ذوقی کے ناولوں کی عہد حاضر میں معنویت

\"24852626_2199565210069154_4019193955305113179_n\"
٭رام پرساد مینا

ریسرچ اسکالر
شعبہ اردو ،دہلی یونیورسٹی ،دہلی۔

اردو ناول کے بارے میں یہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انسانی زندگی کی سچی ترجمانی کا نام ناول ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ 1869سے لے کر آج تک ناول کی مقبولیت میں برابر اضافہ ہوتا رہا ہے۔مولوی نذیر احمد نے جب ناول کی بنیاد رکھی تب بھی ناول کا مقصد انسانی زندگی کی اصلاح ہی تھا۔ٹھیک اسی طرح ناول آج بھی اپنے مقصد کے پیش نظر اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔موجودہ دور کی تغیر پذیر زندگی میں بھی ناول کی اہمیت و افادیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ہمارے سماج،معاشرے یا تہذیب میں جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ان کی سچی تصویر ناول نگار اپنے ناول میں تراشتا ہے۔آج اردو ناول نگاری ہر اعتبار سے کافی ترقی کرچکی ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔
موجودہ دور کے لکھنے والوں میں سب سے اہم نام مشرف عالم ذوقی کا ہے۔ 1980کے بعد لکھنے والے ناول نگاروں میں مشرف عالم ذوقی اپنا ایک خاص مقام پیدا کرچکے ہیں۔وہ ایک درجن سے زائد ناول لکھ کر ناول کی تاریخ میں اپنا نام سنہری لفظوں میں لکھوا چکے ہیں۔ان کے کچھ مشہور و معروف ناولوں کے نام اس طرح سے ہیں۔نیلام گھر،عقاب کی آنکھیں،مسلمان،بیان،پو کے مان کی دنیا،پروفیسر ایس کی عجیب داستان اور لے سانس بھی آہستہ وغیرہ۔مذکورہ ناولوں کے علاوہ بھی ان کے بعض ایسے ناول ہیں جن کو ادب نواز حضرات نے بہت پسند کیا ہے۔ذوقی نے اکثر اپنے ناولوں کا تانا بانا ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو مد نظر رکھ کر تیار کیا ہے۔اس کی مثال ان کے اکثر ناولوں میں بڑی خوبی سے ملتی ہے۔دراصل ذوقی تہذیبی اور معاشرتی اقدار کو گرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو غمگین ہو جاتے ہیں۔وہ اپنے ناولوں کے ذریعے مغربی تہذیب کی طرف بھی اشارے کرتے ہیں جن سے ہمارے یہاں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔اس مختصر مضمون میں ان کے تمام ناولوں پر بحث ممکن نہیں ہے لیکن ان کے ایک ناول ’’بیان‘‘کے بارے میں لکھنا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔کیوں کہ یہ ایک ایسا ناول ہے جس میں ہندوستان کی مخلوط تہذیب بری طرح زخمی کی گئی ہے۔اس ناول کا موضوع چھ دسمبر ہے۔یہ وہ دن ہے جس کو ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بدنما دن کہا جاتا ہے۔اس دن ہندوستان کی جمہوریت کو بلائے طاق رکھ کر کچھ شر پسند عناصر نے بابری مسجد کو شہید کردیا۔یہ واقعہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک بڑا المیہ ہے۔یہ ذوقی کا ایک میعاری اور بہترین ناول ہے۔
بیان میں ذوقی نے بالمکند شرما کے نام سے ایک اہم کردار تخلیق کیا ہے جو مشترکہ تہذیب کا علمبردار ہے۔اس کے دو بیٹے ہیں انل اور نریندر۔انل کانگرس اور نریندر بھاجپا پارٹی کے ممبر ہیں۔دونوں بیٹے مسلم دشمنی کی بہترین مثال ہیں کیونکہ ان کی ترتیب ان کے باپ کے ہاتھوں نہیں ہوئی بلکہ ماں کے ہاتھوں ہوئی ہے۔بالمکند کی بیوی ایک روایت پرست عورت ہے۔اس لئے وہ بھی مسلم مخالف خیالات کی مالک ہے۔ذوقی اس ناول سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انسانی معاشرے میں مشترکہ تہذیب میں کی گئی تربیت کسی طرح اثر انداز ہوتی ہے۔مذکورہ کردار کے علاوہ اس ناول کے باقی کردار کچھ اس طرح سے ہیں۔چودھری برکت حسین،تنویر عرف منا اور اس کی بیوی شمیم وغیرہ وغیرہ۔اس کا مرکزی کردار بالمکند ہے اور پورا ناول اسی کی ارد گرد گھومتا رہتا ہے۔اس ناول کا دوسرا اہم کرادرمنا کا ہوسکتا تھا لیکن وہ بھاجپائیوں میں پھنس کر اپنی جان گنوا دیتا ہے۔الغرض بیان مشرف عالم ذوقی کا ایک بہترین ناول ہے جو قاری کی دلچسپی برقرار رکھتا ہے۔
مشرف عالم ذوقی کا دوسرا اہم ناول ’’پو کے مان کی دنیا‘‘ہے۔یہ موجودہ دور کی ضروریات کو دھیان میں رکھ کر لکھا گیا ایک بہترین ناول ہے۔اس ناول میں اُنہوں نے بچوں کی ابتدائی دلچسپیوں کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کس طرح بچے سماج میں اپنی غیرذمہ داری کا ثبوت دیتے ہیں اور غیر اخلاقی کاموں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ایسے بچے اکثر قتل و غارت گری،جوا،شراب نوشی اور کئی دوسرے جرائم میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔ان کے مذکورہ کاموں کی وجہ سے موجودہ دور کا انسانی سماج کہاں پہنچ گیا ہے۔ان تمام باتوں کو ذوقی نے بڑے سلیقے کے ساتھ پیش کیا ہے۔اردو ناول کی تاریخ میں یہ ناول بالکل الگ اور منفرد انداز میںلکھا گیا ہے۔یہ ناول موجودہ دور کے بچوں کا بہترین مطالعہ پیش کرتا ہے۔یہ انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ ہمارے سماج کے مسائل سے بھی جڑا ہوا ناول ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔
’’دوستو اسبھیتا،سنسکرتی یا تہذیب کے بچانے کی باتیں،اب نہ صرف پہلے سے زیادہ ہونے لگی ہیں بلکہ دیکھا جائے تو ایک طرح سے یہ باتیں اب ایک خاص پارٹی کی آئیڈیولوجی سے بھی جڑ گئی ہیں۔میں اس سبھیتایا تہذیب بچائو مہم میں کہیں نہیں ہوں۔یا آپ کہہ سکتے ہیں میں بھی کہیں دور کھڑا آپ ہی کی طرح ایک بے بس کردار ہوں‘‘۔1؎
بحوالہ اردو ناول کا تنقیدی جائزہ (1980کے بعد )ڈاکڑ احمد صغیر ،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی،2015’ص 167
دراصل اس اقتباس کامطالعہ کر کے قاری مشرف عالم ذوقی کا اشارہ سمجھ جاتے ہیں کہ جو روایات قدیم ہندوستان میں سالہا سال سے چلی آرہی ہیں ۔ان کو آج ہر ہندوستانی بھولتا جارہا ہے جبکہ ایسا ہمارے سماج کے لئے بڑا خطرہ ہے۔الغرض پو کے مان کی دنیا ایک بہترین ناول ہے اور اس میں ذوقی نے انسانی زندگی کے حقیقی حال ہی بیان کیے ہیں۔اس ناول کا اصل مقصد یہ ہے کہ کیا واقعی آج کی انسانی زندگی میں ماڈرن دنیا گھوم رہی ہے۔دوسری طرف یہ دیکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک طرف ایسے لوگ بھی موجود میں جو ہندوستان کی پانچ ہزرار سال پرانی تہذیب کے اصولوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔شروع سے آخر تک ناول میں اسی قسم کی فضا قائم رہتی ہے اورناول اپنے اختتام کو پہنچ جاتا ہے۔
مشرف عالم ذوقی کے اکثر ناول ہندوستانی تہذیب کے متعلق لکھے گئے ہیں۔پو کے مان کی دنیا کی طرح ’’لے سانس بھی آہستہ‘‘ایک تہذیب کی عکاسی کرنے والا ناول ہے۔اس ناول میں اُنہوں نے تین تہذیبوں کو بیان کیا ہے ۔اُنہوں نے اس میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح لوگ آج ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو مسخر کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ساتھ میں اُنہوں نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسان اپنی تہذیب کا کس قدر پروردہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی اس کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہتا۔لیکن کبھی کبھی ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ انسان اس کے سامنے بے بس ہوجاتا ہے۔کبھی کبھی ان واقعات و حادثات سے انسان کی روح کانپ جاتی ہے جب کبھی وہ سماج کا گھنونا چہرہ دیکھتاہے۔
لے سانس بھی آہستہ ناول دو خاندانوں کے درمیان آگے بڑھتا ہے۔ان میں ایک عبدالرحمن کا خاندان ہے اور دوسرا نور محمد کا۔یہ دونوں خاندان اپنی اپنی حویلی میں اپنی زندگیاں آرام سے گزارتے ہیں۔ان کے پاس پہلے بہت ساری جاگیریں تھیں لیکن اب ان دو حویلیوں کے سوائے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔کسی زمانے میں ان کے پاس مانگنے والوں کی بہت بھیڑ آیا کرتی تھی اور کوئی ان کے یہاں سے خالی ہاتھ نہیں جایا کرتا تھا۔لیکن ملک کی تقسیم کے بعد وہ سب کچھ ختم ہوگیا۔اب زمانہ بدل چکا تھا۔ہر جگہ نئے شہر آباد ہورہے تھے،نئے سماج تشکیل پا رہے تھے اور ایک نئی تہذیب پروان چڑھ رہی تھی۔اس لئے یہ خاندان بھی ان نئے حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔
اس ناول کا مرکزی کردار عبدالراحمن ہے اور اسی کے ذریعے ناول کا قصہ بیان ہوا ہے۔عبدالرحمن کی ماموں زاد بہن جس کانام نادرہ ہے وہ پاکستان سے آکر ہندوستان میں اس کے گھر میں رہنے لگتی ہے۔اسی درمیان اس کو عبدالرحمن سے محبت ہوجاتی ہے اور وہ اس کے جسم کی گرمی کو محسوس کرنے لگتی ہے۔لیکن المیہ یہ پیش آتا ہے کہ اس کی شادی عبدالرحمن کے بجائے نور محمد سے ہوجاتی ہے۔وہ اس صدمے کو برداشت نہیں کر پاتا اور گھر سے فرار ہوجاتا ہے۔نادرہ بھی بہت غمگین ہوجاتی ہے لیکن وہ کسی طرح نور محمد سے نبھا لیتی ہے لیکن بعد میں وہ اپنی محبت کا اظہار کرتی ہے۔
ویسے تو اس ناول کے تمام قصے دلچسپ ہیں لیکن سب سے زیادہ دلچسپ قصہ وہ ہے جہاں نور محمد کی بیوی یعنی نادرہ کا انتقال ہوجاتا ہے اور اس کو ایک معزور بیٹی پیدا ہوتی ہے جس کا نام نگار ہے۔وہ اپنے بیٹی کی پرورش کرتا ہے لیکن ایک دن اس کا ایک رشتہ دار انور اس کے گھر آکر بحیثیت مہمان رہنے لگتا ہے۔دل دہلانے والا واقعہ دوسرے دن پیش آتا ہے جب نور محمد گھر واپس آکر اپنی بیٹی کو برہنہ حالت میں پڑی ہوئی دیکھتا ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ گھر کا سارا سامان بکھرا ہوا ہے اور انور وہاں سے غائب ہے۔نور محمد دیکھتے ہی سارا معاملہ سمجھ جاتا ہے۔اس واقعہ سے اس کی بیٹی میں ایک نئی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔یہ اردو ناول میں یہ ایک ایسا سچ ہے جس کو سب سے پہلے مشرف عالم ذوقی نے پیش کیا ہے۔
اس حادثے کے بعد نور محمد اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر ایسی جگہ چلا جاتا ہے جہاں ان کی کوئی جان پہچان نہیں ہوتی۔لیکن نگار میں میں جو جنسی خواہش بیدار ہوجاتی ہے اس کی تسکین کا کام وہ خود انجام دیتا ہے۔ایک بیٹی کے ساتھ باپ کا ایسا رشتہ بہت غیر فطری معلوم ہوتا ہے۔لیکن باپ بیٹی کے اس فعل کو دیکھا کر ذوقی ایک نئی تہذیب کی دستک کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔نور محمد نے جو بھی کیا اس کے ذمہ دار ایسے حالات تھے لیکن مغربی ممالک میں اس طرح کے رشتوں کو جائیز قرار دیا جاتا ہے۔
دراصل مشرف عالم ذوقی اس ناول کے ذریعے ہماری تہذیب کی گرتی ہوئی اقدار سے روشناس کرانا چاہتے ہیں۔ایک طرف ہمارا سماج سیاسی طور پر پسماندہ ہورہا ہے وہی دوسری طرف ہم تہذیبی طور پر بھی کمزور ہورہے ہیں۔بنیادی طور پر ذوقی کا خیال ہے کہ سارے رشتے اپنے ہیں اور ہر رشتے میں ایک حسین احساس سانس لے رہا ہے۔ہم کو اپنے رشتوں کی قدر کرنی چاہیے اور اپنی تہذیبی روایات کو زندہ رکھنا چاہیے۔مختصر یہ کہ مشرف عالم ذوقی نے موجودہ دور کی تہذیب کا گہرای سے مشاہدہ کیا ہے اور اپنے بیشتر ناولوں میں سماج میں پائی جانے والی برائیوں کی بہترین عکاسی کی ہے۔

Ram Prasad Meena
Research Scholar
Deptt of Urdu
University of delhi
Delhi110007

Leave a Comment