مشتاق احمد نوری کی غزل گوئی :تفہیم و فکر وفن کے آئینے میں

\"\"
٭ڈاکٹر صالحہ صدیقی (الٰہ آباد)
\"\"
مشتاق احمد نوری عہد حاضر کے ممتاز شاعر و ادیب ہیں ۔ان کی شخصیت اردو شعرو ادب میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔لیکن نئے قارئین کے لیے اگر ان کی سوانح پر طائرانہ نظر ڈالے تو مشتاق احمد نوری کی پیدائش ۷ مئی ۱۹۵۰میں ریاست بہار کے پورنیا ڈسٹرکٹ (اب آراریہ ) کے ایک چھوٹے سے گاؤں میںہوئی ۔وہ بچپن سے ہی بہت ہونہار،ذہین اور محنتی طالب علم رہے ۔ان کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے ہی مدرسے میں ہوئی اور ثانوی تعلیم آزاد اکیڈمی عربیہ سے حاصل کرنے کے بعد ۱۹۷۱ میں بھاگل پور یونیورسٹی سے بی ۔اے کا امتحان پاس کیا ۔پھر ۱۹۷۵ میں پٹنی یونیورسٹی سے بی۔ایڈ اور ۱۹۷۷ میں پٹنہ یونیورسٹی سے ایم ۔ایڈ کی ڈگری حاصل کی ۔وہ کئی اعلیٰ عہدے پر رہے انھوں نے ۱۹۷۷ میں بی ایس سی مکمل کرنے کے بعد محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں شامل ہوئے ۔۲۰۱۱ میں وہ بہار حکومت سے ریٹائر ہوئے ۔وہ کشن گنج ،پورنیا ،ارریہ ،ساسا رام ،سمستی پور اور آخر میں پٹنہ سمیت پورے بہار میں تعینات رہ کر اپنی خدمات انجام دیں ۔ان کی آخری پوسٹنگ سرب ڈویژن کے تحت چھپرا میں تھی ۔جہاں وہ ضوائنٹ ڈائرکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ۔بحیثیت سرکاری افسر انھوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ کے چیف پی ۔آر۔او اور دو مرتبہ کابینہ کے وزیر کے سیکریٹری کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں ۔وہ بہار اردو اکیڈمی کے سکریٹری بھی رہے ۔آج وہ بحیثیت شاعر ،نقاد ،مصنف اور افسانہ نگار کے اردو ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہے ۔آج بین الاقوامی سطح پر ان کے قارئین موجود ہیں ۔ان کی خدمات کے لیے اب تک نیشنل ،انٹر نیشنل کئی سارے اعزازات و انعامات سے نوازا جا چکا ہیں ۔جہاں تک بات شاعری کی ہے تو شاعری ایک ایسا سحر ہے جو ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ شاعری کے سلسلے میں ہمارے مفکرین ادب کے منفرد خیالات رہے جن میں افلاطون کا کہنا ہے کہ’’ شاعری نقل کی نقل ہے۔ اس کی بنیاد جھوٹ پر ہے اور یہ غیر اخلاقی چیز ہے‘‘ تو کلیم الدین احمد نے شاعری کی ہردل عزیز صنف غزل کو نیم وحشی صنف شاعری قرار دیا ہے جبکہ نواب امداد امام اثرؔ فرماتے ہیں کہ:
’’۔۔۔۔۔۔شاعری حسب خیال راقم رضائے الٰہی کی ایسی نقل صحیح ہے جو الفاظ بامعنی کے ذریعہ سے ظہور میں آتی ہے۔ رضائے الٰہی سے مراد فطرت اللہ کے اور فطرت اللہ سے مراد وہ قوانین قدرت ہیں جنھوں نے حسبِ مرضی الٰہی نفاذ پایا ہے اور جن کے مطابق عالم درونی و بیرونی نشوونما پائے گیے ہیں۔ پس جاننا چاہیے کہ اسی عالم دردونی و بیرونی کی نقل صحیح جو الفاظ بامعنی کے ذریعہ عمل میں آتی ہے شاعری ہے۔۔۔۔۔۔‘‘(۱)
صنف شاعری کے بارے میں ہوشؔ جونپوری فرماتے ہیں:
’’۔۔۔۔۔۔ہیوگو جیسا ماہرِ نفسیات بڑے دعوے کے ساتھ کہتا ہے کہ کوئی شخص ایسا جملہ، لفظ یا آواز منھ سے نکال ہی نہیں سکتا جس کا کوئی معنی نہ ہو۔ میں کہتا ہوں انسان کا کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس کا کوئی معنی نہ ہو اور جس کا اس کی اپنی ذات سے کوئی تعلق نہ ہو اور جس فعل و عمل سے کسی بات کی اطلاع ہو رہی ہو اور جو کسی ذات کا اظہار کر رہا ہو وہ بے معنی ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کوئی بھی شاعری بے معنی نہیں ہو سکتی۔ ہاں کسی شاعری کے ذریعہ دی ہوئی اطلاع یا پیغام غلط ہو سکتا ہے یا غیر ضروری ہو سکتا ہے یا ناقص ہو سکتا ہے۔ انھیں بنیادوں پر شاعری اچھی یا خراب ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔‘‘(۲)
شاعری کی تعریف کے سلسلے میں علامہ شبلی نعمانی کا نظریہ دوسروں مفکرین کے مقابلے واضح،بامعنی اور بہتر معلوم ہوتی ہے ۔ موازنہ انیس و دبیر میں شاعری کے تعلق سے علامہ فرماتے ہیں
:’’شاعری کس چیز کا نام ہے؟ کسی چیز، کسی واقعہ، کسی حالت، کسی کیفیت کو اس طرح بیان کیا جائے کہ اس کی تصوریر آنکھوں کے سامنے پھر جائے۔دریا کی روانی، جنگل کی ویرانی، باغ کی شادابی، نسیم کے جھونکے، دھوپ کی سختی، گرمی کی تپش، جاڑوں کی ٹھنڈک، صبح کی شگفتگی، شام کی دلآویزی یا رنج و غم، غیظ و غضب، خوشی و محبت، افسوس و حسرت، عیش و طرب، استعجاب و حیرت، ان سب چیزورں کا اس طرح بیان کرنا کہ وہی کیفیت دلوں پر چھا جائے، اسی کا نام شاعری ہے۔‘‘(۳)
شاعری کے سلسلے میں علامہ کی درج بالا تعریف کافی حد تک کامل ہے۔ گویا علامہ نے شاعری کے ہر پہلو کو نظر میں رکھ کر ہی شاعری کی یہ تعریف پیش کی ہے۔مشتاق احمد نوری ایک ایسے شاعر ہے جنھوں نے اپنی تخلیقی بصیرت اپنی علمیت اور اپنی ادبی خدمات ،اپنی کاوشوں سے اردو ادب کی دنیا میں اپنا منفرد مقام پیدا کیا۔اس بات کا اعتراف اہل علم بھی کرتے ہیں ۔مشتاق احمد نوری کی غزل گوئی کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ غزل کے لیے جس شعری وجدان اور داخلی کرب کی ضرورت ہے وہ مشتاق احمد نوری کے کلام میں سچائی اور صداقت سے نظر آتی ہے۔ان کی غزلیں نیم رومانی، نیم اشتراکی ہیں۔ سماجی شعور اور رومانی احساس، دو الگ الگ حقیقتیں ہیں مگر ان کی فطری ہم آہنگی شاعر اور شاعری کو زندگی کی صداقتوں سے روشناس ہی نہیں بلکہ ہم آغوش بھی کرتی ہیں ،مشتاق احمد نوری کے یہاں یہ امتزاج جگہ جگہ محسوس ہوتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے ان کی غزلوں میں وہ صلابت، وہ گداز اور وہ سپردگی جگہ جگہ موجود ہیںجو اچھی غزل کی جان کہی جاتی ہیں۔ان کے کلام کا یہ نمونہ دیکھیں کہ :
ٹھہر گیا مرے اشکوں کا قافلہ کب کا میں ہو چکا ہوں ترے غم سے آشنا کب کا
اب اپنے چہرے پہ وہ تازگی نہ رونق ہے اتر چکا ہے ہر اک رنگ خوش نما کب کا
بھٹکتا رہتا ہوں اب خواب کے جزیرے میں گزر چکا ہے ان آنکھوں سے رت جگا کب کا
تمہاری یاد کی انگڑائیاں مچلتی ہیں چلے بھی آؤ کہ ساون بھی آچکا کب کا
مشتاق احمد نوری کی شاعری میں ان کا اندازعموما قدر انفرادی ہوتا ہے اوران کے تخلیقی وجدان میں جمالیات اور حقیقت پسندی کی جو فکری سر شاری ہوتی ہے وہ ان کی شاعری میں بالکل نئی اور عجیب و غریب اہمیت کی حامل بنتی محسوس ہوتی ہے اوراسی سے ان کی شاعری میں زندگی کی حرارت اور حرکی توانائی بھی پیدا ہوتی ہے ۔ان کی نظم نگاری ہو یا غزل گوئی ان کے یہاں صرف الفاظ کی اداکارانہ ترتیب اور قافیہ پیمائی کا نام شاعری نہیں ہے بلکہ فکر و تخیل ،تجربات و مشاہدات اور احساسات جذبات کے تخلیقی حسن کے ساتھ فنی اظہار کا نام شاعری ہے اور ہر اچھی اور قابل قدر شاعری میں ان خصوصیات کا ہونا ناگریز بھی ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ فکری ریاضت اور فنی مزاولت بھی شاعر کے لیے درکار ہوتی ہے ،کیونکہ شاعری لفظوں میں زندگی کی حرارت اور اندرونی سوز کی آنچ لفظی پیکروں میں ڈھال دینے سے وجود میں آتی ہے اور یہ وہ چیزیں ہیں جو فکری اور فنی زرخیز ی کے ساتھ تہذیب اور تمدنی روایات و اقدار اور کلاسیکیت کے رشتے اور عرفان کے بغیر ممکن نہیں ہوتی ہے ۔یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ماضی کے عرفان ،حال کے گیان اور مستقبل کے امکان سے شاعری میں حیرت انگیزی ،کشش ،جاذبیت ،اور تاثیر در آتی ہے اور شاعری کے ان تمام اسرار و رموز سے مشتاق احمد نوری پورے طور پر واقف نظر آتے ہیں ۔ان کے لفظوں میں خیالوں کے ارتقا میں جو ربط و تسلسل ہوتا وہ دراصل زندگی کے اسی ماضی حال اور مستقبل کے ربط و تسلسل سے عبارت ہوتا ہے ۔اس لئے ان کی غزلوںکی معنویت میں بھی ایک مخصوص قسم ضابطہ پسندی پائی جاتی ہے ۔اکیسویں صدی کے سنجیدہ شاعر ہونے کی حیثیت سے انھوں نے دور حاضر کے مسائل و میلانات اور تغیر زمانی کو بھی اپنی شاعری کا جزو بنایا ان کی شاعری دور حاضر کا ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جس میں بدلتے زمانے کے بدلتے تقاضوں کی تصویر بخوبی دیکھی جا سکتی ہیں ان کی غزل کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :
روایتوں کا بہت احترام کرتے ہیں کہ ہم بزرگوں کو جھک کر سلام کرتے ہیں
ہر اک شخص یہ کہتا ہے اور کچھ کہیے ہم اپنی بات کا جب اختتام کرتے ہیں
کبھی جلاتے نہیں ہم تو برہمی کا چراغ وہ دشمنی کی روش روز عام کرتے ہیں
حریف اپنا اگر سر جھکا کے ملتا ہے تو ہم بھی تیغ کو زیب نیام کرتے ہیں
مشتاق احمد نوری کی شعری جہات میں تنوع بھی ہے اور کشادگی بھی ہے جس میں انفس و آفاق کے سبھی پہلو روشن نظر آتے ہیں ۔ ان کی شاعرانہ بصیرت اور ہنرمندی سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔اسلوب بے حد سلیس اور سادہ ہے ۔پیچیدہ تیراکیب‘ثقیل الفاظ‘نادر تشبیہات اور استعارات سے وہ اپنی غزلوں کو بوجھل نہیں کرتے ہیں۔سیدھے سادے لفظوں میں اپنی بات اس طرح کہہ جاتے ہیں کہ ترسیل و ابلاغ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا،ان کی غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :
حقیقتوں کو جنھیں سن کے وجد آجاتے کچھ ایسے کام بھی ان کے غلام کرتے ہیں
شراب کم ہو تو نوریؔ بہ نام تشنہ بھی لہو نچوڑ کے لبریز جام کرتے ہیں
ایک سنجیدہ شاعر سماج و معاشرے کے مسائل پر غور و فکر کرتا ہے اور وہ اپنی شاعری میں سوال پیدا کرتا ہے ۔شاعری میں سوال پیدا کرنے کی روایت اردو میں بہت قدیم ہے ،میر ؔ ہو یا غالبؔ، اقبال ؔ ،ہو یا فیض ؔ ،ہر بڑے اردو شاعر نے اپنی شاعری میں سوال پیدا کر عوام کو سوچنے اور غور فکر کرنے پر مجبور کیا ،منصورخوشتر نے بھی اپنی شاعری میں اس روایت کو زندہ رکھا اور اپنی غزلوں میں سوال پیدا کیا ،مشتاق احمد نوری نے اپنے ذوقِ جمال کا ثبوت پیش کرتے ہوئے بہت سارے اشعار ایسے بھی کہے ہیں جن میں جمالیاتی کیف وکم کی چاشنی ایک انوکھے ذائقے سے روشناس کراتی ہے۔ان کا یہ ذوقِ جمال خصوصاً نظموں کے مقابلے غزلوں میں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے مثلاً چند اشعار پیش خدمت ہیں۔
خواہش وصل کو قلیل نہ کر شب ہجراں کو اب طویل نہ کر
میںنے تجھ کو رکھا سر آنکھوں پر زندگی تو مجھے ذلیل نہ کر
جس کا چاہے پی لے جی بھر کے اتنی سستی کبھی سبیل نہ کر
رات کی آنکھ بند ہونے لگی داستاں کو بہت طویل نہ کر
میں نے تو اشک پی لیا نوریؔ اپنی آنکھوں کو تو بھی جھیل نہ کر
ایک اچھا شاعر اور ادیب وہی ہو سکتا ہے جس میں حق گوئی اور بے باکی کے ساتھ اصلاح معاشرہ کا جذبہ بھی ہو اور معاشرے کی نا ہمواریوں کو نشان زد کر کے لوگوں کی سوچ کو تعمیری جہت عطا کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا ہو۔ اس نقطۂ نظر سے جب ہم مشتاق احمد نوری کی غزلوں پر نظر ڈالتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے کہ انھوںنے اپنے منصب کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے اور اظہار حقیقت میں صداقت پسندی سے کام لیا ہے۔ کچھ ایسے اشعار یہاں پیش کئے جاتے ہیں ملاحظہ فرمائیں :
تھک کے بیٹھا تھا کہ منزل نظر آئی مجھ کو حوصلہ دینے لگی آبلہ پائی مجھ کو
نذر کر دیتے ہیں وہ اپنی کمائی مجھ کو سر اٹھا نے نہیں دیتے مرے بھائی مجھ کو
میں جہاں جاتا ہوں اس پیکر نوری کے سوا اور کچھ بھی نہیں دیتا ہے دکھائی مجھ کو
ایک نئے غم سے شناسا کیا محرومی نے زندگی جب بھی تری بزم میں لائی مجھ کو
وہ بھی شرمندہ نظر آتا ہے نوریؔ اکثر نظر آتی ہی نہیں جس میں برائی مجھ کو
مشتاق احمد نوری کی شاعری فطری ہے اور اسے کسی ازم کے خانے میں رکھنا مناسب نہیں ،سیدھے سچے جذبوں کی شاعری ، نہ کوئی پیچیدہ علامت نگاری اور نہ ہی لفظوں کا الجھاؤ ان کی غزلوں میں زندگی کے مسائل کو بھی موضوع سخن بنایا گیا ہے جس سے ان کے حساس اور انسانی ہمدرد ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔ان کی غزلوں میں موضوعات کی سطح پر ایک طرح کا تنوع ہے ،جس سے انکے وژن کا اندازہ ہوتا ہے۔ان کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ محبتوں کے شاعر ہیں،انسانی ہمدردیوں کے شاعر ہیں،زندگی کے مثبت رویوں کے شاعر ہیں ،اپنے اسلاف کی تہذیبی قدروں کی شناخت اور اس کی حفاظت کرنے والے شاعر ہیں اور اس سے بڑھ کر امن و امان اور مساوات کو معاشرے کے لئے ناگزیرسمجھنے والے شاعر ہیں۔
مشتاق احمد نوری کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے۔انکی غزلیںان کے جزبا ت و احساسات اور مشاہدات کے تخلیقی اظہار پر قادر ہے،عصری مسائل و مصائب کے ساتھ ساتھ رومانی جذبات بھی انکی تخلیقات میں جا بجا محسوس کیے جا سکتے ہیں ۔مشتاق احمد نوری نے الفاظ کی جادوگری دکھاتے ہوئے ایسی منظر کشی کی ہیں کہ انھوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے تمام مناظرجیتے جاگتے پیش کردیے ہیںان کے اشعارمیں صداقت کا جذبخوبی دیکھا جا سکتا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سچے دل سے جذبوں کی قدر کرتے ہیں۔غزل انسانی جذبات کی ترجمانی بھی ہے جسے مشتاق احمد نوری نے بڑی چابک دستی سے پیش کیا ،ان کی غزل کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں
مشکلوں میں بھی میرے حوصلے شاداب رہے روک سکتی نہیں وقت کی کھائی مجھ کو
میں تو ہر سانس کو دیتا رہا جینے کا خراج زندگی پھربھی کبھی راس نہ آئی مجھکو
مشتاق احمد نوری کی غزلوں کا دوسرا رنگ بھی ہے جہاں زلف ورخسار کے حصار سے نکل کر عصر ی تقاضے، تخیل کی رفعت، تجربات کی وسعت، ادب کی مقصدیت، بصیرت اور طرب وکرب کا حسین امتزاج ہے۔ان کی غزلیہ شاعری رنگِ تغزل سے آراستہ ہے۔ ان کے یہاں روایت کے ساتھ عصر سے بھر پور استفادہ ملتا ہے۔ حسن و عشق، الفتیں، محبتیں، دل کے راز اور حسین جذبے ان کی غزلوں کا خاصہ ہیں ۔مشتاق احمد نوری کو شعری اظہار پر قدرت حاصل ہے۔ انہیں اپنی باتیں کہنے کا وہ سلیقہ میسر ہے جو دلوں پرحکمرانی کا قائل ہے۔ کسی موضوع کو شعری قالب میں ڈھالنے کے لئے جس نزاکت الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے اس کا وہ پورا خیال رکھتے ہیں۔ مشتاق احمد نوری ایک حساس اور دردمند دل شاعر ہیں ،ایک بڑے کینوس کے شاعر۔ان کے یہاں جہاں ایک طرف گھر آنگن اور رومانی جذبوں کی فراوانی ہے وہیں دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والے تغیرات کا منظر نامہ بھی ان کی شاعری کا اہم حصہ ہے۔ انھوںنے عہد حاضرکے تغیرات کو اپنی شاعری میں سمیٹا۔ انکی شاعری فطری ہے اور اسے کسی ازم کے خانے میں رکھنا مناسب نہیں ،سیدھے سچے جذبوں کی شاعری ، نہ کوئی پیچیدہ علامت نگاری اور نہ ہی لفظوں کی شعبدہ بازی۔مشتاق احمد نوری کو شعری اظہار پر قدرت حاصل ہیں۔ کسی موضوع کو شعری قالب میں ڈھالنے کے لئے جس نزاکت الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس کا وہ پورا خیال رکھتے ہیں۔ بہر حال ان کی غزلوں کے تمام نکات و فکر وفن کو ایک مختصر مضمون میں سمیٹنا یقینا ممکن نہیں لیکن پھر بھی یہاں ان کی غزلوں کی طلسماتی دنیا کو جاننے ،سمجھنے کی ایک کاوش ضرور کی گئی ہیں ،امید ہے میری یہ کاوش آپ کو پسند آئے گی۔
حواشی :
(۱)کاشف الحقائق۔صفحہ ۵۱۔
(۲) ’ناگزیر‘۔۱۹۹۴ء صفحہ ۹۔
(۳)موازنہ انیس و دبیر۔ علامہ شبلی نعمانی۔صفحہ ۱۹۱۔
(۴) اشعار : آن لائن پلیٹ فارم ریختہ ڈاٹ کام ۔
(۵) اشعار : مشتاق احمد نوری : ایف،بی ۔پیج۔
Email- salehasiddiquin@gmail.com

Leave a Comment