مشاعروں کا بادشاہ۔۔راحت اندوری

\"\"
٭ڈاکٹر صالحہ صدیقی
\"\"

مدھیہ پر دیش کے اندور کا رہنے وا لا ایک عوامی شاعرجس کی شاعری عوام کے دل کی دھڑکنوں کی ترجمان، گرد و پیش کی غماز،لوگوں کے دلوں کو جوش و خروش سے بھر دینے والی آج ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ما یوسی کے اندھیرے میں امید کی کرن بننے والا شاعر ہم سب کو اداس کر چلا۔
راحت اندوری ( پیدائش : 1 جنوری 1950ء) ایک بھارتی اردو شاعر اور ہندی فلموں کے نغمہ نگار تھے . وہ دیوی اہليہ یونیورسٹی اندور میں اردو ادب کے پروفیسر بھی رہ چکے تھے۔ وہ کئی بھارتی ٹیلی ویژن شوز کا بھی حصہ رہ چکے تھے۔ انہوں نے کئی گلو کاری کے رئیلیٹی شوز میں بہ طور جج حصہ لیا ۔ انہوں نے نئی نسل کو کئی رہنمایانہ باتیں بتائی جو ان کے فنی سفر، تلفظ اور گلو کاری میں معاون ثابت ہوئے۔
راحت اندوری کی پیدائش اندور میں یکم جنوری، 1950ء کو ہوئی۔ وہ ایک ٹیکسٹائل مل کے ملازم رفعت اللہ قریشی اور مقبول النساء بیگم کے یہاں پیدا ہوئے . وہ ان کی چوتھی اولاد تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم نوتن اسکول اندور میں ہوئی . انہوں نے اسلامیہ كريميہ کالج اندور سے 1973ء میں اپنی بیچلر کی تعلیم مکمل کی۔اس کے بعد وہ 1975ء میں راحت اندوری نے بركت اللہ یونیورسٹی، بھوپال سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔ اہنی اعلٰی ترین تعلیمی سند کے لیے 1985ء میں انہوں نے مدھیہ پردیش کے مدھیہ پردیش بھوج اوپن یونیورسٹی سے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی . وہ ایک اچھے شاعر اور گیت کار ثابت ہوئے، مشاعروں کی دھڑکن بنے۔ انہوں نے کئی بالی وڈ فلموں کے لیے نغمے لکھے، جو مقبول اور زبان زد عام بھی ہوئے ہیں۔جن میں کوئ جائے تو لے آئے’، عشق فلم کا ’نیند چرائی میری’ کے علاوہ منا بھائی ایم بی بی ایس جیسی مشہور فلم کا گانا ’ایم بولے تو منا بھائی‘ بھی شامل ہیں۔
ان کی وفات پر پورا ہندستان غمزدہ نظر آیا اور اپنی کیفیات کا اظہار ٹویٹ کے زریعہ کیا جن میں راہل گاندھی،اروند کیجریوال، راج ناتھ سنگھ، اکھیلیش یادو جیسی ممتاز شخصیات شامل ہیں۔انڈین ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نےٹوئیٹ کر کے کہا کہ اپنی شاعری سے لاکھوں کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے مشہور شاعر اور ہر دل عزیز راحت اندوری کا انتقال مدھیہ پردیش اور پورے ملک کے لیے کبھی نا پورا ہونے والا نقصان ہے۔راحت اندوری کے کلام کا یہ نمونہ ملاحظہ فرمائیں, جس میں سماج کی حقیقت کے ساتھ انسانی نفسیات کی بہترین ترجمانی بھی کی گئ ہے۔
دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتے
ایک سچ کے لیے کس کس سے برائی لیتے
آبلے اپنے ہی انگاروں کے تازہ ہیں ابھی
لوگ کیوں آگ ہتھیلی پہ پرائی لیتے
برف کی طرح دسمبر کا سفر ہوتا ہے
ہم اسے ساتھ نہ لیتے تو رضائی لیتے
کتنا مانوس سا ہمدردوں کا یہ درد رہا
عشق کچھ روگ نہیں تھا جو دوائی لیتے
چاند راتوں میں ہمیں ڈستا ہے دن میں سورج
شرم آتی ہے اندھیروں سے کمائی لیتے
تم نے جو توڑ دیے خواب ہم ان کے بدلے
کوئی قیمت کبھی لیتے تو خدائی لیتے
راحت اندوری کی شاعری میں بلا خوف و جھجھک کے سماجی برائیوں کی عکاسی دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کا دل ظلم و ستم اور زیادتی سے کھوکھلے ہو رہے نظام سے بے چین ہو اٹھتا تھا اور وہ ان برائیوں کے خلاف با بانگ دہل محفلوں میں بول اٹھتے تھے۔ عوام اپنے مسائل کو محفل میں اٹھتا دیکھ جھوم اٹھتے اور تالیاں کی گونج سے ماحول جھوم اٹھتا۔ شاعری بھلے ہی وہ مشاعروں کے لیے کرتے لیکن ان کے موضوعات ہمیشہ عوامی ہوتے۔ یہی وجہ تھی کہ سیاست داں ان سے بھاگتے، ان کو لال قلعے کے مشاعرے میں اسی لیے نہیں پڑھنے دیا گیا۔ کیونکہ وہ خوشامد کرنے والے شاعر نہیں تھے بلکہ سچے ہندستانی شاعر تھے، جو اپنی بات بلا خوف کہنا جانتے تھے۔وہ ہندستان کے ہر گھر کو اپنا گھر اور ہر ہندستانی کو اپنا بھائی سمجھتے تھے ان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں جس میں ان کے بھائی چارگی اور محبت کے اسی جذبے کو دیکھا جا سکتا ہے:
کبھی دماغ کبھی دل کبھی نظر میں رہو
یہ سب تمہارے ہی گھر ہیں کسی بھی گھر میں رہو
جلا نہ لو کہیں ہمدردیوں میں اپنا وجود
گلی میں آگ لگی ہو تو اپنے گھر میں رہو
تمہیں پتہ یہ چلے گھر کی راحتیں کیا ہیں
ہماری طرح اگر چار دن سفر میں رہو
ہے اب یہ حال کہ در در بھٹکتے پھرتے ہیں
غموں سے میں نے کہا تھا کہ میرے گھر میں رہو
کسی کو زخم دیے ہیں کسی کو پھول دیے
بری ہو چاہے بھلی ہو مگر خبر میں رہو
راحت اندوری کہنے کو مشاعروں کے شاعر تھے، لیکن ان کی شاعری میں ادبی نقوش جا بجا ملتے ہے، ان کی شاعری میں زندگی کے ہر عام و خاص موضوع کو موضوع سخن بنایا گیا۔ انسانی نفسیات ہو یا غریبوں کے مسائل غرضکہ سماجی، سیاسی، معاشی، معاشرتی، نظامی، کلچرل زندگی سے متعلق تمام گوشوں پر انھوں نے اپنی شاعری کے زریعے اظہار خیال کیا۔ ان کی زبان صاف ستھری اور معنی خیز ہونے کے ساتھ ان کے انداز بیاں سے ایک نئی جان پیدا ہو جاتی تھی۔ ان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں جو مشاعروں کی جان بنا :
کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیں
اور ہم کچھ نہیں کرتے ہیں غضب کرتے ہیں
آپ کی نظروں میں سورج کی ہے جتنی عظمت
ہم چراغوں کا بھی اتنا ہی ادب کرتے ہیں
ہم پہ حاکم کا کوئی حکم نہیں چلتا ہے
ہم قلندر ہیں شہنشاہ لقب کرتے ہیں
دیکھیے جس کو اسے دھن ہے مسیحائی کی
آج کل شہر کے بیمار مطب کرتے ہیں
خود کو پتھر سا بنا رکھا ہے کچھ لوگوں نے
بول سکتے ہیں مگر بات ہی کب کرتے ہیں
ایک اک پل کو کتابوں کی طرح پڑھنے لگے
عمر بھر جو نہ کیا ہم نے وہ اب کرتے ہیں
راحت اندوری کی مسا ئلی شاعری کے آگے بشیر بدر کی سبک رو مانی شاعری بھی بجھی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔حالانکہ دونوں کا میدان الگ ہے۔ راحت اندوری کے نرالے اندازے بیان سے لوگ جھوم جھوم اٹھتے تھے۔ لوگ محفلوں میں ان کی شاعری کے سیاسی اشاروں کناوں سے لطف اندوز ہوتے جو ان کی شاعری کا اہم وصف بھی بن گیا۔ان اشعار کا مزہ لیجیئے جن میں سیاسی چھبن محسوس ہو تی ہے۔جس نے ان کی مشاعروں میں الگ شناخت قائم کی۔
اب کہاں ڈھونڈنے جا وگے ہمارے قاتل
آج تو قتل کا الزام ہمیں پر رکھ دو
شا خوں سے ٹوٹ جا ئیں وہ پتے نہیں ہیں ہم
آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے
شہروں میں تو بارو دوں کا موسم ہے
گاوں چلو یہ امرو دوں کا مو سم ہے
ہم اپنے بوڑھے چراغوں پہ خوب اترا ئیں
اور اس کو بھول گئے جو ہوا چلا تا ہے
یہ اور اس طر ح کے بہت سے اشعار میں طنز کی تیز دھار پا ئی جا تی ہے۔وہ ایک سنجیدہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ نوجوان نسل کی نبض تھامنا خوب جانتے تھے۔ اس کی ایک مثال ہے ان کی نظم ’بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں‘ جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ جس پر نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر خوب ویڈیوز بنائ۔ ٹک ٹاک پر ہزاروں ویڈیو بنائ گئ۔ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
بلاتی ہے مگر جانے کا نئیں
یہ دنیا ہے ادھر جانے کا نئیں
میرے بیٹے کسی سے عشق کر
مگر حد سے گزر جانے کا نئیں
ستارے نوچ کر لے جاوں گا
میں خالی ہاتھ گھر جانے کا نئیں
وہ گردن ناپتا ہے ناپ لے
مگر ظالم سے ڈر جانے کا نئیں
مشاعروں کی جان اندوری صاحب کو لوگ ہمہ تن گوش ہو کر سماعت کرتے اور ان کے سحر میں ایسے گرویدہ ہوتے کہ وقت کے گزرنے کا احساس تک نہیں ہو تا۔ان کے لب و لہجہ میں بلا کی کشش تھی ۔ان کی شاعری دلوں میں براہ راست اترتی چلی جا تی تھی۔ان کا انوکھا انداز بیاں ہر کسی کو اپنا دیوانہ بنا دیتا۔ایک ایک لفظ گنگا کے پا نی کی طرح صاف و شفاف ہو تا تھا ۔وہ عوامی شاعری کرتے تھے اور عوام کے مسائل کو پیش کرتے تھے۔ان کا کوئ لفظ بھی ثقیل اور نا قابل فہم نہیں ہو تا۔ بلکہ سننے والے کے دل میں اترتا چلا جاتا۔ ان کو اظہار پر کامل قدرت تھی۔وہ دلی جذبات و احساسات کو شعری سانچے میں ڈھال دیتے تھے جس کے سبب وہ عام و خاص دونوں کے شاعر تھے۔ یہ کمال یہ ہنر انہیں کا حصہ تھا جو ان کے ساتھ چلا گیا۔وہ ایک ایسے شاعر تھے جو ہندی کے کوی سملین میں بھی اردو کا جادو جگا دیتے تھے ۔یہی سبب ہے کہ ہندی وا لے بھی انہیں ٹوٹ کر پیار کر تے ہیں۔ ان کی شاعری سے حذ لیتے ہیں۔ان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
جب کبھی پھولوں نے خوشبو کی تجارت کی ہے
پتی پتی نے ہواؤں سے شکایت کی ہے
یوں لگا جیسے کوئی عطر فضا میں گھل جائے
جب کسی بچے نے قرآں کی تلاوت کی ہے
جا نمازوں کی طرح نور میں اجلائی سحر
رات بھر جیسے فرشتوں نے عبادت کی ہے
سر اٹھائے تھیں بہت سرخ ہوا میں پھر بھی
ہم نے پلکوں کے چراغوں کی حفاظت کی ہے
مجھے طوفان حوادث سے ڈرانے والو
حادثوں نے تو مرے ہاتھ پہ بیعت کی ہے
آج اک دانۂ گندم کے بھی حق دار نہیں
ہم نے صدیوں انہیں کھیتوں پہ حکومت کی ہے
یہ ضروری تھا کہ ہم دیکھتے قلعوں کے جلال
عمر بھر ہم نے مزاروں کی زیارت کی ہے
وہ قومی یکجہتی کے علمبردار ہیں۔ان کا شعری مجموعہ کلام اچھی شاعری کا مرقع ہے۔اس میں صرف غزلیں ہیں۔مجروح کی طرح راحت بھی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے ۔آ یئے ان کی رو مانی شاعری سے لطف اندوز ہو تے ہیں۔
میل کے پتھروں سے پو چھتا ہوں
اپنے اک ہم سفر کے با رے میں
سارے منظر گورے گورے لگتے تھے
جانے کس کا روپ نظر میں رہتا تھا
یہ ملا قات آخری تو نہیں
ہم جدا ئی کے ڈر سے پو چھتے ہیں
وہ گزرتا تو ہو گا اب تنہا
اک اک رہگزر سے پو چھتے ہیں
عشق ازل ہے عشق ابد ہے
عشق کوئی تحریک نہیں ہے
شام سے پہلے شام کر دی ہے
کیا کہا نی تمام کر دی ہے
مذکورہ اشعار میں نیا پن ہے۔دل کو چھو لینے والی بات ہے۔خیال کا بہاو ہے۔ جذبات کا وفور ہے۔ نئے تجربے ہیں۔نئی پگڈنڈیاں ہیں۔
راحت اندوری نے شاعری کے امکا نات کو روشن کر دیا ہے۔پرانی ڈگر کو خیر باد کہتے ہوئے غزل میں تازگی پیدا کی ہے۔غزل کے پھول کو مر جھانے سے بچا لیا ہے۔یہ ان کی کا میابی کی دلیل ہے۔ان کے شعروں کو سمجھنے کے لئے ذہن پر زیادہ بار ڈالنے کی ضرورت لا حق نہیں ہو تی۔ان کی تخلیق لفظوں کا گورکھ دھندا نہیں۔اس میں معنویت ہو تی ہے۔ان کی شاعری کا سب سے بڑا وصف طنز کا نشتر ہے۔
مسجد خالی خالی ہے
بستی میں قوالی ہے
عبا دتوں کا تحفظ بھی ان کے ذمہ ہے
جو مسجدوں میں سفاری پہن کے آتے ہیں
سب کو باری باری رسوا کیا کرو
ہر مو سم میں فتوئے جاری کیا کرو
اب سے پہلے کے جو قا تل تھے بہت اچھے تھے
قتل سے پہلے وہ پا نی تو پلا دیتے تھے
دولت بازو حکمت گیسو شہرت ما تھا غیبت ہو نٹ
اس عورت سے بچ کر رہنا یہ عورت بازاری ہے
اسی طرح سماجی حقائق کی ترجمانی کرتا ان کے یہ اشعار بھی ملاحظہ فرمائیں:
چراغوں کو اچھالا جا رہا ہے
چراغوں کو اچھالا جا رہا ہے
ہوا پر رعب ڈالا جا رہا ہے
نہ ہار اپنی نہ اپنی جیت ہوگی
مگر سکہ اچھالا جا رہا ہے
وہ دیکھو مے کدے کے راستے میں
کوئی اللہ والا جا رہا ہے
تھے پہلے ہی کئی سانپ آستیں میں
اب اک بچھو بھی پالا جا رہا ہے
مرے جھوٹے گلاسوں کی چھکا کر
بہکتوں کو سنبھالا جا رہا ہے
ہمی بنیاد کا پتھر ہیں لیکن
ہمیں گھر سے نکالا جا رہا ہے
جنازے پر مرے لکھ دینا یارو
محبت کرنے والا جا رہا ہے
راحت اندوری نے اپنی تخلیقی سوچ سے شاعری کے کینوس کو وسیع تر کر دیا ہے۔نت نئے خیالات کے بیل بوٹے کھلائے ہیں۔دنیائے سخن کو مالا مال کر دیا ہے۔نئی نسل کو جدت طرازی کی جانب ما ئل کیا ہے۔راحت اندوری نے اپنی انفرادیت کے گہرے نقوش شاعری پر مرتب کئے ہیں۔
ندی نے دھوپ سے کیا کہہ دیا روانی میں
اجالے پاؤں پٹکنے لگے ہیں پانی میں
یہ کوئی اور ہی کردار ہے تمہاری طرح
تمہارا ذکر نہیں ہے مری کہانی میں
اب اتنی ساری شبوں کا حساب کون رکھے
بڑے ثواب کمائے گئے جوانی میں
چمکتا رہتا ہے سورج مکھی میں کوئی اور
مہک رہا ہے کوئی اور رات رانی میں
یہ موج موج نئی ہلچلیں سی کیسی ہیں
یہ کس نے پاؤں اتارے اداس پانی میں
میں سوچتا ہوں کوئی اور کاروبار کروں
کتاب کون خریدے گا اس گرانی میں
وہ آج ہمیں بھلے ہی چھوڑ چلے ہو لیکن انھیں ادبی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔مشاعروں کی جب بھی تاریخ لکھی جاۓ گی راحت اندوری و سر فہرست رکھا جاۓ گا۔ انھوں نے ساری عالمی برادری میں ہندوستان کا نام روشن کیا ہے۔اردو کی اجنبی بستیوں میں ان کی شخصیت اور آواز کا سحر دیکھا جاسکتا ہے۔وہ ہزاروں لاکھوں انسا نوں کا محبوب شاعر ہے۔انھیں دیکھنے اور سننے کے لئے مجمع منتظر رہتا تھا۔
را حت اندوری عصری چیرہ دستیوں کو بے نقاب کر تے تھے۔شعور و ادراک کے چراغ جلا تے ۔ان کا تخاطب تیکھا ہو تا تھا۔وہ خفتہ ضمیر انسانی کو جھنجوڑتے۔سماج کو آئینہ دکھا تے۔ان کی پرواز تخیل لا مکاں ہو تی تھی۔وہ عزم و حوصلہ کے امین بن جا تے تھے۔ان کی شاعری تعفن طبع کے لئے نہیں زمانے کو پہچاننے کے لئے ہو تی ہے۔وہ نا صح بن کر نہیں دوست بن کر بات کرتے ۔ ان کے خلوص اور درد مندی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔وہ غم کے اندھیرے میں ہمت کا اجالا با نٹتے تھے۔ان کی زنبیل میں دکھوں کا مداوا اور نسخہ کیمیا موجود ہیں۔۔۔
سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہے
سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہے
ہمارے پاؤں کی مٹی نے سر اٹھایا ہے
ہمیشہ سر پہ رہی اک چٹان رشتوں کی
یہ بوجھ وہ ہے جسے عمر بھر اٹھایا ہے
مری غلیل کے پتھر کا کارنامہ تھا
مگر یہ کون ہے جس نے ثمر اٹھایا ہے
یہی زمیں میں دبائے گا ایک دن ہم کو
یہ آسمان جسے دوش پر اٹھایا ہے
بلندیوں کو پتہ چل گیا کہ پھر میں نے
ہوا کا ٹوٹا ہوا ایک پر اٹھایا ہے
مہا بلی سے بغاوت بہت ضروری ہے
قدم یہ ہم نے سمجھ سوچ کر اٹھایا ہے
آج بھلے ہی وہ ہمارے درمیان نہ ہو لیکن اپنی تحریروں سے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔۔۔ آج کا دن اردو شاعری کی تاریخ کا واقعی خسارے کا دن ہے۔۔۔آج ان کا یہ شعر بھی یاد آ رہا ہے کہ:
دو گز سہی مگر یہ مری ملکیت تو ہے
اے موت! تو نے مجھ کو زمیندار کر دیا

Leave a Comment