سعید پرویز کے افسانوں کا مجموعہ’’نہ وہ سورج نکلتا ہے‘‘ :تعارفی تقریب

٭ڈاکٹر رئیس صمدانی

\"22552812_1729344607139400_6873601774874157644_n\"
25اکتوبر2017آرٹس کونسل آف پاکستان کی ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام ترقی پسند شاعر حبیب جالبؔ کے بھائی سعید پرویز کے افسانوں کے مجموعے ’’نہ سورج نکلتا ہے‘‘ کے دوسرے ایڈیشن کی تعارفی تقریب منعقد ہوئی۔ راقم کو اس تقریب میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ صدارت معروف ماہر نفسیات و ادیب ڈاکٹر ہارون احمد نے فرمائی جب کہ مقررین میں ڈاکٹر ہارون احمد کی شریک حیات محترمہ انیس ہارون، پروفیسر سحرؔ انصاری، معروف صحافی محمود شام اور کتاب کے ناشر شاعر علی شاعرؔ شامل تھے۔ شاعرہ، کہانی نویس اور افسانہ نگار ربیعہ علی فریدی نے کی عمدہ میزبانی کی۔ صاف ستھرا ماحول، قم قموں سے روشن پنڈال، کھلی فضا میں سعید پرویز کے افسانوں پر مقررین کے خوبصورت اظہار خیال نے ماحول کو ادبی و علمی بنادیا تھا۔ میزبان ربیعہ علی کے ابتدائی کلمات کے بعد کتاب کے مصنف سعید پرویز نے اظہار خیال کیا ، افسانہ نویسی اور اپنے بھائی حبیب جالبؔ کے حوالے سے گفتگو کی۔ ان کا کہناتھا کہ یہ کتاب ’’نہ سورج نکلتا ہے‘‘ دوسری بار ترمیم و اضافے کے ساتھ پیش کی گئی ہے، پہلی مرتبہ یہ مئی 1992میں شائع ہوئی تھی۔ سعید پرویز اپنے بھائی حبیب جالب ؔ کے حوالے سے ہی معروف تھے، اس لیے بھی کہ انہوں نے شاعری میں اپنے بھائی کے انداز کو اپنا یا اورحبیب جالبؔ پر بے شمار کام بھی کیا۔سعید پرویز کے بقول’بھائی جالبؔ ڈیوٹی لگا گئے تھے، اور میں اُ ن کی نوکری کرتا رہا، اُ ن کے بارے میں کتابیں لکھتا رہا ، ترتیب و تدوین کرتا رہا‘۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے’ پاکستانی ادب کے معمار‘ کے سلسلے میں ’’حبیب جالبؔ : شخصیت اور فن ‘‘ سعید پرویز سے ہی لکھوائی۔ سعید پرویز کی بارہ کتابیں زیور اشاعت سے آراستہ ہوکر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوچکی ہیں۔ ان تصانیف میں ’اماں‘،’’گھر کی گواہی‘، ’ارمغان صوفی‘ شامل ہیں ۔حبیب جالبؔ کی آٹھ کتابیں (تحقیق و تدوین ) شامل ہیں۔ ان میں’ حبیب جالب ؔ ۔گھر کی گواہی ‘، ’ حبیب جالبؔ ۔ شاعرِ شعلہ نوا ‘، جہاں بھی گئے ، داستاں چھوڑ آئے‘، ’رات کلینی‘، حبیب جالبؔ ۔میں طلوع ہورہا ہوں‘، ’میں نہیں مانتا( حبیب جالب کی زندگی پر ڈرامہ)۔سعید پرویز کا کہنا تھا کہ انہوں نے حبیب جالبؔ پر ایک ڈرامہ بھی تحریر کیا ہے ، اس ڈرامے کو عوام تک پہنچانے میں انہیں مشکلات آرہی ہیں۔ سعید نے پرویز بلا شبہ اردو ادب کو اپنی خوبصورت تحریروں سے مالا مال کیا ہے۔ اب وہ حبیب جالبؔ کے بھائی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ادیب ، افسانگار کی حیثیت سے ادب کے معماروں میں بلند ی پر فائز ہوچکے ہیں۔ سعید پرویز نے اپنا ایک افسانہ ’’لیر‘‘ بھی پڑھ کر سنا یا جسے سامعین نے بہت پسند کیا۔ کتاب کے ناشر شاعر علی شاعر نے سعید پرویز کے بارے میں مختصر اظہار خیال کیا اور کتاب شائع کرنے کی اسباب بھی بیان کیے ان کا کہنا تھا کہ ’سعید پرویز سچے اور کھرے انسان ہیں‘۔ انیس ہارون کا کہنا تھا کہ اس مجموعے میں چار نئے افسانوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ سعید پرویز زندگی کو سیاست سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے اور میں بھی یہی سوچ رکھتی ہوں۔ افسانہ نگار نے اپنوں سے بڑوں کا تعارف عقیدت اور سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے ، اس نے انہیں ’کھرا افسانہ نگار‘ بنا دیا ہے۔ انیس ہارون کا کہنا تھا کہ ان کے افسانوں میں کالم نویسی کی چھاپ نظر آتی ہے لیکن وہ ایک پختہ افسانہ نگار ہیں۔ 
’’نہ سورج نکلتا ہے‘‘کی اولین اشاعت کی تقریب رونمائی بھی آرٹس کونسل ، کراچی میں ہوئی تھی اس وقت جالبؔ حیات تھے ، بیمارضرور لیکن وہ اُس تقریب میں شریک ہونا چاہتے تھے ، حکومتِ وقت کی جانب سے ان پر کراچی آنے پر پابندی لگادی گئی تھی، اب جب کہ اسی کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا اور اسی جگہ اسی مقام پر اس کی تقریب کا انعقاد ہوا تو نہ کوئی پابندی ہے، نہ حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کوئی ہدایت، کاش حبیب جالبؔ حیات ہوتے اور وہ اس تقریب میں شریک ہوتے۔ اَس وقت ان کی روح یقیناًخوشیاں منا رہی ہوگی اور اپنے دور کے حکمرانوں کو جن میں سے اکثر اب ان کے ساتھ ہی موجود ہوں گے، جہاں حبیب جالب ہیں، یقیناًجالبؔ انہیں شرمندہ کر رہے ہوں گے کہ دیکھو پابندی لگانے وا لوں کا نام لیوا دنیا میں کوئی نہیں لیکن ادب کا یہی کمال ہے کہ ادیب نہیں رہتا لیکن اس کا تخلیق کیا ہوا ادب اوراس کے نام لیوا موجود رہتے ہیں۔جالب ؔ پر پابندی لگانے والے ، اسے سلاخوں کے پیچھے ڈالنے والے حکمرانوں کا نام لیوا کوئی نہیں لیکن جالبؔ اپنے کلام میں زندہ ہے اس کے اشعار آج کے حکمراں اپنے جلسوں میں بڑے فخر سے پڑھ رہے ہیں۔ کاش موجودہ دور کے حکمراں کچھ سبق حاصل کریں۔ کل یہ بھی نہیں ہوں گے ، ان کی دولت وشہرت سب کچھ اسی دنیا میں رہ جائے گا ، ان کے اعمال ان کے ساتھ جائیں گے۔ 
پروفیسر سحرؔ انصاری نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعید پرویز کے افسانوں کا مجموعہ ’’نہ سورج نکلتا ہے‘‘ میں نے پڑھا تو یہی کسوٹی میرے پیش نظر رہی کہ سعید پرویز نے زندگی کی مانوس حقیقتوں کو کس طرھ پیش کیا ہے اور مجھے خوشی ہوئی کہ وہ اِ س میں بیش تر جگہ بہت کامیاب رہے ہیں۔ حبیب جالب کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر سحرؔ انصاری نے کہا حبیب جالب، ایک کمٹڈ کردار رہا ہے کہ وہ اپنے وطن کے لیے سورج کے تمنائی رہے جو جہل ، نفرت، تنگ دستی اور تنگ نظری کے اندھیروں کو ہمیشہ کے لیے دفن کردے۔اُن کی شاعری کی مکمل آرزواِس شعر میں ڈھل گئی ہے ؂
وہ جس کی روشنی کچے گھروں تک بھی پہنچی ہے 
نہ وہ سورج نکلتا ہے ، نہ اپنے دن بدلتے ہیں
حبیب جالب نے سورج کی تمنا میں کچے گھروں کی ترجمانی کی ہے اُن کے حالات بدلنے کی راہ سجھا کر عام لوگوں کو اپنا ہم نوا بنایا ۔ سعید پرویز ، حبیب جالب کے بھائی ہیں، لیکن اگر یہ بھائی نہ بھی ہوتے اور صرف حبیب جالبؔ کی شاعری اور اُن کے انقلابی شعور ہی سے متاثر ہوتے، جیسا کہ اِن کہانیوں میں نظر آتا ہے ، تو بھی اُنھیں اپنی اِس کتاب کا نام حبیب جالبؔ کے اِسی شعر سے اخذ کرنا چاہیے تھا۔ سعید پرویز نے پاکستان سے محبت اوراِس کی ترقی و بقا کو اپنی فطری ترجیحات میں سب سے بلند مقام پر رکھا ہے، لیکن اُن کی سوچ میں ایک منطقی اور فطری سوال بھی شامل ہے کہ اجتماعی محنت اورعمل کے ثمرات صرف چند ہاتھوں میں کیوں جارہے ہیں۔ ان کے افسانوں کا مطالعہ کر کے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے اُنھی طبقات کا اُن میں تذکرہ ہے جو ایک طرف ظلم سہہ رہے ہین اور دوسری طرف اُن پر ظلم کرنے والے لوگ موجود ہیں، ہر طرح کے ہتھیار اُ ن کے پاس ہیں اور استعمال کے حربے ہیں جو پوری طاقت کے ساتھ استعمال ہورہے ہیں، اُن میں الیکشن جیسا بھی ایک ہرباہے جس کے ذریعے عام لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ شاید اب کی بار الیکشن کے نتیجے میں اُن کی تقدیر بدل جائے گی ، لیکن ہر بار اُنھیں ناکامی ہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سعید پرویز کی کہانی ’’لیرا‘‘ اِس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ سحرؔ انصاری کا کہنا تھا کہ سعید پرویز کے افسانوں میں جو بات مجھے نظر آتی ہے ، وہ کچھ یوں ہے کہ جیسے ایک چابک دست مصور اپنے چند اسٹرکس اور برش کی بہت اعلیٰ اور تیز حرکات سے اپنی تصویر کے تھیم کو ابھار دیتا ہے۔ مثلا اُن کے افسانے ’نہ سورج نکلتا ہے‘ کی آخری چند سطریں ملاحظہ کیجئے :
سر کاری اہل کار اُسے لینے آئے تھے۔
جب وہ اُسے لے جارہے تھے تو اُس کے گھر والوں نے کہا،
جناب!
یہ تو پاگل ہے۔
تو اُدھر سے جواب ملا،
’یہی تو پاگل نہیں ہے‘۔
معروف صحافی محمود شام نے کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعید پرویز کی اب اپنی پہچان ہے۔ ’بازی گر‘،’لیر‘، ’نہ سورج نکلے گا‘،’گالی‘، ’رجو‘،کَمی، ’ایف آئی آر‘، جیسی کہانیاں اُ ن کی شناخت ہیں۔ اِ س بے رحم معاشرے کی تصویر وہ بھی بے رحمی سے کھینچتے ہیں، منافقت کو اِتنی چابک دستی سے بے پردہ کرتے ہیں کہ نامور منافق بھی اپنا سیاہ تن چھپانے کی جستجو کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ ’’چھوٹے لوگوں ‘‘ کی بڑی کہانیاں ‘‘ لکھتے ہیں ۔ ان کا مشاہدہ بہت گہرا اور مطالعہ وسیع ہے۔ محمود شام نے ازراہ مزاح کہا کہ سعید پرویز پرجو لوگ لکھتے رہے ،وہ اوپر جاتے رہے ، آج وہ تو کل ہماری باری ہے ۔ ان کے افسانے اپنی جگہ شہکار افسانے ہیں۔صدر مجلس سے قبل میزبان نے ’’نہ سورج نکلتا ہے‘‘ کے مصنف سعید پرویز کو اپنا افسانہ پڑھ کر سنانے کی دعوت دی ۔ سعید پرویز نے اپنا معروف افسانہ ’’لیر‘‘ پڑھا۔ اس افسانے میں کئی کردار ہیں ، ماں ہے، ایک بہن ہے، ایک بھائی ہے۔ الیکشن اور اُس کی مہم کے ذریعے یہ باور کرایا جارہا تھا کہ اب غریبوں کے دن پھرنے والے ہیں اب مظلوموں کے ساتھ انصاف ہوگا، لہٰذا وہ الیکشن کے جھوٹے وعدوں کے فریب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کھیجاں پارٹی پرچم کے لیے جہیز کے دوپٹے لے آتی ہے اور پھر جہیز کے دوپٹوں سے تیار شدہ پارٹی پرچم دفتر پر ایک لیر کے صورت میں پھڑ پھراتا رہ جاتا ہے۔ اسی افسانے میں ’انقلاب آوے گا ‘کاطنز یہ جملہ بھی کھیجاں کی اماں کہتی ہے۔ سعید پرویز کا کہنا تھا کہ انہوں نے الیکشن میں یہ صورت حال کراچی میں دیکھی تھی لیکن اپنے افسانے میں اسے پنجاب کے ’پورن‘ کو مرکز بنا کر پیش کیا۔ اس طرح میاں صاحب، چوہدری وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ڈاکٹر ہارون احمد نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب میں میاں بیوی دونوں کو اسٹیج پر بٹھانا ، اقربا پروری ٹھیک نہیں، انیس ( ڈاکٹر ہارون کی اہلیہ ہیں ) نے اپنی جگہ بنا لی ہے البتہ میں اپنے بارے میں کیا کہوں۔ ڈاکٹر صاحب پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں لیکن ادب میں بھی ان کا بڑا حصہ ہے ، خوب بولتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ سعید پرویز کی کتاب افسانے نہیں بلکہ صاف صاف باتیں ہیں جو انہوں نے رجو کی زبانی بتا دی ہیں۔ حقائق بیان کیے گئے ہیں ۔ انہوں نے سعید پرویز کی کاوش کو سراہا اور انہیں مبارک باد پیش کی۔
’’نہ سورج نکلتا ہے‘‘ کا عنوان حبیب جالب ؔ کی غزل سے لیا گیا ہے ۔ حبیب جالبؔ کی یہ غزل بہت مشہور ہوئی اور اپنے دور کے حکمرانوں ، ان کے اعمال ، ان کی زیادتیوں کی تصویر پیش کی گئی ؂
کہاں قاتل بدلتے ہیں، فقط چہرے بدلتے ہیں
عجب اپنا سفر ہے ، فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں
وہ جس کی روشنی کچے گھروں تک بھی پہنچی ہے 
نہ وہ سورج نکلتا ہے ، نہ اپنے دن بدلتے ہیں
’’نہ سورج نکلتا ہے‘‘ اس دوسرے ایڈیشن میں سعید پرویز کے جو افسانے اور کہانیاں شامل ہیں ان میں بازی گر، نہ سورج نکلتا ہے، رَجو، لیر، کہا تک، ایف آئی آر، کمی، گلی، عروسی جوڑا، کی جنڑاں میں کونڑ، منزلیں فاصلے، روگ، تم ضرور آؤگی، خواجہ کی چوکھٹ سے غازی بابا کے قدموں میں، بیرونیے، بایاں بازو اور نانی گوماں (شخصی خاکہ)شامل ہے۔ کتاب کے آخر میں کتاب کے اولین ایڈیشن پر اظہار خیال کرنے والے ادیبوں اور لکھاریوں کی رائے بھی درج کی گئی ہے۔اس طرح سعید پرویز کے افسانوں کے مجموعے کے دوسرے ایڈیشن کی تعارفی تقریب اختتام کو پہنچی۔ حبیب جالب ؔ کی شخصیت اور شاعری کے حوالے سے مَیں ایک مضمون لکھ چکا ہوں جو روزنامہ جنگ(۲۷ مارچ ۲۰۱۳ء ) اور ادبی جریدے ’نگارِ پاکستان ‘ (جلد ۹۱، شمارہ۳ ، مارچ ۲۰۱۲ء)کے علاوہ متعدد سوشل میڈیا کی ویب سائٹ خاص طور پر ہماری ویب پر آن لائن موجود ہے۔ اپنے اس مضمون کی ابتدائی سطریں درج ہیں:
جالبؔ کو جن لوگوں نے دیکھا اور سنا ان لوگوں میں مَیں بھی شامل ہوں۔ اس قدر بے باک مزا حمتی لہجہ اور خوبصورت انداز ، لہن میں سوز اور درد، میں نے اپنی زندگی میں کوئی اور ایسا دیکھا نہ سنا۔ جالبؔ نے ہندوستان کی سرزمین مشرقی پنجاب کے علاقے میانی افغاناں ضلع ہوشیار پور میں دیہاتی ماحول میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی میں حاصل کی جب کے سیکنڈری تعلیم دہلی کے اینگلو عربک اسکول میں حاصل کی۔ جالبؔ کو پیدائشی شاعر کہا جوئے تو غلط نہ ہوگا۔پہلا شعر ہفتم جماعت کے طالب علم کی حیثیت سے کہا وہ یہ تھا ۔اسی طرح دوسرے شعر کی وجہ نمازیوں کو نماز پڑھنے کے بعد دعا مانگتے دیکھ کر جو کیفیت جالبؔ کے ذہن میں آئی جالب نے اسے شعر میں اس طرح بیان کیا ؂
مدتیں ہوگئیں خطا کرتے
شرم آتی ہے اب دعا کرتے
حبیب جالبؔ کی شاعری میں میٹھا میٹھا سوز و گداز اور دل میں اتر جانے والی ایسی ٹھنڈنک ہے جس کی حساسیت اور چاشنی کو وہی لوگ بہتر طور پر محسوس کرسکتے ہیں جنہوں نے اس ٹھندک کامزا حبیب جالب ؔ کو بھرے مجمع میں ترنم اور لے سے شعر پڑھتے ہوئے سنا ہو۔حبیب جالبؔ کے اشعار ہی میں گہرائی و گیرائی نہیں ہے اس کی آواز میں بھی شیرینی تھی، میٹھاس تھا، سحر تھا، مقناطیسیت تھی۔بقول فراق گورکھپوری ’’میرابائی کا سوز اور سورداس کا نغمہ جب یکجا ہوجائیں تو اسے حبیب جالب ؔ کہتے ہیں‘‘۔ لیکن جالبؔ اپنا تعارف اپنے ایک شعر میں بہت ہی خوبصورت انداز سے کراتے ہوئے کہتے ہیں ؂
وہ جو ابھی اس راہ گزرسے چاک گریباں گزرا تھا
اس آوارہ دیوانے کو جالب ؔ جالبؔ کہتے ہیں
حبیب جالب ؔ ایک عوامی شاعر تھا، اس نے عوام الناس کے خیالات اور جذبات کی ترجمانی انتہائی خوبصورت انداز سے کی۔ دل میں اتر جانے والے اشعار لوگ اٹھتے بیٹھتے گن گنا یا کرتے تھے۔ عوام نے ہی اپنے محبوب شاعر کو ’’شاعرِ عوام ‘‘ کا خطاب دیا تھا ۔ تقریب کے اختتام پر احباب نے سعید پرویز کے افسانوں کے مجموعے پر دستخط کرائے ۔

\"22780720_1729344890472705_2318434597253844466_n\"
\"22780640_1729344463806081_8269665918185138983_n\" 
 

Leave a Comment