’’ کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی‘‘ کے خاکوں میں فرد وسماج

\"\"
٭عبدالصمد

\"\"
پروفیسر ابن کنول نے’’ کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی ‘‘ میں بڑی ہنرمندی اور متانت سے لفظوں کو خاکے کا جامہ پہنادیا اور ان کے خاکوں میں خاکی پتلے اپنی تما م تر دل کشی اور جملہ اوصاف کے ساتھ بول اٹھتے ہیں۔ کیوں کہ انھوں نے قلمی تصویروں میںجان پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہی سبب ہے کہ خاکے کی متعلقہ شخصیات قارئین سے ہم کلام نظر آتی ہیں اور اس ہم کلامی کے دوران اُن عہود وادوار سے ہمیں جوڑتی ہیںجن میں ادبی وتہذیبی کڑیاں پیوست ہیں۔ کیوں کہ پروفیسر ابن کنول نے خاکوں میں فقط شخصیات کے خصائل وشمائل پر گفتگو نہیں کی بلکہ ضمناً بہت سے دل کش واقعات کا بیان تخلیقی انداز میں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بیانیہ میں شخصی معاملات ہیں۔تاریخی تناظر ات ہیں۔ ادبی وتہذیبی انسلاکات ہیں۔ فردوسماج کے تصورات ہیں۔سب سے بڑھ کر تخلیقی معاملات ہیں۔ اِن تمام پہلوؤں نے ان کے خاکوں کو شگفتگی وشیفتگی عطا کی ہے۔

مجموعہ’’کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی ‘‘ پر سرسری نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتاہے کہ انھوں نے باحیات لوگوں کا خاکہ لکھا ہے اور چند مرحومین کو بھی یاد کیا۔خاکوں کے لیے منتخب کی گئی شخصیات سے یہ بھی وضاحت ہوتی ہے کہ ابن کنول نے شاید فرمائشی خاکے نہیں لکھے۔ کیوں کہ اس فہرست میں اُن کے قریبی احبا ب اور مشفق اساتذہ ہی شامل ہیں۔
خاکہ نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ خاکے کی متعلقات شخصیات سے فقط سلام دعا کی حد تک ہی قربت نہ رکھے بلکہ اُن کی عادات واطوار اور نشست و برخاست بھی واقف ہو ۔ابن کنول نے شخصی بیان میں جس طرح سماج اور عہد کو پیوست کیا اس سے نہ صرف ان کی فن کاری سامنے آتی ہے بلکہ ان کی یادداشت بھی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خاکہ نگار کے اندر جہاں تجزیہ نگاری ، پیکرتراشی ، لفظی تراش خراش کی صلاحیت موجود ہو وہیں اُسے بہترین یادداشت کا مالک ہونا بھی لازمی ہے۔ کیوں کہ بہترین یادداشت کے بغیر شخصیت کے اظہار میں شگفتگی پیدا ہوسکتی ہے اور نہ ہی دل کش خاکہ وجود میں آسکتا ہے۔ذیل میں ہم چند مرحومین کے اُن خاکوں کا اجمالی تذکرہ کررہے ہیں جن سے ابن کنول کی خاکہ نگاری کی چند خصوصیات سامنے آئیں گی اور ان کی یادداشت کا پہلو بھی ۔
’’ قاضی عبدالستار ‘‘ پر لکھے گئے خاکے میں علی گڑھ کی تہذیب ہے۔ قاضی صاحب کی استادانہ شفقت ہے اور خود ابن کنول کے ان سے ذاتی مراسم ہیں۔ اس طرح خاکہ نگار نے ایک شخصیت کا پورٹریٹ تیار کرنے میں مختلف حوالوں کو شامل رکھا اور اس میں ایسی رنگ آمیزی کی کہ تمام حوالے قاضی صاحب کی زندگی سے مربوط ومنسلک ہوگئے۔ اس خاکے کو منقش کرنے کے لیے انتہائی عام فہم الفاظ کو استعمال میں لایا گیا مگر لفظوں کی تشکیل میں ایسی ہنرمندی دکھائی گئی کہ ان کے زیر وبم میں کئی تہذیب،کئی نسل، مختلف حالات وادوار کی آواز سنائی دیتی ہے۔ اگراس خاکے میں فقط سوانحی تناظرات پر توجہ دی جاتی تو قطعا ً شگفتگی پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی یاد داشت کا کوئی پہلو ہمیں متاثر کرتا۔اسی طرح ہر خاکے میں پائی جانے والی اُن کی سنجیدگی اور یادداشت ہمیں متوجہ کرتی ہے۔ کیوں کہ وہ تاریخی حوالوں کے اظہار، وقت ذاتی معاملات اور شخصی احوال کو نظر انداز نہیں کرتے ہیں۔ پروفیسر قمررئیس کے متعلق وہ لکھتے ہیں:
’’ قمر صاحب کی شخصیت بہت پرکشش تھی ۔ دلیپ کمار کی طرح خوب صورت پٹھان تھے۔ دراز قد ، نکھرتا رنگ، چمک دار مسکراتی آنکھیں، پیشانی پر لہراتے سیاہ بال ، جنھیں تھوڑی تھوڑی دیر میں انگلیوں سے اوپر کرتے، خاموش رہتے تو صوفیانہ استغراق، بولتے تو بلبل کی سی چہچہاہٹ ۔ علی گڑھ میں مجھے قاضی صاحب کی سرپرستی حاصل تھی ، دہلی میں قمر رئیس جیسا شفیق انسان مل گیا تھا۔‘‘
مذکورہ اقتباس میں ہم قمر رئیس کی نشست وبرخاست اور احوال و انفراد کو اچھی طرح محسوس کرتے ہیں۔ فقط محسوس ہی نہیں کرتے بلکہ اس خاکے ذریعے ہم قمر کو دیکھ بھی لیتے ہیں۔ گویا ابن کنول میں اُن شخصیات کو اچھی طرح قلم کے سہارے دکھا نے کی کوشش بھی کی جن کو بہت سے قارئین نے حقیقی زندگی میں نہیں دیکھا ہوگا۔
اگرہم ’’ پیغام آفاقی‘‘ کے خاکے کی بات کریں تو اس میںبھی ان کے شستہ قلم نے انتہائی دل کش جملے تیار کئے ہیں۔ ِان جملوں میں پیغام کے ادبی سفر کی داستان ہے اور ان سے ابن کنول کے ذاتی مراسم کا اظہار بھی۔ ان کے علاوہ خاکہ نگار نے میرے تینوں استاد محترم پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، پروفیسر ارتضی کریم اور ڈاکٹر محمد کاظم کا بہترین خاکہ قلم بند کیا۔ مذکورہ چاروں شخصیات کو ہنستے بولتے، کھاتے پیتے اور گفتگو فرماتے میںنے کئی مرتبہ دیکھا۔ اس لیے ذاتی معاملات کے تناظر میں یہ تمام خاکے میرے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اُن شخصیات کے علاوہ اس مجموعے میں خادم محمد شریف، منٹول سرکل، حیات اللہ انصاری ، گوپی چند نارنگ ، تنویر احمد علوی، عنوان چشتی ، عصمت آپا ، محمد عتیق صدیقی ، علی احمد فاطمی، ایڈوکیٹ اے رحمن، عینی آپا، محمد زماں آزردہ، اسلم حنیف،فاروق بخشی،جلال انجم، نعیم انیس، عظیم صدیقی، شمس تبریزی وغیرہ کے احوال ومعاملات پر بہترین اور دل کش خاکے موجود ہیںجن کی قرأت سے لوگ اچھی طرح مستفید و محظوظ ہوسکتے ہیں۔ اِن خاکوں کی دل کشی دراصل ابن کنول کی یا د داشت اور شخصی تعلقات کی مرہون منت ہے۔
کسی شخصیت کے متعلق مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرکے سوانحی مضمون تو لکھا جاسکتاہے مگر خاکہ نہیں ۔ ابن کنول کے ہر خاکے میں ذاتی معاملات، شخصی ارتباط اور قلبی تعلقات کا احساس رچا بسا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مکمل خاکوں کی قرأت میں دل چسپی برقرار رہتی ہے۔ یہ بڑی بات ہے کہ انھوں نے اپنے خاکوں کو نہ افسانہ بننے دیا اور نہ ہی تاریخی دستاویز۔ اسی طرح نہ سوانحی مضمون اور نہ ہی انشائیہ ۔ گویا خاکہ قلم بند کرتے وقت ابن کنول نے ان تمام اصناف کے درمیان پائے جانے والے فرق کو ہمیشہ ملحوظ نظر رکھا۔ کیوں کہ خاکوں میں متعدد اصناف سے فائدہ اٹھایا جانا تو مستحسن ہے مگر خاکے کو افسانے بنادینا یا پھر اس میں فقط انشائیہ کا رنگ انڈیل دینا مناسب نہیں ۔ ابن کنول نے خاکہ لکھتے وقت فن کاری مظاہرہ کیا اوراپنے خاکو ں میں منفرد رنگ وآہنگ پیدا کیا ۔
ابن کنول اپنے افسانوں میں داستانوی اسلوب کے لیے معروف ہیںمگر ان کے خاکوں میں داستانوی پراسراریت نہیں اور نہ ہی داستانوی اظہار۔ یہی وجہ ہے کہ خاکوں میں بسا ہوا انسان ہم جیسا انسان نظر آتا ہے اور اس کے تسامحات بھی سامنے آتے ہیں۔ شاید ابن کنول نے دانستہ اپنے افسانوں سے خاکوں کا اسلوب بالکل الگ تیار کیا جس میں انتہائی عام فہم الفاظ کی کثرت ہے۔ ابہام وایہام سے جملے پاک ہیں۔ گویا خاکہ نگارنے خاکوں کو اسلوب کے بوجھل پن سے محفوظ رکھا۔ اس لیے ہر اقتباس میں شگفتگی کا احساس بسا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ابن کنول نے اپنے خاکوں میں افسانوی مکالمے تو تیار نہیں کیے مگر بیانیہ میں مکالمے کا استعمال کرتے ہوئے گویا بات چیت کی سی مجلس جمادی ہے یعنی وہ اپنے بیانیہ میں خود بولتے ہیں اور متعلقہ شخصیات کو بھی بولنے پر ابھارتے ہیں۔
ابن کنول نے کہیں کہیں لفظوں کی تکرار اور تجنیس صوتی سے خاکوں میں ایسے ایسے جملے تراشے ہیں جن میں گہری معنویت ہے اور شگفتگی بھی ۔ مثلاً، ’’پکنے پکانے‘‘ میں صوتی تجنیس ہے اور جملے میں سلاست وروانی بلاکی۔اسی طرح ان کے خاکوں کے چند اقتباس اتنے دل کش اور اہم ہیں کہ انھیں باربار پڑھا اور نقل کیا جاسکتاہے:
’’ دہلی کی بسوں کا سفر تو یوں بھی کئی طرح کی آسودگی اور تسکین کا سبب بھی ہوتا ہے۔ اسلیے بھی بہت سے لوگ دہلی میں بس کے سفر کو ترجیح دیتے تھے۔ کار یا ٹیکسی میں کرایے کے علاوہ اکیلے پن کا احسا س ہی مارڈالتا ہے۔ ‘‘
اس اقتباس سے کئی پہلو سامنے آتے ہیں:
اول ، نثر کی سادگی۔انھوں نے انتہائی سادہ اسلوب میں بڑی گہری بات کہنے کی کوشش کی ہے۔اس اقتباس میں کوئی بھی ایسا لفظ نہیں جس کو سمجھنے کے لیے لغت کا سہار الینا پڑے یا پھر کچھ رکنا پڑے۔ گویا انھوں نے سلاست و روانی کو ملحوط نظر رکھتے ہوئے دل چسپ انداز میں دل چسپ بات پیش کی ۔
دوم ،دہلی کی بسوں کی حالت اور اس میں سفر کے مقاصد کا بیان۔سوم، تنہائی کے معاملات کو کار سے جوڑکر طنز یہ تناظرات کی عکاسی ۔
اس طرح دیکھا جائے تو پروفیسر ابن کنول نے مذکورہ اقتباس میں جہاں طنزیہ پہلو کو ابھارا ہے ، وہیں چمچماتی کاروں میں پھیلی ہوئی تنہائیوں کی طرف بھی بہترین اشارے کیے۔ ساتھ ہی زبان وبیان کا ایسا نمونہ پیش کیا جو سہل ممتنع ہے۔ سہل ممتنع کی کیفیت یا اسلوب میں سادگی اُسی وقت پیدا ہو پاتی ہے جب لکھنے والوں نے فنی ریاضت اور قلمی عبادت کی ہو۔ ابن کنول نے در اصل نہ صرف سیدھے سادھے لفظوں سے رشتہ استوار کیا بلکہ جملوں کی تشکیل میں کمال ہنرمندی دکھائی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بات میں سلیقہ مندی ہے۔ شیفتگی ہے۔ سنجیدگی ہے اور فکری تناظرات بھی ۔
مختصر طور پر یہ کہا جاسکتاہے کہ پروفیسر ابن کنول نے اپنے خاکوں میں کئی رنگ بکھیرے ہیں۔ تاریخ وتہذیب اور فردوسماج کو مدغم کرتے ہوئے منفرد تخلیقی مضمون پیش کیا۔ ان کے تخلیقی رویوں میں متعدد ابی اصناف سے استفادے کا احساس بسا ہوا ہے۔ساتھ ہی انھوں نے اپنے خاکوں کو طوالت سے محفوظ رکھا۔ ایک مختصر افسانہ کا جو حجم ہوسکتاہے یا ایک بہترین مضمون کے لیے جتنے الفاظ مناسب ہوسکتے ہیں، اُتنے الفاظ سے ہی انھوں نے اپنے خاکے تیار کیے۔ یہی وجہ ہے کہ قرأت کے دوران کبھی بھی بوجھل پن کا احساس نہیں ہوتا۔ قاری کسی بھی لمحے اُکتاہت کا شکار نہیں ہوتا۔ ابن کنول کے خاکوں کی یہ بھی انفرادیت ہے کہ انھوںنے مذہبی اثرات اپنے عناوین مین شامل کیے اور عناوین کو اختصار سے مربوط رکھا۔ اس لیے ان کے عناوین میں بھی مقناطیسیت ہے۔خاکوں کے تناظر میں ایک اہم مفروضہ یہ ہے کہ خاکوں میں افسانہ جیسی پراسراریت مناسب نہیں۔آج بہت سے خاکہ نگار خاکوں کی ابتدائی سطروں میں خاکہ کے لیے منتخب کی گئی شخصیات کا نام نہیں لیتے ہیں۔ ابن کنول نے اِس روش سے احتراز کیا اور براہ راست شخصیت کی عادات وخصائل کا ذکر کیا اور قاری سے راست طور پر جڑنے کی کوشش کی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خاکوں کی اثرپذیری اور رقت آمیزی قاری کو اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔

Leave a Comment