حکومتِ تملناڈونےاردوزبان کواسکولی نصاب میں دوبارہ شامل کرلیا

ڈاکٹر نیلوفر کفیل وزیر برائے محنت و روزگار اور اردو دان طبقہ کی کوششیں ثمر آور ثابت ہوئیں

٭اکبر زاہد

\"13680526_1246792858666327_1666915573699623568_n\"

چنئی/اردو زبان کے لئے ریاست تمل ناڈو میں آج کا دن ایک تاریخی اور یادگار دن کہلائے گا۔
بالآخر بارہ مسلسل محنت کا صلہ مل ہی گیا، اوراردوکو اس کاجائزمقام حاصل ہوگیا۔حکومت تملناڈو کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اب اردو دان طلباء اپنی مادری زبان یعنی اردو میں امتحان دے سکتے ہیں اور یہ کہ اردو زبان کو باقاعدہ نصاب میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اس بڑی کامیابی کے پیچھے جہاں اردو دان طبقہ کی مسلسل کوششیں شامل وہیں ڈاکٹرنیلوفر کفیل صاحبہ،وزیر محنت و روزگاراوراوقاف کی اردو کو نصاب میںشامل کرنے کی بے لوث کاوشیں بھی شامل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کاکرم ہے کہ اس نے اس کام کے لئے محترمہ ڈاکٹر نیلوفر کفیل کو منتخب کیا اور ان کے ذریعہ اردو زبان کو باقاعدہ دوبارہ اسکولی نصاب کا ایک حصہ بنالیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نیلوفر کفیل صاحبہ کی کوششوں کا ثمرہ دیگر اقلیتی زبانوںکو بھی حاصل ہوگیا ہے کیونکہ اب نہ صرف اردو بلکہ دیگر اقلیتی زبانیں جیسے کنڑا، تلگو،ملیالم وغیرہ بھی نصاب کا ایک حصہ بن چکی ہیں۔
ان بارہ برسوں میں اردو زبان نے جو زخم سہے، اس کی ایک الگ ہی تاریخ ہے۔
واضح رہے کہ 2006میں کروناندھی حکومت نے لازمی تمل لینرننگ ایکٹ کا قانون منظور کیا تھا جس میں اردو زبان کو ایک اختیاری زبان کی حیثیت دی گئی جبکہ اس سے قبل اردو زبان کی حیثیت لازمی تھی۔ اس کے بعد اسی حکومت نے 2010 میں مساوی نظام تعلیم (یعنی سمیچر کلوی) کے نام سے ایک اور قانون منظور کیا اور اس قانون میں بھی صرف تمل زبان کی ہی اہمیت دی گئی اور دیگر زبانوں کی حیثیت اختیاری رکھی گئی جس کے لئے کوئی نمبرات نہیں تھے۔ ان دونوں قوانین کے خلاف سن 2006 سے اردو دان طبقہ مسلسل احتجاج کررہا تھا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ تمل ناڈو کی سنگلاخ سرزمین پر اردو زبان نے شعر و ادب کے ذریعہ ایسے پھول کھِلائے جن کی خوشبو سے پوری ریاست مہک رہی ہے، اردو کے ادیبوں اور شعراء نے تمل زبان کے ادبی سرمایہ کو اردو زبان میں منتقل کیا اور تمل لٹریچر کو اردو دان طبقہ میں عام کیا۔ لیکن بڑے افسوس کی بات یہ رہی کہ پچھلی حکومت نے اس زبان کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کیا اور اسکولی نصاب سے اس کو خارج کردیا۔ سن 2006 ء میں اس وقت کی ڈی ایم کے حکومت نے، جسے اردو دان طبقہ نے اپنے ووٹ دئے تھے، لازمی تمل لیرننگ ایکٹ منظور کیا جس میں سے اردو زبان کو زبان اول کی حیثیت سے نکال کر محض ایک اختیاری زبان قرار دیا گیا۔ اس وقت شہر وانمباڑی کے ایک استاد مشہور شاعر و افسانہ نگار جناب یعقوب اسلم صاحب جو اسلامیہ بوائز ہائر سکنڈری اسکول میں اردو کے استاد تھے، اس قانون کی وجہ سے جو مصیبت اردو دان طبقہ پر آنے والی تھی ، اس کا اندازہ لگاتے ہوئے اس قانون کے خلاف ’’اردو بچاؤ مہم‘‘ شروع کی تھی۔
اس کے بعد راقم الحروف (اکبر زاہد) نے سن 2011ء میں حضرت مفتی اشرف علی صاحب ؒ سے دارالعلوم سبیل الرشاد میں بات چیت کی اور حضرت کا ایک انٹرویو لیا جس میں حضرت نے فرمایا تھا کہ اردو زبان کی حیثیت ایک شرعی زبان کی ہے اور جو بھی حکومت اس زبان کے خلاف ہے اسے اقتدار پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ حضرت مفتی علیہ الرحمہ کے اس بیان کو راشٹریہ سہارا نے بڑے اہتمام سے شائع کیا تھا ۔ جیسے ہی راشٹریہ سہارا کے ذریعہ حضرت مولانا مفتی اشرف علی صاحب کا بیان سامنے آیا،وانمباڑی شہر میں مفتی صاحبؒ کے بھائی مولانا ولی اللہؒ نے فوراََ مدرسہ معدن العلوم میں ایک اجلاس طلب کیا جس میں میرے علاوہ ،میاں رشید احمد صاحب، مولانا عبدالرحمن صاحب، کاکنگرے نصراللہ صاحب، نمازی عبداللہ صاحب، ڈاکٹر جی۔امتیاز باشاہ صاحب،پی۔عبدالباری صاحب(مدیر نشانِ منزل) اورپروفیسر مدورے محمد سہیل صاحب شریک تھے۔ مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ بحث ہوئی اور یہ طے پایا کہ اردو کے تحفط ، بقا اور فروغ کے لئے ایک ٹرسٹ بنام’’مجلس تحفظِاردو ‘‘ بنایا جائے ۔ چنانچہ فوری طور پر یہ ٹرسٹ رجسٹر کروایا گیا۔ اسکے بعد مدرسہ معدن العلوم میں ایک بہت بڑا اجلاس منعقدکیا گیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اردو زبان کو دوبارہ نصاب میںایک لازمی سبق کے طور پر شامل کرے۔ اسکے بعد ایک وفد لے کر مجلس تحفظ اردو کی جانب حضرت مولانا ولی اللہ صاحب:ـؒ نے اس وقت کے وزیر تعلیم، سکریٹری برائے تعلیم وغیرہ سے ملاقات کی اور اپنا مطالبہ انکے سامنے رکھا۔ اسی طرح وانمباڑی ، آمبور،اورچنئی کے وفود نے بھی کئی ملاقاتیں کیں لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد جب انتخابات ہوئے اور جئے للیتاحکومت برسرِاقتدار آئی اور محترمہ ڈاکٹر نیلوفرکفیل کو وزیر بنایا گیا تو انہوںنے اردو دان طبقہ کے مطالبات کو پورا کرنا اپنا اولین فرض جانا۔ وہ لگاتار اردو کو دوبارہ نصاب میں شامل کرنے کے لئے جدو جہد کرتی رہیں۔ انہوںنے اپنے انتخابی مہم کے دوران بھی یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اردو کو اسکا جائز مقام ضرور دلوائیں گی۔ آج ان کی کوششوںکی بدولت خدا کے کرم سے یہ عظیم الشان کامیابی حاصل ہوئی ہے جس کے لئے اردو دان طبقہ محترمہ ڈاکٹر نیلوفرکفیل کا تہہ دل سے مشکور ہے۔
ابھی گزشتہ ہفتہ وانمباڑی ،آمبور،میل وشارم اورچنئی کے تعلیمی اداروںکاایک مشترکہ وفد نے ڈاکٹرنیلوفرکفیل صاحبہ سے ملاقات کی تھی۔محترمہ نے تقریباََ ۴۵منٹ وفد کی بات سنی اور اس کے بعد انہوںنے وزیر تعلیم شری سنگوٹئین سے وفد کی ملاقات کروائی اور وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے اردو دان طلباء کی مشکلات کا ذکر کیا اور درخواست کی کہ اردو زبان کو دوبارہ نصاب میں شامل کرلیا جائے۔ وزیر تعلیم شری سنگوٹئین نے توجہ کے ساتھ انکی اور وفدکے اراکین کی بات سنی اور اسی وقت ریاستی سکریٹری برائے تعلیم اور ڈائریکٹر برائے تعلیم کو بلایا اور انہیں اردو دان طبقہ اور دیگر اقلیتی زبانوں کی مشکلات کے بارے میںتفصیل سے بتایا اور ان سے کہا کہ وہ اقلیتی زبانوںکودوبارہ نصاب میںشامل کرنے کے لئے مناسب اور فوری کاروائی کریں۔ ڈاکٹرنیلوفرکفیل صاحبہ نے بھی تعلیمی سکریٹری اورڈائریکٹر سے بات چیت کی اور ان سے اردو دان طبقہ کے مسئلہ کا مستقل حل پیش کرنے کی درخواست کی۔
اس کے بعد وزیر تعلیم اور ڈاکٹر نیلوفرکفیل صاحبہ نے یقین دہانی کرائی کی اردو زبان کو نصاب میں شامل کرلیا جائے گا۔ یہی نہیںبلکہ وزیر تعلیم نے یہ بھی کہا کہ اردو کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتی زبانوںکو بھی پہلے ہی کی طرح نصاب میںجگہ دی جائے گی۔ اس یقین دہانی کے بعدوفود کے تمام اراکین نے وزیر تعلیم ، تعلیمی سکریٹری اور محترمہ ڈاکٹر نیلوفرکفیل صاحبہ کا شکریہ اداکیا ۔
اس سے قبل بھی ڈاکٹر نیلوفر کفیل صاحبہ نے جبکہ وہ وانمباڑی شہر کی چیرپرسن تھیں، مجلس تحفظِ اردو کے ایک وفد کو لیکر شری ویرامنی جو کہ اس وقت ریاستی وزیر تھے، سے ملاقات کی تھی اور اردو کی بحالی کا مطالبہ رکھا تھا۔ تب سے وہ مسلسل مختلف وزراء سے ملاقات کرتی رہی ہیں اور اردو دان طبقہ کی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش میں لگی رہیں۔
اور یہ بے حد خوشی و مسرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر نیلوفر کفیل کی یہ کوشش کامیاب رہی۔ آج کا دن اردو دان طبقہ کے لئے ایک تاریخی اور یادگار دن بن گیا ہے کہ اردو کو حکومت نے دوبارہ نصاب میں شامل کرلیا ہے۔ ان شاء اللہ بہت جلد جی۔او۔کی نقل بھی دستیاب ہوجائے گی اوراس تعلق سے مزید تفصیلات معلوم ہونگی۔
اس سلسلہ میں ڈاکٹر نیلوفر کفیل صاحبہ نے ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب سے وہ اوانمباڑی شہر کی چیرپرسن بنیں ، تبھی سے وہ اس کوشش میں تھیں کہ کسی نہ کسی طرح اردو زبان کو نصاب میں شامل کیا جاسکے۔ اس سلسلہ میں کئی وفود نے بھی ان سے ملاقات کی تھی اور طلباء و طالبات کی مشکلات کا ذکر کیا تھا۔ ڈاکٹر نیلوفر صاحبہ نے بتایا کہ انہیں انداز ہوا کہ اس قانون کی وجہ سے ہمارے طلباء بالخصوص لڑکیاں امتحانات میں ناکام ہوسکتی ہے اور ان کے لئے اعلیٰ تعلیم کا دروازہ بند ہوسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس بات کا بھی خدشہ تھا کہ کہیں ہمارے طلباء اپنی تہذیب سے دور نہ ہوجائیں ۔ اس لئے انہوں نے لگاتار وزیر تعلیم اور وزیر اعلیٰ سے اس سلسلہ میں بات چیت کی اور انہیں اردو دان طبقہ کی مشکلات اور آگاہ کرایا تھا۔ ان کی مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں بالآخر اردو زبان کو نصاب میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اب اردو دان طبقہ کی محترمہ سے یہ گزارش ہے کہ وہ اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے تمل ناڈو اردو اکیڈمی کی نشاۃ ثانیہ بھی کروادیں تاکہ اردو زبان و ادب کا اس کے ذریعہ فروغ ہو اور ہماری تہذیب و ثقافت کی حفاظت بھی ہو۔
شہر وانمباری میں اردو کی بقا، ترویج و اشاعت اور اس کے تحفظ کے لئے اٹھنے والی اولین تحریک مجلس تحفظ اردو نے اپنے ایک خصوصی اجلاس میں محترمہ ڈاکٹر نیلوفر کفیل صاحبہ کا شکریہ اداکیا ہے، اور ایک مکتوب ِ شکریہ بھی حکومت تمل ناڈو کو ارسال کرنے کی قرارداد منظور کی ہے۔ مجلس تحفظ اردو کے علاوہ شہر وانمباڑی، آمبور، میل وشارم اور چنئی کے اردو دان حضرات ،اور تعلیمی اداروں نے بھی محترمہ ڈاکٹر نیلوفر کفیل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
٭٭٭

Leave a Comment