اُردو کے ایک منفرد شاعر، ادیب اور اُستاد ڈاکٹرمظفر حنفی انتقال کر گئے

\"\"
ممبئی :10 اکتوبر (ندیم صدیقی) اُردو کے ممتاز ومنفرد شاعر وادیب اور استاد (84سالہ) ڈاکٹر مظفر حنفی آج شام دہلی میں انتقال کر گئے۔
محمد ابو المظفر العمروف پروفیسر مظفر حنفی یکم اپریل1936کھنڈوہ( مدھیہ پردیش ) میں پیدا ہوئے تھے جب کہ اُن کا آبائی وطن فتح پور(ہسوہ۔ اتر پردیش) ہے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم مدھیہ پردیش ہی میں حاصل کی، جبکہ بی اے، ایم اے۔ ایل ایل بی اور پی ایچ ڈی علی گڑھ اور بھوپال سے کی۔ مرحوم نے عملی زندگی مدھیہ پردیش ہی میں محکمۂ جنگلات کے افسر کے طورپر شروع کی تھی۔بعدہٗ وہ دہلی منتقل ہوگئے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسی اہم درسگاہ میں پڑھانے لگے۔
مظفر حنفی نے نو عمری ہی سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔جدید ادب سے متعلق ان کامجلہ’ نئے چراغ‘ بھی ایک یادگار اور مثالی کام ہے۔
مغربی بنگال حکومت نےکلکتہ یونیورسٹی میں اقبال چئیر‘ کے قیام کا اعلان کیا اور اس کے لیے اُردو کے ممتاز شاعر فیض احمد فیض کومدعو کیا گیا مگر بعض وجوہ کی بنا پر فیض کولکاتا نہیںآسکے تو ’’اقبال چیئر‘‘ کی سربراہی کےلیے قرعۂ فال مظفر حنفی کے نام کھلا اور انہوں نے ’ اقبال چیئر‘ پر کوئی بارہ برس کام کیا اور2001 میں وہ کولکاتا سے دہلی لوٹ گئے۔
دَورِ حاضرمیں اُردو کےقلم کاروں اور بالخصوص شعراکے لیے ایک لفظ’ منفرد‘ کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے مگر حقیقتاً یہ لفظ جن پر سجتا ہے ان شعرا میں مظفر حنفی نمایاں شخص تھے۔
ہم کو مظفر حنفی کے جس شعر نے پہلی بار متوجہ کیا تھا،وہ یوںہے:
خوشبوئیں سَر پیٹ رہی ہیں
کھڑکی کھولو کھڑکی کھولو
مظفر حنفی کا تشخص محض شاعر ہی کے طور پر نہیں بلکہ وہ اچھے ایک جینوین شاعر تو تھے ہی مگر ادب کے تناظر میں جب اُن کے کام کا بغور جائزہ لیا جائے تو ان کا ادبی کردار نہایت متنوع ملتا ہے۔
ہر چند کہ انہوں نے بہت شاعری کی مگر یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ مرحوم نے شعری دُنیا میں اپنا ایک اسلوب اور لہجہ بنایا ہی نہیں بلکہ اس کو پروان بھی چڑھایا ۔
وہ اُردو کے ممتاز تر صاحبِ اسلوب شاد عارفی جیسے شاعر سے متاثر ضرور تھے مگر وہ اس تاثر میں گم نہیں بلکہ عارفی کے اثر سے وہ شادکام ہوئے۔ واضح رہے کہ شاد عارفی پر اُن کا کام یادگار بلکہ اساسی نوعیت کا حامل ہے۔
ہمارے اکثر اکابر کے ہاںغزل کا تصور یا غزل کی تعریف’ تغزل‘ ہی کے دائرے میں محدود نظر آتی تھی، لیکن یگانہ چنگیزی اور شاد عارفی جیسے شعرا نے اس صنف میں جو اجتہاد کیا، اس روایت کو ترقی دینے میں مظفر حنفی کا کردار بھی قابل احترام ہے ورنہ اپنے سینئر یا استاد کی عقیدت کے پنجے میں لوگ گرِفتار ہوکر تمام ہو جاتے ہیں مگر مظفر حنفی نے نہ صرف شاد سے اثر لیا بلکہ اس روایت کی شاد کامی میں اپنا بھر پور حصہ بھی ڈالا۔
مظفر حنفی لگاتار چھپنے والے شعرا کی فہرست میں اوّل اوّل نام ہے ہر چند کہ کثرت کسی بھی شعبے میں ہو وہ مستحسن نہیں سمجھی جاتی مگر مظفر حنفی کی شاعری پر بسیار گوئی کی پھبتی اثر انداز نہیں ہوسکتی ۔ اس ضمن میں ان کا ایک جملہ بھی یاد آتا ہے جو انہوں نے ایک انٹرویو میںکہا تھا کہ’’ بسیار گوئی اور کم گوئی کسی شاعر کے اچھے یا بُرے ہونے کا پیمانہ نہیں بن سکتی۔‘‘
بیشک وہ بہت کہتےتھے اور بہت چھپتےبھی تھے یہاں تک کہ وہ مقتدر رسائل ہی میں نہیں بلکہ روز ناموں کے ادبی صفحات پر بھی اکثر نظر آتے تھے۔
انہوں نےایک جگہ یہ بھی لکھا تھا :’’تنقید چیں بر جبیں ہے کہ مَیں اتنا زیادہ کیوں کہتا ہوں،اِدھر یہ عالَم ہے کہ79برس کا ہوگیا لیکن سینے میں لاوا ویسے ہی کھول رہا ہے :ع
عمر کے آٹھویں عشرے میں کرو سجدۂ شکر
طبع کو اس نے جوطغیانی میں رکھا ہے
ان کی غزلوں کی اکثر زمینیں خود ساختہ ہوتی تھی بلکہ بسا اوقات وہ زمین پہلی نظر میں نا ہموار سی لگتی تھی مگر جب توجہ سے اسے پڑھا جاتا تو اُس زمین میں بھی ان کی ظفر مندی کا پھَریرا لہراتا ہوا نظر آتا تھا ۔ ہم نے اپنے اخباری ادبی صفحے پر اُن کو بہت چھاپا لہٰذا یہ جو باتیں ہم لکھ گئے، اسے ہمارا ذاتی تجربہ اور احساس ہی سمجھا جائے۔ان کی شاید ہی کوئی غزل ایسی رہی ہو گی جس کے کم از کم دو شعروں نے ہم سے بیساختہ داد وصول نہ کی ہو۔ ہم نے اس جملے میں ’وصول‘ جیسا لفظ قصداً لکھا ہے۔
ان کے بارے میں یہ بات مشہورتھی کہ جب انھیں کسی شاعر کا کو ئی شعر اچھا لگتا تھا تو وہ اُس کی ز مین میں بسا اوقات غزل کہتے تھے مگر اس عمل میں بھی اُن کا طریقہ دیگر شعرا سے مختلف ہوتاتھا وہ یوں کہ عام طور پر جب کسی کی شعری زمین اچھی لگتی یا تحریک پیدا کرتی ہے تو لوگ اسی ردیف قافیے میں شعر کہتے ہیں یا بہت ہوا تو اس کی بحر بدل دی یا بحر وہی اور قافیہ بھی وہی رکھا تو ردیف بدل دی مگر مظفر حنفی کا شعری رویہ ایسا نہیں تھا وہ اپنے پسندیدہ شعر کے مصرعِ اولیٰ کو اپنی زمین بناتے تھے جو اپنے آپ میں یقیناً ایک مختلف عمل ہی نہیں بلکہ مشکل امر ہے مگر مظفر حنفی قصداً یہ طریق اختیار کرتے تھے ظاہر ہے کہ جس سے اُن کے انفراد کا تشخص وجود پاتا تھا۔
ان کی کوئی اسّی کتابیں شائع ہوئیں، جن میںشعری مجموعوں کے چند نام اس طرح ہیں:
پانی کی زبان(1967)، تیکھی غزلیں(1968)،صریرِ خامہ(1973)،دیپک راگ(1974)،یم بہ یم(1979)،طلسم ِ حرف(1980)یا اخی(1997) جبکہ ان کا کلیاتِ شعری بھی دو حصوں میں(1۔ کمان،2۔ تیزاب میں تیرتے پھول) طبع ہو چکا ہے۔ انہوں نے نثر میں بھی خاصا سرمایہ چھوڑا ہے مثلاً مظفر حنفی نے شاد عارفی پر جو کام کیا (شاد عارفی: شخصیت اور فن) وہ کتابی شکل میں ہماری نظروں سے گزرا،اس کے ساتھ کلیات ِ شاد عارفی بھی انہوں نے مرتب کیا، اور حسرت موہانی ، میر تقی میر اور بنکم چندر چٹر جی پر بھی ان کی کتابیں منظر عام پر آئیں جبکہ1993میں انہو ںنے’غزل‘ کا ایک اہم انتخاب’ روحِ غزَل‘ کے نام سے ایڈیٹ کیا تھا جو الہ آباد سے شائع بھی ہوا جس میں اُردو دُنیا کے قدیم و جدید دَور کے اکثر شعرا کی غزلیں شامل ہیں۔ ’وضاحتی کتابیات ‘ بھی کئی جلدوں میں انہی کی مرتب کردہ ہیں۔
مظفر حنفی پر محبوب راہی (بارسی ٹاکلی۔ مہاراشٹر) نے پی ایچ ڈی کی اور یہ تحقیقی مقالہ بھی کتابی صورت(بنام : ڈاکٹر مظفر حنفی: حیات ،شخصیت اور کارنامے) میں چھپا جبکہ ان پر اور بھی کتابیں چھپی ہیں۔ ’تنقیدی ابعاد‘ کے عنوان سے ان کی ایک کتاب زیور ِ طبع سے آراستہ ہوئی۔ انہوں نے بچوں کےلیے بھی چھ شعری گلستان سجائے اور وہ کتابیں بھی منظرِ عام پر آئیں۔مظفر حنفی کی کتابیں ہندی زبان میں بھی پرکاشِت ہوئیں اور شوق سے پڑھی گئیں۔
مظفر حنفی نے بھری پُری زندگی مگر متانت کے ساتھ گزاری، ان کے مزاج میں ایک فنکارانہ تمکنت تھی جس کا اظہار اُن کی فکر میں بھی ملتا ہے، مگر وہ غرور کا غماز نہیں بلکہ شعری فن بن کر دل میں اتر جاتا ہے، جس کا ایک نمونہ یہ شعر بن گیا ہے۔
جی ہاں، یہی خاکسار مِٹّی
ٹھکراؤ تو آسمان پر جائے
مگر مظفر کا شعری تشخص انکسار سے عاری بھی نہیں:
زما نہ سمجھا مجھے انتہا نگارش کی
خود آگہی نے بتایا کہ حرفِ ابجد ہوں
مظفر حنفی کی رِحلت سے ہمارے عصری شعری اُفُق سے ایک ایسا رنگ ماند پڑگیا ہے جس کا افسوس لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ہند ۔پاک کے شعری حدود میں جو چند ( ہندو ستانی) شعرا کی فہرست بنتی ہے مثلاً زیب غوری ، عرفان صدیقی، اسعد بدایونی وغیرہ تو ان میں مظفر حنفی کا نام یوںاوّل اوّل ر ہے گا کہ وہ اپنے طنزیہ بیانیہ اور تیکھے لہجے کے سبب الگ تشخص کے حامل ہیں۔
وہ ادھر ایک مدت سے صاحبِ فراش تھے انھیں تنفس کے عارضے نے بہت پریشان کیا جو بالآخر مہلک ثابت ہوا۔ ان کےپسماندگان میں بیوہ کے ساتھ پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
خوشی کی بات ہے کہ ان کے بیٹوں میں فیروز مظفر اور پرویز مظفر بھی باقاعدہ اُردو کا ادبی ذوق رکھتے ہیں آخری الذکر پرویز مظفرتو بہ حیثیت شاعر معروف ہیں جن کا کلام اکثر رسائل میں بھی شائع ہوتا رہتا ہے۔
مظفر حنفی کی غزلوں سے چند منتخب اشعار ذیل میں در ج ہیں :
اگرچہ ذرّہ ہوں،اپنی بسا ط جانتا ہوں
معاف کیجیے، مَیں بھی ہَوا کے ساتھ نہیں
***
عدو اپنے شہہ کو گھماتے رہیں
ہمارے پیادے کا گھر بند ہے
مظفر حنفی کا یہ مطلع کئی برس پہلے پڑھا تھا مگر اس کی تازگی ہے کہ ابتک ذہن میں ویسی ہی ہے۔:
میں گنہگار اور اَن گنت پارسا چار جانب سے یلغار کرتے ہوئے
جیسے شب خون میں بوکھلا کر اُٹھیں لوگ تلوار تلوار کرتے ہوئے
**

Leave a Comment