قومی یکجہتی اور اقبال

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؔ کی یوم ولادت پر خصوصی پیش کش

\"606d1204-34b7-40d2-9808-8a3e78ddf8e1\"
٭ڈاکٹر محمد ابرار الباقی

اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو،ساتاواہنا یونیورسٹی کریم نگر۔
\"iqbal_day_1\"
شاعر مشرق ڈاکٹر سر شیخ محمد اقبال(1877-1938 ) اردو کے مشہور مفکر و فلسفی شاعر گذرے ہیں۔ انہوں نے اپنی اصلاحی ‘مقصدی اور پیامی شاعری کے ذریعے قومی یکجہتی‘وطن سے محبت اور حرکت و عمل کے پیغام کو عام کیا۔ اور لوگوں میں اسلامی فکر پروان چڑھانے کے کوشش کی۔ اقبال نے اپنی شہرہ آفاق شاعری کے ذریعے تصور عشق‘تصور خودی‘مرد مومن‘کامل انسان‘عورت کا مقام اور تعلیم کی روح سے متعلق نظریے پیش کئے۔اس طرح وہ اردو کے عظیم مفکر شاعر قرار پائے۔ اقبال کی شاعری کا ایک اہم پہلو قومی یکجہتی کو تصور ہے جو اُن کی شاعری میں اہمیت کا حامل ہے۔اقبال نے ایک ایسے دور میں شاعری کی تھی جب کہ ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف گاندھی جی اور دیگر قومی رہنمائوں کی قیادت میں جدو جہد آزادی کی تحریک چلائی جارہی تھی۔ اس تحریک میں اثر پیدا کرنے کے لئے اس دور کے شعرا اور ادیبوں نے بھی اپنی تحریروں کے ذریعے لوگوں میں آزادی کے حصول کے جذبے کو پروان چڑھایا تھا۔انگریزوں نے ہندوستان میں پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی ایسے ماحول میں ہندوستان میں قومی یکجہتی کافروغ وقت کا اہم تقاضہ تھا اور اس تقاضے کو اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے بہت حد تک پورا کیا۔
اقبال کی شاعری کے کئی پہلو ہیں۔ اس مضمون میں اقبال کی شاعری میں قو می یکجہتی کے عناصر کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اقبال کی شاعری میں موجود قومی یکجہتی کے عناصر پر نظر ڈالنے سے قبل آئیے دیکھیں کہ قومی یکجہتی کی تعریف کیا ہے۔ قوم کسے کہتے ہیں۔ کسی قوم کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے۔قوم کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔اور یکجہتی کو پروان چڑھانے میں کون سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔
جب کثرت میں وحدت ہوجاتی ہے تو وہیں سے قومی یکجہتی کاعمل شروع ہوجاتا ہے۔ قومی یکجہتی کی اگر تعریف کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیںکہ’’جب کسی ملک کے جغرافیائی حدود میں رہنے والے لوگ انفرادی طور پر علٰحیدہ شناخت رکھنے کے باوجود اجتماعی امور میں ہم خیال ہوجائیں اور آپسی اتحاد و اتفاق سے مل کر رہنے کا عہد کریں اور اس کا عملی نمونہ پیش کریں تو یہ قومی یکجہتی ہوگی۔ ہندوستان میں ۱۹۶۱؁ء میں قومی یکجہتی سمینار ہوا تھا۔ اس سمینار میں قومی یکجہتی کی تعریف اس طرح کی گئی۔
’’ قومی یکجہتی ایک ایسا نفسیاتی عمل ہے جس سے اتفاق اور جذباتی ہم آہنگی کے خیالات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اور ملک سے وفاداری اور مشترکہ شہریت کا عمل پیدا ہوتا ہے‘‘۔
( بحوالہ مضمون۔قومی یکجہتی اور اردو شاعری ازڈاکٹر بانو سرتاج۔مشمولہ کتاب۔اردو شاعری اور قومی یکجہتی۔از ڈاکٹر بانو سرتاج۔ص۔۱۲۲۔الہ آباد۔ ۲۰۰۴؁ء )
کسی بھی ملک اور قوم کی ترقی اور بقاء کے لئے قومی یکجہتی کا ہونا ضروری ہے۔ اگر لوگوں میں یکجہتی نہ ہو تو ملک کمزور ہو سکتا ہے۔ قومی یکجہتی کے ضمن میں جو عناصر اتحاد کو توڑنے کا سبب بنتے ہیں۔ ان میں فرقہ واریت ‘ذات پات کی تفریق‘علاقائی اور لسانی اختلافات اہم ہیں۔ ہندوستان میں ایک عرصہ تک قومی یکجہتی کا تصور واضح نہیں تھا۔ اور لوگ چین و سکون سے ایک ہندوستانی وفاق کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ لیکن انگریزوں نے پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کے نظریے کو پروان چڑھایا اور اس ملک کی دو بڑی قوموں ہندوئوں او ر مسلمانوں میں مذہبی جذبات کو اُبھار کر نفرت کے بیج بوئے اور دونوں کو آپس میں لڑایا۔ قیام پاکستان ‘تقسیم ہند اور اس کے بعد ہونے والے خونیں فسادات آزادی کے بعد ہندوستان میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات اور بابر ی مسجد کی شہادت یہ ایسے واقعات ہیں جنہوں نے یہاں کی قومی یکجہتی میں دراڑ پیدا کی۔ کچھ مٹھی بھر عناصر ہوتے ہیں جو ملک کی یکجہتی کو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر پارہ پارہ کردیتے ہیں۔ چنانچہ ہندوستان میں ۱۹۶۰؁ء کے بعد سے قومی یکجہتی کے جذبے کو پروان چڑھانے کی شعوری کوشش شروع ہوئی جس کا سلسلہ جاری ہے۔
ہندوستان میں قومی یکجہتی کو پروان چڑھانے کے لئے ایک طاقتور ذریعے Mediumکی ضرورت تھی۔ اور یہ کام اردو زبان نے کیا۔ کیونکہ اردو بہ حیثیت زبان ملک کے طول و عرض میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ ہمارے شعرا اور ادیبوں اور خود حکو مت اور عوام نے اردو کو قومی یکجہتی کو پروان چڑھانے میں استعمال کیا۔اردو ایک ہندوستانی زبان ہے۔ اور قومی یکجہتی کی علمبردار زبان ہے۔ اس زبان میں کئی زبانوں کے الفاظ غیر شعور طور پر شامل ہوگئے اور اس کا حصہ بن گئے۔ قومی یکجہتی کے جذبے نے ہی اس زبان کو پروان چڑھایا۔ محمد قلی قطب کی شاعری سے ہی اردو میں قومی یکجہتی کی مثالیں ملنے لگتی ہیں۔ خسرو کہ کہہ مکرنیاں‘اکبر و رحیم کے دوہے‘نانک کی بانی رحیم کے گیت‘نظیر کی قومی یکجہتی سے بھر پور عوامی شاعری اور بعد میں چکبست اور اقبال کی حب وطن کی شاعری نے ہندوستان میں قومی یکجہتی کو فروغ دیا۔جدو جہد آزادی کی تحریک میں اردو زبان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور یہ زبان ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی علمبردار بن گئی۔
اقبال کی شاعری میں قومی یکجہتی کی تلاش کے لئے ہمیں اقبال کے دور پر بھی نظر ڈالنی
’’ہمالہ‘‘ میں اقبال ہندوستان کے اس عظیم پہاڑ سے مخاطب ہوتے ہیں اور جذباتی انداز میں اس کی منظر نگاری کرتے ہیں۔ اہل ہندوستان ہمالہ کو ایک ایسے سپاہی کے روپ میں دیکھتے ہیں جو صدیوں سے بیرونی اقوام کے حملوں سے ہندوستان کو تحفظ فراہم کرتا رہا۔ کیونکہ ہمالیہ کے دشوار گذار راستوں سے لوگ ہندوستان میں داخل ہونے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ اپنی شاعری کے ابتدائی دور میں اقبال ایک وطن پرست اور وطن دوست شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ اور ہمالیہ سے مخاطب ہوتے ہوئے نظم کے آغاز میں کہتے ہیں۔
اے ہمالہ!اے فصیلِ کشورِ ہندوستان چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں تو جواں ہے گردش ِشام و سحر کے درمیاں
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لئے
تو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لئے
اقبال نے ساری نظم میںایک جذباتی ہندوستانی کی طرح ہمالہ سے گفتگو کی ہے۔ اور آخر میں ایک نوجوان اقبال صدیوں سے ہندوستان کی حفاظت کرنے والے اور ہندوستان کی شب و روز کی تاریخ کے عینی شاہد اس عظیم پہاڑ سے دریافت کرتے ہیں کہ اس ملک کی قدیم تاریخ کیا ہے۔ اقبال نظم کے آخری بند میں کہتے ہیں۔
اے ہمالہ!داستاں اس وقت کی کوئی سنا مسکن آبائے انساں جب سے بنا دامن ترا
کچھ بتا اس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا داغ جس پر غازہء رنگِ تکلف کا نہ تھا
ہاں دکھادے اے تصور پھر و ہ صبح شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایا م تو
وطن سے محبت رکھنے والے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے وطن عزیز کی تاریخ سے واقفیت رکھیںتاکہ انہیں ان حالات کا پتہ چل سکے جن کے سبب وطن پر اچھے یا برے حالات آئے تھے ۔ اسی لئے اقبال ہندوستانی تاریخ کی قدیم نشانی ہمالیہ پہاڑ سے شاعرانہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ بچے کسی بھی قوم کی امانت اور باعث افتخار ہوتے ہیں۔ انکی مناسب تربیت ہوتو وہ آگے چل کر وطن کے محافظ اور اس کی ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ اقبال کو یہ اندازہ تھا کہ فرد کی تعمیر میں ہی سماج کی تعمیر مضمر ہے۔ چنانچہ اقبال نظم ’’بچے کی دعا میں‘‘ ایک بچے کی اخلاقی تربیت کرتے ہوئے وطن سے متعلق یہ دعا بھی کرتے ہیں۔
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
اقبال کی شاعری میں قومی یکجہتی کی اعلی مثال ان کی نظم’’ ترانہء ہندی‘‘ہے۔ کسی بھی ملک کو اپنی قومی نشانی کے لئے ایک ایسے ترانے اور نغمے کی ضرورت ہوتی ہے جو سارے ملک کے لوگوں کو جذباتی طور پر ایک وحدت میں پرو دے۔ جدجہد آذادی کی تحریک میں جہاں کہیں سیاسی جلسے ہوتے تھے وہاں قومی ترانے کے طور اقبال کا یہ ترانہ گایا جاتا تھا۔ اور آزادی کے بعد بھی ہندوستان میں قومی اتحاد کے اظہار کے لئے اور وطن پرستی کے جذبے کو اُبھارنے کے لئے اقبال کے اسی ترانہ ہندی کو گایا جاتا ہے۔ترانہ کے آغاز میں ہی اقبال نے یہ کہہ کر کہ
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
کثرت میں وحدت اور نیرنگی میں یک رنگی والے اس عظیم ملک کی تعریف کردی۔ اور اسے گلستاں کہتے ہوئے دنیا کے تمام ممالک سے بہتر قرار دیا۔ جب لوگوں کو اپنا ملک اچھا لگے تو ہو اس کی حفاظت اور اس کی ترقی کے لئے آگے آئیں گے۔ترانے میں ہندوستان کی عظمت بیان کرنے کے بعد اقبال اس ملک کے لوگوں کو مذہب کے نام پر اختلاف کرنے سے روکتے ہوئے کہتے ہیں۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستاں ہمارا
اقبال کی شاعری میں اگر قومی یکجہتی کا نچوڑ دیکھنا ہو تو وہ اس شعر میں مل جاتا ہے۔ یہ شعر ان کے کلام میں قومی یکجہتی کا نمائندہ شعر ہے۔انگریزوں نے ہندوستا ن میں مذہب کے نام پر ہندوئوں اور مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنے کی جو سازش کی تھی۔ اسے ہمیشہ کے لئے دور کرنے کے لئے اقبال کہتے ہیں کہ تمام مذاہب ایک دوسرے کا احترام کرنا سکھاتے ہیں۔ ہم ہندو یا مسلمان نہیں بلکہ وطن عزیز ہندوستان کے شہری ہیں۔ اقبال نے یہ کہتے ہوئے کہ ہم ہندی ہیںاور ہمارا وطن ہندوستا ن ہے ان تمام فرقہ پرستوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے جو اس ملک میں مسلمانوں کی وطن پرستی کے جذبے پر شک کرتے ہیں۔ جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک کو جب بھی ضرورت پڑی مسلمانوں نے اپنا خون بہاکر اور اپنی جانیں گنوا کر اس کی حفاظت کی ہے۔ قوم پرست اور وطن پرست اقبال جذبہ حب الوطنی سے سرشار نظم’’ ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘‘ پیش کرتے ہیں۔نظم کے پہلے بند میں اقبال کہتے ہیں۔
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
تاتاریوںنے جس کو اپنا وطن بنایا جس نے حجازیوں سے دشتِ عرب چھڑایا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
اس نظم میں بھی اقبال نے ہندوستان کی تعریف کرتے ہوئے لوگوں میں اپنے وطن سے محبت کے جذبے کو پروان چڑھایا۔ترانہ ہندی میں اقبال نے ہندوستان کو سارے جہاں سے اچھا قرار دیا تھا۔ اور اس نظم میں ہندوستان سارے جہاں سے کیو ں اچھا ہے اس کی مثالیں دی گئی ہیں۔یونان ترک میرِ عرب کا ذکر کرتے ہوئے اقبال نے ہندوستان کی تعریف عالمی سطح پر کردی۔ یہ نظم بھی بچوں کے لئے لکھی گئی۔ اقبال کو یہ احساس تھا کہ بچوں میں ان کے سیکھنے کے زمانے میں ہی وطن سے محبت کا جذبہ پیدا کرنا چاہئے۔ جس سے ایک وطن کی ترقی کے لئے تیا ر رہنے والا ایک بہتر معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔اقبال کی وطن سے محبت پر مبنی ایک اور نظم ’’نیا شوالہ‘‘ ہے۔ اس نظم میں اقبال کی وطن پرستی اپنی معراج کو جا پہونچتی ہے۔ اور وہ برہمن اور واعظ سے تنگ آکر وطن کو ہی عباد ت خانہ قرار دیتے ہیں۔چنانچہ اقبال کہتے ہیں
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے خاکِ وطن کو مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
انسان وطن کی ہر چیز سے محبت کرنے لگے تو وہ یہا ں رہنے والے لوگوں سے بھی بلا لحاظ مذہب و ملت ذات پات رنگ و نسل محبت کرے گا۔ لوگوں میں اختلافات ختم ہوں گے۔ اور ہندو مسلم سے اوپر اُٹھ کر لوگ انسانیت کے مذہب کو اختیار کریں گے۔ لوگوں میں محبت کے جذبے کو پروان چڑھانے پر زور دیتے ہوئے اقبال نظم کے آخر میں کہتے ہیں۔
آغیرت کے پردے اک بار پھر اُٹھادیں بچھڑوں کو پھر ملادیں نقش دوئی مٹادیں
سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی آ اک نیا شوالہ اس دیس میں بسا دیں
دنیا کے تیرتھوں سے اونچا ہو اپنا تیرتھ دامانِ آسماں سے اس کا کلس ملادیں
ہر صبح اُٹھ کے گائیں منتر وہ میٹھے میٹھے سارے پجاریوں کو مے پیت کی پلادیں
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
اس نظم میں اقبال نے ہندی الفاظ استعمال کرتے ہوئے بھی زبان کے معاملے میں قومی یکجہتی کا ثبوت دیا ہے۔ اقبال نے منتر اور پجاری جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے قومی یکجہتی کے اپنے پیغام کو پُر اثر بنایا۔وطن کی محبت سے سرشار اقبال جب ہندوستان چھوڑ کر برطانیہ جاتے ہیں۔ دیار ِ مغرب میں رہ کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کی چالیں دیکھتے ہیں۔ اور جب اقبال کی نظر ہندوستان سے بلند ہوکر سارے عالم کے مسلمانوں پر پڑتی ہے تو ایک جذباتی مسلمان اقبال کے اندر سے اپنی شناخت ظاہر کرتا ہے۔ اقبال جب اپنی نظم ترانہ ملی پیش کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں۔
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا
تب لوگ اقبال کی وطن پرستی پر شک کرتے ہیں۔ہندوستان میں رہ کرا قبال نے اپنے آپ کو ہندی کہا تھا۔اور ہندوستان کو اپنا وطن قرار دیا تھا۔ اور ہندوستان سے دور جا کر وہ اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں اور سارے جہاں کو اپنا وطن قرار دیتے ہیں۔ اقبال پر تنگ نظری کا اظہار کرنے والوں نے ان کی مخالفت کی۔ خاص طور سے قیام پاکستان کی تحریک اور آزادی کے بعد پاکستان والوں نے جس طرح اقبال کے نظریات کو خوش آمدید کہا تو اسی دوران ہندوستان میں اقبال کو اجنبی بنا دیا گیا۔ اور اقبال کا نام لینے والوں کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا تھا۔ بعد میں آل احمد سرور اور جگن ناتھ آ زاد نے ہندوستان میں اقبال کے نام اور کام کو صحیح طور پر پیش کیا۔ اور لوگوں کو اقبال کی قدردانی کا سبق سکھایا۔ اقبال نے ترانہ ہندی لکھ کر ہی ہندوستان والو ں پر بڑا احسان کردیاتھا۔ اقبال کے بارے میں تنگ نظری مناسب نہیں اور نہ ہی ان کی وطن پرستی اور قومی یکجہتی کو شک کی نظر سے دیکھنا چاہئے۔ وقت گذرنے کے ساتھ اقبال ایک ملک دو ملک کے شاعر نہیں رہے بلکہ وہ ایک آفاقی شاعر ہوگئے۔اقبال کے جذبہء قومی یکجہتی کو خراج پیش کرتے ہوئے ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اور اردو کے ایک اچھے انشا پرداز اندر کمار گجرال لکھتے ہیں:
اقبال ایک بہت بڑے انسان دوست‘محب وطن اور وسیع المشرب مفکر تھے۔ ان پر تنگ نظری کا الزام تراشنا یا تو ان کے کلام سے مطلق ناآشنائی کا نتیجہ ہے۔ یا ایسا الزام دینے والوں کی اپنی تنگ نظری کی دلیل ۔ سر زمین ہندوستان کی طرح فکر ہندوستان بھی ایک خوش رنگ و خوش نظارہ گلدستہ ہے جس کی تشکیل مختلف دلآویز پھولوں کے حسین امتزاج سے ہوئی ہے۔ اس دلآویز گلدستے میں ویدانت ‘گیتا‘قرآن اور مہاتما گوتم بدھ گرونانک خواجہ معین الدین اجمیری خواجہ نظام الدین اولیا سنت کبیر اور دوسرے بے شمار سنتوں سادھوئوں اور درویشوںکی مہک اور دلربائی کا ہاتھ ہے۔ افکار اقبال اسی فکر ہندوستان کا اہم اوردلآویز حصہ ہیں۔ اور اس گلدستہ دلربائی کی آب و تاب میں ان کا نمایاں حصہ ہے۔ اقبال نے ہندوستان کی عظیم فکری میراث سے فیضان حاصل کیا۔ اور اپنی تخلیقی اور فن کارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اس میں اہم اضافے کئے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ ہندوستانی تمدن اور شعور کو ایک مسلسل اور تغیر پذیر ارتقائی عمل سمجھتے تھے۔اسے جمود اور کٹر پن کا اسیر کردینا انہیں قبول نہ تھا۔ ساتھ ہی ساتھ ان کا حب وطن بھی کوئی الگ تھلگ اور محدود چیز نہ تھا۔بلکہ پورے عالم انسانیت سے بھر پور محبت کے جذبے کاہی ایک حصہ تھا۔ وہ پوری دنیا کو عزت وآبرو آزادی و سر بلندی اور ترقی کا گہوارہ بنانا چاہتے تھے۔ اور یہی ان کے نزدیک فطرت کا منشا بھی تھا‘‘۔
(اندر کمار گجرال۔مضمون افکار اقبال۔مشمولہ ہما اردو ڈائجسٹ اکتوبر ۱۹۷۶ ؁ء ص ۔۲۸۔۲۷)
گجرال صاحب کی اس اعتدال پسند رائے سے ہم سبھی کو اتفاق کرنا پڑے گا کہ وقت گذرنے کے ساتھ اقبال کی شاعری اور ان کی فکر میں ترقی ہوتی گئی۔ اور تصور عشق‘خودی اور مرد مومن کی صفات پیش کرتے ہوئے وہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ سارے انسانوں کو فطرت الٰہی کے قانون کے تابع کردینا چاہتے تھے۔ تاکہ دنیا کہ سبھی انسان کامیابی کے اس مقام پر آکر کھڑے ہوجائیں ۔ جہاں سے انہیں یوں مخاطب کیا جائے ؎
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خد ا بند ے سے خود پوچھے بتا تری رضا کیا ہے
اقبال نے اپنے کلا م میں گوتم کو بھی یاد کیا اور رام کو بھی۔ وہ رام کو امام ہند قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں۔
ہے رام کے وجود پہ ہندوستان کو ناز اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند
اقبال کو ہندوستان میں سر تیج بہادر ‘رابندر ناتھ ٹیگور‘مہاتما گاندھی ‘جواہر لال نہرو ‘سبھاش چندر بوس اور دوسرے مفکرین نے قدر کی نگار سے دیکھا۔ اور آزادی کے ایک عرصے بعد آج پھر اقبال کو ہندوستانی شاعر مانا جانے لگا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان اور عالمی سطح پر اقبال صدی تقاریب منائی گئیں۔ اور پیام اقبال کو عام کیا گیا۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اقبال کی شاعری سے فیـضیاب ہونا آنے والی قوموں کی ذمہ داری ہے۔ اقبال کا نظریہ قومی یکجہتی واضح ہے۔ کسی شاعر کا ایک گیت ہی ساری قوم میں اتحاد پیدا کرسکتا ہے۔ اور وہ گیت اقبال کا ترانہ ہندی ہے۔ اگر اقبال کے نظریہ قومی یکجہتی سے کام نہیں لیا گیا۔ اور لوگ مذہب‘زبان‘تہذیب اور کلچر کے نام پر آپس میں لڑتے رہیں۔ تو ان کی ترقی ممکن نہیں اور اقبال ہی کی زبان میں کہنا پڑے گا۔
نا سمجھو گے تو مٹ جائو گے ہندوستان والو تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں
کتابیات:
کلیات اقبال مرتبہ سر شیخ عبدالقادر
اقبال جگن ناتھ آزاد
جہانِ افکار ڈاکٹر سید مجاور حسین رضوی
اردو شاعری اور قومی یکجہتی ڈاکٹر بانو سرتاج
رسالہ ماہنامہ شاعر بمبئی اگست ۱۹۷۱ء ؁
رسالہ ہمااقبال نمبر اکتوبر ۱۹۷۶ ؁ء
رسالہ ادیب اقبال نمبر علی گڈھ جولائی ۲۰۰۲ ؁ء

Leave a Comment