے گزشتہ سال ہی اندورکے ایک لڑکے سے شادی کی تھی۔اوراب یہ جوڑا بھی ماریشس کی سیر پرجارہاتھا۔دونوں میاں بیوی نے راقم کوبتایاکہ دراصل وہ پہلے کشمیرجاناچاہتے تھے لیکن چوں کہ وہاں حالات بہت زیادہ خراب ہیں اس لئے وہاں جانے کاپروگرام ملتوی کرناپڑا۔میں نے انہیں بھی کشمیرآنے کی دعوت دی یہ کہہ کرکہ میڈیانے کشمیرسے متعلق غلط پراپیگنڈہ کرکے کشمیرکی بھیانک تصویر عوام کے سامنے پیش کردی ہے۔جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔کشمیری مہمان نواز ہونے کے علاوہ امن پسندبھی ہیں۔میری باتیں سن کر یہ جوڑاحیران ہوگیا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے تومیڈیامیں سناہے کہ وہا ں توہروقت قتل وغارت کاہی ماحول رہتاہے۔بہرحال جہازنے اُڑان بھردی۔پوراجہازمسافروں سے بھراہواتھا۔جب جہازنے رفتارپکڑی تومیں بھی نیندکی آغوش میں چلاگیا۔صبح جب نیندکھلی تومیں ماریشس کے ایئرپورٹ پرپہنچ کر اس خوبصورت ایئرپورٹ کوحیرت انگیزنگاہوں سے گھوررہاتھا۔ اس وقت ماریشس کے وقت کے مطابق صبح کے 9 بج چکے تھے۔ معلوم ہواکہ ہندوستان اورماریشس کے وقت کاڈیڑھ گھنٹے کافرق ہوتاہے یعنی ہندوستان کاوقت ڈیڑھ گھنٹے ماریشس سے آگے چلتاہے۔
\"\"

Leave a Comment