ہم لے کر رہیں گے آزادی …

\"\"
٭صالحہ صدیقی

(جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی)
Email: salehasiddiquin@gmail.com
نفرت کی کالی سیاہی سے
جو لکھا ہے تونے قانون سیاہ
اس آگ کے بڑھتے شعلوں میں
جلنے نہ دیں گے ہم ملک اپنا
اے شاہ تری تانا شاہی سے
ہم لے کر رہیں گے آزادی…
یہ ملک ہمارا اپنا ہیں
یہ مٹی ہماری اپنی ہے
یہ تہذیب ہماری اپنی ہے
ہر رنگ ہمارا اپنا ہے
اس ملک کے ذرے ذرے کو
ہم اپنے لہوں سے رنگ دیں گے
تو کون ہے جو باہر نکالے گا
یہ وہم تیرا ہم نکالیں گے
اے شاہ تری تانا شاہی سے
ہم لے کر رہیں گے آزادی…
اس ملک کو سینچا ہیں ہم نے
اس ملک کو سنوارا ہیں ہم نے
ہم مل کر تم کو لائے ہیں
تم کیسے ہمیں بٹوادوگے
معذور تیری ہر سوچ کو
ہم جڑ سے مٹادیں گے
اے شاہ تری تانا شاہی سے
ہم لے کر رہیں گے آزادی…
ہر جھوٹ کا تیرے انت ہوگا
ہر نفرت کا تیری انت ہوگا
کیچڑ میں کھلے ہر پھول کے
بدبوں کا بھی اب انت ہوگا
تیرے خاکی کے جلادوں کے
ہر ظلم کا بھی انت ہوگا
اے شاہ تری تانا شاہی سے
ہم لے کر رہیں گے آزادی…
تیری گندی پالیسی کے خلاف
ہر اہل وطن سے جنگ ہوگی
ملک کے ہر اک کونے سے
احتجاج کی بولی نکلے گی
گھر گھر سے شعلے بھڑکیں گے
ہر دل سے صدا بس آئے گی
اے شاہ تری تانا شاہی سے
ہم لے کر رہیں گے آزادی…

Leave a Comment