جوگندر پال کا انتقال

جوگندر پال کی موت اردو ادب کا ایک بڑا نقصان
\"2a2bd9e25f7b4812efcfbb15d5600de1_XL\"

نئی دہلی: (ایجنسی) ملک زدہ منظور احمد کا غم ابھی تازہ ہی تھا کہ اردو ادب کی ایک اور داستانی شخصیت جوگندر پال نے بھی اس فانی دنیا کو الوداع کہہ دیا ۔ وہ ۹۱؍برس کے تھے۔ انہیں ذیابیطس کا عارضہ لاحق تھا ۔ یہاں کے ایک مقامی اسپتال میں انہوں نے آخری سانس لی۔پسماندگان میں اہلیہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹا شامل ہیں۔
جوگندر پال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے جو اب پاکستان میں ہے۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی لیکن انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اردو میڈیم سے حاصل کی۔ انگریزی میں ایم اے کیا اور ریٹائر ہونے تک مہاراشٹر کے پوسٹ گریجویٹ کالج میں انگریزی ہی پڑھاتے رہے۔
جوگندر پال نے تخلیقی عمل کے لئے اردو کا انتخاب کیا۔ ان کے نزدیک اردو زبان سے زیادہ ایک تہذیب تھی ۔ وہ ترقی پسند اردو ادیبوں کی تحریک سے بھی وابستہ رہے۔جوگندر پال کے فکشن نے انہیں عالمی سطح پر وہ مقبولیت بخشی کہ انہیں اردوفکشن کے ایک درخشاں باب کی حیثیت حاصل ہو گئی۔
ان کے اہم افسانوں اور ناولوں میں دھرتی کا لال، خدا بابا کا مقبرہ، پرندے، بستیاں ، مٹی کا ادراک، نادید، اور خواب رو کو بے حد سراہا گیا ۔فکشن نگاری کے علاوہ انھیں تنقید سے بھی خاص دلچسپی تھی۔ ان کی کئی تنقیدی کتابیں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔
ان کی رحلت پر قومی اردو کونسل کے سربراہ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ انھوں نے اردو فکشن کو ایک نیا اسلوب اور نیا طرز احساس دیا۔ عام انسانوں کے دکھ درد سے ان کا گہرا سروکار تھا۔ مظلوم اور بے کسوں کے مسائل پر انھوں نے کھل کر لکھا، ان کا وژن آفاقی تھا انھوں نے فکشن میں بہت سے تجربے کیے اور ان تجربوں کو قبولیت بھی حاصل ہوئی۔
بزرگ ادیب نند کشور وکرم، مشرف عالم ذوقی اور ماہنامہ آجکل کے مدیر ابرار رحمانی نے جوگندر پال کی موت کو اردو ادب کا ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔

Leave a Comment