چشم ِشعور ہی نہیں ہمارے بچپن کی آنکھیں بھی اُس ممبئی کو دیکھ چکی ہیں کہ

ممبئی کے اُردو اخبارات ورسائل اور چند صحافی

\"Nadeem
ندیم صدیقی، ممبئی
چشم ِشعور ہی نہیں ہمارے بچپن کی آنکھیں بھی اُس ممبئی کو دیکھ چکی ہیں کہ جس کے مضافاتی ریلوے (لوکل ) اِسٹیشنوں کی تختیوں پر اُردو میں بھی اس کا نام لکھا ہوتا تھا ۔ روزنامہ اجمل ، روزنامہ خلافت، روزنامہ ہلال ، روزنامہ انقلاب ،روزنامہ اُردو ٹائمز ، روزنامہ ہندوستان ، روزنامہ آج ، روزنامہ شام ، روزنامہ قیادت اور روزنامہ اُردو رپورٹر۔۔۔ سارے اخبارات اسی عروس البلاد ممبئی سے شائع ہوتے تھے ۔ جن میں سے ہم نے اکثر کوشعور کی عمر کوپہنچنے سے پہلے ہی پڑھا ہے ۔ ہمارے والد اور چچا کی اخبار بینی، عادت نہیں ایک ضرورت محسوس ہوتی تھی جو مجھے ورثے میں ملی اور پھر جاملی محلے (ممبئی) میں جہاں ہمارا آبائی گھر تھا وہیں سامنے ایک اچھی خاصی ’کھتری لائبریری‘ ہواکرتی تھی، جس میں شہر کے اُردوہی نہیں دیگر زبانوں کے اخبارات و رسائل بھی باقاعدگی سے آتے تھے ، میونسپل کارپوریشن کے زیرِ اہتمام چلنے والی اس لائبریری میں اُردو زبان و ادب کی کتابیں بھی بڑی تعداد میں تھیں۔ یہ لائبریری صبح و شام کھلتی تھی اوربیک وقت ۲۵؍۳۰ آدمی اس میں بیٹھ کر اپنے ذوق ِمطالعہ کی تسکین کر سکتے تھے ۔ ہمیں نہیں یادآتا کہ ہم نے کبھی لائبریری کو پڑھنے والوں سے خالی پایا ہو۔ ہمارا ذوق ِمطالعہ اسی لائبریری میں پروان ہی نہیں چڑھا بلکہ سچ تویہ ہے کہ ہمارے ذہن و قلب میں پڑھنے اور کچھ لکھنے کی بِنا بھی یہیں پڑی تھی۔
\"images\"
روزنامہ اجملؔ اور روزنامہ خلافتؔ کی یادیں عمرکے ساٹھے پاٹھے نے نگل لی ہیں مگر اِدھر اُدھر سے ان اخبارات کے حوالے سے یادوں کی چند مچھلیاں حافظے میں اب بھی کہیں تیرتی ہوئی نظر آجاتی ہیں، اپنے چند بزرگوں کی رِوایتوں کے جھل مل کرتے دِیے بھی حافظے کی چوکھٹ پر اس وقت رہنمائی کررہے ہیں ۔
مذکورہ لائبریری میں اُس وقت ہماری دلچسپی کامرکز وہ اخبارات ہواکرتے تھے جن میں ہفتے میں ایک باربچوں کیلئے بھی کوئی صفحہ مختص ہوتاتھا ۔ اجمل ؔاورخلافت ؔکے بارے میں تویاد نہیں آتا مگر اِنقلاب اور اُردوٹائمز میں باقاعدگی سے بچوں کی دُؔنیا اورپھلواریؔ کے عنوان سے جو صفحات آتے تھے ۔ وہ بلاناغہ ہم پڑھتے ہی نہیں تھے بلکہ بے چینی سے اسکے منتظر بھی رہتے تھے ۔ انقلاب میں جہاں انور اشفاق اس صفحے کو مرتب کرتے تھے تو اُردو ٹائمز میں ایم اے حجازی(مرحوم) کی نگرانی میں یہ صفحہ سجایاجاتاتھا۔
مجھے اچھی طرح یادہے کہ ان صفحات میں بچوں کی لکھی ہوئی چیزوں کو نمایاں مقام ملتاتھا ، یہی وہ صفحات تھے جن میں ہماری تحریریں چھپتی تھیں تو جس خوشی کا احساس اُس وقت ہوتاتھا اس کو ضبطِ تحریر میں لاناآج ہمارے لئے مشکل ہے ۔
انقلاب ا وراُردو ٹائمز میں خواتین کیلئے بھی صفحات شائع ہوتے تھے ، اسی طرح فلموں کا خصوصی صفحہ بھی ان کاحصہ ہوتاتھا ایک لفظ سِلو لایئڈ جو آج ہمارے ہاں بھلا دِیا گیاہے ۔ اِنہی اخبارات میں سے کسی ایک کے فلمی صفحے کانام’ سلو لائیڈ کی دُنیا‘ تھا ۔
ہم نے اِس مضمونچے کی ابتدا میں جن اخبارات کے نام گنوائے ہیں ان میں روزنامہ ہندوستان کے ساتھ جن اخبارات کا ذکر ہے، وہ تمام اخبارات دوپہر کے بعد شائع ہوتے تھے اُس وقت کے لوگ ان اخبارات کو باقاعدگی سے پڑھتے تھے اگر کسی وجہ سے اخبار فروش نہیں آیاتو لو گ اپنی دُکان یاگھر سے باہر آکر دوسروں سے پوچھتے تھے کہ۔۔۔ ’’کیا آج اخبار والا نہیں آیا۔ ‘‘
ہندوستان شروع ہی سے بڑے سائز میں نکلتارہاہے آجؔ، قیادتؔ اور شامؔ یہ چھوٹے (ٹیبلائڈ) سائز میں چھپتے تھے جبکہ’ رِپورٹر‘ کا سائز اِن اخبارات سے بڑا ہوتا تھا۔
روزنامہ انقلاب کے بانی ومدیر عبدالحمید انصاری تواُردو ٹائمز کے موسس ومدیر محمد نذیر تھے ۔ رامپور سے تعلق رکھنے والے غلام احمد خاں آرزوؔ ہندوستانؔ کے مدیر و مالک تھے اُس زمانے کے اُردو والوں میں عوام کی بھی ا چھی خاصی تعداد اداریہ وغیرہ پڑھتی تھی ۔ لہٰذااِن تمام اخبارات میں اداریے پر بالخصوص توجہ دِی جاتی تھی ۔
روزنامہ انقلاب میں خلشؔ جعفری اور روزنامہ اُردوٹائمز میں شہریار عابد ی کے اداریوں کی اُس زمانے میں دھوم تھی ۔مسلمانوں کے ایک بڑے طبقےمیں آخر الذکر اداریہ نویس کی تحریریں تو ’نعرۂ تکبیر‘ کی سی صورت اِختیار کرگئی تھیں۔ حنیف اِعجازاورانجم رومانی بھی اُردو ٹائمزمیں نمایاں کردار ادا کرتے تھے۔
روز نامہ ہندوستانؔ کے حوالے سے ذہن کے ایک گوشے میں ایک نام چراغ کی طرح رَوشن ہورہا ہے ، زمانے میں دو’’ ڈاکٹر ذاکر حسین ‘‘مشہور تھے ایک ڈاکٹر ذاکر حسین (وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ صدرِ جمہوریہ ہند ) اوردوسرے تھے ممبئی میں ڈاکٹر ذاکرحسین فاروقی ۔
ڈاکٹر ذاکرحسین فاروقی کو ہم جانتے ہی روزنامہ ہندوستانؔ کی وجہ سے تھے ۔یہ موصوف ہندوستان کیلئے اداریہ لکھتےتھے جو عوام میں خاصا مقبول بھی تھا۔ جبکہ اُن کا اصل پیشہ تدریس تھا۔ ابتدا میں اُنہوں نے سیفی ہائی اسکول اور پھر ڈیوڈسیسون ہائی اسکول(نزد بائیکلہ) میں پڑھایا بعدہٗ مہاراشٹرا کالج میں اُستاد مقرر ہوئے۔ روایت ہے کہ ڈاکٹر ذاکر حسین فاروقی گریجویٹ تھے ۔ اُن کے ساتھ ڈِگری کا ایک دلچسپ معاملہ تھا کہ انہوں نےپی ایچ ڈی پہلے کی اور( سیاسیات میں) ایم اے بعد میں کیا۔غالباً اُن کی علمی استعداد کی بِنا پر اُنھیں بی اے میں فرسٹ کلاس کے سبب پی ایچ ڈی کی اجازت مل گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اُن کا وائیوا لینے کیلئے دہلی سےپروفیسرگوپی چند نارنگ آئے تھے۔ڈاکٹر ذاکر حسین فاروقی نےپروفیسر نجیب اشرف ندوی کےزیر نگرانی میرزادبیرؔ پر تحقیقی مقالہ لکھا تھا جس پر اُنھیں ڈاکٹریٹ کی ڈِگری تفویض کی گئی۔ اُن کا یہ تحقیقی مقالہ کتابی شکل میں بھی شائع ہوا۔ اُن کے ایک شاگردِ عزیز شاہد ندیم بتاتے ہیں کہ علامہ آرزوؔ لکھنوی پر بھی ان کی ایک کتاب شائع ہوئی تھی جو ’ سریلی بانسری ‘کے شاعرپر پہلی تصنیف تھی او ر یہ کون نہیں جانتا کہ پروفیسر مجاہد حسین حسینی نے باقاعدہ علامہ آرزو ؔ پر پی ایچ ڈی کی تھی۔
فاروقی کاعلمی تفوق اپنے ہم عمروں ہی میں نہیں تھا بلکہ اپنے معاصر اہل ِعلم کے حلقے میں بھی اُنھیں قدرو احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ جس کی دلیل میں صرف یہی ایک بات کافی ہے کہ وہ روزنامہ ہندوستان جیسے ادارے سے وابستہ ضرور تھے مگر اخبار کے دفترمیں اُن کی حاضری نہیں ہوتی تھی بلکہ ہوتا یہ تھا کہ ہندوستاؔن کا ایک ملازم روزانہ وقت ِمقررہ پر فاروقی کے گھر سے اداریہ لے جاتا تھا ۔ یہ اعزاز ہمارے دَور میں کسی صحافی کو نصیب نہیں ۔ سید محمد عباس ہی سے روایت ہے کہ ڈاکٹر فاروقی نے کچھ مدت افریقہ میں بھی درس و تدریس کی خدمات انجام دیں۔ بے پناہ ذہین، حاضرجوابی میں تو اپنے حلقے میں بے مثل تھے جتنے اچھے مقرر تھے تو اتنی ہی اچھی تصنیفی صلاحیت سے بھی قدرت نے انھیں مالا مال کر رکھا تھا۔ لکھنؤ سے وطنی نسبت کا حامل شیعانِ ممبئی کا یہ طوطی سرطان جیسے مرض کا شکار ہوا اور اب عروس البلاد میں ’رحمت آباد‘ کے شہر ِخموشاں کے اسرار کا حصہ بنا ہوا ہے۔
بزرگوں سے روایت ہے کہ کسی زمانےمیں روزنامہ اقبالؔ عروس البلاد ممبئی کا سب سے بڑااخبار ہوا کرتاتھا ، اُس کا اپناپریس بھی تھا۔ آج انقلابؔ اس شہر کا بڑااخبار سمجھا جاتاہے ۔ اس کا بھی اب اپنا پریس ہےجہاں دو سری زبانوں کے اخبارات بھی چھپ رہے ہیں ۔ شاید کسی کویقین نہ آئے کہ یہی انقلابؔ اپنے ابتدائی ا یام میں ’اقبال ‘ کےپریس میں چھپتا تھا۔ راوی بتاتے ہیں کہ کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ انقلابؔ کی کاپی پریس میں جلد آجاتی تھی تو اقبالؔ کے مالک کبیر صاحب بلند آواز سے کہتے تھے کہ پہلے اقبالؔ چھپے گا اور یہ سنتے ہی انقلابؔ کے مالک و مدیر، اقبال پریس کے اِحاطے میں کاغذکے رِم بچھاکر سو جاتے تھے ، اب نہ وہ کبیر صاحب ہیں اور نہ ہی اُن کا ’اقبال‘ اور نہ اُن کے نام لیوا ،البتہ عبد الحمید انصاری کا روزنامہ اپنی ستّروِیں سالگرہ منا چکا ہے اورشہر کاایک اہم چوراہا اُن سے موسوم ہے ۔
انقلابؔ ،ملک کی آزادی کے بعد اُردو کا واحد اخبار ہے جس کے بطن سے انگریزی کا ایک روزنامہ مڈ۔ ڈے (Mid-Day )جاری ہوا جو اپنے آپ میں ایک تاریخی واقعہ ہے اور اسی ادارے سے گجراتی کا بھی ایک روزنامہ (گجراتی مڈ ۔ڈے ) شائع ہورہاہے ۔
اُردو کے اس اخبار کی ترقی میں مرحوم عبدالحمید انصاری کی محنت ولگن اورمستقبل شناسی کو بڑادخل ہے اسی کے ساتھ یہاں یہ بتانابھی ضروری ہے کہ انصاری مرحوم کے فرزند خالد انصاری نے زمانے کے تقاضوں کے پیشِ نظر، وقت کے ساتھ چلنے کی کوشش کی اور اُن کی یہی کوشش آج ’’مڈ۔ ڈے ‘‘کی شکل میں اس صحافتی ادارے کو ایک گھنے سایہ دار شجر کی صورت دے چکی ہے ۔( واضح رہے کہ خالدانصاری کو ان کے والد نے اُس زمانے میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے امریکہ بھیجا تھا )جس میں آج بغیر تفریق ِمذہب وملت لوگ برِ سر روزگار ہیں ۔ آج اس ادارے کو ملک کی ایک بڑی اشاعتی کمپنی جاگرن گروپ نے خرید لیاہےجس کے منصوبے کے تحت روزنامہ انقلاب ؔملک کے تمام ممتاز شہروں سے شائع ہوگا ۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق انقلابؔ شمالی ہند کے دس سے زائد شہروں میں مشہور شاعر، براڈ کاسٹر اور ممتاز صحافی شکیل حسن شمسی کی اِدارت میں اپنی دھنک رنگی بکھیرنا شروع کرچکا ہے ، لوگ اسے اُردوکی ترقی سے بھی تعبیر کررہے ہیں ،للعجب۔۔۔!
اسی طرح ممبئی کا دوسرا اخبار روزنامہ اُردو ٹائمز بھی اپنے میدان میں پیچھے نہیں رہا۔ اس مراٹھی رِیاست میں اُردو ٹائمز کے ادارے کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے ایک ہندی روزنامہ جاری کیا۔ ہر چند کہ نا مساعد حالات کے سبب یہ دینِک زیادہ مدت جاری نہ رہ سکا مگر اُردو ٹائمزکے کارپردازوں کی جستجو اور نئی منزلوں کی طرف بڑھنے کی لگن ایک تاریخ ضرور بن گئی ہے اور عوام کے ایک خاصے طبقے میں اسی روزنامے کی طلب آج بھی’ اوّلیت ‘ کا درجہ رکھتی ہے جس نے حال ہی میں شاندار پیمانے پر اپنی پچاسویں سال گرہ کا جشن منایا ہے ۔
روزنامہ ہلال ؔکے حافظ علی بہادر خاں شہر کے ایک ممتاز شخص تھے اور اُن کااخبار بھی اُردو والوں کے ایک طبقے میں خاصا پسند کیاجاتاتھا، اُن کے نام سے مدنپورے کے علاقے کی ایک سڑک منسوب ہے ۔ یہ اخبار کب بندہوایہ تونہیں یاد مگر ممبئی کے ڈونگری (علاقے) میں واقع ہلال پریس یوں یاد ہے کہ اس پریس میں راقم السطور نے کچھ چیزیں چھپوائی ہیں۔
روزنامہ اجملؔ تو گاندھی وادِی حضرات کی یادگار تھا، جس کاپریس اور د فتر ممبئی کے مرکزی علاقے ڈاکٹر اقبال چوک ( جے جے اسپتال سرکل ) پرواقع تھا۔ اس پریس میں بھی کبھی کبھارپوسٹر اور ہینڈ بل ہم نے چھپوائے ہیں ۔آج وہ پریس تو نہیں رہا البتہ اس کا د فتر ممبئی کے مشہور صحافی خلیل زاہد کاآفس بنا ہوا ہے جہاں سے وہ چند برس قبل ’اخبار عالم‘(ویکلی) اور روزنامہ امروؔزشائع کرتے تھے۔
اسی شہرسے روزنامہ جمہوریتؔ مولاناحامدالانصاری غازیؔ کی ادارت میں شائع ہوتاتھا۔ مولانا حامد الانصاری غازی کونہ صرف ہم نے دیکھا ہے بلکہ اِن بزرگوار کو اپنی ٹوٹی پھوٹی شاعری بھی سنانے کا شرف حاصل رہاہے ۔
روزنامہ شامؔ ، انقلابؔ کا شامنانہ تھا، روزنامہ آجؔ کے مدیر و مالک خلیل احمدخلیاش تھے جبکہ روزنامہ قیادت، ابراہیم فطرتؔ کی اِدارت میں شائع ہوتاتھا۔ مگر اس شامنانے کی ادارت کی اصل باگ ڈور مصطفےٰ نثار عثمانی کے ہاتھوں میں تھی جن کا شعری ذوق بھی خوب تھا اورروزنا مہ اُردورِپورٹرؔ ان اخبارات کے مقابلے میں بہت جونیئر شامنامہ تھا مگر اپنے انداز اورصَوری حسن کے سبب اسے جلد ہی عوام میں قبول مل گیا تھالیکن افسوس یہ ہے کہ اس کی عمر اپنے شباب کو نہیں پہنچی ۔
اُردورِپورٹرکے ایک مدیر عبد الرشید ا س کی یاد دِلانے کیلئے ابھی کل تک بقیدِ حیات تھے اللہ بخشے یہ موصوف جولائی ۲۰۱۲ءمیں راہیٔ عدم ہوئے۔
اسی طرح مشہور فلم رائٹر جاوید صدیقی (رامپوری)کاتذکرہ نہ کرنا خلافِ انصاف ہوگاکہ یہ موصوف بھی روزنامہ اُردو رِپورٹر کے موسس اور ادارتی سربراہوں میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے ممبئی کے ایک قدیم روزنامے، ’ خلافت‘ سے اپنا صحافتی سفر شروع کیا تھا۔ موصوف ایک اعلیٰ درجے کے ادیب بھی ہیں اُن کے لکھے ہوئے خاکوں پرمشتمل ایک کتاب’’ روشندان‘‘ شائع ہو کر خواص و عوام میں مقبول ہوئی زبان و بیان اور تاثیر و تاثر سے بھر ی پُری یہ کتاب دورِ گزشتہ کے تاریخی کردار بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اور ہندوستانی فلموں میں جاوید صدیقی کی فتوحات کون نہیں جانتا۔۔۔!!
ہمارے ایک بزرگ دوست عثمان غنی روزنامہ آجؔ پھر ہندوستانؔ سے وابستہ رہے۔ وہ ممبئی میں کرائم رِپورٹر کے طور پر نیک نام تھے۔ جب بھی ہم اُنھیں دیکھتے توحضرتِ بلالؓ حبشی یاد آجاتے تھے۔ مگر ان کے شیشۂ قلب پر کسی بھی طرح کے داغ دَھبے تو کجا ایک سیاہ چھینٹا بھی نہیں تھا۔ برسوں قبل مرحوم عثمان غنی کی ایک کتاب’’ چہرے‘‘ شائع ہوئی تھی جس میں اُنہوں نے شہر کے ’سفید پوشوں‘کی نقاب کشائی کی تھی یا پردہ پوشی؟ ۔۔۔ہم کیوں بتائیں، چہرے آپ خود پڑھیں۔
ممبئی کے قدیم صحافیوں میں جنہیں نئی نسل نہیں جانتی ان میں مولانا خجندی (اجمل ) علامہ بدرؔ جلالی (خلافت ) معین الدین حارثؔ (اجمل ) وغیرہ شامل ہیں ۔یہ لوگ ممبئی کی اُردو صحافت کے ستون تھے اسے ہمارا غلو،نہ سمجھا جائے تو عرض ہے کہ آج کی اُردو صحافت میں کوئی ایک شخص بھی ایسانہیں جو اپنی عِلمی و فنّی استطاعت کے سبب اِن بزرگوں کی صف میں شامل کیا جاسکے اورموجودہ صحافیوں کے ظاہری ٹھاٹ باٹ، شہرت اور مالی منفعت کے سامنے مذکورہ بزرگ کہیں پیچھے تھے ۔ ہم یہاں صرف معین الدین حارث کا ذکر کرینگے ۔ مرحوم کھدر کی شیروانی اور پیروں میں کولہاپوری چپّل پہنے دفتراجملؔ (جے جے ہسپتال کے چوراہےجو آج ڈاکٹراقبال چوک سے معروف ہے)سے انجمن اِسلام(وی ٹی ریلوے اسٹیشن)پیدل جاتے تھے، جس زمانے میں ہم نے اُنھیں دیکھا وہ (ممبئی کے سب سے بڑےمسلم تعلیمی ادارے) انجمن اسلام کے صدر تھے مگر اُن کی سادگی اور بے لوثی کا سایہ بھی آج کے صدورِ انجمن اسلام کو چھٗو کر نہیں گزرا۔ وہ اعلیٰ درجے کی سیاسی بصیرت کے حامل تھے ، ٹائمز آف انڈیا کے مشہور شامنامے’ایوننگ نیوز‘ میں باقاعدہ M.Harisکے نام سے وہ ایک کالم لکھتے تھے انگریزی کےقارئین اسے کسی انگریزM.Harisکا مضمون سمجھ کر بصد شوق پڑھتے تھے۔ اسی طرح اُن کا ایک کالم مراٹھی کے روزنامے میں بھی مقبول تھا۔ مراٹھی یقیناً اُن کےگھر کی بولی تھی مگر جب لکھنؤ ، دہلی اور الہ آباد کا کوئی اُردو والااُنھیں اُردو میں تقریر کرتے سنتااور جب اسے یہ بتایا جاتاکہ یہ حضرت نہ دہلی کے ہیں اور نہ لکھنؤ کے بلکہ یہ تو سپوتِ کوکن ہیں تو وہ حیرت سے منہ تکتا رہ جاتا تھا۔ اُن کے اخلاص اور بے لوثی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ مرار جی دیسائی نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں انھیں جنتا پارٹی کی قومی صدارت کی پیشکش کی مگر اُنہوں نے اپنے شہر ممبئی سے دہلی جانا پسند نہیں کیا۔ معین الدین حارث کے بےلوث کردار اور ان کے تبحر ِعلمی کا ایک زمانہ معترف ہی نہیں بلکہ ان کی عزت و احترام میں سَر جھکا دیتا تھا۔
اس وقت اپنے ایک عزیز شاہد و مشہود اوردیرینہ رفیق ِ کار کا یہ جملۂ لطیف ذہن میں گونج رہا ہے:
’’ ندیم صاحب! اب اخبار عِلم وِلم سے نہیں نکلتا۔‘‘
جسے سن کر ہم اُس وقت بھی ہنس پڑے تھے اور آج بھی جب یہ جملہ یاد آتا ہے تو اُسی ہنسی کے ساتھ ۔
اُردوکےمشہورادیب و ناقد ڈاکٹرظؔ انصاری کانام بھی ممبئی کے صحافیوں میںایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے جنہیں ہم نے دیکھا ہی نہیں اُن کے ساتھ کام کرکے آج اخبارچی کہے جانے کے قابل بنے ۔ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ ظؔ انصاری نے اپنے عہد میں اُردو صحافت کو جس مقام پرپہنچادِیاتھا وہ خود اپنے آپ میں ایک تاریخی واقعہ ہے ۔ جس کا ثبوت اُن کے مجلے ’’آئینہ ‘‘ کے صفحات ہیں ۔ آزاد ہندوستان میں یہ ہفت وارممبئی سے(چھٹی دہائی میں) فوٹوآفسیٹ کی تکنیک سے شائع ہونے والا اپنے دَور کا ممتاز ترین ہی نہیں ایک مثالی مجلہ بن گیاتھا۔
ممبئی کی صحافتی تاریخ میں یہ اعزاز بھی ڈاکٹر ظؔ انصاری ہی کو حاصل رہاکہ وہ روزنامہ انقلاب کے دوبار مدیر بنے ۔ ہر چند کہ دونوں بار اپنے مخصوص مزاج کے سبب انھیں اس ملازمت سے دست بردار ہونا پڑا۔
انقلاب میں جب وہ دوسری بار ۱۹۸۶ءمیں مدیر بنائے گئے ۔ تو اُنہوں نے اِس اخبار میں جُز وقتی ادارتی کام کرنے والوں کو دفتر باہر کیا اوروہ لوگ جو باصلاحیت تھے اُن کے لئے کل وقتی ملازمت کے بند دروازے کھولے۔ یہاں اس کی وضاحت ضروری ہے کہ اخبار کی ملازمت سے معاشرے میں ایک نمایاں تشخص حاصل ہو جاتا ہے جس کے سبب اُس دَور کے بہت سے ٹیچر اور دیگر حضرات(دِن کے اوقات میں) کہیں اورکُل وقتی ملازمت کررہے تھے اور شام کے اوقات میں انقلابؔ کی جزوقتی ملازمت کی کرسی پر بھی براجمان ہوتے تھے۔ ڈاکٹر ظ ؔانصاری نے انھیں پیش کش کی:
’’آپ یا تو انقلاب کی کُل وقتی ملازمت سے رِشتہ رکھیں یا اپنے اسکول سے ۔۔۔
بصورتِ دیگر قوم کے دوسرے بے روزگاروں کےلئے انقلاب کا راستہ صاف کردیں۔‘‘
انقلابؔ میں ہماری ملازمت کو استحکام بھی ظؔ مرحوم ہی کی وجہ سے ملاتھا ۔جس کا دورانیہ ۲۲؍سال پر محیط ہے ۔واضح رہے کہ راقم السطور ۲۰۰۹ءمیں روزنامہ انقلاب(ممبئی) کی ملازمت سے ریٹائر ہوا ہے ۔
کسی بھی اخبار میں مدیر کے ساتھ اس کا عملہ بھی ماہرانہ صلاحیت کا حامل نہ ہو تووہ اخبار کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہاں ہمیں اپنے وہ تمام ساتھی یاد آتے ہیں جن کی معیت میں ہم نے انقلاب میں کام کیا ۔ محمد سعید انصاری کسی کالج یا کسی یونیورسٹی کے فارغ نہیں تھے مگر اپنی محنت سے اتنی علمی استطاعت پیدا کر لی تھی کہ وہ کتابت ، کاپی پیسٹنگ کے ساتھ ترجمہ بھی اعلیٰ درجے کا کرتے تھے اپنی صلاحیت اور محنت نیزاِخلاق کے سبب وہ انقلاب کےنیوز ایڈیٹر کے منصب پر فائزتھے اور اسی ملازمت کے دَورمیں وہ اللہ کوپیارے ہوئے۔ نیازاعظمی کلکتہ یونیورسٹی کے ایم اے(گولڈ میڈلسٹ)تھے، اُن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انقلاب میں دو ایم اے ہیں ایک خالد انصاری (ایڈیٹر اِن چیف) دوسرے نیاز اعظمی۔
عبدالحمید انصاری کے زمانے کے، اورد فتر میں سب سے سینئر تر تھے کامریڈ محمود راہی جو اُردو کے مشہور شاعر محویؔ صدیقی لکھنوی کے فرزند تھے۔ اُنہوں نے پوری عمر انقلاب میں گزاری عموماً وہ بڑی خبر ہی بناتے تھے ۔ اُن کی ہینڈ رائٹنگ ہمیں آج بھی یاد آتی ہے نہایت صاف اور چھوٹے چھوٹے لفظ لکھتے تھے۔ مالکان اِس درجہ اُن کا احترام کرتے تھے کہ آخری دِنوں میں وہ د فتر تو آتے تھے مگر اُن سے کوئی کام نہیں لیا جاتا تھا اور تنخواہ پورم پور دِی جاتی تھی۔ موصوف اپنی کرسی ٹیبل پر کاغذ قلم لئے ایک اہتمام کے ساتھ ایسےبیٹھے رہتے تھےکہ جیسے تھوڑی دیر میں وہ بڑی خبر بنا کر دینے ہی والے ہیں۔ ایک واقعہ یہاں یاد آتا ہے۔ د فتر میں کچھ ساتھیوں کی کام چوری کےسبب انتظامیہ کی طرف سے ہر شخص کو روزانہ اپنی کار گزاری ایک کاغذ پر لکھنے کا حکم ہوا وہ کاغذ،یک ورقی فارم کی شکل میں د فتر کی طرف سے سب کو دِیا گیا۔ محمودراہی یک ورقی فارم اپنے ٹیبل پر رکھ کر کسی حاجت کے سبب کہیں چلے گئے جب لوٹے تو وہ فارم اُڑ کر اُن کی کرسی کے نیچے ردّی میں جا پڑا۔ہماری نظر پڑی تو ہم نے اسے اُٹھا کر انھیں دیا کہ راہی صاحب یہ آپ کا فارم اُڑا اُڑا پھر رہا ہے۔ کیا اسے پُر نہیں کریں گے ۔؟
محو ی صدیقی کے فرزندِ ارجمند، نہ جانےاُس وقت کہاں محو تھےکہ ہماری بات کو انہوں نے طنز سمجھ لیا اورنیوز ایڈیٹر سعید انصاری سے شکایت کی کہ کل پرسوں کے آئے ہوئے لونڈے ہم سے کہہ رہے ہیں کہ ’’کار گزاری درج نہیں کروگے ۔۔۔؟‘‘
بھائی سعید انصاری اور ہم رات ، ایک ساتھ گھر لوٹتے تھے اُنہوں نے راستے میں ہمیں یہ بات بتائی اور سخت سست کہا کہ’’ میاں ! راہی صاحب تم سے بہت سینئر ہیں تم کو اُن کا لحاظ رکھنا چاہئے تھا۔‘‘
ہم نے اپنی صفائی میں سارا واقعہ کہہ سنایا مگر ۔۔۔!
سوئے اتفاق دوسرے دِن ( ۲۱؍اپریل۱۹۸۶ء)مشہور ترقی پسند ناقد و ادیب سبطِ حسن جو پاکستان سے کسی سیمی نارمیں شرکت کےلئے دہلی آئے ہوئے تھے، دورہ ٔقلب کے سبب جاں بحق ہوئے تو اُن کی خبر محمود راہی ہی نے بنائی جس کی سرخی اور متن میں سبطؔ کو وہ’ س‘ کے بجائے ’ص‘ سے (صبط حسن) لکھ گئے۔ ہم اُن دِنوں تصحیح نگاری پر مامور تھے۔ کاتب نے بھی مکھی پر مکھی ماری۔ ہمیں گزشتہ رات کی سرزنش نے اپنی گرفت میں لے رکھاتھا سو ہم نے ’صبط ِحسن‘ کا مسودہ اپنی جیب میں رکھا اور جیسا اِملا لکھا گیا تھا،اُسے ویساہی جانے دِیا۔
دوسرے دن کے انقلاب میں صفحہ اوّل پر’ ص ‘ سے سبط ِحسن کی خبر چھپی توقارئین کے کئی فون آئے۔ مدیرِ محترم ظؔ انصاری نے محمود راہیؔ سے سوال کیا تو اُنہوں نے جواب دِیا۔ بیشک میں اِملے میں غلطی کر گیا اور اس کا احساس گھر جانے کے بعد ہوا۔
ظ صاحب نے ہم سے کہا:میاں ندیم ! آپ تو سبطِ حسن کو جانتے بھی ہیں،یاد آتا ہے کہ آپ مجھ سے اُن کی کتاب’سخن دَر سخن‘ پڑھنےکیلئے لے گئے تھے پھر بھی اُن کے نام کا اِملہ’ص‘ سے جانے دِیا ۔!
ہم نےایک چپ ہزار بلا ٹالنے والے فارمولے پر عمل کیا۔مگر آج جب سوچتے ہیں تو اپنی اس حماقت پر شرمندگی ہوتی ہے۔
مشہور ہے کہ مولانا عبد الماجد دریا بادی کی تحریر نقطوں سے عاری ہوتی تھی ، کاتب اپنی صوابدید سے نقطے لگاتا جاتا تھا۔ قدما کا خط جن لوگوں نے پڑھا ہے انھیں یاد ہوگا کہ خوشخط سے خوش خط اہل ِ قلم بھی نقطوں کے معاملے میں دامن ِ احتیاط چھو ڑ رکھتا تھا۔ ممبئی میں مسلم پرسنل لا بورڈکا اجلاس تھا اس موقع پر انقلاب میں ڈاکٹر ظؔ انصاری نےاداریے میں کہیں علمائے فحول لکھا ،حضرتِ کاتب نے اُسے علمائے مخول پڑھا ہی نہیں، لکھا بھی ،ظاہر ہے دوسرے دِن یہی علمائے مخول اخبار کے اداریے میں چھپا بھی، اجلاسِ مذکور میں اس اداریے پر ہنگامہ ہواکہ’’ انقلاب کے اداریہ نگار نے علماکی توہین کی ہے۔ ‘‘نتیجے میں مولاناضیا ٔ الدین بخاری نے انقلاب کے خلاف نعرے لگوانے کا اعلان کیاکہ حاضرین جب میں کہوں۔۔۔ ’انقلاب‘ ۔۔۔ تو آپ لوگ مردہ باد مردہ باد کہئے۔ ہُوااِس کےبرعکس جب مولانا ضیا ٔ الدین بخاری نےزوردارآوازمیں کہا:
۔۔۔ ’’انقلاب‘‘۔۔ ۔تو عوام کی آوازگونجی۔۔۔ زندہ باد۔۔ ۔ زندہ باد۔۔۔مولانا موصوف نے لوگوں سے پھر کہا کہ ۔۔۔ زندہ باد نہیں ۔۔۔مردہ باد کہئے۔۔۔ مردہ باد۔۔۔!
مختصر یہ کہ مولاناکی باربار کی تاکید کے بعد لوگوں نے مردہ باد کا نعرہ لگایا۔ یہ واقعہ ہمیں انقلاب کے سب ایڈیٹر تشنہ صاحب کی حرارتِ عزیزی نے یاد دِلایا ۔ پہلے تشنہؔ مرحوم کا مختصر تعارف ہو جائے ۔
ہمارے بزرگ دوست(ممتاز فکشن نگار اور شاعر) ایم اے تشنہؔ نہایت محنتی اور صِرف کام کرنے والے سینئر ترجمہ نگار تھے لوگ باگ’ ایم اے‘ اپنے نام کے ساتھ اخیر میں لکھتے ہیں مگر شمس آباد( ضلع فرخ آباد) کے تشنہؔ صاحب مجسم ایم اے ہوتے ہوئے بھی ایم اے نہیں لکھتے تھے، اُنکے نام کے شروع میں جو ’ایم اے ‘ تھا وہ اُنکے خاندانی نام یعنی مقبول احمد کا مخفّف تھا۔تشنہ مرحوم نے اپنی عمر کے آخری دِنوں تک انقلاب میں’معمہ سازی ‘کی ۔ ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ رِیاضی میں کمال کا ذہن رکھتے تھے لاکھوں کے اعداد کی۔۔ ۔ نفی، جمع، ضرب کے حاصل کو ایک ہی سانس میں بتا دیتے تھے۔ یہ سنی سنائی نہیں آزمائی ہوئی بات ہے۔ یہ وصفِ ریاضی انھیں فطری طور پر ودِیعت ہوا تھا جب وہ طالب علم تھے تو اُن کے استاد کلاس میں چیلنج کرتے تھے کہ ہے کوئی ریاضی میں، میرے شاگرد ِ مقبول کو پچھاڑنے والا؟
کسی زمانے میں ان کی افسانہ نگاری کےچرچے ماہنامہ بیسویں صدی (دہلی) میں ہوتے تھے۔ مگر ایک کمزوری یہ بھی تھی کہ علم و ادب کی کوئی بات جو اُن کے ذہن میں جگہ بنالے اور وہ غلط ثابت کر دِی جائے، تب بھی اُس کی تصحیح کےلئے وہ راضی نہیں ہوتے تھے ، بظاہربحث نہیں کرتے تھے مگر مانتے بھی نہیں تھے۔ مثلاً طب کی ایک اصطلا ح ہے ’حرارتِ غریزی‘ (یعنی طبعی حرارت)وہ تمام عمر اسی پر اصرار کرتے رہے کہ یہ ’حرارتِ ِعزیزی‘ ہے، تشنہؔ مرحوم ہمیں بہت عزیز تھے سو ہم نے اپنی حرارتِ عزیزی کو کبھی سرد نہ ہونے دِیا ۔ اللہ اُن کی مغفرت ہی نہیں ان کے درجات بھی بلندکرے۔ اُن کے بارے میں بہت سوچنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ پٹھانوں کی بستی قائم گنج ( ضلع فرخ آباد) کے خاں صاحبوں کی رعیت، انصاری برادری کے مقبول احمد، پٹھانوں سے ایسے مرعوب ہوئے کہ بس ۔۔۔!
غربت و خوف مل کر انسان کی نفسیات کو عجب بنا دیتا ہے۔ تشنہ صاحب اسی نفسیات کی ایک چلتی پھرتی تصویر بن گئے تھے یعنی افلاس نے ان کی نفسیات کو بھی مجروح کر دیا تھا۔ اللہ اِس افلاس سے کسی بھی حساس قلم کار کو دور رکھے۔ ان کے بعض افسانے حقیر نے پڑھے ہیں انہی کے نتیجےمیں یہ بات لکھ گیا۔ یہ حرارتِ عزیزی بھی علمائے مخول جیسی ہی غلطی رہی ہوگی کہ کسی کاتب نے حرارتِ غریزی کو حرارتِ عزیزی لکھ مارا جس پر ہمارے تشنہ صاحب ایسے ایمان لائے کہ مَرتے مَر گئے مگر حرارت ِعزیزی کو دِل و دماغ سے کم نہیں ہونے دِیا۔
ایک واقعہ تشنہؔ مرحوم کے حوالے سے اور یاد آتا ہےکہ روزنامہ قومی آواز(ممبئی) میں بھی اُنہوں نے کام کیا تھا۔ اس اخبار کے عملے میں کچھ صحافی دہلی د فترسےآئے تھے جن میں بعض غیر مسلم حضرات بھی تھے۔ ایک دِن کاتب اور دیگر حضرات دوپہر کا کھانا ایک ساتھ کھا رہے تھے۔ ہمارا دوسرا یا تیسرا دِن تھا۔ دیکھاکہ باتھ ر وم کے پاس تشنہ صاحب کہیں ایک کونے میں سر جھکائے روٹی اورمٗولی کے کباب کھا رہے ہیں ہم اُنھیں وہاں سے اُٹھا کر اپنے ٹیبل پر لائے اور ساتھیوں سے کہاکہ آپ اپنے سینئر ساتھی مقبول احمدتشنہ کو یوں نظر انداز کرتے ہیں؟۔۔۔
کسی نے جواباًکہا : ہم تو اِنہیں ایم اے کرشنا سمجھ رہے تھےکہ شاید یہ’ شاکھاہاری‘ ہوں۔
یہ سطریں لکھتے وقت تشنہ صاحب کا ایک شعر حافظے کے آئینے میں جلوہ نما ہے:
بھنو ر میں جس نے مجھے ڈوبتے ہوئے دیکھاوہ موج آج بھی ساحل پَہ سَر پٹختی ہے
رفیع خان نیازی بھی ایک دِلچسپ صحافی کے طورپر مشہور تھے، اُن کی ہمہ جہت کتب بینی کا چرچا ایک دُنیامیں تھا کسی زمانے میں انقلاب میں کئی کنوارے تھے، جس میں سرِ فہرست تھے ایس ایس جعفری، پھر رفیع خان ، سید محمدعباس، شحیم خان اورحُسن ِعالم ر ضوی۔
ایس ایس جعفری تو دُنیا میں جیسے آئے تھے ویسے ہی رُخصت ہوگئے، رفیع خان کے سرپر سہرا تو نہیں دیکھ سکے البتہ اُن کے جُھری آثار چہرے پر آج ساٹھے پاٹھے میں بھی شادی کے نام پر ایک سرخی ہم لوگ ضرور دیکھ لیتے ہیں اور حضرتِ عباس کے بارے میں تو یوں ہے کہ شاید اُنہوں نے کسی سے وعدہ کر لیا تھا کہ تمہارے بغیر کنوارا ہی مَروں گا۔ سو، سید محمدعباس ہیں اور اُن کی وفا، یعنی وفائے عباس کا علَم آج بھی یوں ہی بلند ہے۔
ممبئی کے ایک مشہور افسانہ نگار ساجد رشید بھی اس کا حق رکھتے ہیں کہ اُن کا بھی یہاں تذکرہ ہو،ہمارا حافظہ جہاں تک ساتھ دے رہا ہے یہ مرحوم روزنامہ انقلاب میں ایک کارٹونسٹ کی حیثیت سے سامنے آئے تھے۔ شعر ٹون کے نام سے اتوار کو اُن کا فن پارہ شائع ہوتا تھا۔ ہمارے ناقص علم کے مطابق کارٹون اور شعر کے اس آمیزے کے بانی وہاب حیدر تھے۔ جن کے کارٹون بھی کسی زمانے میں’شعر پَہ شوشہ‘ کے زیر عنوان انقلاب ہی میں شائع ہوتے تھے،بالخصوص غالب ؔ کے اشعار پر اُن کے بنائے ہوئے کارٹون خاصے مقبول ہوئے۔ موصوف کے کارٹونوں کا ایک مجموعہ بھی(حیدر آباد۔دکن سے ۱۹۶۴ءمیں) طبع ہوچکا ہے۔
ساجد رشید نے اس روایت کی اپنے اندازسے تجدیدکی ۔ حالاتِ حاضرہ پر اُن کے بنائے ہوئے شعر ٹون دلچسپ ہوتے تھے۔ اُس وقت اُن کا بنایا ہوا ایک شعر ٹون جو پروفیسر فضیل جعفری کے ایک شعر کے ساتھ منظر عام پر آیا تھا۔ظاہر ہے کہ وہ کارٹون تو اِس وقت نہیں ہے مگر فضیل جعفری کا شعر ضرور حافظے میں ہے جو یوں ہے :
آنسو بچا کے رکھیں گورنر ، مئیر ، وزیربرسات میں گریں گی ہی دو چار بلڈنگیں
ساجد رشید نے صحافت میں باقاعدہ کب سےکام شروع کیا یہ تو یاد نہیں مگر روزنامہ اُردو ٹائمز ہی ہے جس سے وہ نمایاں ہوئے۔ اتوار کو اُن کاکالم ’ زندگی نامہ‘ عوام میں بہت مشہور ہوا۔ بلکہ اُن کے کالموں کا ایک مجموعہ بھی اسی نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ’ریت گھڑی‘سے موسوم، مرحوم کے افسانوں کا ایک مجموعہ بھی ہمیں یاد ہے۔ مسلمانوں کے عام ’’ روِیے‘‘ سے ساجد رشید بہت خائف رہتے تھے۔
کبھی کبھی یہ رُجحان شدت بھی اختیار کر لیتا تھا تو وہ اپنے آپ کومذہب سے دور جتلاتے تھے اور عام گفتگو میں اعلان کرتے تھے کہ میں ایتھسٹ ہوں۔ مگر ہم نے کچھ لوگوں سے یہ بھی سنا ہے کہ وہ جمعے کی نماز کی پابندی بھی کرتے تھے۔مگر تاریخِ اسلام کے بعض کمزور پہلوؤں پر اُن کی تنقید ہی نے ان کے بارے میں مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو بد گمان نہیں بدظن کیا اوراس بد گمانی کی تردید کے بجائے ان کی طرف سےکچھ منفی شدت ہی سامنے آئی۔ بدنامِ ِزمانہ بنگلہ دیشی قلم کار تسلیمہ نسرین جب ممبئی آئی تو اس کے خیر مقدم کےلئے ساجد رشید بھی موجود تھے۔ اخبار ات میں چھپی ہوئی یہ خیر مقدمی تصویر راقم نے بھی دیکھی ہے۔ ایسی ہی کئی باتیں ہیں جو عام مسلمانوںمیں ان سے بد ظنی کا سبب بنیں۔
صاحبان ِاُردو ٹائمز کی اِطلاع کےمطابق اُنہوںنے منصوبہ بند طریقے سے اُردو ٹائمزسے علاحدگی اختیار کی اور جواباً ایک روزنامہ’’ہمارا مہانگر‘نکالا۔ جو چند ماہ ہی جاری رہا۔ کسی وقت کی اُن کی ایک’زیادتی‘کے نتیجے میں روزنامہ انقلابؔ میں وہ معتوب قرار پائے اور اِنقلاب ہی کیا اُردو ٹائمز میں بھی اُن کا نام تک چھپنے پر اِمتناع تھا۔
وہ ہندی زبان سے بھی شغف رکھتے تھے، ممبئی سے ’ مہانگر‘ نامی ہندی کے ایک دَینک اخبار سے وہ وابستہ ہوئے مگر وہاں بھی اُن کی بہت دن نہیں نِبھی۔ ایک مدت وہ اخباری دُنیا سے دٗور رَہے ۔ ظاہر ہے جس کا احساس اُنھیں بھی رہا ۔
جب مرزا امان عباس (لکھنؤ )کے روزنامہ’ صحافت‘ نےممبئی میں ڈول ڈالا تو یہ بتانا مشکل ہے کہ صحافتؔ کی وہ ضرورت تھے یا روزنامہ صحافتؔ اُن کی ضرورت بن گیا ۔مگرہوا یہ کہ ریزیڈنٹ ایڈیٹر کے طورپر ممبئی کے آسمانِ اُردو صحافت پر اُن کا ستارہ پھر چمکا اور خوب چمکا جیسے وقتِ آخر چراغ خوب روشن ہوتا ہے۔
دِل کی خرابی کے سبب وہ ہسپتال داخل ہوئے آپریشن ہوا،ایسے آپریشن نجانے کتنےمریضوں کے روز ہوتے رہتے ہیں مگر اس آپریشن کے بعد کسی وقت وہ کومہ میں چلےگئے اور پھر ایک دِن وینٹی لیٹر کو اُن کے جسد سے ہٹا لیاگیا، نتیجے میں اُن کی سناؤنی دور تک پہنچی۔ شکر ہے کہ جن اخباروںمیں اُن کا نام تک نہیں چھپتا تھا اُن اخباروں نے بھی اُن کی’ خبر ‘چھاپی۔ ساجد رشید کی عمر جانے کی تو نہیں تھی مگر جانا تو سب کو ہے کون کب جائے گا کس کو پتہ ۔۔۔!
یاد آتا ہے کہ ۱۹۷۰ءے آس پاس کسی زمانے میں اُنہوں نے (غالباً ویکلی) ’وقت‘ کے نام سے بھی ایک میگزین نما اخبارجاری کیا تھا۔ مگر اُن کا ادبی سہ ماہی’ نیا ورق‘ تمام ادبی دُنیا میں مشہور ہوا۔ اُن کے لائق فرزند شادابؔ میاں’ نیا ورق‘ کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
’ وہ کس درجے کے افسانہ نگار تھے،اُن کی افسانہ نگار ی کو اُن کی صحافت نے تقویت پہنچائی ؟
یا اُن کی صحافت نے انھیں مشہور کیا۔۔۔؟‘
یہ سوال کرنے والے کرتے رہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ممبئی میں نجانے کتنوں کیلئے’ بھائی‘ ثابت ہوئے۔ ایک بات یہاں لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ کسی پر بھی اپنی جارح تنقید کو حق سمجھتے تھے مگر اپنے معاملات میں وہ بہت نازک طبع واقع ہوئے تھے۔ ہم سنی سنائی نہیں بلکہ اپنا تجربہ بیان کرتےہیں کہ انقلابؔ میں جب ہم نے ادبی رسائل کے سر ورق کی تصویر کے ساتھ جرائد کا باقاعدہ تعارف کا سلسلہ شروع کیا تو ایک بار اُن کے پرچے’ نیا ورق‘ پر اپنا تاثر لکھتے ہوئے ’’کچھ‘‘ لکھ گئے تو جواباً اُن کا جو تأثر تھا وہ اتنا شدید تھا کہ جیسے ہم نے ان کے کسی زخم پر نمک رکھ دِیا ہو۔ ہر چند کہ وہ دو تین جملے ہی تھے اور بہت سادہ بھی مگر۔۔۔!
معاملہ یہ تھا کہ سہ ماہی ’ نیا ورق‘ کا ہرنیا شمارہ ہمارے پاس(ممبئی کے مشہور افسانہ نگار اورہمارے مشترکہ دوست) عبد العزیزخان دے جایا کرتے تھے۔ ہم سمجھتے تھے کہ ساجد رشید اسے بھجواتے ہیں مگر ہمارے مذکورہ تبصرے کے بعد معلوم ہوا کہ ’نیا ورق‘ وہ نہیں بھجواتے تھے بلکہ بھائی عبد العزیز خان اپنے طور پر ہمیں دے جایا کرتے تھے۔ ساجد رشید نے اُن سے کہا کہ اب ندیم صدیقی کو میرا پرچہ(نیا ورق) نہ دینا۔ (راوی یعنی عبدالعزیزخان ابھی زندہ سلامت اس واقعے کے گواہ ہیں۔)
ان سب باتوںسے قطعِ نظر ممبئی کی اُردو صحافت میں ساجد رشید کااپنے وقت میں ایک نمایاں کردار واضح ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
محمدعالِم نقوی(نصیر آبادی/ لکھنوی) ۱۹۹۰ء میں انقلابؔ کے (اوّل و آخر)اسسٹنٹ ایڈیٹر بنے مگر کام نیوز ایڈیٹر کا سونپا گیا۔ موصوف اپنا کام بڑی محنت اور یکسوئی سے کرتے تھے۔ سنڈے میگزین میں خاص مضمون بھی لکھتے تھے۔ شریف النفس عالِم نقوی کے مزاج کی تُندی کا نتیجہ ایک دن یہ نکلاکہ وہ انقلاب سے مستعفی ہوگئے۔
کئی برس لکھنؤ میں بے کار بیٹھے رہے،پھر یوں ہوا کہ روزنامہ اُردو ٹائمز کے ایگزیکٹیو ایڈیٹربن کر ممبئی لوٹے اور کوئی دس برس اِس اخبار کی پریس لائن میں اُن کا نام ایگزیکٹیو ایڈیٹر کے طورپرچھپتا رہا اور یکم مئی ۲۰۱۱ءکو وہ پھر لکھنؤ واپس ہوگئے۔ جہاں روزنامہ اودھ ناؔمہ کے گروپ ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں (واضح رہے کہ’ اودھ نامہ‘ روزانہ۱۶؍ صفحات پرمشتمل یوپی کے کئی شہروں ہی سے نہیں ممبئی سے بھی شائع ہورہا ہے۔) اُردو ٹائمز کا اداریہ پڑھنے والوں کا ایک طبقہ اُن سے شاکی رہتا تھا کہ وہ ہر مسئلے کو یہودیوں/ صہیونیوں سے جوڑ کر اپنی بات کو قرآنِ کریم سے مدلل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ حجتِ قرآن کے بعد قاری کچھ سوچنے نہ پائے۔ایک محفل میں موصوف نے اس اعتراض کا یوں جواب دِیا : ذرا کوئی بتائے کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے کس قوم کا سب سے زیادہ ذِکر کیا ہے اور کس طرح کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ اُن کے اِس جواب پر مجمع میں بیٹھے ایک شناساکی یہ سرگوشی بھی سنی گئی:
’’ اپنی کمزوری کو قرآن کریم سے مستحکم کرنے کی کیا’ عالمانہ‘ سعی ہے۔
جس پر حضرتِ عزازیل کو بہت خوشی ہوئی ہوگی۔‘‘
عالِم نقوی اپنے دَور میں ممبئی کی اُردو صحافت میں اسلامی فکر کے حامل واحد صحافی سمجھے جاتے تھے، جن سےاختلاف تو ممکن تھا مگر اُن کے خلوص اورنیت پر شک کسی کفر سے کم نہیں۔ ہم جب عالِم نقوی کو ذہن میں رکھ کر سوچتے ہیں تو ممبئی کے قلم پیشہ لوگوں کو گننے کے لئے ہمارے ہاتھ کی پانچ اُنگلیاں زیادہ محسوس ہوتی ہیں۔ کیا یہ بات کسی اعزاز سے کم ہے کہ اُن کی تحریریں ،اداریے اور مضامین وغیرہ کی شکل میں آج بھی اُردو ٹائمز میں بہ اہتمام شائع کی جارہی ہیں۔
اُردو ٹائمز کے موجودہ ایگزیکٹیو ایڈیٹر عبدالرحمان صدیقی(کانپوری) بھی انقلاب میں ہمارے ساتھی رہ چکے ہیں ان موصوف پر ’ہرفن مولا صحافی‘ کا جملہ فٹ ہوتا ہے ان کی ہینڈ رائٹنگ بھی عجب تھی (ہے) کاتب عرفان علوی اُنکے مسودےپرپہلے تین بار سورۂ اخلاص پڑھتے تھےپھر کتابت کرتے تھے۔ وسیم انصاری ، حسنِ عالم رضوی، جاوید جمال الدین، ظفر زاہدی، شحیم خان، ریحانہ شیخ، جہانگیر کاظمی، شکیل رشید، سعید حمید، مشتاق علی،سید ظہیر الدین ، ساجد خان ،عظمت اللہ صدیقی،اِرتضیٰ نشاط اور عرفان عثمانی وغیرہ بھی اپنے قلم کی روشنائی سے انقلاب کو روزانہ اسمِ بامسمیٰ بنانے کی کوشش کرتے تھے ۔ جس طرح برادرم شاہد لطیف کے نمک پارے اب بھی قارئین کو یاد آتے ہیں (اب یہ عزیز م اس اخبار کے مدیرِ محترم ہیں) اُسی طرح عرفان عثمانی کی ایجاد ’رمضان ڈائری‘بھی لوگ بھولے نہیں۔انقلاب کےہمارےآخری دِنوں میں فاروق انصاری (کیرم باز) ، عبد الحئی، حافظ سعید خان، کاظم شیخ، ندیم عصران،اقبال انصاری ، رئیسہ منور،شیرین عثمانی، وغیر ہ بھی شعبۂ ادارت میں شامل کر لی گئی تھیں اور بھیونڈی کے قطب الدین شاہد،عاصم جلال ، محمدحبیب (ابن ِ ایم اے تشنہ) ، شہاب انصاری، مبشر اکبر،ارقم مومن،فرزانہ انصاری ، عبد الکریم قاسم اور نادرؔجیسے نوجوان روزنامہ انقلاب کے جسد میں تازہ خون کی مانند دوڑ رہے ہیں ۔
سومناتھ مندر والے پٹّن کے اقبال پٹنی کا بھی ذکرِ جلی ضروری ہے یہ موصوف تصحیح نگاری پر مامور تھے اور صرف کتابت کی غلطیاں نہیں پکڑتے تھے بلکہ اُن کی نظر اوردماغ دونوں کام کرتے تھے، بظاہرمِمکری آرٹسٹ اقبال پٹنی ذہین و فطین تھے جملے بازی میں اُ ن کا جواب کم از کم انقلاب میں تو نہیں تھا۔اُن کے طنزیہ جملے مہینوں گونجتے رہتے تھے۔ پٹنی جب کسی ساتھی کی کسی غلطی پر ناراض ہوتے توکہتے تھے کہ انقلاب کی تاریخ میں آپ کا نام ضرور لکھا جائے گا۔۔۔ اورکچھ توقف کے بعد تاسف بھرےلہجے میں کہتے ’’ مگر افسوس کہ انقلاب کی تاریخ ۔۔۔تو لکھی ہی نہیں جائے گی۔! ‘‘
ایک بارکتابت شدہ اداریہ لئے ہوئے جس میں ایک لفظ(مطمحِ نظر) کا اِملا غلط لکھا ہوا تھا، مدیر محترم کے پاس پہنچے جو کبھی اُن کے اُستاد رہ چکے تھے۔ سَر۔۔۔ سَر!۔۔۔ اِ س لفظ کااِملا کیا ہے؟ ۔۔ ۔ اقبال پٹنی کے سَر نے جواب دیا :۔۔۔مطمع نظر ۔۔۔مدیر موصوف کے پاس ہمارے ایک سینئر ساتھی بھی بیٹھے ہوئے تھے، اُن سے مدیرِ موصوف نے پوچھا کہ بھئی آپ بتائیں؟ اُنہوں نے فوراً سے پیشتر سَر کے سُرمیں سُرملاتے ہوئے کہا: آپ صحیح اِملا بتا رہے ہیں۔۔۔ مطمع نظر۔ ۔۔ ہی صحیح ہے۔
اب اقبال پٹنی کی رگِ ظرافت پھڑکی ایسا ہے تو پھر اس کے معنی ہوئے طمع کی نظر۔۔ ۔ دونوں حضرات کا جواب تھا: ہاں ہاں یہی صحیح ہے۔ اب اقبال پٹنی نے لُغت اُٹھایا تو اس میں اصل اِملا (مطمحِ نظر) دیکھ کر دونوں حضرات ایک دوسرے سے منہ چھپانے لگے اور پٹنی صاحب اپنا تکیہ کلام ۔۔۔’’ فوٹو کہیں کے‘‘ بُدبُداتے ہوئے ایڈیٹر کے کیبن سے باہر نکل لئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنے کام میں طاق تھے اکثر لوگ اخبار میں پروف ریڈِنگ کے کام کو سب سے نچلا درجہ دیتے ہیں۔ اقبال پٹنی کا یہ جملہ اِس وقت یاد آتا ہے :
’’کام کام ہوتا ہے۔ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔
سوئی کی جگہ سوئی ہی کام کرتی ہے، توپ نہیں اور توپ کی جگہ سوئی کا کیا کام؟!‘‘
اِنقلاب میں ڈاکٹر ظؔ انصاری کی، دو سرے دَور کی ادارت سال بھر کی مدت بھی پوری نہ کرسکی مگر اس حقیر کی آنکھوں نے دیکھاہے کہ انقلاب کے قارئین صفحہ اوّل پر شاہ سرخی کے بعد جو چیز سب سے پہلے پڑھتے تھے وہ صفحہ۳؍ ظؔ انصاری کا ایڈیٹوریل ہوتاتھا ۔ ہم نے اپنے دَور میں کسی مدیر کے اداریوں کامجموعہ دیکھاہے تو وہ یہی ڈاکٹر ظؔ انصاری ہیں کہ انقلاب کے اداریوں کاایک انتخاب ’’کانٹوں کی زبان‘‘کامٹی (ناگ پور)کی ’’بزمِ غالب ‘‘ نے ظؔ صاحب کی حیات ہی میں چھاپ دِیا تھا۔ انقلاب میں ان کے بعد اگرکوئی باوقار علمی تشخص کی حامل شخصیت کرسی ٔاِدارت کو نصیب ہوئی تو وہ دورِ جدید میں اُردو کے ممتاز نقاد و ادیب پروفیسرفضیل جعفری ہیں۔
اُنھیں بھی یہ اعزاز حاصل رہاہے کہ اُنھیں باعزت طریقے سے بلا کر دوسری بار ادارت کی ذمہ داریاں دِی گئیں ۔ اُن کے دونوں دَورکا انقلاب بھی ایک ’’انقلاب ‘‘ ہی ثابت ہوا۔پروفیسر فضیل جعفری کے اداریوں کو بھی مہاراشٹر کے اُردو قارئین میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔
راقم السطور کے پاس باقاعدہ مرتب کیا ہوا اُن کے اداریوں کا ایک انتخاب موجو د ہے جس میں ( ۱۹۹۲ءسے ۲۰۰۴ءتک ) مسلم دُنیا کے حالات و واقعات موضوع بنے ہوئے ہیں سچ تو یہ ہے کہ پروفیسر فضیل جعفری کے یہ اداریے ایک خاص دَور کی تاریخ ہیں ۔ کاش کوئی صاحب، انھیں کتابی شکل میں چھاپ دیں تو یہ اداریے آئندہ نسل کیلئے ایک روشن سبق بن سکتے ہیں ۔
آرکے کرنجیاکا اُردو بلٹز بھی ممبئی کے اخبارات میں ایک امتیازی حیثیت کاحامل رہا ہے۔منیش سکسینہ ، انور عظیم،اختر حسن(حیدر آبادی) اورحسن کمال وغیرہ کی ادارت نے اسے اُردو کے ہفتہ وار اخبارات میں اوّل اوّل مقام پرپہنچادِیاتھا۔ یہی وہ ہفت روزہ ہے جس کاآخری صفحہ خواجہ احمد عباس جیسے ممتاز ادیب و فلم ساز کی تحریر کی وجہ سے اوّل صفحے سے زیادہ مقبول تھا۔ اُردو بلٹز ہی نے ہارون رشید’علیگ‘ جیسا خوبصورت صحافی اُردوکو دِیا ۔ وہ بھی انقلاب کے مدیر بنائے گئے ۔روزنامہ انقلاب کی ۲۲؍سالہ ملازمت میں ہم نے چھ مدیروں کی معیت میں کام کیا ۔کسی ایڈیٹر کی رِحلت پر ہم رنج وغم کی کیفیت سے دوچار ہوئے تو وہ ہارون رشید علیگ تھے۔ واضح رہے کہ شمیم زبیری، ڈاکٹر ظ انصاری اور ریاض احمد خان کا اِنتقال اِنقلاب کی ادارت سے علیحدگی کے بعد ہوا۔پروفیسر فضیل جعفری کی عمرمیں اللہ صحت کے ساتھ برکت دے اور عزیزم شاہد لطیف کی عمر تو انشا اللہ بڑھتی ہی رہے گی۔
ہارون رشید علیگ خوب شخص تھے فلموں کے بارے میں اُن کی معلومات مشہور تھیں۔ اِنقلاب کےدورِ ادارت کے ابتدائی ایام میں و ہ ہم سےکچھ قریب تھے کسی رفیقِ کار کو یہ قربِ لطیف کھٹکا تواُنہوں نے ہارون رشید کے کان بھرےکہ ندیم صدیقی کچھ نہیں جانتے(کہنے والے نے کہا تو سچ ہی تھا)۔ انقلاب کے اندرونی صفحات ہماری نگرانی میں مرتب ہوتےتھےایک دن ہم صفحات بنوا رہےتھے پیچھے سے ہارون رشید نے کاندھوں پر ہاتھ رکھا اور ہم سے پوچھا : ندیمؔ! فلم مرزا غالب کس نے لکھی تھی؟۔۔ ۔فوری طورپر ہمیں جواب نہیں سوجھا توہم نے کہا: نہیں معلوم۔ ۔ ۔ ہارون رشید نے ہمارا کاندھا دَباکر کہاکہ سعادت حسن منٹو نے فلم مرزا غالب لکھی تھی۔
جس ’پیج میکر‘ سے ہم اخبار کے صفحات بنوا رہےتھے، وہ(ندیم عصران) ہمارا بھتیجا تھا۔ ہماری انا نے تصور میں سر اُٹھایا کہ ’’بچوں کے سامنےامتحان لیتے ہو،۔۔۔۔ ہارون صاحب ! اللہ نے چاہا توپھر کسی وقت حساب ہو جائے گا۔‘‘
دو تین دن بعد ہم حسبِ معمو ل شام کو د فترآئے تو موصوف اپنے ایر کنڈیشنڈ کیبن میں قیلولہ کی حالت میں تھے۔ ہم نے آدھادرواز ہ کھولا اور اندر گردن ڈالی اور زور سے سلام کیا، پھر عرض کیا: ہارون صاحب! ذرا بتائیں تو’’ سعادت حسن منٹو نے ایک فلم میں کردار بھی ادا کیا تھایعنی فلم میں ایک پاگل کا رول کیا تھا۔ اُس فلم کا نام کیا تھا ؟‘‘
موصوف ایک لمحے کےلئے تو خاموش رہے، جب انھیں کچھ نہیں سوجھا تو چپ چاپ نفی میں گردن ہلا دِی۔۔۔ ہم نے کہا: فلم کا نام تھا: ۔ ۔۔آٹھ دن۔۔۔جس میں سعادت حسن منٹو نے ایک ایسے نیم دِیوانے کا کردار اداکیا تھا،جس کے ہاتھ میں ایک گولہ ہے اور وہ اسے ایٹم بم بتاتا ہے اور بار بار دھمکی دیتا ہےکہ کہو تو ایٹم بم مار دوں۔۔۔!
ہارون رشید نے کہا: آپ نےکہاں پڑھا ؟
ہم نے ہنستے ہوئے کہا کہ اُسی اخبار(انقلاب ) میں جس کےآپ مدیرِ محترم ہیں۔
پھر اُنہوں نے سوال کیا کہ کب اور کس کے مضمون میں؟
ہم نے کہا :پانچ دِن قبل( روزنامہ انقلاب میں) انتظار حسین کا مضمون’’میرے اور کہانی کے بیچ‘‘ چھپا تھا اسی مضمون کے آخری حصےمیں یہ بھی درج ہے۔
ہارون رشید 🙁 ہنستے ہوئے) ۔۔۔ارے واہ
ہم نے بھی اپنی بتیسی دِکھائی اور کیبن کا دروازہ بند کر دِیا۔ یہاں اس کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ تمام باتیں ہمارے کسی بھی ساتھی نےنہیں سنیں۔
غازی پور (یو پی)کے ہارون رشید اُردو صحافیوں میں اپنی پرسنالٹی میں لاجواب تھے جو لباس زیب تن کر لیں وہ اُن پر سجتا تھا۔ ایک شام وہ شیروانی پہنے ہوئے د فترمیں داخل ہو رہے تھے۔ سب کی نظریں اُن پر پڑیں تو وہ مسکرائے اور ہم نے اُن سے پوچھاکہ مغلِ اعظم کے’ صاحبِ عالم ‘آج کس محفل کو بے رونق کر کے لوٹے ہیں۔ ۔۔ ہمارے اس جملےپرہارون رشید کھِل اُٹھے: ارے ندیم!فلاں کمپنی نےایک پرفیوم بنایا ہے: ’’۔۔۔مہکا کریں گے ‘‘ ۔۔۔ ۔۔ اُسی کی تقریب تھی لتا بائی کے ہاتھوں اس پرفیوم کو لانچ کیا گیا اور پورے پروگرام میں فلم’ ممتا ‘کا گیت لتا بائی کی مدھم آواز میں گونجتا رہا۔ کیا شاندار تقریب سجائی تھی پرفیوم والوں نے۔۔۔
یہ کہہ کر وہ اپنے کیبن میں تقریب کی رپورٹ لکھنے بیٹھ گئے۔
رِپورٹ کی کمپوزنگ ہوئی اورصفحۂ اوّل کی اینکر اِسٹوری کے طور پر لگ گئی۔ کچھ دیر میں پیسٹنگ ٹیبل پر جب ہم پہنچے تو مذکورہ رِپورٹ کی سرخی میں ایک غلطی نظر آئی تو ہم نے پیج میکر سے اس کی تصحیح کے لئے کہا تو اُس نے ہماری بات سنی اَن سنی کی، ہم نے دوسری بار کہا مگر پھر وہی سنی ا َن سنی۔۔۔ دراصل ہمیں پتہ نہیں تھا کہ ہمارے پیچھے ہارون رشیدکھڑے ہیں جبکہ پیج میکر اُنھیں دیکھ چکاتھا۔ اب ہارون رشید کی آواز آئی: ’’کیا بات ہے ندیم ؟ ‘‘۔۔۔ تو ہم نے کہا : سرخی میں غلطی ہے۔
ہارون رشید:۔۔ ۔کیا غلطی ہے؟
ہم نے سرخی کی طرف اشارہ کیا جو یوں تھی:
پرفیوم۔۔۔۔’’ رہے نہ رہے ہم مہکا کریں گے‘‘ ۔۔۔کا لتا منگیشکر کے ہاتھوں اِجرا۔
ہم نے کہاکہ یہاں۔۔۔’ رہے نہ رہے ہم‘۔۔۔نہیں۔۔۔’’ رہیں نہ رہیں ہم ‘‘۔۔۔ہونا چاہئے۔
ہارون رشید: اماں! تمہیں تو زبان کا مالی خولیا ہو گیا ہے ،جو میں نے لکھا ہے ،وہی صحیح ہے۔
ہم نے کہا :نہیں۔۔۔ ’’رہیں نہ رہیں‘‘۔۔۔ صحیح ہے۔
جب بات بڑھی تو ہم نے ہنستے ہوئے کہا: ہارون صاحب! گھوڑا دور نہ میدان، مجروحؔ صاحب کو فون کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اُنہوں نے اِس گانے میں’ رہے‘ ۔۔لکھا ہے۔۔ یا۔۔ ’رہیں‘ ۔ ۔؟
ہارون رشید:۔۔۔ہاں ہاں کرو فون۔۔۔!
اب ہم نے کہا :۔۔۔ پہلے ایک شرط!
ہارون رشید: ۔۔۔۔وہ کیا؟۔۔۔۔ہم نےپھر ہنستے ہوئے کہا جو غلط ثابت ہو اُس کی طرف سے ایک کیلو میٹھائی۔۔۔!!
ہارون رشید: ہاں ہاں۔۔۔!
مجروح صاحب سے فون پر بات ہوئی تو انھوںنے اس گانے کے لکھنے سےلے کر ریکارڈِنگ تک کی روداد سناتے ہوئے کہا : ۔۔۔میاں!۔۔۔ ’’رہیں نہ رہیں ہم مہکا کریں گے‘‘
ہارون رشید نےسرخی دوبارہ کمپوزکرائی اور دوسرےدِن تمام ساتھیوں کو مٹھائی بھی کھلائی۔
ہارون رشیدشوگرکے مریض تھے۔ عید کی نماز پڑھنے انجمن اسلام گئے اور وہاں ایک ٹھوکر نے اُن کے انگوٹھےکوزخمی کردِیا۔ سچ ہےکہ کبھی کبھی ایک ہی ٹھوکر اپنا کام کر جاتی ہے۔ انگوٹھے کے زخم نے بڑھنا شروع کیا اور پھر مرض نے دِل کو بھی اپنا نشانہ بنایا تو بالآخر ایک دِن جسلوک ہسپتال سے اُن کی خبر د فترانقلاب پہنچی۔ اُس وقت بھی لتاکی آوازکانوںمیں گونجتی محسوس ہوئی تھی اور یہ سطریں لکھتے ہوئے بھی کہ ۔۔ ۔ رہیں نہ رہیں ہم۔۔۔ مہکا کریں گے
بن کے کلی،بن کے صبا، ۔۔۔باغِ وفا میں
ایک ایسی بات رہی جاتی ہے جو نہ لکھوں تو کم ظرف کہا جاؤں ۔۱۹۸۲ء میں جواہر لعل نہرو اورحیات اللہ انصاری جیسے اکابر کی یادگارروز نامہ’ قومی آواز‘ ممبئی سے خلیل زاہد کی سربراہی میں جاری ہوا تھا اور خوب چلا مگر ا سکی عمر دو برس بھی پوری نہیں ہوسکی۔ مگر اِس اخبار نے شہر کے دوسرے اخبارات کو جھنجھوڑ کررکھ دِیا تھا۔ اس کا ہفت روزہ تو اپنی مثال آپ تھا جسے خان ارمان مرتب کرتے تھے۔ سعید حمید جو اُس وقت تک سعید نشترہوتے تھے اسی اخبار سے نمایاں ہوئے اور اب روزنامہ صحافت کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔
خلیل زاہد ہماری معلومات کے مطابق انقلاب ہی سے سامنے آئے اور پھر دہلی ریڈیو پر چلے گئے اور وہیں سے روزنامہ قومی آوازلئے ہوئےبمبئی لوٹے۔ قومی آوازکےبعداُنہوں نےاشتیاق خان (مالک) اور عبد اللہ کمال(مدیر) کے کئی برس قبل بند ہونے والے ویکلی ’ اخبار عالم‘ کاٹائٹل خرید کر اسے پھر زندہ کیا۔ اُس وقت بدنامِ زمانہ تحریک خالصتان کے بھنڈران والا کا اِنٹرویولینا ایک بڑی اور جرأت مندانہ بات تھی۔ بلکہ اس انٹرویو ہی نے خلیل زاہد کو اُردو صحافت میں’’ خلیل زاہد‘‘ کا تشخص دِیا۔
ابھی اوپراشتیاق خان کا ذکر ہوا ہے یہ موصوف بھی اپنے وقت کے ایک ’کردار‘ تھے۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا ترانہ جسے مجاز لکھنوی نے لکھا ہے اس کی موسیقی اِنہی خاں صاحب کے ذہنِ ترنم خیز کا نتیجہ تھی، ان موصوف کو اداکاری سے بھی شغف تھا اپنے وقت کی مشہور فلم’شطرنج کے کھلاڑی‘ میں ایک کردار انہوں نے بھی اداکیا تھا۔
صوری طورپرانقلاب کوہمیشہ ایک امتیاز حاصل رہا ہے ، مگرممبئی میں کمپیوٹر کے ذریعے کتابت سےچھپنے والا پہلا اخبار روزنامہ اُردو ٹائمز ہے۔یہاں ایک بات یہ بھی لکھنے کی ہے کہ۲۰۔۲۲سال قبل روزنامہ انقلاب دہلی سے بھی جاری ہوا تھا اسی طرح بنگلور سے اس کا ایک ہفت روزہ ایڈیشن (ٹیبلائڈ سائز) بھی منظرعام پر آیا۔ مگردونوں ایڈیشن زیادہ مدت تک جاری نہ رہ سکے ۔
اسی طرح روزنامہ اُردو ٹائمز نے بھی لکھنؤ ایڈیشن کا ڈول ڈالا تھا ،جب کہ اس کا ایک مقامی د فتر بھی لکھنؤمیں سیدحسین افسرکی نگرانی میں قائم ہو گیاتھا مگر یہ خواب شرمندہ ٔتعبیر نہ ہو سکا۔اُردو ٹائمز کے دہلی ایڈیشن کا منصوبہ بھی بنایاگیا مگر اس کے ذہین اور جواں سال ایک پارٹنر معین احمد کی ناگہانی موت نے اس منصوبے کی بھی عملی شکل نہیں بننے دی۔
ممبئی کے دو مرحوم صحافی بھی اس وقت اپنی آنکھیں ہمیں دِکھا رہے ہیں کہ ’’ہمیں کیوں بھول رہے ہو؟‘‘ ۔۔۔ یہ حضرات مرحوم تو ہیں مگر اِن کی اموات فطری نہیں بلکہ ظالمانہ قتل کا نتیجہ تھیں۔ سب سے پہلے تو سردار عرفان کا ذکر ہوگا کہ یہ موصوف پوری صحافتی برادری میں پراسرار شخصیت سمجھے جاتے تھے یہ بھی کنواروں کی فہرست میں شامل تھے، سیلف میڈ سردار عرفان کا جب قتل ہوا تو وہ انقلاب سے وابستہ تھے اور مہاراشٹر اُردو اکادیمی کے افسر اعلیٰ کے منصب سےمستعفی ہوئے تھے۔چارپانچ دِن بعدباندرہ میں واقع جب اُن کے فلیٹ سے بدبو پھوٹنا شروع ہوئی تو پڑوسیوں نے پولس کو خبر دِی۔
ہمارے ایک سینئر صحافی کا بیان ہے کہ وہ بھی پولس کے ساتھ اُس وقت اُن کے فلیٹ میں داخل ہوئے تھے ۔ بتاتے ہیں کہ ان کے دونوں پیروں پر جب اُن کی نظر پڑی تو محسوس ہوا کہ مقتول نے سفید موزے پہن رکھے ہیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ سفید کیڑوں نے اُن کے پیروں کو کھانا شروع کر دِیا تھا ان کی موت پر لوگوں نے ان کے اسرارکو بنیاد بنا کرنجانے کتنے قصے گڑھ لئے تھے پولس کی تحقیق کے بعد قصہ گو حضرات کو منہ کی کھانی پڑی۔ ان کے کسی رشتے دار لڑکے نے، جو اُن سے کچھ رقم کا طالب تھا اور اُنہوں نے اِس بار رقم دینے سے انکار کر دِیا تھا، قریب رکھے ہوئے کرکٹ کے بلّے سے اُن پر حملہ کردِیا ۔ بلّے کا وار اتنا شدید تھاکہ وہ وہیں جاں بحق ہوگئے اور وہ لڑکا حواس باختہ فلیٹ کا دروازہ بند کرکے یہ جا اور وہ جا۔۔۔ مرحوم سردار عرفان دور درشن پرایک پروگرام ’کہکشاں‘ بھی پیش کرتے تھے۔ مرحوم بھی صحافت میں ہر فن مولا تھے ، کتابت کی باریکیوں سے لے کر ترجمہ نگاری اورکاپی جوڑنے میں بھی وہ ماہرسمجھے جاتے تھے۔ افسوس آج اُن کا نام لینے والا کوئی نہیں۔
اقبال ناطق ہفت روزہ’راز دار‘ کے ایڈیٹر تھے ، تیز طرار قسم کا یہ نوجوان ایک بار مسلمانوں کے علاقے سے پارلیمنٹ کے الیکشن میں بھی اُمیدوار بنا تھا۔ روایت ہے کہ ممبئی کے غنڈوں نے ماہم کی کھاڑی میں اُردوکے مشہور لکھاڑ صحافی سلامت علی مہدی کے داماد اقبال ناؔطق کے ایک ایک کرکے اعضا کاٹے تھے۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اقبال ناطق کا قتل ممبئی کی گینگ وار کی ابتدا تھی۔ مگریہ تو سچ ہے کہ اقبال ناؔطق ممبئی میں اور بالخصوص ہمارے دَور میں اُردو کا پہلا صحافی تھا جس کا بہیمانہ قتل کیا گیا تھا۔
اُردواخبارات میں قطعہ نگاری یا ہزل کا سلسلہ تقریباً ہر دَور میں رہاہے ممبئی کے اخبارات میں مختلف شعرا اپنے مزاحیہ وطنزیہ شعری تیٖروتفنگ سے قارئین کو داددینے پرمجبور کرتے رہتے تھے۔جن میں علامہ درپن، علامہ ہر فن، علامہ درشن،علامہ بے نام،عبداللہ ناصر،چروٹ باز، علامہ قطب مینار اور میاں بھائی وغیرہ کے نام اِس وقت یادآتے ہیں۔ان کے یہ دوشعر بھی ہمی کونہیں بہت سوں کو یاد ہیں:
رات چالی میں اندھیرا تھا حماقت ہو گئیاُن کے بدلے اُن کی ماں سے کہہ گئے افسانہ ہم ( سعید رضا علامہ درپن)
روٹھی جوانی حسن بگڑتا چلا گیاہر روز ایک دانت اُکھڑتا چلا گیا( ریاض جرولی علامہ ہرفن)
اخبار کی قطعہ نگاری اپنے آپ میں کسی بھی نازک فن سے کم نہیں کہ اس کی عمارت کی بنیاد چوتھا مصرعہ ہی ہوتا ہے۔ جو یہ ’’چوتھا مصرعہ ‘‘کہہ لیتا ہے وہی کامیاب قطعہ نگار کہلاتا ہے ورنہ اس کاقطعہ ، قطعہ نہیں خطا ثابت ہو تا ہے۔ہمارے دور میں اب تک اس فن میں جو منزلیں رئیس امروہوی (روزنامہ جنگ، کراچی)نےسَر کی ہیں وہ دوسروں کویاتوملیں ہی نہیں یا پھر اس بھاری پتھر کو چوم کر لوگ خود پتھر ہو گئے۔
ممبئی کی سرزمین اُردو اور اُردوصحافت کے لئے سنگلاخ کبھی نہیں رہی آج اگراس عروس البلاد سے پانچ روزنامے شائع ہو رہے ہیں توکوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ وہ زمانہ گزرے ہوئے بہت بڑی مدت ابھی نہیں گزری جب اسی عروس البلاد سے روزنامہ،ہفت روزہ،پندرہ روزہ اخبارات کے ساتھ ساتھ نہ جانے کتنے متنوع ماہنامے بھی شائع ہوا کرتے تھے۔جن میں سے اِس وقت ہماراحافظہ کاغذپرچندنام منتقل کر رہا ہے۔۔۔آئینہ(مدیر: ظ انصاری) کاروانِ حیات(مدیر: ڈاکٹرذاکر حسین فاروقی) بھنڈی بازار (م: محمود سروش) تفنگ (م:نوالکھنوی) اظہار(م: باقرمہدی اور فضیل جعفری) قلم (م:الیاس شوقی)جنگ اور مضمون (م:سردار جوہر امروہوی ) اخبارعالم(م:عبداللہ کمال) عکاس(م: امین خطیب) تنویر(م:خلیل احمد صباغی) فلم سنسار(م:ایم عالم)کہکشاں(م: شمیم زبیری)مواخذہ(م: ڈاکٹرداؤد کشمیری) فن اور شخصیت(م: صابر دت) بزم فکرو فن (م:قاسم قریشی، رئیس بلّوی، قتیل راجستھانی اور فصیح اکمل قادری )نشا ۃ الثانیہ (م: عثمان غنی عادل) وغیرہ!لیکن باقرمہدی اور فضیل جعفری کا مجلہ ’ اظہار، شمس کنول کا ’گگن ،عبد اللہ کمال کا ’گل منظر، عبدالحمیدبوبیرے کاماہنامہ صبحِ اُمید اور شمیم طارق کا ہفت روزہ ہمعصرؔ ہمارے لئے اُردو کےیادگارمجلے واخبار ہیں۔جنکی کارکردگی اپنے دَور میں اپنی مثال آپ تھی۔
لوگ اپنی کمزور باتیں گول کر جا تے ہیں۔ ہمیں اپنی ایسی ہی ایک حرکت یہاں درج کرنی ہے، جو یوں تھی : ساتویں دہائی میں ہمیں اخبار نکالنے کا شوق چرّایا۔ ڈِکلیریشن کیلئے کئی نام دہلی بھیجے سب سے آخر میں ایک نام’’بمبئی والا‘‘ بھی درج کیا گیا تھا۔ ہماری قسمت کہ وہی نام ہمیں الاٹ کیا گیا۔ اب شوق نے اور زورمارا کہ اس کا اِجرا ڈاکٹر ظؔ انصاری کے ہاتھوں ہو۔ ہم اُن کے گھر پہنچے اور گزارش کی۔ پہلے تواُنہوں نے ڈانٹا کہ میاں! یہ خوش فہمی تمہیں کیوں کر ہوئی کہ تم اخبار نکال سکتے ہو؟ بہت دیر تک وہ ہمیں اسی طرح کی باتیں سناتے رہے۔ پھر اخبار کانام پوچھا۔ ہم نے سوچا کہ اگربمبئی والا بتاتے ہیں تو شاید اُنھیں اور غصہ آجائے، سو ہم نے اخبار کا نام’بمبئی‘ بتایا۔’ ہائیں یہ نام تمہیں مل گیا۔۔۔!‘ خیر سے وہ ہمارے اخبار کا اِجرا کرنے کو تیار ہوگئے ۔( واضح رہے کسی زمانے میں ’بامبے‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ محمود راہی وغیرہ نکال چکے تھے)
ڈاکٹر ظ انصاری کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ چھوٹوں کی حوصلہ افزائی میں بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔ داؤد فاضل بھائی آڈیٹوریم(کھڑک۔ ممبئی) میں وہ آگئے ۔ جلسے کی کارروائی شروع ہونے میں کچھ دیر تھی، وہ اگلی صف میں بیٹھے ہوئے تھے، پیچھے لوگ گفتگو کر رہے تھے کہ ندیم صدیقی کو کوئی نام ہی نہیں سٗوجھا، بتایئے ’بمبئی والا‘ ۔۔۔یہ کوئی نام ہوا۔!!
جلسہ شروع ہوا۔پروگرام کے مطابق اُنہوں نے اخبار کا اِجرا کیا اور اب وہ تقریر کر رہے ہیں پرانے اخبار اور صحافیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ انھیں یاد آیا۔۔۔’ بمبئی والا‘۔۔۔ اُنھوں نے کہا کہ’’ ابھی جلسہ شروع ہونے سے قبل کوئی صاحب ہمارے ندیم ؔسلمہٗ کے اخبار کے نام پر معترض تھے کہ ’بمبئی والا‘ کیانام ہوا؟ ۔۔۔ ہم اُن صاحب سے کہیں گے کہ جس طرح حضرتِ والا، جنابِ والا یا حضور والا ہے ۔۔۔ اُسی طرح ہے یہ’ بمبئی والا‘ بھی ۔۔ ۔ یہ بھی اُردو ہے اسے قبول کیجیے!! ‘‘
یقیناًآج ممبئی میں اُردو والوں کی آبادی خاصی بڑھی ہے، جوشہرسے مضافات کے دوردراز علاقوں تک پھیل گئی ہے جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق۴۰؍۔۵۰؍ لاکھ سے کہیں زیادہ ہے مگر اُردو قارئین کی تعداد کی حالت مور کے پاؤں جیسی ہی ہے۔اِس شہر سے روزنامہ انقلاب، اُردو ٹائمز، راشٹریہ سہارا ، صحافت اور ہندوستان کے بعد کل اگر کوئی چھٹاروزنامہ جاری ہو جائے توآج ، ان روزناموں کے جو جملہ قارئین ہیں انھیں میں سے نیااخبار کچھ قارئین توڑے گا،کہنا یہ ہے کہ اُردو کی نئی نسل اُردواخبارات سے کوئی قابلِ ذکر دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتی جب کہ ایسا نہیں ہے کہ اخبارات نے نئی نسل کو متوجہ کرنے کی کوششیں نہ کی ہوں۔ہم نے اِنقلاب کے اپنے آخری دَور میں دیکھا ہے کہ اس کے جواں سال مدیر شاہد لطیف نے ہر ممکن کوشش کی اور اپنی مختلف مثبت صلاحیتوں کو اِستعمال کرلیا مگرجسے قابل ِذکر کامیابی کہتے ہیں انہیں نہیں مل سکی اس میں اُن کا قصور نہیں ہم اُردو والوں کی ترجیحات کو دخل ہے۔کہتے ہیں ناامیدی کفر ہے مگر اس ضمن میں ہم جیسے لوگ نااُمیدنہ سہی مگرمایوسی کے اندھیرےمیں ضرورگھرے ہوئے ہیں ۔ اُردو بلٹزاپنے اشتہارات میں ایک جملہ لکھا کرتا تھا:
’’یہ وہ اخبار ہے جس کے خریدنے والے ہزاروں ہیں تو پڑھنے والے لاکھوں ۔۔۔‘‘
ہمیں یہ جملہ پڑھے ہوئے کوئی تیس برس کی مدت توگزر گئی ہوگی مگر اُردوقارئین کی مجموعی صورتِ حال کے پیشِ نظرآج بھی اُردوبلٹز کے اس جملے کی معنویت میں کوئی قابلِ ذکر تغیر نہیں آیا۔
لیکن یادگار ِسیماب’’ شاعر‘‘ ۸۰؍ سال سے زائدعمر کوپہنچ رہا ہے تو اسی شہر اور اس کے نواح سے وائس آف اردو، تکمیل ، ترسیل ، اِثبات،اُردو چینل،تحریر ِ نو،تریاق، صداقت،سیرت ،ہدیٰ ٹائمز، بازدید، شناخت اور معیشت جیسے ماہنامے اور سہ ماہی ادبی جرائد جاری ہیں۔آخر الذکر جریدوں(بازدید، شناخت اور معیشت) کا حال ہی میں اِجرا ہوا ہے۔ جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں اُردو کے جیالے موجود ہیں۔آج صارفیت کا زمانہ ہے ایسے میں اُسی چیز کی بقا نظرآرہی ہے جو صارِف کی ’’طلب ‘‘ ہو، ۔ ۔ ۔ ’’ضرورت‘‘ہو۔اُردو والوں پر دٗورتک نظر ڈالتے ہیں تو،ان کے یہاں اُردو کے حوالے سے عملی زِندگی میں یہ ’’طلب‘‘یا یہ ’’ضرورت‘‘نظر بھی آتی ہے تو ترجیحات کی کئی منزلوں کے بعد۔
کوئی پچیس برس قبل یہ دومصرعے کہے تھے جو اِس تحریر کااِختتامیہ بن رہے ہیں:تھے قاری بہت اور خریدار کم کہ جیسے میں، اُردو کا اخبار تھا(۱۰؍جولائی۲۰۱۱ء)
٭یہ مضمون ماہنامہ’ نیا دور‘لکھنؤکے مدیر ڈاکٹر وضاحت حسین صاحب رضو ی کی ایما پر اُن کے جریدے کے ’’صحافت نمبر ‘‘(شمارہ :جولائی۲۰۱۱ء )کےلئے لکھا گیا تھا۔ بعد میں اس میں کہیں کہیں ترمیم و اضافہ کیا گیا ہے۔ ٭

Leave a Comment