ہیرا گروپ کی منیجنگ ڈائرکٹر سی ای او مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کی صدر ڈاکٹر عالمہ نوہیرا شیخ سے انٹرویو

پہلےتعلیم۔۔۔پھرتجارت‘اب سیاست
\"Syed
٭ڈاکٹرسیدفاضل حسین پرویز

\"????????????????????????????????????\"

کون ہے نوہیرا شیخ؟
اتنی دولت کہاں سے آگئی۔۔۔ دہلی‘ ممبئی ہو یا دوبئی کی فائیو اسٹار ہوٹلس میں میٹنگس۔۔۔ سیلی بریٹیز کی شرکت۔۔۔ آج یہاں تو کل سعودی عرب‘ پرسوں کویت۔۔۔ کبھی سائوتھ افریقہ تو کبھی دوبئی۔۔۔ کل تک ’’ہیرا گروپ‘‘ سے متعلق سوال اٹھا کرتے تھے۔۔۔ اب سیاسی جماعت قائم کرکے اس خاتون نے ہلچل بھی یپدا کردی۔۔۔
آخر یہ ہیں کون؟ ان کے پیچھے کون ہے۔۔۔
اب اس قسم کے سوالات کئی ذہنوں میں ابھر رہے ہیں۔ حالیہ عرصہ تک ہیرا گروپ سے متعق میڈیا میں مختلف تبصرے ہوتے رہے‘ کچھ خبریں بھی شائع ہوئیں۔ اس کی وضاحتیں بھی شائع ہوئیں۔ کچھ ٹی وی چیانلس نے گمراہ کن ’اسٹوری‘ ٹیلی کاسٹ کی۔ بعد میں انہوں نے اس پر اپنی غلطی کا اعتراف بھی کرلیا اور کل تک اکثر لوگوں کو ایک ’نقاب پوش‘ خاتون سے متعلق اندیشے تھے۔ اب اس خاتون نے نقاب اتار کر میدان میں قدم رکھا تو اس پر بھی سوالات کھڑے کئے گئے۔۔۔بہرحال! یہ ہیرا گروپ اور نوہیرا شیخ کی کامیابی ہی سمجھی جائے گی کہ انہیں مخالفت کے نام پر اس قدر شہرت ملی کہ آج یہ نام پورے ملک میں شناسا ہوگیا۔ مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کے قیام کے اعلان کے بعد ان سے متعلق کچھ جاننے کا تجسس اور بڑھ گیا۔
گواہ میں چھ برس پہلے بھی ان کا انٹرویو شائع ہوا اور میڈیا پلس کے ذریعہ ہیرا گروپ کے اشتہارات ہندوستان بھر کے اخبارات کے لئے جاری کئے جاتے ہیں۔ اس لئے اکثر حضرات نوہیرا شیخ سے متعلق کچھ جاننے کے لئے ہم سے ربط پیدا کرتے ہیں۔ ہم نے ایک خصوصی انٹرویو لیا‘ جس میں ان کی نجی زندگی، ماضی حال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے جو کچھ بتایا وہ من و عن آپ کی نذر ہے:
سوال: محترمہ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کون ہیں‘ آپ کا بیک گرائونڈ کیا ہے؟
نوہیرا شیخ: میرا تعلق ضلع چتور کے موضع کلور سے ہے۔ میرے والد شیخ ننھے صاحب کا ٹکسٹائل بزنس تھا۔ ٹکسٹائلز اور فروٹ‘ ہمارا فیملی بزنس رہا۔ ہم 4 بہنیں اور 3 بھائی ہیں۔ والد صاحب نے اپنا بزنس تروپتی میں منتقل کیا۔ اس وقت ہم بہت چھوٹے تھے۔
بچپن میں مجھے یہ احساس ہوا کہ والدین بیٹی کو بھی چاہتے تو بہت ہیں مگر تعلیم کے معاملے میں بیٹوں کے مقابلہ میں ان سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ بیٹوں کو پڑھایا جاتا‘ بیٹی کو تعلیم سے دور رکھا جاتا۔
میں عمر میں چھوٹی تھی مگر جانتی تھی کہ اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو علم حاصل کرنے کی تلقین کی ہے۔ اپنے والد کو یہ بات بتائی۔۔۔ سوال کرتی کہ ہم سے امتیاز کیوں؟ بہرحال! 12برس کی عمر میں مرضی کے خلاف شا دی کردی گئی۔ حالانکہ اسلام میں شادی کے لئے لڑکی کی مرضی ضروری ہے۔ بہرحال میں نے احتجاج کیا۔ گھر والوں سے مقابلہ کیا۔ اور یہ شادی ختم ہوگئی۔ میں پڑھنا چاہتی تھی۔۔۔ کچھ کرکے دکھانا چاہتی تھی۔ میں نے خود بھی پڑھنا شروع کیا اور چھ لڑکیوں کے ساتھ تدریس بھی شروع کی۔ بڑا مقابلہ کرنا پڑا۔۔۔ لوگوں کو سمجھانا پڑا کہ لڑکیوں کی تعلیم ضروری کیوں ہے۔ والد صاحب نے میری مدد کی۔ میں اردو کتابیں خریدتی۔۔۔ لڑکیوں کو پڑھاتی، انہیں پڑھنے دیتی۔ وقت گزرتا رہا۔ لڑکیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ 1998ء میں اردو۔عربک ڈیولپمنٹ سوسائٹی قائم کیا اور اس کے تحت مدرسۃ النسواں السلفیہ قائم کیا۔ اللہ رب العزت کا احسان اور شکر ہے کہ 19برس کے دوران آج یہ ایک جامعہ میں بدل چکی ہے۔ ایک ہزار لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ آٹھ سو ہاسٹل میں رہتی ہیں۔ ایس ایس سی تک سرکاری نصاب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمیت‘ فضیلت اور دیگر کورسس کا انتظام ہے۔ کمپیوٹر کورسس کروائے جاتے ہیں۔ بہترین لائبریری ہے اور بے مثال کیمپس میں یہ جامعہ ہے۔
آج الحمدللہ! جامعۃ النسواں السلفیہ کی فارغ التحصیل طالبات ملک کے مختلف مقامات پر تین سو سے زائد اسکولس چلارہی ہیں۔ اکثر و بیشتر نے فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھا۔ جامعۃ النسواں السلفیہ میں ٹیچنگ اسٹاف میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں۔
جامعۃ النسواں السلفیہ کی کارکردگی‘ اس کے معیار کی وجہ ہے۔ اس وقت کم از کم چار ہزار لڑکیاں داخلہ کے لئے ویٹنگ لسٹ میں ہیں۔ یہاں 50فیصد داخلے آندھراپردیش سے یعنی مقامی طالبات کو اور مابقی 50فیصد دیگر ریاستوں کی طالبات کو دیئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے تعلیم نسواں کو عام کرنے اور علم کی روشنی پھیلانے کا موقع دیا۔ ساتھ ہی میرا تعلیمی سفر بھی جاری رہا۔ اوپن یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ سری لنکا کی کولمبو یونیورسٹی سے بزنس اڈمنسٹریشن میں پی ایچ ڈی کی تکمیل کی۔ علم کی پیاس ہے کہ بجھتی نہیں۔
ہر سال اس کا جلسہ عام منعقد ہوتا ہے۔ ملک کی ممتاز شخصیات شرکت کرتی ہیں۔ اس سال ثانیہ مرزا کے علاوہ اور کئی مشہور شخصیات نے شرکت کی۔ اپنی تقاریر میں انہوں نے کہا کہ تروپتی کی جامعہ آنے سے پہلے ان کے پاس دینی مدرسہ کا تصور کچھ اور ہی تھا۔ یہاں آنے کے بعد ان کی آنکھیں کھل گئی ہیں۔
تجارت
ہم نے بہت ہی چھوٹے پیمانے پر بزنس شروع کیا۔ صرف 500گرام سونا لے کر آپس میں بزنس کیا۔ اللہ پر بھروسہ۔۔۔ اس کے فضل و کرم کی بدولت آج ہمارا بزنس انٹرنیشنل ہوچکا ہے۔ آن لائن، سوشیل نیٹ ورکنگ نے ہمارے بزنس کو فروغ دیا۔ ہر ریاست میں سو سو سے زائد گروپس ہیں۔ یہ گروپس خود بزنس مارکیٹنگ کرتے ہیں اور خود ہی فروخت کرتے ہیں۔
ہم نے آہستہ آہستہ مختلف بزنس میں قدم رکھا۔۔۔ سوپر مارکٹس کا جال بچھایا۔ فی الحال کوکٹ پلی حیدرآباد اور تروپتی میں سوپر مارکیٹ ہیں۔ ہمارا بزنس‘ خواتین کی خود کفالت کا ذریعہ بنا۔ سوپر مارکٹ کی پیکیجنگ خواتین ہی کرتی ہیں۔ ٹکسٹائلز ہو یا کوئی اور بزنس اکثریت خواتین کی ہے۔ دوبئی میں ہیرا فوڈیکس ایک معتبر قابل بھروسہ برانڈ کا نام ہے۔ ساٹھ سے زائد ممالک کو یہاں سے اشیاء سپلائی ہوتی ہیں۔ الحمدللہ! کاروبار میں شفافیت ہے۔ اللہ نے توقع سے زیادہ کامیابی دی۔ سیلس ٹیکس ہو یا انکم ٹیکس کی ادائیگی‘ ہیرا گروپ کی نیک نامی ہے۔
سیاست
ہماری ترقی اور کامیابی تعلیم تجارت کے ساتھ ساتھ سیاست میں مضمر ہے۔ ہم لاکھ تعلیم یافتہ ہوں‘ کتنی ہی دولت ہمارے پاس کیوں نہ ہو۔۔۔ بعض اوقات اپنے ہی حقوق کے لئے ہم بے بس ہوجاتے ہیں۔ ایک معمولی کارپوریٹر جو کام کرسکتا ہے وہ دولت مند اور تعلیم یافتہ انسان نہیں کرسکتا۔ مجھے قدم قدم پر سیاسی طاقت کا اندازہ ہوتا رہا۔ کس طرح سیاسی پشت پناہی سے دو کوڑی کے لوگ بھی ہم پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ کس طرح قانون بھی سیاست دانوں کے آگے کبھی مجبور ہوجاتا ہے۔ ایک عورت ہونے کی وجہ سے ہر میدان میں امتیازی سلوک کیا جاتا رہا۔ خواتین کے حقوق و انصاف اور مساوات کی باتیں کی جاتیں۔ مگر عملی زندگی میں کچھ نہیں ہوتا۔ تعلیم اور تجارت میں اللہ رب العزت نے کامیابی سے نوازا۔۔۔ میرے گروپ سے وابستہ خواتین مجھ سے ہمیشہ کہتیں‘ آپا! آپ سیاست میں آجائیں‘ آپ بولڈ ہیں۔۔۔ ہمارے حق کے لئے لڑنے کی ہمت ہے آپ میں۔ باجی! آپ میں مقابلہ کرنے کی ہمت ہے۔ آپ پالیٹکس میں آجایئے۔ ان کی بات دل کو لگی۔۔۔ اور ہم نے آپسی صلاح و مشورہ سے مہیلا امپاورمنٹ پارٹی قائم کی۔ یہ خواتین کے حق اور انصاف کی جماعت ہے۔ علاقہ واریت، مذہب، ذات پات، زبان سے بے نیاز یہ جماعت کسی کے کہنے پر، کسی کے اشارہ پر، کسی کی تائید کرنے، کسی کے ووٹ کاٹنے کے لئے نہیں‘ اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے ہے۔ کامیابی و ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارا رادہ نیک ہے۔۔۔ کامیابی یقینی ہے۔
میری کامیابی اللہ تعالیٰ کی بے پناہ نوازشات اس کے فضل و کرم کا طفیل ہے
میرے ارکان خاندان کی محبت ان کی حوصلہ افزائی‘ میرے گروپ ممبرس کا تعاون

\"DSC_8008\" \"DSC_7991\"

Leave a Comment