پروفیسرصغیرافراہیم فکشن کے معتبر ناقد ہونے کے ساتھ اہم افسانہ نگار بھی ہیں:پروفیسر ابن کنول

شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاد پروفیسر صغیرافراہیم کے افسانوی مجموعہ ’’کڑی دھوپ کاسفر‘‘ کی رسم رونمائی

\"?\"

نئی دہلی(اسٹاف رپورٹر)پروفیسر صغیر افراہیم اکیسویں صدی میں فکشن کے معتبر ناقد ہیں، خوشی کی بات یہ ہے کہ صغیر افراہیم تنقید نگار ہونے کے ساتھ ساتھ اہم افسانہ نگار بھی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاد پروفیسر صغیر افراہیم کے افسانوی مجموعہ ’’کڑی دھوپ کا سفر‘‘ کی رسم اجرا کے موقع پر صدر شعبہ پروفیسر ابن کنول نے کیا۔ انہوں نے کہاکہ علی گڑھ میں قاضی عبدالستار کی سرپرستی میں لکھنے والے طارق چھتاری، سید محمد اشرف،پیغام آفاقی ، مظفر حسین سیدوغیرہ ادب میں اہم مقام رکھتے ہیں، انہی میں سے ایک اہم نام پروفیسر صغیرافراہیم کا بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ انتہائی مسرت کی بات ہے کہ صغیرافراہیم نے اپنے افسانوی مجموعے کی اجرا کے لیے شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی کو اعزاز بخشا۔پروفیسر ابن کنول نے شعبہ کے طلبہ کی ادبی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے شعبہ کے طلبہ اچھی تخلیقی صلاحیت رکھتے ہیں اور شاعری، افسانہ اور انشائیہ وغیرہ لکھنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
اس موقع پر پروفیسر صغیر افراہیم نے اپنا افسانہ ’انجان رشتے‘ کو پیش کیا۔ انہوں نے اپنے ادبی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ہم نے ادبی سرگرمیوں کی ابتدا افسانہ نگاری سے کی، یہ اس وقت کی بات ہے جب علی گڑھ میں طارق چھتاری، سید محمد اشرف، پروفیسر ابن کنول، پیغام آفاقی وغیرہ افسانے لکھنا شروع کیے تھے۔ اس کے بعد ہمارا ایک مضمون شاعر میں شائع ہوا جسے خوب پسند کیا گیا، بعد میں آل احمد سرور نے اسی مضمون کو اپنے نوٹ کے ساتھ دوبارہ شائع کیا۔
مہمان خصوصی عارف نقوی نے صغیر افراہیم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان کاافسانہ’انجان رشتے‘ بہت اہم اور مفید ہے۔ انھوںنے جرمنی میںاردو زبان وادب کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ جب ہم جرمنی میں پہنچے تو وہاں اردو کے حالات بہت اچھے نہیں تھے۔ وہاںاردو کے بارے میں لوگوں کو بہت کم علم تھا۔ اقبال کی وجہ سے وہاں کا دانشور طبقہ اردو سے ضرورواقف تھا، لیکن عام طور پر لوگ اردوسے نابلدتھے۔ ہمارے لیے وہاں اردو کو فروغ دینابڑا چیلنج تھا، ہم لوگوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کافی کوششیں کیں اور اس میں کامیابی بھی ملی۔ انھوں نے کہاکہ ۱۹۶۴ء میں میری ایک اردو کہانی جرمن زبان میں شائع ہوئی جسے خوب پسند کیا گیا، اس کے بعد ہمارے لیے راستے کھلتے گئے اور اردو کی اہم کہانیوں اور ڈراموں کے ترجمے شائع ہونے لگے۔ انہوںنے بتایا کہ جرمنی میں اردو انجمن قائم کی گئی ہے جو اردو کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
ڈاکٹر علی جاوید نے کہاکہ آج پوری دنیا میں جس طرح کے حالات پیدا ہوگئے ہیں، ان حالات کی روشنی میں ادبیوں، دانشوروں اور طالب علموں کا کیا رول ہوسکتا ہے، اس پر بڑی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہاکہ آخر ہم کیوں ایک بہتر سماج کی تشکیل میں ناکام ہوئے ہیں، دن بہ دن ہم تنزلی کی طرف بڑھتے جارہے ہیں، جبکہ ہمارے ادیبوں نے جو تخلیقی سرمایہ ہمیں دیا ہے ،اس میں اس طرح کی مایوسی و تنزلی کے آثار نظر نہیں آتے ہیں۔ جب ہم ان تخلیقات کو پڑھتے ہیں تو ہمارا عزم اور مضبوط ہوتا ہے، ہمارے اندر جوش و ولولہ پیدا ہوتا ہے۔انھوں نے کہاکہ اس تعلق سے جب ہم غور کرتے ہیں توہمیں لگتا ہے کہ ہم تساہلی کا شکار ہوگئے ہیں، ہم اپنے فن کاروں اور تخلیق کاروں کی تخلیقات کو نظر انداز کرنے لگے ہیں، اسی لیے ہم میں وہ حوصلہ اور جذبہ نہیں ہے۔
ڈاکٹر خالد علوی نے کہاکہ جس میں تخلیقی صلاحیتیں ہوں گی وہی اچھا تنقید نگار ہوسکتا ہے۔ انھوں نے افسانے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے گھروں اور ذہنوں میں جو چلتا ہے وہ ہمیں افسانوں میں ملتا ہے۔مظفر حسین سید نے صغیرافراہیم کے افسانوں کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان کے افسانوں کی انفرادیت یہ ہے کہ اٹھارہ بیس سال پرانے افسانے بھی تازہ اور بامعنی ہیں۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر محمد کاظم نے کی اور شکریہ کی رسم ڈاکٹر مشتاق عالم قادری نے ادا کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر احمد امتیاز، ڈاکٹر شاذیہ عمیر، ڈاکٹر سرفراز جاوید، ڈاکٹر دانش حسین خان اور بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالر اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

Leave a Comment