جو اہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں مشرف عالم ذوقی کا خصوصی لیکچر

ذوقی معاصر فکشن کے منظر نامے پر گہری نظر رکھتے ہیں: ۔پروفیسر انور پاشا

مشرف عالم ذوقی کی تحریروں میں احتجاج کی لئے بہت بلند ہے : ۔پروفیسر خواجہ اکرام

\"zauqi_p_2\"

نئی دہلی (اسٹاف رپورٹر )عہد حاضر کے ممتاز ناول نگار، افسانہ نگار و فلم میکر مشرف عالم ذوقی نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (نئی دہلی)کے ہندوستانی زبانوں کے مرکز میں’’ معاصر فکشن کا منظر نامہ‘‘ کے عنوان سے خصوصی لکچر دیا۔ اس موقعے سے انھوں نے اپنا تازہ افسانہ ’’ قطار میں ایک چہرہ ‘‘ بھی اپنے منفرد لب و لہجے میں پیش کیا۔ ذوقی نے ریسرچ اسکالرس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دس برسوں کے بعد وہ افسانہ نگاری کی طرف لوٹے ہیں۔ گزشتہ دس برسوں سے وہ افسانے نہیں لکھ رہے تھے۔ انھوں نے متعدد ناول لکھے، ٹی وی سیریل اور فلمیں بنانے میں مصروف رہے۔ اب دوبارہ انھوں نے افسانے لکھنا شروع کیا ہے۔ افسانہ ’’ قطار میں ایک چہرہ‘‘ بالکل تازہ سیاسی بحران کو علامتی پیرائے میں بیان کرتا ہے۔ نوٹ بندی، رقم کے لئے قطار میں کھڑے ہوکر ذلت اٹھانے کی مجبوری، اہل اقتدار کی جانب سے ملنے والی دھمکیاں، فرقہ وارانہ ذہنیت اور عوام کی بے چینی و بے قراری کو اس افسانے میں بڑی خوبصورتی سے مشرف عالم ذوقی نے پیش کیا۔ پروگرام کے آغاز میں ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے عالم اردو میں شہرت رکھنے والے شعبے کے استاد اور قومی اردو کونسل کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر خواجہ اکرام نے ہندوستانی زبانوں کے مرکز کی جانب سے مشرف عالم ذوقی کا استقبال کیا۔ پروفیسر خواجہ اکرام نے مشرف عالم ذوقی کے ناولوں اور افسانوں میں احتجاج کے حوالے سے گفتگو کی۔
ڈاکٹر شفیع ایوب نے کہا کہ مشرف عالم ذوقی اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔ وہ ہندی میں ہندی والوں کی طرح جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ناقدین ادب ذوقی سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ذوقی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔فکشن تنقید میں ممتاز مقام رکھنے والے ، ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے سابق چیئر پرسن پروفیسر انور پاشا نے اپنی صدارتی تقریر میں مشرف عالم ذوقی کو اپنے معاصرین میں سب سے باخبر فکشن نگار قرار دیا۔ پروفیسر پاشا نے ذوقی کے ناولوں میں موضوعات کے تنوع کے حوالے سے گفتگو کی۔ انھوں کہا کہ ذوقی نہ صرف فکشن رائٹر ہیں بلکہ وہ ایک با خبر نقاد بھی ہیں۔ وہ اپنے ناولوں اور افسانوں پر بھی تنقید کرتے ہیں اور ہم عصر ناول نگاروں کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ ایک کُل وقتی سچے فنکار ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو فکشن کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ پروفیسر انور پاشا نے اس بات کے لئے مشرف عالم ذوقی کی تعریف کی کہ وہ تنقید سے گھبراتے نہیں ہیں، تنقید برداشت کرتے ہیں۔ بحث مباحثے میں حصہ لیتے ہیںاور زمانے کی سچائی کو اپنے ناولوں اور افسانوں میں پیش کرتے ہیں۔
اس ادبی جلسے میں ڈاکٹر شیو پرکاش، ڈاکٹر سمیع الرحمان، ڈاکٹر شگفتہ یاسمین، ڈاکٹر معین الدین خان، ہردے بھانوں پرتاپ، امام الدین، سلمان ، عبد الرذاق زیادی، سریتا چوہان ،ڈاکٹرنصرت امین، شبنم پروین، تبریز، جاوید عالم، وغیرہ نے شرکت کی اور مشرف عالم ذوقی سے ان کے تخلیقی عمل کے بارے میں سوالات کئے۔ پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر توحید خان نے تمام مہمان اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا۔

\"zauqi_p_3\"

Leave a Comment