پربتوں سے لڑنے والا شاعر: راحت اندوری

\"\"
٭عبدالحی
شعبہ اردو، سی ایم کالج، دربھنگہ، بہار۔

\"\"
راحت اندوری کی اچانک وفات سے اردو شاعری کے گلیارے جیسے سونے ہوگئے ہیں۔کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ عظیم شاعر یوں اچانک ہمیں داغ مفارقت دے جائے گا اور سچ پوچھا جائے تو اس سال کورونا کی وبا نے سب سے زیادہ نقصان اردو شعر و ادب کا کیا ہے۔ہر دوسرے دن اردو زبان و ادب کی خدمت کرنے والی کوئی نہ کوئی شخصیت ہمیں چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوتی جارہی ہے۔ادھر کچھ دنوں میں گلزار دہلوی، مجتبی حسین، نصرت ظہیر اور اب راحت کے جانے سے اردو زبان و ادب کا پورا حلقہ سوگوار ہے۔جانے والے تو چلے جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں اور ان کی باتیں انھیں ہمیشہ زندہ رکھتی ہیں اور راحت تو ایسے شاعر ہیں جن کی شہرت اور مقبولیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ کسی بھی غیر اردو داں سے آپ اردو کے موجودہ 5 شاعروں کا نام پوچھیں گے تو ان میں ایک نام راحت کا ضرور ہوگا بلکہ یوں کہیں کہ پہلا نام راحت کا ہوگا۔راحت اندوری جیسے شاعرپر مجھ جیسے طالب علم کے لیے لکھنا یوں بھی مشکل ہے کہ ان کی شاعری کی کئی جہتیں ہیں اور ان کی شاعری کے کس پہلو پر قلم اٹھایا جائے یہ بہت دقت طلب ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا کہ بہت اچھا شاعر بہت زیادہ مقبول بھی ہو۔ راحت ایسے اکیلے شاعر تھے جنھیں نہ صرف غیرمعمولی مقبولیت و شہرت نصیب ہوئی بلکہ ان کی شاعری اور ان کی غزلیں بھی بے حد معیاری ہیں۔ان کی غزلیں آپ پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ ہر غزل پہلے والی غزل سے بہتر ہے اور اگر راحت کے دس بہترین اشعار منتخب کرنے ہوں گے تو اس میں بھی مسئلہ ہے کہ کون سے اشعار کو رکھا جائے اور کسے نہیں کیوں کہ زندگی اوراس کی بے ثباتی کا شاید ہی کوئی پہلو ہوگا جس پر راحت کی نظر نہ گئی ہو اور اسے اپنے منفرد انداز میں نہ باندھا ہو۔راحت نے اپنی دنیا خود تیار کی ہے ،خود ہی کنواں کھودا ہے اور خود ہی پانی نکالا ہے۔راحت نے کسی ادبی نشست میں جو سب سے پہلی غزل سنائی تھی اس کا مطلع دیکھیں۔

مقابل آئینہ ہے اور تری گل کاریاںجیسے۔سپاہی کر رہا ہو جنگ کی تیاریاں جیسے
اس پہلی غزل کے مطلع سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ راحت زندگی کی جنگ کو اپنے اشعار سے جیتنے کی تیار شروع کرچکے ہیں اور آگے چل کر یہی راحت جب یہ شعر پڑھتے ہیں۔
پھر ایک بچے نے لاشوں کے ڈھیر پر چڑھ کر۔ یہ کہہ دیا کہ ابھی خاندان باقی ہے
تو علی سردار جعفری جیسا شاعر بھی اس منفرد لب ولہجے کا قائل ہوگیا اوربعد میں مشاعروں کی تاریخ گواہ ہے کہ راحت نے کتنے مشاعرے لوٹے اور انھیں مشاعروں کا سلطانہ ڈاکو تک کہا جانے لگا۔اردو شاعری اور اس میں بھی غزل جیسی نازک صنف میں ایک گھن گرج اور چیختے چنگھاڑتے ہوئے اپنے منفردانداز شعر خوانی کے ساتھ جب راحت داخل ہوئے تو لوگوں نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا کہ ایسی آواز اور ایسا بے باک اور جرآت مندانہ لہجہ اردو شاعری کے لیے نیا تھا اور شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ راحت اپنے شعروںکو اس انداز میں سناتے ہیں کہ سامع بھی شعر میں ڈوب جائے۔ ایسا لگتا تھا کہ الفاظ ان کے ہونٹوں سے ادا ہورہے ہیں اور وہ خود ان اشعار کی متحرک تصویر بنے اسٹیج پر پرفارم کررہے ہوں۔یہاں یہ بھی واضح کردوں کہ راحت کے اشعار کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ راحت کی زبان سے ادا ہوتے ہوئے ہی اچھے لگتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ راحت کے انداز سخن نے بھی ان کے اشعار کو مقبولیت عطا کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔راحت کے اشعار اتنے عام فہم ہیں کہ ایک کم اردو جاننے والا بھی انھیں بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ آسان لفظوں میں بڑی باتیں کہہ دینا فن ہے اور اس فن میں راحت کو مہارت حاصل تھی۔ ان کے کچھ اشعار دیکھیں:
جن چراغوں سے تعصب کا دھواں اٹھتا ہے۔ ان چراغوں کو بجھادو تو اجالے ہوں گے
اب کہ جو فیصلہ ہوگا وہ یہیں پر ہوگا۔ ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی
آپ کی نظروں میں سورج کی ہے جتنی عظمت۔ہم چراغوں کا بھی اتنا ہی ادب کرتے ہیں
راحت کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو جو مجھے نظر آیا وہ ان کاناسٹلجیا ہے۔ان کے کلام میں ایسے درجنوں اشعار مل جائیں گے جس میں ہمارا تابناک ماضی سانسیں لیتا ہوا نظر آئے گا۔ راحت ہمیں اپنے اس روشن ماضی کی یاد تو دلاتے ہی ہیں ساتھ ہی موجودہ وقت و حالات کے مطابق خود کو تیار کرنے کی بھی تاکید کرتے ہیں۔ وہ حاکم وقت پر بھی گہرا وار کرتے ہیں اور کبھی کبھی یہ وار تلوار یا تیزدھار ہتھیار سے کیا جانے والا نہیں بلکہ میزائیل سے کیا گیا حملہ محسوس ہوتا ہے۔ اس طرح کے کچھ اشعار دیکھیں:
جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے
مصلحت کہئے اسے یاکہ سیاست کہئے
چیل کوئوں کو بھی شاہین کہا ہے میں نے
ایک سلگتا چیختا ماحول ہے اور کچھ نہیں
بات کرتے ہو یگانہ کس امین آباد کی
وقت کی سنگ زنی نوچ گئی سارے نقش
اب وہ آئینہ کہاں جو مرا چہرہ دے دے
جنگل سر پہ رکھ کے سارا دن بھٹکے
رات ہوئی تو راج سنگھاسن یاد آیا
بیٹھے ہوئے ہیں قیمتی صوفے پہ بھیڑیے
جنگل کے لوگ شہر میں آباد ہوگئے
ہم نے اپنی کئی صدیاں یہیں دفنائی ہیں
ہم زمینوں کی کھدائی میں دکھائی دیں گے
مجھے خبر ہے کہ میں سلطنت کا مالک ہوں
مگر بدن پہ ہیں کپڑے بھکاریوں والے
ہم پہ حاکم کا کوئی حکم نہیں چلتا ہے
ہم قلندر ہیں شہنشاہ لقب کرتے ہیں
بتوں سے مجھ کو اجازت اگر کبھی مل جائے
تو شہر بھر کے خدائوں کو بے نقاب کروں
راحت کی شاعری اپنے گردوپیش سے مواد لیتی ہے۔ راحت کی شاعری میں موجودہ عہد آپ کو سانسیں لیتا ہوا نظر آئے گا۔راحت کسی حادثے یا واقعے کوبڑی خوبصورتی اور چابکدستی سے اپنے اشعار کا حصہ بنالیتے ہیں اور یہ شاعرانہ احساس ملک کی دبی کچلی عوام کے دل کی آواز بن جاتا ہے۔راحت کا یہ احتجاجی انداز ملک کے کروڑوں لوگوں کو بھاجاتا ہے اور سیاست داں و عوام راحت کے اشعار کو اپنی آوازبناکر پیش کرتے ہیں۔پروفیسر عتیق اللہ نے راحت کی اسی خوبی کی جانب اشارہ کیا ہے۔
جن حضرات نے مشاعرے کو اپنے عہد کے احساس سے جوڑنے کی بہترین سعی کی ہے اور تفریح و تفنن کے قصد سے پرے ہوکر اپنی گفتار میں کچھ کڑواہٹیں بھی سموئی ہیں ان میںراحت اندوری کا نام خاص اہمیت کا حامل ہے۔(بحوالہ مضمون،راحت کا تخلیقی وجدان،مشمولہ رسالہ لمحے لمحے، امروہہ)
راحت کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف شاعر زبیر رضوی نے لکھا تھا۔
راحت اندوری غزل کے شاعر ہیں اور وہ چبھتے ہوئے، تیکھے اور طنز سے بھرپور شعر کہنے کی بڑی قدرت رکھتے ہیں۔ ان کا شعر سیدھا اپنے سامع سے واسطہ رکھتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ فوری طور سے پریشان کرنے والے مسائل پر ایک خاص زاویے سے شعری تبصرہ کرتے ہیں لیکن وہ اپنے اس یک رخے زاویے کی تہوں میں بھی ادبیت کی چنگاری روشن رکھتے ہیں۔(بحوالہ مضمون راحت اور شہرت کا دھواں)
زمانے کی کڑواہٹیں،ناانصافیاں، محرومیاں،الزام تراشیاں،حق تلفی اورفرقہ پرستی جیسی عصری صداقتیں جب اشعار کا لبادہ اوڑھتی ہیں تو انھیں راحت اندوری جیسا شاعر ہی بہتر ڈھنگ سے برت سکتا ہے اور یہی راحت نے کیا ہے۔راحت اردو شاعری کی ایک ایسی آواز بن کر ابھرے جس کااب تک کوئی ثانی نہیں ہے۔وہ بطور شاعر جس قدر بے باکی سے اپنی رائے دیتے تھے اسی طرح شاعری سے الگ بھی ان کا وہی رویہ تھا۔مجھے ویسے تو ان کے کئی مشاعروں میں جانے کا اتفاق ہوا لیکن دو تین واقعات ایسے ہیں جن کا یہاں ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔پہلا مشاعرہ کولکاتا میں کچھ برسوں قبل ہوا تھا۔ جب ایک مقبول شاعر کے کلام پڑھنے کے بعد راحت اندوری صاحب کو مائیک پر بلایا گیا تو انھوں نے جس انداز اور جس لہجے میں اس شاعر کی خبر لی تھی یہ صرف راحت ہی کرسکتے تھے۔ راحت نے ہزاروں لوگوں کے مجمعے میں کہا کہ شاعری سننی ہے تو مجھ سے سنو۔ میرا ایک شعر بھی اگر شعری پیمانے پر کھرا نہیں اترے تو میں شاعری کرنا چھوڑ دوں گا۔اس کے بعد وہ مائیک سے دو تین اشعار پڑھ کر ہٹ گئے کہ مشاعرے کے لیے دیا گیا وقت ختم ہوچکا ہے کیوں کہ مجھ سے پہلے پڑھنے والے شاعر نے ایک گھنٹے تک اشاعر سنائے ہیں لیکن منتظمین نے کسی طرح منت سماجت کر کہ انھیں دوبارہ مائیک پر آنے کی دعوت دی اور پھر راحت نے اپنے رنگ میں شاعری کی۔اسی طرح بہار کے شہر گیا میں ایک خصوصی شعری نشست میں پروفیسر وسیم بریلوی اور راحت اندوری کو مدعو کیا گیا تھا۔اس نشست میں بھی راحت نے خو ب داد وصول کی اور لوگوں نے جب راحت سے دوبارہ مائیک پر آنے کی فرمائش کی تو راحت اندوری نے پہلے وسیم بریلوی صاحب سے اجازت طلب کی اور ان کی اجازت کے بعد ہی مائیک پر آئے۔ مشاعرے کے بعد جب وسیم بریلوی صاحب سے میں گفتگو کرنے لگا اور وسیم صاحب نے میرا ان سے تعارف کرایا کہ یہ قومی اردو کونسل کے رسالوں کی ادارت کرتے ہیں تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو بہت کم عمر کے ہیں، ساتھ ہی انھوں نے مجھے دعائیں بھی دیں اور کہا کہ خوب ترقی کرو۔ایک اور واقعہ یاد آرہا ہے جب گزشتہ برس دہلی کے ایک مشاعرے میں ایک مشہور شاعر نے سامعین سے کہا کہ آپ میرے اشعار پر تالی بھی بجاسکتے ہیں اور سیٹی بھی۔ راحت صاحب کو یہ بے حد ناگوار گذرا کیوں کہ یہ مشاعروں کی تہذیب کے خلاف ہے۔ جیسے ہی وہ شاعر مائیک سے ہٹے راحت صاحب نے انھیں سمجھایا کہ آپ نے سیٹی اور تالی والی بات کیوں کی۔ یہ سراسر غلط بات ہے۔ مشاعروں میں ان باتوں کی گنجائش نہیں۔ داد دینے کا مہذب انداز ہوتا ہے اور مشاعرے اسی تہذیب اور شائستگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔یہ باتیں انھوں نے مائیک پر بھی آکر کی تھیں۔ راحت صاحب سے وابستہ یہ باتیں لکھتے ہوئے ان کا چہرہ آنکھوں کے سامنے ہے اور مجھے زبیر رضوی کی کہی ایک بات یاد آرہی ہے کہ پریم چند نے حسن کا معیار بدلنے کی بات کہی تھی اور مجھے یہ بات راحت کو دیکھ کر سمجھ آئی۔ راحت کی شاعری ہی ان کا حسن تھی۔ جب وہ اشعار پڑھتے تھے تو سامعین اور ناظرین جیسے مسحور ہو جاتے تھے۔یہ باتیں زبیر صاحب نے مزاح کے لہجے میں کہی تھیں لیکن حقیقت ہے کہ جب مشاعروں میں کامیابی کی ضمانت پری رو چہروں والی شاعرات بن جائیں ایسے میں راحت اکیلے ہی سب پر بھاری تھے اور ان کے شاعرانہ حسن کے آگے سارے رنگ پھیکے پڑجاتے تھے۔
راحت کی شاعری اور راحت کا انداز سخن ہمیشہ یاد رکھا جائے ا ور راحت ہم سب کے دلوںمیں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ان کے کچھ اشعار پڑھیں اور محسوس کریں کہ راحت نے کیسے نایاب خیالات کو شعری پیکر عطا کیا ہے۔
میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگ
گیلی زمین کھودکے فرہاد ہوگئے
اب کے بارش میں نہانے کا مزہ آئے گا
بے لباسی کی طرح گھر کی کھلی چھت ہوگی
طاق میں بیٹھا ہوا بوڑھا کبوتر رودیا
جس میں ڈیرا تھا اسی مسجد میں تالے پڑگئے
یہی پرانے کھنڈر ہیں ہماری تہذیبیں
یہیں پہ بوڑھے کبوترہیں اور یہیں شہباز
ہم ایسے پھول کہاں روز روز کھلتے ہیں
سیہ گلاب بڑی مشکلوں سے ملتے ہیں
برچھی لے کر چاند نکلنے والا ہے
گھر چلیے اب سورج ڈھلنے والا ہے
ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پر طنز نہ کر
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Comment