پروفیسرڈاکٹر شہاب عنایت ملک:حیات و شخصیت

٭پرشوتم پال سنگھ
(ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی، جموں)
\"19702452_1400155360074372_8479584769741944750_n\"

ریاست جموں وکشمیر کو قدرت نے بے انہتا نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس ریاست کو دلکش قدرتی مناظر کی وجہ سے پوری دُنیا میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ قدر ت نے جہاں ریاست جموں وکشمیر کو حسین و دلفریب قدرتی مناظر سے نوازا ہے ۔ وہیں ریاست میں اعلیٰ پایہ کے انسان پیدا کئے ہیں جو ہمارے سامنے کئی درویشوں پنڈتوں ادیبوں اور شاعروں کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ جہاں تک ریاست جموں وکشمیر میں اُردو زبان وا دب کا تعلق ہے، اس سلسلے میں یہ ریاست ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے ممتاز حشیت کی مالک ہے ۔ اس ریاست نے ایسی شخصیات کو پیدا کیا ہے جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر عالمی سطح پر بیش بہا کا رنامے انجام دے ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں ۔ ان شخصیات میں محمد دین فوق ، کرشن چندر، مکیش کا شمری، رساجاودانی ، غلام رسول نارکی ، چراغ حسین مسرت ، عشرت کا شمری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں ان کے علاوہ ریاستی سطح پر عہد حاضر میں جو فن کار اُردو زبان و ادب کو فروغ دے رہے ہیں اُن میں حامد کا شمری ، نور شاہ ، انند لہر ، عرش صہبائی ،حسن ساہو ، وریندر پٹواری خالد حسین ، اسیر کشتواڑی، وحشی سعید وغیرہ کے نام قابل قدر ہیں جو اُردو زبان و ادب کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہیں نامور فن کاروں میں پروفیسر شہاب عنایت ملک کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے ۔ جنہوں نے تحقیقی و تفتدی مضامین کے علاوہ سواغ حیات لکھ کر اُردو زبان و ادب میں اچھی خاصی شہرت حاصل کی ہے اور اب بھی ان کے قلم کی رفتار جاری و ساری ہے ۔
\"19667731_1469976999727853_6985432381388147878_o\"
ان کی پیدائش 10مارچ 1965ء کو ریاست جموں وکشمیر کے ایک مشہور قصبہ بھدرواہ کے ایک گائوں گاٹھہ میں ہوئی۔ اُس وقت یہ گائوں چند کچے مکانوں کے باوجود اپنی شناخت رکھتا تھا ۔ اس گائوں کی خوبصورتی یہاں فش پانڈاور مصنوعی جھیلوں کی وجہ سے ہے ۔ گائوں گاٹھہ میں ہی پاسکی ناگ جی کا مندر بھی ہے ۔ یہاں ہر سال سیاح لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری جاری رہتا ہے ۔ اور اسی مندر میں ہزاروں کی تعداد میں پوجا پاٹھ کرتے ہیں شہاب عنایت ملک کے والد کا نام عنایت اُللہ ملک اور والدہ محترمہ کا نام رشیدہ بیگم ہے ۔ اُنہوں نے تھوڑا ہی ہوش سنبھالا تو اُن کے دادا جان نے نہایت شفقت سے ان کو آغوش میں لے کر پرورش کی ۔ ان کے دادا جان ایک معمولی فارسٹ گارڈ ملازم تھے لیکن پھر بھی پورے گائوں میں اُن کا ہی دبدبہ تھا ۔ وہ نہایت ہی خوش لباس ہونے کے ساتھ ساتھ پرمذاق شخصیت کے مالک تھے۔ اُن کا اہم مشغلہ حُقہ پینا اور گھوڑا اور کشا لے کر شکار پر چلے جانا تھا۔ ان کے دادا جان اپنے پورے گائوں میں ملک دین محمد کے نام سے جانے جاتے تھے ۔ یہ عمدہ کھانا کھانے کے بہت شوقین تھے ۔ کھانے میں گوشت اور مچھلی ان کی اہم غذا تھی اور شکار کے بہت شوقین تھے ۔ اُنہوں نے اپنی اہلیہ پر بھی بڑا رعب جمارکھا تھا ۔ وہ جو بھی حکم صادر کرتے تو اُن کی اہلیہ اُسے فوراََ پورا کردیتی ۔ خدا نخواستہ اُس میں دیر ہوتی تو گھر میں شور مچ جاتا ۔ ان کی امی ، ابواور دادی ان کے دادا جان سے کانپتے تھے لیکن وہ دا دا جان کے بہت ہی لاڈلے اور پیار ے پوتے تھے۔ ایک بار بچپن میں ان کی ایک ہم جماعت سے لڑائی ہوئی تو اُس نے ان کو پیٹا۔ اس بات کا پتہ جب ان کے دادا جان کو چلا تو وہ سیدھے ان کے ہم جماعت کے گھر پہنے اور وہاں کہرام مچا دیا۔ نوبت اس بات تک پہنچ گئی کہ دونوں خاندان کافی عرصہ تک ایک دوسرے سے دور ہوگئے ۔ آپ نے جب ہوش سنبھالا تو آپ کو ابتدائی تعلیم کے لئے گاٹھہ کے مڈل اسکول میں داخل کروایا گیا ۔ اُن کا بچپن میں دل پڑھائی کی طر ف نہیں لگتا تھا ۔ اسلئے اسکول سے فوراََ گھر واپس آجاتے، آپ کے والدین اس بات سے کافی پریشان رہتے تھے کہ ہمارا بیٹا ان پڑھ رہ جائے گا۔ ان کو بچپن میں کبوتر اور مرغ پالنے کے علاوہ کھیتی باڑی کرنے کا بڑا شوق تھا ۔ اسی وجہ سے بچپن میں ہی ان کا دل پڑھائی کی طرف نہیں لگتا تھا ۔ان کے والدہ اور والد کئی قسم کی لالچیں دے کر انہیں اسکول بھیجتے تھے لیکن یہ پھر واپس آجاتے تھے۔ ان کو ڈانٹا اور پیٹا بھی جاتا تھا ، لیکن ان کے دادا جان یہی کہتے کہ کیا ہوا لڑکا پڑھائی نہیں کرئے گا لیکن رہے گا شہزادوں کی طرح ۔!
\"19884391_1594211780650934_1813454930308470117_n\"
آپ کی امی رشیدہ بانو مشہور شاعر رساجاودانی کی صاحب زادی تھیں ۔ رساجاودانی کا شمار ریاست جموں وکشمیر کے صفہ اول کے شعرا میں ہوتا ہے ۔ اُنہوں نے اُردو اور کشمیری دونوں زبانوں میں عمدہ شاعری کی۔ غزل کے علاوہ نظم قصیدہ ، رباعی ، قطعہ ، گیت وغیرہ میں بھی اُنہوں نے طبع آزمائی کی لیکن جن صنف نے اُردو شاعروں میں انہیں شہرت بختی وہ صنف غزل ہے ۔ اُردو کے ممتاز شاعر حفیظ جالندھری کے ساتھ ان کے گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ شاعری کے علاوہ موسیقی سے بھی گہرا لگائوتھا جس نے اُن کی شاعرانہ صلاحیت کو چار چاند لگادئے ۔ اُنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ نمونہ کلام ؎
طواف کعبہ کو جائوں راہ بنارس سے
بتوں کی کرکے پرستش ادا نما ز کروں
مجھے ایسے مذہب سے رسانہ ہے واسطہ نہ ہے رابطہ
جہاں خون عالم حلال ہے اور سُرخ پانی حرام ہے
شہاب عنایت ملک کی والد ہ محکمہ تعلیم میں کلرک کے عہدے ہپر تعینات تھیں ۔ وہ بیک وقت انگریزی ، فارسی اور اُردو ان تینوں زبانوں پر مہارت رکھتی تھیں ۔ اُن کی ذہانت کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ انہوں نے دسویں جماعت میں پورے ضلع ڈوڈہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ وہ گورنمیٹ ملازمت کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمہ داریوں کو بھی بخوبی نبھاتی تھیں رساجاودانی اپنی ساری اولاد میں سے اُنھیں بہت عزیز رکھتے تھے ۔ شہاب عنایت ملک کے والد جناب عنایت اللہ صاحب کا شمار اپنے عہد کے نامور اُساتذہ میں ہوتا ہے ۔ اور بھدرواہ کے لوگ آج بھی اُنھیں اپنا اُستاد تصور کرتے ہیں انھیں ادب سے کافی لگائو تھا۔ وہ اچھی مزحیہ شاعری بھی کرتے تھے اور اسٹیج ڈرامے بھی تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں ڈائرکٹ )Direct) بھی کرتے تھے ۔ ان کے ڈراموں کو خصوصاََ دیکھنے کے لئے بھدرواہ کے اُرد گرد سے سینکڑوں لوگ رات کے وقت جمع ہوجا یا کرتے تھے ۔اس کے علاوہ ان کے ڈراموں کی پیش کش کے لئے اور انہ کے پنچایت گھر میں مہینوں رہر سل ہو ا کرتی تھی ادب سے لگائو کے علاوہ وہ ڈراینگ میں بھی کافی دلچسپی رکھتے تھے ۔ جس کی وجہ سے لوگ انھیں پیار سے ڈرائینگ ماسٹر کہنے لگے اور آج بھی کہتے ہیں ۔ شہاب عنایت ملک بچپن میں سب کے لاڈلے اور پیارے صابزادے تھے ۔ انھوں نے اسکول میں اپنی ابتدائی تعلیم مساسٹر دین محمد اور ماسٹر بیشمبر ناتھ سے حاصل کی۔ ان ہی کی تربیت میں آپ نے گورنمینٹ مڈل اسکول گاٹھہ سے آٹھویں جماعت کا امتحان اول درجے میں پاس کیا ۔ اور ہائرسکینڈری اسکول بھدرواہ میں نویں جماعت میں داخلہ لیا اور وہیں سے نویں اور دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا ۔ اسکول کے ہم جماعتوں میں شفقت قیوم ملک ، ارشاد ملک، طارق بھٹ ، ارشاد شیخ ، پنکا بانڈے، روی گپتا وغیرہ کے نام اہم ہیں ۔
اس کے بعد اُنہوں نے گیارویں جماعت میں سائنس مضامین رکھ کر ہائرسکینڈری اسکول بھدرواہ میں داخلہ لیا۔ لیکن اسی جماعت میں مضامین بدل کر کامرس مضامین رکھے لیکن اس وقت ان کے دل میں ڈاکٹر بننے کی تمنا جاگ اُٹھی تھی۔ شہاب عنایت ملک کو اُردو زبان سے بہت لگائو تھا اُردو انہوں نے یہ فیصلہ لے لیا کہ اسی مضمون میں ایم۔اے کرنے کے بعد ۔ پی ۔ ایچ ۔ ڈی کرنی ہے ۔ جب شہاب عنایت ملک نے اپنی یہ خواہش اپنے والد صاحب سے ظاہر کی تو اُنھوں نے آپ کو کامرس سے آرٹس مضمون رکھنے کا مشورہ دیا اور آپ نے آرٹس مضمون کو چن لیا ۔ بارہویں جماعت میں آپ کو اُردو بھدرواہ کے مشہور شاعر الیاس تنویر نے پڑھائی۔ ان کے درس و تدریس سے آپ کا لگائو اُردو زبان سے پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ۔ شہاب عنایت ملک نے 1984ء میں بی ۔ اے کی ڈگری بھدرواہ کالج سے حاصل کی ۔ بھدرواہ کالج میں آپ کے اُردو کے اُستاد محترم پروفیسر اسداللہ وانی تھے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر اقبال زرگر بھی آپ کے اُردو کے اُستاد تھے ۔ پھر آپ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے جموں یونیورسٹی کے شعبہ اُردو میںداخلہ لیا ۔ اور یہیں سے آپ نے 1988ء میں ایم ۔ اے ۔ اُردو کی ڈگری پہلی پوزیشن میں حاصل کی ۔ اور اس کے لئے جموں پونی ورسٹی نے آپ کو گولڈ میڈل سے نواز ۔
اسی شعبہ سے آپ نے 1990ء میں ایم فل کی ڈگری ھاصل کی اس ڈگری میں آپ کا موضوع قدہ العبن حید کے ناول ’’ گردش رنگ چمن‘‘ کا تنقیدی جائزہ تھا ۔ اسی دوران آپ کو یہ دفتر منظر اعظمی اور عابد لشپادری جیسی معتبر شخصیات سے پڑھنے کا موقعہ ملا ۔1993ء میں جموں یونیورسٹی سے پی ۔ ایچ ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔
P.H.Dکی ڈگری مکمل کرنے کے بعد شہاب عنایت ملک کو کشتواڑ کالج میں ایڈہاک لیکچرار کی نوکری مل گئی تقریباََ ایک سال اسی کالج میں نوکری کرنے کے بعد انہوں نے شعبہ اُردو جمو ں یونیورسٹی میں لیکچرار کے لئے انٹرویو دیا ۔ اس ملازمت کے لئے 161اُمید واروں نے انڑویو دیا ۔ لیکن قابلیت کی بنا پر انھیں منتخب کیا گیا ۔ یوں ایک جنوری 1995ء کو شہاب عنایت ملک کا بحیثیت اُردو لیکچرار شعبہ اُردو جموں یونیورسٹی تقرر ہوا۔ ترقی کرتے کرتے پہلے اسسٹنٹ پروفیسر اس کے بعد 2005ء میں ریڈر اور 17Sep 2007 میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے اور اسطرح اُردو دُنیا میں سب سے کم عمر پروفیسر بنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا ۔
شہاب عنایت ملک کی شادی 1994ء میں بھدرواہ کے نامور با عزت خاندان میںہوئی لیکن چند گھریلوں اختلافات کی وجہ سے یہ شادی ٹوٹ گئی انھوں نے اس کے بعد دوسری شادی سرینگر میں ایک نہایت معزز اور شریف خاندان کی خاتون سے کی جو بحیثیت لیکچرار کام کررہی ہیں ۔
31جولائی 2009ء کو پروفیسر شہاب عنایت ملک صدر شعبہ مقرر ہوئے ۔ دوران صدر انہوں نے شعبہ کو ترقی دی اور بہت سارے مشاعرے اور سمینار منعقد کروائے اور طلبا کو ایک نئے مستقبل کی راہ دکھائی۔ پروفیسر شہاب عنایت ملک نے شعبہ میں جو سیمنار کروائے ان میں پانچ روزہ مخطوطات پر مبنی ورکشاپ اور تین روزہ سیمنار بعنوان ’’ آدب میں تحقیقی اور مخطوطات کی اہمت ‘‘ خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔ ان کے علاوہ فیض احمد فیض ۔ سرسید ۔ منٹو اور دیگر شعرا اور ادبا پر بھی سیمنار کروائے جن کی بدولت شعبہ کے طلبا اور اسکالر ز علمی و ادبی سرگرمیوں سے فیض یاب ہوئے ۔ جب پروفیسر شہاب عنایت ملک کا صدر شعبہ کا مقررہ وقت پورا ہو اتو اس کے فوراََ بعد آپ ڈائریکٹر کشتواڑ کمپس مقرر کئے گئے ۔ جو تاحال جارہی ہے ۔ کشتواڑ کمپس میں بھی آپ نے علمی و ادبی سرگرمیوں کو جاری رکھا ۔ وہ مختلف علمی و ادبی اُنجمنوں سے بھی وابستہ رہے آپ نے جن انجمنوں کی سرپرستی کی اور جن سے وابستہ رہے ہیں اُن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
1۔ جنرل سیکریڑی آ ل انڈیا یو نیورسٹی اُردو ٹیچر ز ایسوسی یشن (( رجسٹر ڈ )
۲ ۔ صدر رساجاودانی میمورئیل پڑری سوسائیٹی جموں ( رمسٹرڈ)
۳۔ نائب صدر کو سرکازو (Kosar Markazo) فورم جموں (رجسٹرڈ )
۴۔ صد ربھدرواہ اینٹی لیکحویلز فورم
۵۔ انجمن ترقی اُردو ہند برانچ ڈوڈہ کے اعلیٰ پٹرون ۔ (patron in Chief)
۶۔ اقبال بذم ادب بھدرواہ کے ممبر (رجسٹرڈ )
۷۔ ایسن ۔ ایس ۔ ایس ۔ پروگرام آفیسر جموں یونیورسٹی ۔
۸۔ کو اور دی نیٹر مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی حیدرآباد ۔
۹۔ ممبر کمپس کلچرل کمیٹی جموں یونیورسٹی ۔
۱۰۔ ڈین بہبود طلبا (Associate Dean Student welfare.)
۱۱۔ مجرا یڈواینرری کمپنی اُردو جموں وکشمیر کلچرل اکیڈیمی
۱۲۔ ڈائریکٹر سینٹر فار پروفیشنل سٹڈینر ان اُردو جموں یونیورسٹی
۱۳۔ ٹیچر انچارج سذٹوڈینٹس چیپٹر جموں مارفین کو نسل (Consumer Council) رجسٹرڈ)
۱۴۔ (Executive) ایکز ایکٹو ممبر جموں بُک بنک ( رجسٹرڈ )
۱۵۔ سیکریڑی جموں صارفین کونسل (Consumir Council) رجسٹرڈ )
۱۶۔ صدر جموں قلم کا ر (writers)اور آرٹسٹ فورم
۱۷۔ سیکورٹی انچارج اولڈ کیمپس جموں یونیورسٹی
۱۸۔ ممبر ہیری ٹیج سیل جموں یونیورسٹی ۔
۱۹۔ ویز ٹینگ پروفیسر کشمیر یونیورسٹی ۔
۲۰۔ ممبر بورڈ آف اسٹڈیز ان اُردو جموں یونیورسٹی ۔
۲۱۔ ممبر بورڈ آف اسٹڈیز ان اُردو کشمیر یونیورسٹی
۲۲۔ ممبر پاکستان انڈیا فورم فار پیس ، جسٹس ، ڈیمو کریسی
۲۳۔ اسوسیٹ ممبر پریس کلب جموں
۲۴۔ ممبر جموں و کشمیر اُردو فورم
۲۵۔ ممبر اکیڈمک کونسل جموں یونیورسٹی ۔
۲۶۔ ایڈ پٹران چیف تسلسل اے ریسرچ جرنل آف اُردو ڈپارٹمنٹ یونیورسٹی آف جموں
۲۷۔ ممبر اُردو کیمپس جموں کشمیر سرکار سے پیداکردہ اُردو زبان کے فروغ کے لئے ۔
۲۸۔ ایسکپرٹ انیسا کلو پیڈیا تیاری ، اُردو شعرا آف اُردو ریسرچ اینڈ ٹیچنگ سینٹر منسٹری آف ایچ ۔ آر۔ ڈی سونس ہماچل پردیش
(Expert for preparation enlyclopedia of urdu poets of urdu Reserch and Teching Centre Ministry of HRD Souloon, H.P
پروفیسر شہاب عنایت ملک ان مختلف علمی وادبی انجمنوں کے عہدوں پر فائز رہے اور ان میں سے بعض علمی و ادبی انجمنوں اور تحریکوں سے عہد حاضر میں بھی وابسطہ ہیں۔ انھیں ترقی دینے میں کوشاں ہیں ۔
شہاب عنایت ملک ادبی دُنیا میں ایک اہم شخصیات تصور کئے جاتے ہیں اُنہوں نے ادب کے لئے جو محنت و مشقت کی ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ اُنھوں نے اُردو دُنیا میں مختلف موضوعات پر قلم اُٹھایا اور ہر موضوع کو اختتام تک پہنچانے میں صبر آزمائی سے کام لیا۔ اپنی انہیں ادبی کارناموں سے وہ اُردو کے نامور ادیب تسلیم کئے جاتے ہیں۔ انھوں نے اُردو ادب کو اپنی گراں قدر تخلیقات سے نواز کر اس کو وسعت بخشی۔ انہوں نے تحقیق، تنقید، خود نوشت، سوانح عمری کے علاوہ کئی اور مضامین لکھے ۔
ان کی اب تک جو تخلیقات منظر عام پر آکر داد وتحسین حاصل کرچکی ہیں ان کی فہرست درجہ ذیل ہے۔
۱۔ مدغوب شناسی
۲۔ نپے جانپر ے
۳۔ قرہ العین حیدر بہ حیثیت افسانہ نگار2006ء
۴۔ گردش رنگ چمن کا تنقدی جائزہ 2007ء
۵۔ اُردو کا سیکولر کردا ر
۶۔ جموں وکشمیر میں اُردو صحافت۔ ماضی، مستقبل ۔ 2010ء
۷۔ ارمغان شہاب
نپے امکانات
۹۔مضامین شہاب
۱۰۔ وفا بھدروائی ، فن اور شخصیت
۱۱۔ وادیٔ چناب کے چند اہم اُردو شعرا
۱۲۔ ورقہ ورقہ آئینہ
۱۳۔ بھدرواہ کے نمایندہ شعرا
مذکورہ مالا تصانف اُردو ادب میں اہمیت کی حامل اور پروفیسر سہاب عنایت ملک کی تحریر کردہ کتابیں نسل کے لئے اُردو ادب والوں کیلئے ایک رہنما کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ شہاب عنایت ملک کی آئیندہ آنے والی تصنیف ’صوبہ جموں کے غیر مسلم شعرا‘ ہے ۔ جس پر وہ کام کررہے ہیں ۔ پروفیسر شہاب عنایت ملک ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں ۔ انہوں نے ادب کی جو خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں ان کی اپنی کاوشوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف سرکار ی اور غیر سرکار ی انجمنوں نے انہیں اعزاز و انعامات سے بھی نوازا ہے ۔تا حال ان کو جن اعزازت و انعامات سے نوازا گیا ہے اُن کی فہرست مندرجہ ذیل ہے ۔
۱۔1988ء میں ایم اے اُرود میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے لئے طلائی تمغہ (Gold Medal) میلا
۲۔ 1996ء میں ادبی کنج ۔ جموں کیطرف سے سائیشن (Citation)
۳۔ 1997ء میں انجمن ترقی ہند کی طرف سے سالانہ اعزاز (Annual award)
۴۔1998ء میں جموں وکشمیر اُردو فارمز کا اعزاز
۵۔ 4th راشٹریہ رائیفلز آرمی کی طرف سے بھدرواہ میں ایک بڑا تمدنی پروگرام کرانے کے لئے اعزاز ۔
۶۔2002ء میں صادق میمورئیل اعزاز صادق میورئیل کمیٹی کی طر ف سے ملا ۔
۷۔ شکھشا رتن پر سکار ہندوستانی بین الاقوامی فرینڈ شپ سوسائیٹی کی طرف سے 2007میں ملا ۔
۸۔ انجمن ترقی اُردو ہند کی طرف سے 2009ء میں اعزاز ملا
۹۔ لیٹر آف قومی طلبا بہبودی ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ ) کی طرف سے ملا ۔
۱۰۔ محب اُردو اعزاز ۔ انجمن اُردو کی طرف سے1997ء میں ملا۔
۱۱۔ شعبۂ اُردو جامعہ میلہ اسلامیہ نئی دہلی نے اُردو زبان و ادب کی ترقی کے لئے 2008ء میں اعزاز پیش کیا ۔
۱۲۔ میڈیا سینٹر کشمیر یونیورسٹی نے 27فروری 2011ء میں بی بی سی لندن کے مسٹر یاور عباس کے اعزاز میں کئے گئے پروگرام کے لئے اعزاز سے نوازا۔
۱۳۔ شعبۂ اُردو لکھنو یونیورسٹی نے 12مارچ 2011 کو اعزاز سے نواز ا ۔
۱۴۔ 20مارچ2011ءکو آل جموں وکشمیر 10+2 Psc. لیکچررز کی طرف سے حوصلہ آفزائی ۔
۱۵۔ نیشنل سیکولر فورم نے 23مارچ 2011ء کو شہید بھگت سنگھ کی برسی کے موقعہ پر اعزاز سے نوازا ۔
۱۶۔ شعبہ اُردو دہلی یونیورسٹی نے 29مارچ 2011ء کو اعزاز سے نوازا جو کہ مرکزی ایچ ۔ ار ۔ ڈی وزیر کپل سبل نے اپنے ہاتھوں سے پیش کیا ۔
۱۷۔ اُردو اکیڈمی کشمیر اور میزان پبلشرز کی طرف سے 24اپریل 2011ء کو کشمیر میں اغزاز سے نوازا گیا ۔
\"16730568_717957248382292_8111853315372106604_n\"
\"307625_228262247232674_1815496232_n\"

Leave a Comment